Crime Watch Malik Ismail

Crime Watch Malik Ismail I’m covering human issues for mainstream media and social media. My specialty is investigative storytelling

I have been working for nearly 13 years on issues related to crime, transgender communities, and women’s rights.

27/08/2026

غیرت کے نام پر قت ل 24 سالہ لائبہ کی جان لینے والے گرفتار کرلئے گئے
پشاور کے علاقے رامپورہ میں لائبہ کو شوہر نے اپنے بھائی، بہن اور ماں کی ایما پر ابدی نیند سلا دیا تھا
گرفتار ملزم زوہیب نے اپنی بیوی پر پارٹی گرل ہونے کا الزام لگایا اور تسلیم کیا کہ اس نے فائرنگ کرکے اپنی ہی بیوی کی جان لے لی

مقتولہ کے والد نجم اقبال ولد اقبال کی مدعیت میں لائبہ کے شوہر اور دیگر گھر کے افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش کی گئی تو شوہر زوہیب ، دیور زبیر ،نند اور ساس کا چند گھنٹوں کے دوران سراغ لگا کر گرفتار کرلیا

اپنی بیوی کو والدہ، بہن اور  بھائی کی ایماء پر قتل کرنے میں ملوث تمام ملزمان چند گھنٹوں میں گرفتارتھانہ شہید گلفت حسین پ...
26/08/2026

اپنی بیوی کو والدہ، بہن اور بھائی کی ایماء پر قتل کرنے میں ملوث تمام ملزمان چند گھنٹوں میں گرفتار

تھانہ شہید گلفت حسین پولیس نے لیڈیز پولیس کے ہمراہ رام پورہ گیٹ میں خاتون کے قتل میں ملوث شوہر، اس کے بھائی، بہن اور والدہ کو چند گھنٹوں میں گرفتار کرلیا۔

مقتولہ کے شوہر کے مطابق ملزمان نے اپنی والدہ، بھائی اور بہن کی ایماء پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا،

جبکہ قتل کو غیرت کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے ابتدائی بیان دیا کہ اس کی بیوی مسماۃ ( ل) پارٹی گرل تھی، جس کو غیرت کے نام قتل کرنے کا اعتراف کیا،

ملزمان کے قبضے سے آلہ قتل اور واقعہ میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی پولیس تحویل میں لے لی گئی ہے،

26/08/2026

اسپتال میں معصوم بچوں کی ہ لاکت—اگر غفلت کے دعوے درست ثابت ہوئے تو یہ محض حادثہ نہیں، نظام کی سنگین ناکامی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ریسکیو ٹیم مبینہ طور پر دو گھنٹے بعد پہنچی، جبکہ نرسری کو باہر سے تالا لگا ہوا تھا، اندر آگ لگی ہوئ...
26/08/2026

عینی شاہدین کے مطابق ریسکیو ٹیم مبینہ طور پر دو گھنٹے بعد پہنچی، جبکہ نرسری کو باہر سے تالا لگا ہوا تھا، اندر آگ لگی ہوئی تھی اور ڈیوٹی پر کوئی موجود نہیں تھا۔

اگر یہ دعوے درست ہیں تو یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ سنگین غفلت اور نظام کی ناکامی کا سوال ہے۔ لعنت ہے ایسے نظام پر جہاں معصوم بچوں کی جانوں کی حفاظت کے لیے بھی بنیادی انتظامات موجود نہ ہوں۔

بے شک حادثات کسی بھی وقت پیش آ سکتے ہیں، مگر حفاظتی انتظامات، بروقت رسپانس اور ڈیوٹی پر موجود عملہ ایسے سانحات کی شدت کم کر سکتے ہیں۔

اور جب اہم منصب اہلیت کے بجائے پرچی اور سفارش کی بنیاد پر دیے جائیں گے تو پھر ایسے ہی نتائج سامنے آئیں گے۔

پشاور ، سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے 12 ربیع الاول کے لیے منظم ٹریفک پلان تشکیل دیا ٹریفک پلان کے تحت 4 ایس پیز، 12 ڈی ایس پ...
26/08/2026

پشاور ، سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے 12 ربیع الاول کے لیے منظم ٹریفک پلان تشکیل دیا

ٹریفک پلان کے تحت 4 ایس پیز، 12 ڈی ایس پیز اور چھ سو ٹریفک افسران اور وارڈنز شہر میں ڈیوٹی پر ہوں گے

ٹریفک حکام و اہلکار ٹریفک نظام کو برقرار رکھنے اور رش کو کنٹرول کرنے کے لیے ہمہ وقت سڑکوں پر موجود رہیں گے ، چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ

پشاور میں 12 ربیع الاول کے دوران ٹریفک نظام کو فعال رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے' عوام ٹریفک سسٹم کی بہتری کے لیے سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں، سی ٹی او ڈاکٹر زاہد اللہ

شہری غلط پارکنگ اور ٹریفک کے نظام میں کسی قسم کی خلل ڈالنے سے گریز کریں

شہری ٹریفک سے متعلق کسی بھی معلومات کے لیے ہماری ہیلپ لائن 1915 پر ڈائل کریں ، چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ

کيا. یہ سچ یے کہچارسدہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کی فون کال موصول ہوتی ہے۔ دوسری طر...
25/08/2026

کيا. یہ سچ یے کہ
چارسدہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو اہلیہ ڈاکٹر آئینہ کی فون کال موصول ہوتی ہے۔ دوسری طرف آواز میں گھبراہٹ تھی۔ یونیورسٹی میں طلباء کا احتجاج جاری تھا۔ صورتحال کشیدہ تھی اور لیفٹیننٹ کرنل کی اہلیہ اس دوران وہاں موجود تھیں۔

یہ وہ موقع تھا جب ایک شوہر کے سامنے دو راستے تھے۔ وہ گھر پر رہتے اور معاملہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس پر چھوڑ دیتے یا وہاں پہنچ کر اپنی اہلیہ کو اس ہجوم سے نکالتے۔

ڈاکٹر آئینہ یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس افیئرز کی انچارج ہیں۔ طلباء کے احتجاج کے دوران ایک طالب علم سے ان کی تلخ کلامی ہوئی۔ طالب علم سے کہا گیا کہ وہ اس شعبے کا نہیں تو یہاں کیوں موجود ہے؟ بات بڑھتی گئی۔ طالب علم خاتون افسر کے قریب آیا تو ڈاکٹر آئینہ نے اسے خبردار کیا کہ اگر وہ ایک انچ بھی مزید آگے بڑھا تو وہ اسے تھپڑ مار دیں گی۔ اس کے بعد دھکم پیل شروع ہوگئی۔

پھر ڈاکٹر آئینہ نے اپنے شوہر کو فون کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار وہاں پہنچے۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ وردی میں تھے اور ذاتی گاڑی پر فوجی رینک بھی نمایاں تھے۔ قانونی اور ادارہ جاتی اعتبار سے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ انہیں ایسی صورتحال میں کس طریقے سے پہنچنا چاہیے تھا۔ بہتر یہی ہوتا کہ وہ یونیورسٹی انتظامیہ یا پولیس کو معاملہ سنبھالنے دیتے۔ لیکن وہ موقع پر خلاف قانون پہنچ گئے۔

جب بھی کسی بھی افسر(یا کسی اور محکمے کے ملازم) کو اپنی اہلیہ کی ایسی کال آئے کہ وہ مشتعل ہجوم کے درمیان ہے تو عین ممکن ہے کہ اس لمحے وہ اپنے عہدے سے پہلے شوہر بن جائے۔

ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار اپنی اہلیہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ہجوم سے باہر لے جانے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی دوران کچھ طلباء ڈاکٹر آئینہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس دوران ہاتھا پائی بڑھ گئی۔ ویڈیوز میں ایک موقع پر دیکھا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کے گریبان تک ہاتھ پہنچتا اور ان کی وردی پھٹ گئی۔

لیفٹننٹ کرنل اسفندیار کے پاس ذاتی پستول موجود تھا لیکن وہ یونیورسٹی پہنچتے وقت اسے لہراتے ہوئے اندر داخل نہیں ہوئے۔ انہوں نے اہلیہ کو ہجوم سے نکالتے وقت بھی ہتھیار نہیں نکالا لیکن جب صورتحال ہاتھا پائی تک پہنچی، اہلیہ کو دھکے دیے جاتے دیکھنے اور اپنی وردی پھٹنے کے بعد انہوں نے پستول نکالا اور فائرنگ کر دی۔

اب اس واقعے کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ قانون یہ طے کرے گا کہ ہتھیار نکالنے اور فائر کرنے کے وقت خطرہ کس نوعیت کا تھا، کیا طاقت کا استعمال ضرورت کے مطابق تھا یا نہیں؟ ایک فوجی افسر کس طرح یونیورسٹی میں ذاتی اسلحہ سمیت داخل ہوا اور وہ بھی باوردی ہو کر؟ یہ معاملات طے ہونے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔

یونیورسٹی کے چند طلباء سے بات ہوئی ہے۔ یہاں زیادہ تر طلباء پشتون تھے اور براہ راست ہاتھاپائی کرنے والا نوجوان بھی پشتون ہے۔ اب بعض سوشل میڈیا صارفین کے لیے مسئلہ یہ نہیں کہ ایک فوجی افسر یونیورسٹی میں کس حیثیت سے پہنچا، ہتھیار کیوں نکالا یا فائرنگ کی قانونی حیثیت کیا تھی؟ ان کے لیے اصل موضوع یہ بن گیا ہے کہ ایک نوجوان کرنل کے گریبان تک پہنچ گیا وغیرہ وغیرہ۔۔

اس نوجوان کو ’غیرت مند پشتون‘ قرار دینے والے بھی اپنی جگہ موجود ہیں لیکن اسی کہانی کا دوسرا کردار بھی تو پشتون ہے۔ وہی اسفندیار جس نے اپنی اہلیہ کو مشتعل ہجوم کے درمیان سے نکالنے کی کوشش کی، وہی شخص جس نے 26 سال فوج میں گزارے، وہی چارسدہ کا پشتون جس کے سامنے اس وقت اپنی وردی، عہدہ اور ملازمت سے زیادہ اپنی اہلیہ کی سلامتی کا سوال تھا۔۔۔

اس واقعے کو سیاسی عینک سے دیکھنے کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ پھر حقیقت کے مختلف حصے نظر آنا بند ہوجاتے ہیں۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہر معاملے کو فوج مخالف سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ بھی ہیں جو محض اس لیے ہر فوجی اقدام کو درست سمجھ لیتے ہیں کہ سامنے والا وردی میں ہے۔ دونوں رویے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ کسی طالب علم کا ایک فوجی افسر کے گریبان تک ہاتھ پہنچانا قابلِ تحسین نہیں ہوسکتا، ٹھیک اسی طرح کسی فوجی افسر کا عہدہ اسے قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔

پولیس موقع پر کیوں موجود نہیں تھی؟ لیفٹیننٹ کرنل اسفندیار کو کس نے اور کس حیثیت سے اندر آنے دیا؟ ہاتھا پائی میں پہل کس نے کی؟ ہتھیار نکالنے اور ہوائی فائر کرنے کے وقت خطرہ کیا تھا اور کیا یہ کوئی قانونی جواز پیش کرتا ہے؟؟ اور کیا اس پورے واقعے میں کس فریق نے قانون کی خلاف ورزی کی؟ ان سوالوں کے جواب تفتیش سے ملنے چاہییں سوشل میڈیا پر جذباتی پوسٹس کر دینے سے نہیں۔۔

24/08/2026

اقدامِ قتل کے مقدمات میں مطلوب 80 روپوش ملزمان کے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیئے گئے، بیرونِ ملک سفر پر بھی پابندی عائد، متعلقہ اداروں کو ضروری ہدایات جاری۔

ٹک ٹاکر عائشہ کو مبینہ طور پر ان کے والد اور بھائیوں نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا ۔ پولیس نے واقعے میں ملوث تمام ملز...
23/08/2026

ٹک ٹاکر عائشہ کو مبینہ طور پر ان کے والد اور بھائیوں نے غیرت کے نام پر قتل کر دیا تھا ۔ پولیس نے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

22/08/2026

پشاور ٹریفک پولیس سنٹر گلبہار میں کون کون سی سہولیات موجود ہیں؟چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد کی گفتگو

پشاور/ آئی جی پولیس خیبرپختونخوا کے تبادلے کی خبروں میں صداقت نہیں، سعید وزیر کی تعیناتی کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ...
21/08/2026

پشاور/ آئی جی پولیس خیبرپختونخوا کے تبادلے کی خبروں میں صداقت نہیں، سعید وزیر کی تعیناتی کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا
*خیبرپختونخوا کے موجودہ آئی جی پولیس ذوالفقار حمید کے تبادلے اور ان کی جگہ سعید وزیر کی تعیناتی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن سامنے نہیں آیا
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں نئے آئی جی کے لیے بعض افسران کے نام وفاق کو بھیجے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں لیکن حتمی فیصلہ اور باضابطہ تبادلے کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہوا لہٰذا موجودہ صورتحال میں آئی جی ذوالفقار حمید کے تبادلے کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

Address

Buckingham Palace (South West London)
Peshawar
SW1A 1AA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Crime Watch Malik Ismail posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Crime Watch Malik Ismail:

Shortcuts

Share