10/06/2026
قرآن، بجٹ اور وزارتِ اعلیٰ: خیبرپختونخوا کی سیاست میں حلفیہ کشتی
مسرت اللہ جان
خیبرپختونخوا کی سیاست ان دنوں کسی سنجیدہ پارلیمانی عمل سے زیادہ ایک ایسے ڈرامے کا منظر پیش کر رہی ہے جس میں ہر کردار خود کو اصل ہیرو اور باقی سب کو ولن سمجھ رہا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی رہائی کا نعرہ ہے، دوسری طرف بجٹ کی منظوری کا معاملہ ہے، تیسری طرف وزارتِ اعلیٰ کی افواہیں ہیں، اور چوتھی طرف وہ بیوروکریسی ہے جو ہر حکومت کے دور میں اتنی طاقتور نظر آتی ہے کہ بعض اوقات منتخب نمائندے خود کو سرکاری فائلوں کے سامنے بے بس محسوس کرتے ہیں۔
اب تازہ ترین سیاسی شاہکار ملاحظہ فرمائیں۔ کچھ اراکین اسمبلی نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کی رہائی واحد مطالبہ ہے، ورنہ بجٹ منظور نہیں ہوگا۔ مطالبہ بھی عام نہیں۔ تجویز یہ ہے کہ تمام منتخب نمائندے اکٹھے ہوں، قرآن پر حلف اٹھائیں، احتجاج کی تاریخ دیں اور پھر بجٹ پاس کریں۔ پاکستانی سیاست میں ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ لوٹا کریسی دیکھی، دھاندلی کے الزامات دیکھے، فلور کراسنگ دیکھی، خفیہ ملاقاتیں دیکھیں، لیکن بجٹ سے پہلے اجتماعی حلف برداری کی شرط شاید پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ اسمبلی اب قانون سازی کا ادارہ کم اور نکاح رجسٹریشن دفتر زیادہ بنتی جا رہی ہے جہاں ہر اہم فیصلے سے پہلے حلف ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ ناراض گروپ کا مؤقف ہے کہ انہیں وزارتیں نہیں چاہئیں بلکہ عمران خان کی رہائی چاہیے۔ مخالفین کہتے ہیں کہ یہ ناراضی وزارتوں کی تقسیم کے فوراً بعد کیوں پیدا ہوئی؟ سوال اپنی جگہ دلچسپ ہے۔ اگر کسی کو وزارت نہیں چاہیے تو پاکستانی سیاست میں یہ واقعی ایک تاریخی انکشاف ہے۔ کیونکہ یہاں تو بعض اوقات وزارت کا خواب دیکھتے دیکھتے لوگ نظریات بھی تبدیل کر لیتے ہیں۔
مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ پارٹی قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے مخلص نہیں، دوسری طرف اسی قیادت سے احتجاج کی تاریخ بھی مانگی جا رہی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی طالب علم اپنے استاد سے کہے کہ "سر، آپ پڑھاتے بھی غلط ہیں لیکن امتحان کی تیاری بھی آپ ہی کروائیں۔" ادھر حکومت کے حامی حلقے کہتے ہیں کہ بجٹ روکنا دراصل عمران خان کی رہائی کا مسئلہ نہیں بلکہ اندرونی سیاسی طاقت کا کھیل ہے۔ ان کے مطابق اصل جنگ بجٹ کی نہیں بلکہ اثر و رسوخ کی ہے۔
کہانی میں مزید رنگ اس وقت آیا جب خفیہ ملاقاتوں، وزارتِ اعلیٰ کی خواہشات اور ممکنہ فارورڈ بلاک کی خبریں گردش کرنے لگیں پاکستانی سیاست میں "خفیہ ملاقات" ایک ایسی چیز ہے جو اکثر ملاقات سے پہلے میڈیا تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر واقعی کوئی خفیہ ملاقات ہو تو اس کی سب سے بڑی نشانی یہی ہوتی ہے کہ پورا صوبہ اس کے بارے میں جانتا ہوتا ہے۔
ایک دعویٰ یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ لوگ وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار بننے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی شاید خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں موجود ہر اہم شخصیت نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے پوچھا ہوگا "کہیں خبر میرے بارے میں تو نہیں؟" دوسری جانب بیوروکریسی بھی حسبِ روایت زیرِ بحث ہے۔ الزام ہے کہ افسران اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ وزراء اپنی مرضی کے تبادلے تک نہیں کرا سکتے۔
اگر یہ دعویٰ درست ہو تو پھر صوبے میں اصل حکومت کون چلا رہا ہے، یہ سوال خود ایک الگ تحقیق کا موضوع بن سکتا ہے۔ ویسے پاکستانی بیوروکریسی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت سمجھتی ہے کہ افسران پچھلی حکومت کے لوگ ہیں، اور ہر جانے والی حکومت کو یقین ہوتا ہے کہ یہی افسران نئی حکومت کے لوگ بن گئے ہیں۔
بجٹ کے بارے میں بھی عجیب صورتحال ہے کچھ حلقے کہہ رہے ہیں کہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ سیاسی منصوبہ بندی شامل ہے۔ ایم پی ایز کو کاغذی منصوبوں کے لالی پاپ دیے جا رہے ہیں۔ محکمہ خزانہ کے بارے میں دعویٰ ہے کہ بعض افسران خود ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات سے مکمل طور پر واقف نہیں۔
اگر ایسا ہے تو پھر بجٹ شاید وہ واحد دستاویز ہوگی جس کے بارے میں لکھنے والے، پڑھنے والے اور منظور کرنے والے تینوں الگ الگ تشریح رکھتے ہوں گے۔ ادھر عوام خاموشی سے یہ سارا منظر دیکھ رہے ہیں۔ عوام کو شاید اس بات سے زیادہ دلچسپی نہیں کہ کون قرآن پر حلف اٹھاتا ہے اور کون نہیں۔ انہیں زیادہ فکر بجلی کے بل، مہنگائی، روزگار، سکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کی ہے۔
لیکن بدقسمتی سے پاکستانی سیاست اکثر عوامی مسائل کو پس منظر میں اور سیاسی ڈراموں کو مرکز میں لے آتی ہے۔ سب سے دلچسپ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی 35 یا 40 اراکین اسمبلی ایک ہی صفحے پر ہیں تو پھر باقی لوگ کس صفحے پر ہیں؟ اور اگر سب عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں تو پھر اختلاف صرف طریقہ کار پر ہے یا کچھ اور کہانی بھی پس منظر میں چل رہی ہے؟
خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال ایک شطرنج کی بساط جیسی دکھائی دیتی ہے۔ ہر مہرہ خود کو بادشاہ سمجھ رہا ہے، ہر کھلاڑی خود کو فاتح سمجھ رہا ہے، اور عوام تماشائی بن کر اگلی چال کا انتظار کر رہے ہیں۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ صوبے کی سیاست میں بجٹ صرف بجٹ نہیں رہا۔
یہ وفاداری کا امتحان بھی ہے، طاقت کا مظاہرہ بھی، قیادت پر اعتماد کا ریفرنڈم بھی اور وزارتِ اعلیٰ کے خوابوں کا آئینہ بھی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اسمبلی میں بجٹ پہلے آتا ہے، احتجاج کی تاریخ پہلے آتی ہے یا پھر کوئی نئی خفیہ ملاقات سیاسی موسم کا رخ بدل دیتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں ایک چیز یقینی ہے۔ جب بھی لگے کہ کہانی ختم ہو گئی ہے، اصل قسط اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔