20/09/2026
1954 کی CIA رپورٹ: پاکستان کی سڑکوں کا خفیہ امریکی جائزہ
مسرت اللہ جان
سال 1950 کی دہائی میں جنوبی اور وسطی ایشیا سرد جنگ کے اہم ترین جغرافیائی خطوں میں شمار ہوتا تھا۔ پاکستان ایک طرف مغربی دنیا کے لیے اہم جغرافیائی مقام رکھتا تھا، جبکہ دوسری طرف سوویت یونین کی جنوبی سرحدوں کے قریب واقع وسطی ایشیا بھی امریکی انٹیلی جنس کی مسلسل توجہ کا مرکز تھا۔امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی، CIA، کی دو declassified دستاویزات اس دور کی ایک دلچسپ تصویر سامنے لاتی ہیں۔ ایک رپورٹ 1954 میں پاکستان کے اہم زمینی راستوں، شاہراہوں اور پلوں کا جائزہ پیش کرتی ہے، جبکہ دوسری 1957 میں سوویت یونین کے **Tyura Tam** میزائل ٹیسٹ ایریا کی نگرانی اور تجزیے سے متعلق ہے۔دونوں دستاویزات کو ایک ساتھ پڑھنے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دور میں امریکی انٹیلی جنس کے لیے خطے میں **transportation، military mobility، communications اور missile infrastructure** کتنی اہمیت رکھتے تھے۔
3 مئی 1954 کی CIA رپورٹ میں پاکستان کی اہم سڑکوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔رپورٹ میں صرف یہ نہیں بتایا گیا کہ سڑک پکی ہے یا کچی۔ امریکی تجزیہ کاروں نے سڑکوں کی چوڑائی، پلوں کی گنجائش، موڑ، پہاڑی ڈھلوان، موسم کے دوران استعمال اور خاص طور پر **بھاری ٹرکوں اور بڑے سامان کی نقل و حرکت** کے حوالے سے ان کا جائزہ لیا۔رپورٹ میں جس نقشے کا حوالہ دیا گیا وہ **"50-mile Map of Pakistan, First Edition"** تھا، جو 1950 میں Survey of Pakistan کے مری دفتر میں تیار کیا گیا تھا۔
کراچی سے ملتان تک سڑک کی رپورٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، مظفرگڑھ اور ملتان کے درمیان راستے کو جدید پختہ شاہراہ قرار دیا گیا۔یہ دو لین کی سڑک تھی اور زیادہ تر مقامات پر دو گاڑیاں آسانی سے ایک دوسرے کو کراس کر سکتی تھیں۔ پل عمومی طور پر اچھی حالت میں تھے اور مناسب وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔تاہم دریائے سندھ پر موجود پل صرف ایک لین چوڑا تھا۔چونکہ راستہ زیادہ تر ہموار علاقے سے گزرتا تھا، اس لیے بڑی چڑھائیاں یا خطرناک موڑ موجود نہیں تھے۔
اس طرح ملتان سے مونٹگمری کے بارے میں CIA کے مطابق ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ایک اچھی پختہ سڑک بھی موجود تھی، اگرچہ وہ متعلقہ نقشے پر ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ یہ مکمل دو لین چوڑی تھی، ہموار علاقے سے گزرتی تھی اور اس پر ایسے پل یا فورڈ نہیں تھے جو آمدورفت میں بڑی رکاوٹ پیدا کرتے۔اسی سی آئی اے نے لائل پور سے مظفرگڑھ کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ سڑک دریائے جہلم کو عبور کرنے کے بعد دریا کے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ مظفرگڑھ تک جاتی تھی۔رپورٹ کے مطابق اس سڑک کا بڑا حصہ نقشے پر بھی موجود نہیں تھا، تاہم زمینی معلومات کے مطابق یہ مکمل دو لین پختہ سڑک تھی۔اس پر کوئی ایسا فورڈ یا پل نہیں تھا جو سفر کو محدود کرے اور راستہ عمومی طور پر ہموار تھا۔
امریکی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں لاہور سے لائل پور کے حوالے سے بتایا کہ شیرگڑھ کے راستے لاہور اور لائل پور کے درمیان سڑک کو معیاری دو لین پختہ شاہراہ قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ لاہور-سرگودھا ہائی وے سے لائل پور تک ایک نئی رابطہ سڑک بھی تعمیر کی گئی تھی جو اس وقت نقشے میں شامل نہیں تھی۔
سی آئی اے نے لاہور، راولپنڈی اور پشاور: گرینڈ ٹرنک ہائی وے کے حوالے سے1954 کی رپورٹ میں لاہور سے راولپنڈی اور پشاور جانے والی سڑک کو **Grand Trunk Highway** کہا گیا۔CIA نے اسے تعمیر اور دیکھ بھال کے لحاظ سے بہترین سڑکوں میں شمار کیا۔تقریباً **276 میل** طویل یہ پختہ سڑک مکمل دو لین چوڑی تھی۔اس راستے کو دو پہاڑی سلسلوں کو عبور کرنا پڑتا تھا، اس لیے ڈھلوانیں موجود تھیں، لیکن رپورٹ کے مطابق سڑک کی انجینئرنگ اچھی تھی اور بھاری ٹرک بھی اس پر آسانی سے سفر کر سکتے تھے۔پل بھی اچھی حالت میں تھے۔یہ نکتہ اہم ہے، کیونکہ 1954 میں امریکی انٹیلی جنس کے لیے لاہور، راولپنڈی اور پشاور کو ملانے والی یہ شاہراہ صرف شہری سفر کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ بھاری نقل و حرکت کے قابل ایک اہم زمینی رابطہ بھی تھی۔
اس طرح سڑکوں سے متعلق بننے والے اس رپورٹ پرسی آئی اے نے پشاور، اٹک، چکوال، خوشاب اور لائل پورکے حوالے سے لکھا ہے کہ پشاور سے اٹک، چکوال، خوشاب اور لائل پور جانے والے راستے کو بھی تفصیل سے جانچا۔یہ مکمل پختہ مگر نسبتاً تنگ دو لین سڑک تھی۔چکوال اور خوشاب کے درمیان راستہ ایک پہاڑی سلسلے کو عبور کرتا تھا، جہاں شدید ڈھلوانیں اور تیز موڑ موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق عام گاڑیوں اور چھوٹے ٹرکوں کے لیے یہ راستہ تمام موسموں میں قابل استعمال تھا، لیکن بھاری ٹرکوں کے لیے بعض حصے انتہائی مشکل بلکہ بعض حالات میں تقریباً ناقابل استعمال ہو سکتے تھے۔دریائے سندھ پر ایک ٹول برج صرف ایک لین چوڑا تھا، جبکہ دریائے جہلم پر موجود پل مضبوط reinforced-concrete کا تھا اور مکمل دو لین چوڑا تھا۔
جبکہ سی آئی اے نے سکھر، سبی اور کوئٹہ سے متعلق بتایا کہ سکھر سے سبی اور کوئٹہ جانے والی سڑک کو بھی نسبتاً بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل پختہ اور تقریباً مکمل دو لین چوڑی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس کی انجینئرنگ اچھی تھی، ڈھلوانیں نسبتاً آسان اور موڑ کشادہ تھے۔سڑک کی دیکھ بھال بھی اوسط سے بہتر قرار دی گئی۔
بلوچستان میں سڑکوں سے متعلق رپورٹ میں سی آئی اے نے کوئٹہ، چمن اور بلوچستان کے راستے کے بارے میں لکھا کہ کوئٹہ سے چمن جانے والی سڑک کو اچھی، کشادہ اور پختہ دو لین شاہراہ ہے اس کے مقابلے میں کوئٹہ سے ہنڈوباغ اور فورٹ سنڈیمن جانے والا راستہ دشوار تھا۔ علاقے کے جغرافیے کے باعث اس میں بہت سے تیز موڑ تھے اور بھاری گاڑیوں کے لیے سفر مشکل تھا۔کوئٹہ، زیارت، لورالائی اور میختر کا راستہ اس کا متبادل تھا، لیکن رپورٹ کے مطابق اس کی انجینئرنگ اور دیکھ بھال نسبتاً کم بہتر تھی۔کراچی سے خضدار اور کوئٹہ جانے والے راستے کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ معلومات فراہم کرنے والے ذریعے نے خود اس راستے پر سفر نہیں کیا تھا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ راستہ صحرائی علاقے سے گزرتا تھا اور اس پر مناسب سروس اسٹیشن موجود نہیں تھے۔رپورٹ کے مطابق کراچی اور کوئٹہ کے درمیان سفر کرنے والے افراد عام طور پر سکھر کے راستے کو ترجیح دیتے تھے۔