Nexuspak

Nexuspak Digital Creator ,

10/06/2026

قرآن، بجٹ اور وزارتِ اعلیٰ: خیبرپختونخوا کی سیاست میں حلفیہ کشتی

مسرت اللہ جان

خیبرپختونخوا کی سیاست ان دنوں کسی سنجیدہ پارلیمانی عمل سے زیادہ ایک ایسے ڈرامے کا منظر پیش کر رہی ہے جس میں ہر کردار خود کو اصل ہیرو اور باقی سب کو ولن سمجھ رہا ہے۔ ایک طرف عمران خان کی رہائی کا نعرہ ہے، دوسری طرف بجٹ کی منظوری کا معاملہ ہے، تیسری طرف وزارتِ اعلیٰ کی افواہیں ہیں، اور چوتھی طرف وہ بیوروکریسی ہے جو ہر حکومت کے دور میں اتنی طاقتور نظر آتی ہے کہ بعض اوقات منتخب نمائندے خود کو سرکاری فائلوں کے سامنے بے بس محسوس کرتے ہیں۔

اب تازہ ترین سیاسی شاہکار ملاحظہ فرمائیں۔ کچھ اراکین اسمبلی نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کی رہائی واحد مطالبہ ہے، ورنہ بجٹ منظور نہیں ہوگا۔ مطالبہ بھی عام نہیں۔ تجویز یہ ہے کہ تمام منتخب نمائندے اکٹھے ہوں، قرآن پر حلف اٹھائیں، احتجاج کی تاریخ دیں اور پھر بجٹ پاس کریں۔ پاکستانی سیاست میں ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ لوٹا کریسی دیکھی، دھاندلی کے الزامات دیکھے، فلور کراسنگ دیکھی، خفیہ ملاقاتیں دیکھیں، لیکن بجٹ سے پہلے اجتماعی حلف برداری کی شرط شاید پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اسمبلی اب قانون سازی کا ادارہ کم اور نکاح رجسٹریشن دفتر زیادہ بنتی جا رہی ہے جہاں ہر اہم فیصلے سے پہلے حلف ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ ناراض گروپ کا مؤقف ہے کہ انہیں وزارتیں نہیں چاہئیں بلکہ عمران خان کی رہائی چاہیے۔ مخالفین کہتے ہیں کہ یہ ناراضی وزارتوں کی تقسیم کے فوراً بعد کیوں پیدا ہوئی؟ سوال اپنی جگہ دلچسپ ہے۔ اگر کسی کو وزارت نہیں چاہیے تو پاکستانی سیاست میں یہ واقعی ایک تاریخی انکشاف ہے۔ کیونکہ یہاں تو بعض اوقات وزارت کا خواب دیکھتے دیکھتے لوگ نظریات بھی تبدیل کر لیتے ہیں۔

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ پارٹی قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے مخلص نہیں، دوسری طرف اسی قیادت سے احتجاج کی تاریخ بھی مانگی جا رہی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی طالب علم اپنے استاد سے کہے کہ "سر، آپ پڑھاتے بھی غلط ہیں لیکن امتحان کی تیاری بھی آپ ہی کروائیں۔" ادھر حکومت کے حامی حلقے کہتے ہیں کہ بجٹ روکنا دراصل عمران خان کی رہائی کا مسئلہ نہیں بلکہ اندرونی سیاسی طاقت کا کھیل ہے۔ ان کے مطابق اصل جنگ بجٹ کی نہیں بلکہ اثر و رسوخ کی ہے۔

کہانی میں مزید رنگ اس وقت آیا جب خفیہ ملاقاتوں، وزارتِ اعلیٰ کی خواہشات اور ممکنہ فارورڈ بلاک کی خبریں گردش کرنے لگیں پاکستانی سیاست میں "خفیہ ملاقات" ایک ایسی چیز ہے جو اکثر ملاقات سے پہلے میڈیا تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر واقعی کوئی خفیہ ملاقات ہو تو اس کی سب سے بڑی نشانی یہی ہوتی ہے کہ پورا صوبہ اس کے بارے میں جانتا ہوتا ہے۔

ایک دعویٰ یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ لوگ وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار بننے کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی شاید خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں موجود ہر اہم شخصیت نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے پوچھا ہوگا "کہیں خبر میرے بارے میں تو نہیں؟" دوسری جانب بیوروکریسی بھی حسبِ روایت زیرِ بحث ہے۔ الزام ہے کہ افسران اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ وزراء اپنی مرضی کے تبادلے تک نہیں کرا سکتے۔

اگر یہ دعویٰ درست ہو تو پھر صوبے میں اصل حکومت کون چلا رہا ہے، یہ سوال خود ایک الگ تحقیق کا موضوع بن سکتا ہے۔ ویسے پاکستانی بیوروکریسی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر آنے والی حکومت سمجھتی ہے کہ افسران پچھلی حکومت کے لوگ ہیں، اور ہر جانے والی حکومت کو یقین ہوتا ہے کہ یہی افسران نئی حکومت کے لوگ بن گئے ہیں۔

بجٹ کے بارے میں بھی عجیب صورتحال ہے کچھ حلقے کہہ رہے ہیں کہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ سیاسی منصوبہ بندی شامل ہے۔ ایم پی ایز کو کاغذی منصوبوں کے لالی پاپ دیے جا رہے ہیں۔ محکمہ خزانہ کے بارے میں دعویٰ ہے کہ بعض افسران خود ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات سے مکمل طور پر واقف نہیں۔

اگر ایسا ہے تو پھر بجٹ شاید وہ واحد دستاویز ہوگی جس کے بارے میں لکھنے والے، پڑھنے والے اور منظور کرنے والے تینوں الگ الگ تشریح رکھتے ہوں گے۔ ادھر عوام خاموشی سے یہ سارا منظر دیکھ رہے ہیں۔ عوام کو شاید اس بات سے زیادہ دلچسپی نہیں کہ کون قرآن پر حلف اٹھاتا ہے اور کون نہیں۔ انہیں زیادہ فکر بجلی کے بل، مہنگائی، روزگار، سکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کی ہے۔

لیکن بدقسمتی سے پاکستانی سیاست اکثر عوامی مسائل کو پس منظر میں اور سیاسی ڈراموں کو مرکز میں لے آتی ہے۔ سب سے دلچسپ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی 35 یا 40 اراکین اسمبلی ایک ہی صفحے پر ہیں تو پھر باقی لوگ کس صفحے پر ہیں؟ اور اگر سب عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں تو پھر اختلاف صرف طریقہ کار پر ہے یا کچھ اور کہانی بھی پس منظر میں چل رہی ہے؟

خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال ایک شطرنج کی بساط جیسی دکھائی دیتی ہے۔ ہر مہرہ خود کو بادشاہ سمجھ رہا ہے، ہر کھلاڑی خود کو فاتح سمجھ رہا ہے، اور عوام تماشائی بن کر اگلی چال کا انتظار کر رہے ہیں۔ فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ صوبے کی سیاست میں بجٹ صرف بجٹ نہیں رہا۔

یہ وفاداری کا امتحان بھی ہے، طاقت کا مظاہرہ بھی، قیادت پر اعتماد کا ریفرنڈم بھی اور وزارتِ اعلیٰ کے خوابوں کا آئینہ بھی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اسمبلی میں بجٹ پہلے آتا ہے، احتجاج کی تاریخ پہلے آتی ہے یا پھر کوئی نئی خفیہ ملاقات سیاسی موسم کا رخ بدل دیتی ہے۔ پاکستانی سیاست میں ایک چیز یقینی ہے۔ جب بھی لگے کہ کہانی ختم ہو گئی ہے، اصل قسط اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔

09/06/2026

اجلاس ملتوی، حکمتِ عملی غائب اور سیاست کا سیزن فائنل

مسرت اللہ جان

خیبر پختونخوا کی سیاست ان دنوں ایک ایسے ڈرامے میں بدل چکی ہے جس کا نہ اسکرپٹ مکمل ہے، نہ ڈائریکٹر مطمئن اور نہ ہی اداکاروں کو یہ علم ہے کہ سین ختم کب ہوگا۔ کہیں "عمران خان رہائی تحریک" کے نام پر مشاورتی کمیٹیوں کے اجلاس چل رہے ہیں، کہیں ناراض اراکین اپنی ناراضی کو ادارہ جاتی شکل دینے میں مصروف ہیں، اور کہیں اجلاس خود اپنی حفاظت کے لیے ملتوی ہو رہے ہیں۔

یہ وہ دور ہے جہاں سیاست سنجیدہ کم اور تماشہ زیادہ لگتی ہے، لیکن اس تماشے کے پیچھے طاقت، مفادات اور بیانیے کی ایک پوری مشینری چل رہی ہے۔
اجلاس جو کبھی ہوتا ہی نہیں ۔مشاورتی کمیٹی کا تیسرا اجلاس بھی ہو گیا۔ کاغذی طور پر یہ اجلاس "بہت اہم" تھا، عملی طور پر وہی پرانی کہانی: حکمت عملی کا مطالبہ، تشویش کا اظہار اور مستقبل کے لیے پھر ایک نئی امید۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حکمت عملی اب سیاست میں ایک ایسا پراسرار لفظ بن چکا ہے جو ہر اجلاس میں مانگا جاتا ہے مگر کہیں نظر نہیں آتا۔ اگر یہی رفتار رہی تو آنے والے دنوں میں شاید حکمت عملی کے لیے باقاعدہ سرچ آپریشن شروع کرنا پڑے۔

نمبر 1: حکمت عملی چاہیے
نمبر 2: حکمت عملی کہاں ہے؟
نمبر 3: اگر نہیں ہے تو جلد بنائی جائے
نمبر 4: اور اگر بن رہی ہے تو ہمیں بھی دکھائی جائے ۔ یہی چار لائنیں پچھلے کئی اجلاسوں سے سیاسی سائیکل بن چکی ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اجلاس اب سیاست سے زیادہ ایک انتظامی مسئلہ بن چکا ہے۔ پہلے تاریخ آتی ہے، پھر اچانک رات کے اندھیرے میں ملتوی ہو جاتی ہے، پھر نئی تاریخ آتی ہے، پھر دوبارہ ملتوی۔ یہ سلسلہ اتنا مستقل ہو چکا ہے کہ اب عوام کو اجلاس کے انعقاد سے زیادہ اس کے ملتوی ہونے کا انتظار رہتا ہے۔ بعض حلقے تو یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ اجلاس بلانے کا اصل مقصد اسے ملتوی کرنا ہی ہے تاکہ سیاسی دباؤ کو کنٹرول رکھا جا سکے۔ ناراض اراکین کی سیاست بھی اپنی جگہ ایک مکمل سب پلاٹ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس "اندرونی سچ" ہے، لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس سچ کا وقت اور مقام ہر بار بدل جاتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر حکمت عملی واضح نہیں تو تحریک کیسے چلے گی؟ اگر فیصلے بند کمروں میں ہوں گے تو کارکن کیسے اعتماد کریں گے؟

لیکن دوسری طرف سیاسی حقیقت یہ ہے کہ بند کمرے ہی اصل فیصلوں کی جگہ ہوتے ہیں، اور کھلی اسمبلی صرف اس فیصلے کی تشہیر کے لیے ہوتی ہے۔

اب آتے ہیں اس سیاسی کھیل کے سب سے دلچسپ حصے کی طرف۔
گزشتہ روز ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل افریدی جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھے نظر آئے۔ یہ وہی سیاسی ماحول ہے جہاں کل تک سخت زبان استعمال ہوتی ہے، القابات کی بارش ہوتی ہے، اور آج وہی ہاتھ مصافحے میں جکڑے ہوتے ہیں۔

سیاست میں یہ کوئی نئی بات نہیں، مگر پاکستان میں اس کی رفتار تھوڑی زیادہ تیز ہے۔ یہاں "کل کا دشمن" بعض اوقات "آج کا اتحادی" اور "آج کا اتحادی" کل کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ کارکنوں کے لیے یہ منطق ہمیشہ مشکل رہی ہے، کیونکہ انہیں ہر تقریر کو حرف آخر سمجھ کر یاد رکھنا ہوتا ہے، جبکہ قیادت ہر نئے موقع پر اس یادداشت کو اپڈیٹ کر دیتی ہے۔

سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ کل تک جنہیں سخت الفاظ میں نشانہ بنایا جاتا تھا، آج انہی کے ساتھ بیٹھ کر مستقبل کی سیاست پر گفتگو ہو رہی ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست نظریات سے زیادہ ضرورتوں کی محتاج نظر آتی ہے۔ اور ضرورتیں اکثر زبان بدل دیتی ہیں، رویے بدل دیتی ہیں اور حتیٰ کہ پرانے بیانیے بھی نرم کر دیتی ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ملاقات کیوں ہوئی، سوال یہ ہے کہ اگر سیاست میں یہ سب کچھ پہلے سے طے تھا تو پھر اتنی سخت زبانیں کیوں استعمال ہوئیں؟

اصل مسئلہ کارکن کا ہے۔ وہ ہر لفظ کو سنجیدہ لیتا ہے، ہر نعرے کو اصول سمجھتا ہے، اور ہر بیانیے کو مستقل سچائی مان لیتا ہے۔ لیکن سیاست اس کے برعکس ایک مسلسل بدلتا ہوا عمل ہے جہاں مستقل صرف مفاد ہوتا ہے۔
کارکن کے لیے یہ صورتحال اکثر ذہنی الجھن پیدا کرتی ہے، مگر قیادت کے لیے یہ محض "سیاسی حکمت عملی" ہوتی ہے۔

یہ پوری صورتحال ایک سادہ سوال پر آ کر رکتی ہے اگر حکمت عملی واقعی موجود ہے تو ہر اجلاس میں اس کا انتظار کیوں؟ اگر ملاقاتیں سیاسی ضرورت ہیں تو بیانات اتنے سخت کیوں تھے اور اگر سب کچھ پہلے سے طے تھا تو یہ سارا شور کس لیے؟

خیبر پختونخوا کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر فریق خود کو درست اور دوسرے کو غیر واضح سمجھتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تصویر ابھی مکمل نہیں، اور اس تصویر میں سب سے بڑا غائب کردار شاید "وضاحت" ہے۔ اور جب تک وضاحت نہیں آتی، اجلاس ملتوی رہیں گے، ناراضی جاری رہے گی، اور سیاست چلتی رہے گی اپنے ہی دائرے میں۔

02/06/2026

خیبر پختونخوا کا بجٹ اسٹریٹیجی پیپر 2026–29: استحکام کے دعوے، عملدرآمد کے سوالات

مسرت اللہ جان

خیبر پختونخوا حکومت کا بجٹ اسٹریٹیجی پیپر 2026–29 بظاہر ایک ایسے مالی ڈھانچے کی تصویر پیش کرتا ہے جو استحکام، سرپلس اور اصلاحات کی سمت بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے اندر موجود اعداد و شمار اور عملدرآمد کے رجحانات ایک مختلف کہانی بھی سامنے لاتے ہیں، جہاں مالی خودمختاری، ترقیاتی صلاحیت اور وفاقی انحصار بنیادی سوالات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

حکومتی دستاویز کے مطابق صوبے نے مالی سال 2025–26 میں 157 ارب روپے سرپلس کا ہدف رکھا، جس میں سے جنوری 2026 تک 120.5 ارب روپے حاصل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس سرپلس کے تقریباً 101.88 ارب روپے وفاقی ٹریڑری بلز میں محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر رکھے گئے ہیں۔ بظاہر یہ ایک محتاط اور نظم و ضبط پر مبنی مالی حکمت عملی ہے، لیکن اس کی نوعیت “حقیقی نقد سرپلس” سے زیادہ “اکاو¿نٹنگ اور عارضی لیکویڈیٹی مینجمنٹ” سے جڑی دکھائی دیتی ہے، کیونکہ آمدن کا بڑا حصہ ابھی تک مکمل طور پر موصول نہیں ہوا۔

بجٹ کا سب سے نمایاں پہلو صوبے کا وفاقی ٹرانسفرز پر شدید انحصار ہے۔ مجموعی آمدن میں سب سے بڑا حصہ وفاقی رقوم، خصوصاً نیٹ ہائیڈل پرافٹ، مرجڈ اضلاع کے فنڈز اور بیرونی منصوبہ جاتی معاونت سے آتا ہے، جبکہ صوبائی اپنی آمدن اس کے مقابلے میں محدود ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ صوبائی مالی خودمختاری ابھی ابتدائی سطح پر ہے اور بجٹ کا استحکام مرکز کی ادائیگیوں کے تسلسل سے جڑا ہوا ہے۔رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آتی ہے کہ مالی سال کے دوران وفاقی واجبات میں تاخیر اور جزوی ادائیگیوں نے بجٹ کے حقیقی اہداف اور وصولیوں کے درمیان نمایاں فرق پیدا کیا ہے، جس کے نتیجے میں مالی منصوبہ بندی متاثر ہوئی۔

سب سے زیادہ تشویشناک پہلو ترقیاتی اخراجات کی کم شرح ہے۔ دستاویز کے مطابق 547 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کے مقابلے میں صرف 169 ارب روپے خرچ ہو سکے، یعنی تقریباً 30 فیصد عملدرآمد۔ یہ فرق محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ادارہ جاتی کمزوری اور منصوبہ جاتی صلاحیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کے مو¿ثر استعمال اور منصوبوں پر بروقت عملدرآمد کا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی سست رفتار صوبے میں انفراسٹرکچر اور خدماتی شعبوں میں بہتری کی رفتار کو محدود کر رہی ہے۔

صحت کے شعبے کے لیے 276 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں، لیکن عملی سطح پر ڈاکٹر اور مریض کے تناسب جیسے بنیادی مسائل برقرار ہیں، جہاں ایک ڈاکٹر پر اوسطاً 4,468 افراد کا دباو¿ رپورٹ کیا گیا ہے۔ اگرچہ ہسپتالوں، ڈسپنسریز اور بیڈز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، مگر نظام کی گنجائش آبادی کے دباو¿ کے مطابق نہیں بڑھ سکی۔تعلیم کے شعبے میں 363 ارب روپے سے زائد کا بجٹ رکھا گیا ہے اور طلبہ کی تعداد میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، لیکن معیارِ تعلیم اور سیکھنے کے نتائج (learning outcomes) کے حوالے سے واضح خلا موجود ہے۔ خصوصاً مرجڈ اضلاع میں صنفی تفاوت اور رسائی کے مسائل اب بھی نمایاں ہیں۔

صوبائی معیشت کے اعداد و شمار میں بحالی کے آثار ضرور دکھائی دیتے ہیں۔ جی ڈی پی میں بہتری، فی کس آمدنی میں اضافہ اور بعض شعبوں میں نمو مثبت اشارے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود معیشت کا ڈھانچہ اب بھی محدود ٹیکس بیس اور وفاقی مالی معاونت پر انحصار کرتا ہے۔ یہ ماڈل طویل مدت میں مالی دباو¿ پیدا کر سکتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب وفاقی رقوم کی ادائیگی میں تاخیر جاری رہے۔
خیبر پختونخوا کا ماحولیاتی اور کاربن کریڈٹ منصوبہ بظاہر ایک بڑی اقتصادی موقع کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں اربوں ڈالر کی ممکنہ آمدن اور وسیع رقبے پر شجرکاری و جنگلات کے منصوبے شامل ہیں۔ تاہم یہ منصوبے ابھی زیادہ تر پالیسی اور فزیبلٹی سطح پر ہیں، جبکہ ان کی عملی شکل اور ادارہ جاتی فریم ورک ابھی مکمل طور پر واضح نہیں۔ یہی خلا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبے میں “پراجیکٹ ڈیزائن” اور “پراجیکٹ ڈیلیوری” کے درمیان فرق اب بھی بڑا ہے۔

مجموعی طور پر خیبر پختونخوا کا بجٹ اسٹریٹیجی پیپر مالی استحکام اور اصلاحاتی سمت کا ایک واضح بیانیہ پیش کرتا ہے، لیکن اس کے اندر چھپے ہوئے ساختی مسائل بھی اتنے ہی واضح ہیں۔وفاقی انحصار، کمزور ترقیاتی عملدرآمد، اور صحت و تعلیم کے شعبوں میں کارکردگی کا خلا وہ بنیادی چیلنجز ہیں جو محض بجٹ کے اعداد و شمار سے حل نہیں ہوتے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ مالی سرپلس کے بیانیے سے آگے بڑھ کر حقیقی خودمختار اور مو¿ثر مالی و انتظامی نظام کی طرف جا رہا ہے یا نہیں۔

02/06/2026

تہذیب اور ثقافت کا جنازہ: ایک نہیں، دو پختونخوا

مسرت اللہ جان

پختونخوا بدل گیا ہے۔ صرف سڑکیں، عمارتیں اور دفاتر نہیں بدلے بلکہ حکمرانوں کے رویے، ترجیحات اور معاشرتی اقدار بھی بدل گئی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تبدیلی مثبت نہیں بلکہ ایسی ہے جس نے ہماری اجتماعی تہذیب، روایات اور ریاستی ذمہ داری کے تصور کو دفن کر دیا ہے۔

ایک وقت تھا جب دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے عروج پر تھی۔ ہر روز پولیس، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے۔ اس وقت شہید پولیس اہلکار کا جنازہ محض ایک رسمی تقریب نہیں ہوتا تھا بلکہ ریاست کی طرف سے اپنے محافظوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا عملی اظہار ہوتا تھا۔

وزیراعلیٰ، وزراء، سپیکر اسمبلی، اعلیٰ سرکاری افسران اور سیاسی قیادت جنازوں میں شریک ہوتی تھی۔ ان کی موجودگی ایک پیغام دیتی تھی کہ ریاست اپنے شہداء کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جائے گا۔ آج منظر نامہ یکسر مختلف ہے۔

پشاور پولیس لائنز میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار کے جنازے میں آئی جی پولیس، سی سی پی او اور دیگر پولیس افسران تو موجود تھے، لیکن صوبے کی سیاسی قیادت کہاں تھی؟ وزیراعلیٰ کہاں تھے؟ کابینہ کے ارکان کہاں تھے؟ سپیکر اسمبلی کہاں تھے؟ کیا ان کے پاس چند منٹ بھی نہیں تھے کہ وہ اس سپاہی کو آخری سلام پیش کر سکتے جس نے ریاست کے دفاع میں اپنی جان قربان کی؟
اب روایت یہ بن چکی ہے کہ شہادت کے بعد ایک ٹویٹ، ایک پریس ریلیز اور ایک مذمتی بیان جاری کر دیا جاتا ہے، گویا ذمہ داری پوری ہوگئی۔ میدان میں موجود اہلکار خون دیتے ہیں جبکہ ایوانوں میں بیٹھے لوگ صرف الفاظ خرچ کرتے ہیں۔

یہ سوال صرف ایک جنازے کا نہیں، بلکہ حکمرانی کے رویے کا ہے۔ جب حکمران شہداء کے جنازوں سے غیر حاضر ہوں تو وہ دراصل ایک خطرناک پیغام دیتے ہیں کہ قربانی دینے والے اور فیصلے کرنے والے دو الگ دنیاؤں میں رہتے ہیں۔

اس صورتحال نے پختونخوا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
ایک پختونخوا وہ ہے جہاں پولیس اہلکار، سپاہی، مزدور اور عام شہری دہشت گردی، بدامنی اور مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ دوسرا پختونخوا وہ ہے جہاں حکمران پروٹوکول، تقریبات، سیاسی جلسوں اور سوشل میڈیا بیانات میں مصروف رہتے ہیں۔
پہلے پختونخوا میں لوگ مرتے ہیں، دوسرے پختونخوا میں صرف بیانات جاری ہوتے ہیں۔
یہ صرف سیاسی تنقید نہیں بلکہ ہماری تہذیبی زوال کی کہانی ہے۔

پختون معاشرے میں جنازے میں شرکت کو محض مذہبی فریضہ نہیں بلکہ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ یہاں دشمن بھی مر جائے تو لوگ تعزیت کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن آج ریاست کے محافظ کا جنازہ اٹھتا ہے اور صوبے کی اعلیٰ سیاسی قیادت غیر حاضر رہتی ہے۔
اگر ایک شہید پولیس اہلکار اپنے آخری سفر میں حکمرانوں کی موجودگی کا مستحق نہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ حکمران عوام کی نمائندگی کس موقع پر کرتے ہیں؟

ریاست صرف عمارتوں، فائلوں اور بیانات کا نام نہیں ہوتی۔ ریاست اپنے رویوں سے پہچانی جاتی ہے۔ جب شہداء تنہا دفن ہونے لگیں اور حکمران صرف تعزیتی ٹویٹس تک محدود ہو جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف سکیورٹی کا نہیں، بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کا ہے۔

آج کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ایک پولیس اہلکار شہید ہوا، بلکہ یہ ہے کہ اس کی قربانی کو وہ عزت بھی نہ مل سکی جو کبھی پختونخوا کی روایت، تہذیب اور حکمرانی کا حصہ ہوا کرتی تھی۔
شاید اسی لیے کہنا پڑتا ہے کہ اب ایک نہیں، دو پختونخوا ہیں۔ ایک قربانیاں دینے والوں کا، دوسرا اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کا۔

02/06/2026

سولر، سلیب اور آئی پی پیز: بجلی کے نظام میں اصل بحران کہاں ہے؟

مسرت اللہ جان

پاکستان میں بجلی کا بحران اب صرف نرخوں یا لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نہیں رہا، یہ ایک مکمل پالیسی، معاہدوں اور تقسیم شدہ نظام کی ناکامی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ وفاقی وزیر اویس لغاری کے حالیہ بیانات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں سولر صارفین، 200 یونٹ سلیب سسٹم اور آئی پی پیز ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑے کیے جا رہے ہیں۔ لیکن بنیادی سوال اب بھی وہی ہے: کیا واقعی مسئلہ سولر صارف ہیں یا پورا پاور سسٹم؟

حکومتی موقف یہ ہے کہ سولر سسٹم لگانے والے صارفین گرڈ سے اپنی کھپت کم کر کے 200 یونٹ سے نیچے آ رہے ہیں، جس سے بوجھ دیگر صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔ اس دلیل میں جزوی حقیقت ضرور ہے، مگر یہ پورے بحران کی وضاحت نہیں کرتی۔ سولر توانائی اختیار کرنے والے زیادہ تر وہ صارفین ہیں جو بڑھتے ہوئے بجلی بلوں سے تنگ آ کر متبادل راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ انہیں “مسئلہ” قرار دینا اصل ساختی خرابیوں سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔

اصل بوجھ سولر صارف نہیں بلکہ وہ طویل المدتی معاہدے ہیں جو آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے۔ ان معاہدوں کے تحت بجلی پیدا ہو یا نہ ہو، حکومت کو کیپیسٹی پیمنٹس ادا کرنا پڑتی ہیں۔ یہی وہ فکسڈ اخراجات ہیں جو ہر ماہ بلوں میں شامل ہو کر عام صارف تک منتقل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کی پیداواری لاگت نسبتاً کم ہونے کے باوجود صارفین کو کئی گنا زیادہ نرخ ادا کرنے پڑتے ہیں۔

200 یونٹ سلیب سسٹم بظاہر ایک سماجی تحفظ کا ماڈل ہے، مگر عملی طور پر یہ ایک جھٹکا سسٹم بن چکا ہے۔ جو صارف 200 یونٹ کی حد سے ایک یونٹ بھی تجاوز کرتا ہے، اس کا بل کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ اس نظام نے متوسط طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، کیونکہ وہ نہ تو مکمل سبسڈی میں آتا ہے اور نہ ہی بڑے صارفین کی طرح لاگت برداشت کر سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی گھر کا بل بعض اوقات معمولی اضافے کے ساتھ غیر متوقع طور پر دوگنا یا تین گنا ہو جاتا ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ بھی مو¿قف سامنے آتا رہا ہے کہ سولر صارفین گرڈ سسٹم پر بوجھ ڈال رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ گرڈ کی لاگت پہلے ہی فکسڈ ہے۔ آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز، لائن لاسز، گردشی قرضے اور انتظامی اخراجات پہلے ہی صارفین پر تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ اس نظام میں اگر ایک طبقہ اپنی کھپت کم کرتا ہے تو مسئلہ اس کی وجہ سے نہیں بلکہ اس ساخت کی وجہ سے بڑھتا ہے جو فکسڈ اخراجات کو متغیر کھپت پر تقسیم کرتی ہے۔

اسی دوران سولر صارفین پر اضافی چارجز یا ٹیکس کی بحث بھی سامنے آ رہی ہے۔ دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ چونکہ یہ صارفین گرڈ سے جزوی فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے انہیں بھی حصہ ڈالنا چاہیے۔ یہ نقطہ نظر اپنی جگہ قابل بحث ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب لائن لاسز، چوری اور ناکارہ معاہدوں کا بوجھ پہلے ہی عام صارف برداشت کر رہا ہے تو نئے ٹیکس کا بوجھ کس منطق کے تحت مزید تقسیم کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کا توانائی بحران بنیادی طور پر تین بڑے مسائل میں جڑا ہوا ہے: مہنگے اور غیر شفاف پاور پرچیز ایگریمنٹس، ناقص ریونیو ریکوری اور لائن لاسز، اور ایک غیر متوازن ٹیرف سسٹم جو ہر سال مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان تینوں عوامل کے درمیان عام صارف مسلسل دباو¿ میں ہے، جبکہ پالیسی بحث بار بار سولر یا سلیب تک محدود کر دی جاتی ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ سبسڈی ماڈل شفاف نہیں۔ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ کم استعمال کرنے والے صارفین کو ریلیف دے رہی ہے، مگر عملی طور پر یہ ریلیف غیر متوازن تقسیم کا شکار ہے۔ متوسط طبقہ اس پورے نظام کا سب سے بڑا “absorber” بن چکا ہے، جو نہ غریب کیٹیگری میں آتا ہے اور نہ امیر کی سہولت رکھتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا پاور سیکٹر اپنی بنیادی ساخت کے ساتھ چل سکتا ہے یا نہیں۔ جب تک آئی پی پیز کے معاہدے، کیپیسٹی پیمنٹس اور ٹیرف فارمولا بنیادی طور پر ریفارم نہیں ہوتے، ہر نئی پالیسی صرف ایک نئے تنازع کو جنم دے گی۔ سولر صارفین کو مورد الزام ٹھہرانا ایک آسان سیاسی بیانیہ ہو سکتا ہے، مگر یہ مسئلے کا حل نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ بجلی کا بحران نہ سولر نے پیدا کیا ہے اور نہ صارف نے۔ یہ ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہے جو اپنی لاگت، معاہدوں اور تقسیم کو شفاف طریقے سے manage کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جب تک یہ بنیادی سوال حل نہیں ہوتا، ہر حکومت صرف علامات کا علاج کرتی رہے گی، بیماری برقرار رہے گی۔

01/06/2026

غیر حاضر حضرات، حاضر وضاحتیں اور بجٹ کی گمشدہ اکثریت

مسرت اللہ جان

خیبر پختونخوا کی سیاست میں آج کل ایک عجیب قسم کا موسم چل رہا ہے۔ یہ وہ موسم ہے جس میں سب لوگ موجود بھی ہوتے ہیں اور غیر حاضر بھی۔ اکثریت بھی ساتھ ہوتی ہے اور ناراض بھی فارورڈ بلاک بھی نہیں بنتا لیکن اس کے خلاف دھمکیاں پہلے سے تیار ہوتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی کو وزارت نہ ملنے کا کوئی شکوہ نہیں، بس اتفاقاً پچاس کے قریب لوگ ناراض نکل آتے ہیں۔

حال ہی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ اب اجلاس میں کتنے لوگ شریک ہوئے، یہ سوال پوچھنا دراصل پاکستانی سیاست کی توہین ہے کیونکہ اس کے جواب میں جتنے ذرائع ہیں اتنی ہی تعداد سامنے آتی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق 53 ارکان شریک ہوئے۔ دوسرے ذریعے کے مطابق 52 شریک ہوئے تیسرے کے مطابق 55 سے 60 کے درمیان تھے چوتھے کے مطابق 75 ارکان موجود تھے۔

اگر یہی رفتار رہی تو اگلے ہفتے کوئی ذریعہ یہ بھی بتا دے گا کہ اجلاس میں 110 ارکان شریک ہوئے تھے حالانکہ اسمبلی میں کل تعداد ہی اس سے کم ہے سیاست میں سچائی سے زیادہ اہم چیز بیانیہ ہوتی ہے اور بیانیے کی خوبصورتی یہ ہے کہ ہر شخص اپنی گنتی ساتھ لے کر آتا ہے۔ اجلاس کے بعد سب سے دلچسپ بحث یہ شروع ہوئی کہ جو غیر حاضر تھے وہ آخر تھے کہاں؟

کچھ بیرون ملک تھے کچھ بیمار تھے۔ کچھ حج پر تھے۔ کچھ شادیوں میں تھے۔ کچھ گلگت بلتستان میں تھے۔ کچھ پارلیمانی امور میں مصروف تھے۔ اور باقی شاید یہ سوچ رہے تھے کہ جب ہر غیر حاضر شخص کے لیے ایک معقول بہانہ موجود ہے تو ہم کیوں پیچھے رہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسمبلی کے ارکان نہیں بلکہ کسی بڑے خاندان کے رشتہ داروں کی فہرست جاری ہوئی ہو جن میں کوئی عمرے پر گیا ہوا ہے، کوئی شادی میں، کوئی ہسپتال میں اور کوئی ماموں کے گھر۔

اصل مزہ اس وقت آیا جب بتایا گیا کہ فارورڈ بلاک نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ یہ اعلان اتنی بار کیا جا چکا ہے کہ اب عوام کو شک ہونے لگا ہے کہ شاید واقعی کوئی مسئلہ ہےپاکستانی سیاست میں ایک اصول ہے۔ جب دس مرتبہ کہا جائے کہ "کوئی مسئلہ نہیں" تو سمجھ جائیں کہ مسئلہ کافی سنجیدہ ہے۔ جب بیس مرتبہ کہا جائے کہ "کوئی فارورڈ بلاک نہیں" تو لوگ گوگل پر فارورڈ بلاک کا مطلب تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اراکین اسمبلی کا مؤقف بھی بڑا دلچسپ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ناراض نہیں ہیں۔ ہم صرف بجٹ سے ناراض ہیں۔ ہم حکومت سے ناراض نہیں ہیں۔ ہم صرف سرپلس بجٹ سے ناراض ہیں۔ ہم وزیراعلیٰ کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم صرف اس بات کے خلاف ہیں کہ عوام کا پیسہ سرپلس کیوں بنایا جا رہا ہے یعنی ناراضی بھی ایسی نفیس کہ بندہ ناراض ہو کر بھی ناراض نہ لگے۔

گویا ایک شوہر اپنی بیوی سے کہے: "میں تم سے ناراض نہیں ہوں، صرف تمہاری ہر بات سے اختلاف ہے۔" ادھر بجٹ پر بھی دلچسپ صورتحال ہے۔ اراکین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے سرپلس بجٹ نہ دینے کا کہا تھا۔پہلے 150 ارب کا سرپلس آیا۔ اب 253 ارب کا سرپلس زیر بحث ہے۔

اس پر کئی ارکان کو ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے سامنے چائے کا کپ رکھا گیا ہو اور بل پورے ہوٹل کا پکڑا دیا گیا ہو۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر یہ سرپلس جا کہاں رہا ہے؟ عوام پوچھ رہی ہے کہ پہلے یہ بتائیں سرپلس ہوتا کیا ہے؟ اور آئی ایم ایف شاید یہ سوچ رہی ہوگی کہ پاکستان میں ہمارا نام ہر تیسرے جھگڑے میں کیوں آ جاتا ہے۔

ایک اور دلچسپ تجویز سامنے آئی۔ اراکین نے کہا کہ اگر حمایت چاہیے تو بجٹ سے پہلے عمران خان کی بہنوں کی عمران خان سے ملاقات کرا دی جائے۔ یہ شاید دنیا کی پہلی سیاسی تاریخ ہوگی جس میں بجٹ منظوری کا انحصار اقتصادی اشاریوں، ٹیکس اصلاحات یا ترقیاتی منصوبوں پر نہیں بلکہ ملاقات کے انتظامات پر ہو۔

اقتصادی ماہرین اب شاید نئی کتابیں لکھنے پر مجبور ہوں۔ باب اول: مالیاتی پالیسی۔ باب دوم: زرمبادلہ کے ذخائر۔ باب سوم: سیاسی ملاقاتوں کا بجٹ خسارے پر اثر۔

اسی دوران شفیع جان صاحب نے اعلان فرمایا کہ کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔ اور اگر کسی نے ایسی حرکت کی تو زمین اس پر تنگ کر دی جائے گی۔یہ سن کر زمین بھی پریشان ہوگئی ہوگی۔ اس نے سوچا ہوگا کہ مہنگائی، بے روزگاری، بارشیں اور سیلاب سنبھالنا ہی مشکل تھا، اب سیاسی وفاداریوں کا بوجھ بھی میرے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ دوسری طرف مخالفین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ اکثریت کھو چکے ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ اکثریت پوری موجود ہے۔ مخالفین کہتے ہیں اجلاس ناکام تھا۔ حامی کہتے ہیں تاریخی کامیاب تھا۔ مخالفین کہتے ہیں لوگ غائب تھے۔ حامی کہتے ہیں لوگ مصروف تھے۔

ایسی صورتحال میں عوام صرف یہی پوچھ رہی ہے کہ آخر سچ کس کے پاس ہے؟ جواب آیا: "ذرائع کے پاس۔" پاکستان میں ذرائع ایک ایسی مخلوق ہیں جو ہر جگہ موجود ہوتی ہے لیکن کبھی سامنے نہیں آتی۔ وہ اجلاس میں بھی ہوتے ہیں، وزیراعلیٰ ہاؤس میں بھی، اپوزیشن میں بھی، حکومت میں بھی اور بعض اوقات تو لگتا ہے کہ چائے والے کے پاس بھی انہی کے نمبر محفوظ ہوتے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں سب سے خوش قسمت شخصیت شوکت یوسفزئی نکلے جنہیں پارٹی ترجمان مقرر کر دیا گیا۔ وجہ بتائی گئی کہ صحافیوں سے تعلق بہت ہے۔ یہ شاید واحد سرکاری تقرری ہے جس میں ڈگری، تجربے اور قابلیت سے زیادہ اہم چیز صحافیوں کے موبائل نمبر نکلے۔ اب صحافی بھی خوش ہیں۔ ترجمان بھی خوش ہیں۔ پارٹی بھی خوش ہے۔اور عوام بدستور یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اجلاس میں آخر شریک کتنے لوگ ہوئے تھے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ خیبر پختونخوا کی سیاست اس وقت شروڈنگر کی بلی جیسی حالت میں ہے۔ فارورڈ بلاک موجود بھی ہے اور نہیں بھی۔ اکثریت حاصل بھی ہے اور نہیں بھی۔ اراکین ناراض بھی ہیں اور نہیں بھی۔ اجلاس کامیاب بھی تھا اور نہیں بھی۔
اور بجٹ منظور بھی ہوگا اور نہیں بھی۔

جب تک اگلا "ذرائع کے مطابق" نہ آ جائے۔ تب تک عوام آرام سے پاپ کارن کھائے، سیاسی بیانات سنے اور انتظار کرے کہ اگلی بریکنگ نیوز میں غیر حاضر ارکان کی تعداد کتنی نکلتی ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں سیاست میں نظریات سے زیادہ گنتی بدلتی رہتی ہے، اور گنتی سے زیادہ وضاحتیں۔ اور وضاحتوں کا حال یہ ہے کہ جتنی زیادہ آتی ہیں، معاملہ اتنا ہی مشکوک لگنے لگتا ہے۔ فی الحال اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ اسمبلی سے زیادہ حاضری شاید وضاحتوں کی لگ رہی

30/05/2026

بجٹ نامہ: عوام کی قربانی، اشرافیہ کی مہربانی اور وزیرِ خزانہ کی نئی قسط

مسرت اللہ جان

پاکستان میں موسموں کی تعداد اب چار نہیں رہی۔ گرمی، سردی، بہار اور خزاں کے ساتھ ایک پانچواں موسم بھی مستقل طور پر شامل ہو چکا ہے، جسے "بجٹ سیزن" کہا جاتا ہے۔ اس موسم کی خاص بات یہ ہے کہ درجہ حرارت سے زیادہ بل بڑھتے ہیں، ہوا سے زیادہ ٹیکس چلتے ہیں اور عوام کے چہروں پر پسینے سے زیادہ پریشانی نظر آتی ہے۔
عید ختم ہوتے ہی قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن شروع ہوگا۔ حکومتی ارکان میزیں بجا بجا کر تاریخ ساز بجٹ قرار دیں گے، اپوزیشن اسے عوام دشمن کہے گی، کچھ دیر واک آؤٹ کرے گی، پھر واپس آ جائے گی، صحافی حسبِ روایت "بجٹ کے اہم نکات" نشر کریں گے اور وزیر خزانہ حسبِ روایت قوم کو سمجھائیں گے کہ اس بار بھی قربانی صرف عوام نے دینی ہے کیونکہ ریاست پہلے ہی بہت قربانیاں دے چکی ہے۔

پاکستانی بجٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کا نتیجہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے۔ جیسے کسی فلم کے آغاز میں ہی ولن، ہیرو اور انجام سب سامنے آ جائے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہر سال اعداد و شمار بدل جاتے ہیں مگر کہانی وہی رہتی ہے۔ حکومت کہتی ہے معیشت سنبھل رہی ہے، عوام کہتے ہیں ہماری جیبیں نہیں سنبھل رہیں، اور آئی ایم ایف مسکرا کر اگلی شرط لکھ دیتا ہے۔

ہمارے ہاں بجٹ دراصل ایک روحانی تجربہ ہے۔ وزیر خزانہ عوام کو سمجھاتے ہیں کہ مزید ٹیکس دینا دراصل قومی خدمت ہے۔ بجلی کا بل آئے تو صبر، گیس مہنگی ہو تو شکر، پٹرول بڑھے تو حب الوطنی اور اگر تنخواہ وہی رہے تو اسے معاشی استحکام کا نام دے دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف اشرافیہ کا حال دیکھیے۔ ان کے لیے معاشی بحران بالکل ویسا ہی ہے جیسے بارش میں وی آئی پی لین۔ خبر سب سنتے ہیں مگر اثر کسی اور پر ہوتا ہے۔ ملک قرضوں میں ڈوبا ہو، زرمبادلہ کم ہو، مہنگائی بڑھے یا بیروزگاری، سرکاری پروٹوکول کی گاڑیاں ویسے ہی چلتی رہتی ہیں جیسے قومی خزانے میں سونے کی کان دریافت ہو گئی ہو۔

کہا جاتا ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتی۔ یہ جملہ اتنی بار دہرایا جاتا ہے کہ اب لگتا ہے شاید عوام سانس بھی ٹیکس دیے بغیر لیتی ہوگی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک مزدور چائے خریدے ، ایک طالب علم کاپی لے، ایک مریض دوا خریدے یا ایک خاندان گھی، چینی، آٹا اور پٹرول استعمال کرے، ہر جگہ بالواسطہ ٹیکس پہلے سے موجود ہوتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ عوام ٹیکس دیتی ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ٹیکس بیس کیوں نہیں بڑھتی؟ وہ شعبے کیوں محفوظ ہیں جہاں اصل دولت گردش کرتی ہے؟ ہر سال وہی تنخواہ دار طبقہ کیوں آسان شکار سمجھا جاتا ہے جس کی آمدنی پہلے ہی دستاویزی ہوتی ہے؟

ایک دوست نے کہا کہ پاکستان میں بجٹ دراصل قربانی کا وہ جانور ہے جس میں گوشت اشرافیہ لے جاتی ہے اور ہڈیاں عوام کے حصے میں آتی ہیں۔ میں نے کہا نہیں، اب تو ہڈیاں بھی مہنگی ہو چکی ہیں

سرکاری اخراجات کی داستان بھی دلچسپ ہے۔ایک طرف قوم کو کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے، دوسری طرف سرکاری دفاتر میں ایسے ایسے نرخ سننے کو ملتے ہیں کہ سن کر بازار والے بھی شرما جائیں۔ کہیں ایک پنکھا اتنی قیمت میں لگتا ہے جتنے میں عام آدمی پورا کمرہ تیار کر لے، کہیں معمولی مرمت کے لیے لاکھوں خرچ ہوتے ہیں، اور کہیں سرکاری خریداری کی قیمتیں بازار سے کئی گنا زیادہ نکلتی ہیں۔

اگر واقعی اصلاحات مقصود ہوں تو شاید پارلیمنٹ میں ایک مہینہ صرف اس بات پر بحث ہونی چاہیے کہ سرکاری خریداری اور مارکیٹ ریٹ میں فرق کیوں ہے۔ مگر یہ بحث اس لیے نہیں ہوتی کیونکہ اس سے بہت سارے لوگوں کی نیند خراب ہو سکتی ہے۔ عوام کی حالت اس شخص جیسی ہو چکی ہے جو نجومی کے پاس گیا۔ نجومی نے کہا پانچ سال تک حالات خراب رہیں گے۔ وہ خوش ہو گیا کہ پھر تو بہتری آ جائے گی۔ نجومی نے جواب دیا، نہیں بھائی، پھر تمہیں برے حالات کی عادت ہو جائے گی۔
بدقسمتی سے ہم اجتماعی طور پر اسی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ مہنگائی خبر نہیں رہی، معمول بن چکی ہے۔ نئے ٹیکس حیرت نہیں رہے، روایت بن چکے ہیں۔ پٹرول کی قیمت کم ہو تو لوگ حیران ہوتے ہیں، بڑھ جائے تو کہتے ہیں چلو معمول کے مطابق ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہو تو ہمارے حکمران خاموش ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر ایک ڈالر بھی مہنگا ہو جائے تو فوراً بتایا جاتا ہے کہ عالمی حالات کے باعث قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ گویا عالمی منڈی کا فائدہ قومی خزانے کا اور نقصان عوام کا حق ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ عوام اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ سوشل میڈیا نے کم از کم اتنا تو کر دیا ہے کہ لوگ سوال پوچھنے لگے ہیں۔ اب ہر بجٹ کے بعد صرف تقریریں نہیں سنی جاتیں بلکہ اعداد و شمار بھی دیکھے جاتے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ کفایت شعاری صرف ان کے لیے کیوں ہے؟ سرکاری مراعات، غیر ضروری ادارے، بے مقصد اخراجات اور پروٹوکول کا بوجھ کب کم ہوگا؟
یہ سوال جائز ہیں۔

کیونکہ کوئی بھی معیشت صرف ٹیکس بڑھا کر مضبوط نہیں ہوتی۔ معیشت تب مضبوط ہوتی ہے جب ریاست اپنے اخراجات پر بھی وہی سختی نافذ کرے جو عوام پر کرتی ہے۔ بجٹ کا اصل امتحان یہ نہیں کہ حکومت کتنی رقم اکٹھی کرتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کتنی رقم بچاتی ہے، کتنی فضول خرچی روکتی ہے اور کتنی منصفانہ تقسیم کرتی ہے۔

باقی جہاں تک عوام کا تعلق ہے، وہ اس سال بھی بجٹ تقریر سنے گی، کیلکولیٹر نکالے گی، بل دیکھے گی، آہ بھرے گی اور پھر اگلے سال کے بجٹ تک زندہ رہنے کی منصوبہ بندی کرے گی۔
اور اشرافیہ؟ وہ حسبِ روایت قوم کو صبر، قربانی، استحکام، اصلاحات اور روشن مستقبل کے لیکچر دیتی رہے گی۔ کیونکہ پاکستان میں ایک چیز کبھی مہنگی نہیں ہوتی، اور وہ ہے عوام کو دی جانے والی امید۔ امید مفت ہے، اسی لیے سب سے زیادہ تقسیم کی جاتی ہے۔

29/05/2026

مقدس گائیں، خفیہ ناک اور کوکین کی تہذیب

جب قانون غریب کیلئے ڈنڈا اور امیر کیلئے پردہ بن جائے

مسرت اللہ جان

پاکستان میں دو چیزیں ہمیشہ خفیہ رکھی جاتی ہیں۔ ایک “قومی مفاد”
اور دوسری “اشرافیہ کے بچوں کی حرکتیں”۔ اب سندھ کے وزیر داخلہ فرماتے ہیں کہ کوکین استعمال کرنے والوں کے نام ظاہر نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ ان کا مستقبل خراب ہوجائے گا۔ یہ بیان سن کر ایسا لگا جیسے پولیس نہیں بلکہ کسی مہنگے اسکول کی پرنسپل پریس کانفرنس کررہی ہوں کہ “بچوں سے غلطی ہوگئی، پلیز ان کے ایڈمیشن متاثر نہ کریں۔”

یہ وہی ملک ہے جہاں اگر کسی غریب محلے سے دو نوجوان چرس کے ایک سگریٹ کے ساتھ پکڑے جائیں تو اگلے دن ان کی ویڈیو، شناختی کارڈ، باپ کا نام، محلے کا نقشہ اور دکان کا بورڈ تک میڈیا پر چل رہا ہوتا ہے۔ پولیس ایسے پریڈ کرواتی ہے جیسے ملک سے القاعدہ پکڑی گئی ہو۔ لیکن جیسے ہی معاملہ پوش علاقوں، فارم ہاؤسز، یا “ڈیفنس کے بچوں” تک پہنچتا ہے تو اچانک سب کو انسانی حقوق یاد آجاتے ہیں۔

وزیر صاحب شاید بھول گئے کہ آئین کا آرٹیکل 25 یہ نہیں کہتا کہ “تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں، سوائے ان لوگوں کے جن کے باپ کے پاس بڑی گاڑی اور تین گارڈ ہوں۔” پاکستان میں انصاف کا سسٹم اب دو الگ الگ پیکجوں میں چل رہا ہے۔ پہلا “اکانومی پیکج” غریب کیلئے۔اس میں تھپڑ، ویڈیو، حوالات، میڈیا ٹرائل اور “مثالی سزا” شامل ہوتی ہے۔ دوسرا “VIP پیکج” امیر کیلئے۔
اس میں پردہ داری، فیملی پرائیویسی، ذہنی دباؤ، مستقبل کا خیال، اور “بچے ہیں غلطی ہوجاتی ہے” والا فلسفہ شامل ہوتا ہے۔

اصل مسئلہ صرف منشیات نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں جرم کی شدت نہیں دیکھی جاتی، مجرم کا خاندان دیکھا جاتا ہے۔ اگر آپ کا باپ رکشہ چلاتا ہے تو آپ “منشیات فروش” ہیں۔ اگر آپ کا باپ وزیر، سرمایہ دار یا سوسائٹی کا بڑا آدمی ہے تو آپ “rehab deserve کرنے والے نوجوان” ہیں۔

یہ وہی اشرافیہ ہے جس نے برسوں دوسروں پر الزامات لگا کر سیاست کی۔ کسی پر شراب، کسی پر چرس، کسی پر کوکین کے قصے گھڑے گئے۔ ٹی وی چینلز پر اخلاقیات کے لیکچر دیے گئے۔ اینکر ایسے چیختے تھے جیسے قوم کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہو۔ لیکن اب جب کیمرہ اپنے ڈرائنگ روم کی طرف مڑا تو سب کو اچانک “privacy” یاد آگئی۔

کمال یہ ہے کہ ہمارے ہاں منشیات سے زیادہ خطرناک چیز “غریب آدمی کا پکڑا جانا” ہے۔ کیونکہ غریب پکڑا جائے تو سسٹم طاقتور لگتا ہے۔ اور امیر پکڑا جائے تو سسٹم کو بخار ہوجاتا ہے۔
اب دلیل یہ دی جارہی ہے کہ “بچوں کا مستقبل خراب ہوجائے گا۔” بھائی، غریب کے بچے کیا مستقبل لے کر پیدا ہوتے ہیں؟
جو لڑکا پشاور، کراچی یا لاہور کے کسی غریب علاقے میں پکڑا جاتا ہے، اس کا مستقبل تو پولیس وین میں بیٹھتے ہی ختم کردیا جاتا ہے۔اس کے خاندان کو محلے میں ذلیل کیا جاتا ہے۔ نوکری نہیں ملتی۔ رشتے نہیں ہوتے۔

اس وقت کسی وزیر کو یہ خیال نہیں آتا کہ “بچے کا مستقبل خراب ہوجائے گا۔”
پاکستان میں قانون اب کتاب میں موجود ہے، عملی زندگی میں نہیں۔ عملی زندگی میں صرف “رابطے” چلتے ہیں۔ یہاں تھانے میں FIR سے زیادہ اہم چیز “فون” ہے۔
جس کے پاس فون لگوانے والا بڑا آدمی ہو، اس کیلئے قانون ربڑ بن جاتا ہے۔
اور جس کے پاس کوئی نہ ہو، اس کیلئے قانون لوہے کی سلاخ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ یہی اشرافیہ پھر نوجوانوں کو اخلاقیات سکھاتی ہے۔
ٹی وی پر آکر قوم کو نصیحتیں کرتی ہے۔
“نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے” “مغربی کلچر خراب کررہا ہے” “اسلامی اقدار بچاؤ”اور رات کو انہی کے فارم ہاؤسز پر DJ، شیشہ، بوتلیں اور سفید پاؤڈر کا “اسلامی ثقافتی میلہ” لگا ہوتا ہے۔

پاکستان میں دو قسم کے نشے ہیں۔
ایک وہ جو غریب کرتا ہے اور جیل جاتا ہے۔ دوسرا وہ جو امیر کرتا ہے اور rehabilitation center جاتا ہے۔
ایک طرف پولیس غریب نوجوان کو بالوں سے پکڑ کر میڈیا کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ دوسری طرف امیر بچوں کیلئے الفاظ چنے جاتے ہیں: “یہ بچے ذہنی دباؤ کا شکار تھے” “یہ سوشل سرکل کی وجہ سے متاثر ہوئے” “ان کو موقع دیا جائے”
یعنی غریب نشہ کرے تو مجرم۔ امیر نشہ کرے تو victim۔ اصل خطرہ صرف کوکین استعمال کرنے والے چند نوجوان نہیں۔

اصل خطرہ وہ سوچ ہے جس کے مطابق طاقتور خاندان قانون سے اوپر ہیں۔
وہ نوجوان کل اسمبلی میں بیٹھیں گے، وزارتیں چلائیں گے، پالیسی بنائیں گے، اور پھر قوم کو ایمانداری کے لیکچر دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کا ریاست پر اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔ لوگ عدالت سے پہلے خاندان دیکھتے ہیں۔
پولیس سے پہلے سیاسی تعلق پوچھتے ہیں۔ اور قانون سے پہلے جیب۔ پاکستان میں انصاف اندھا نہیں۔ انصاف کی بینائی بہت تیز ہے۔ وہ فوراً پہچان لیتا ہے کہ سامنے والا غریب ہے یا VIP۔
اب سوال یہ نہیں کہ نام ظاہر ہونے چاہئیں یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں واقعی ایک ہی قانون موجود ہے؟
اگر قانون برابر ہے تو پھر سب کیلئے برابر ہو۔ اگر نام چھپانے ہیں تو ہر شہری کے چھپاؤ۔اگر پریڈ کرنی ہے تو پھر سب کی کرو۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ غریب کا بیٹا “معاشرے کیلئے مثال” بنے اور امیر کا بیٹا “معاشرے سے محفوظ” رکھا جائے۔ سب سے دلچسپ چیز ہمارے سیاستدانوں کی اخلاقیات ہیں۔ یہ لوگ اپوزیشن میں ہوں تو انقلاب چاہتے ہیں۔ حکومت میں آئیں تو confidentiality۔

کل اگر یہی کیس کسی مخالف سیاسی جماعت کے بچے کا ہوتا تو آج تک دس پریس کانفرنسیں ہوچکی ہوتیں۔ اینکرز میز پر چڑھ کر چیخ رہے ہوتے۔
ہیش ٹیگ چل رہے ہوتے: “قوم کے بچوں کو تباہ کرنے والے بے نقاب!” لیکن اب چونکہ معاملہ “اپنوں” کا ہے تو سب کہہ رہے ہیں: “بچوں سے غلطی ہوجاتی ہے۔”

پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اشرافیہ کے بچوں کی ہر حرکت “غلطی” ہوتی ہے، اور غریب کے بچوں کی ہر غلطی “جرم”۔ یہی دوہرا معیار اصل زہر ہے۔ کوکین سے زیادہ تباہ کن۔ کیونکہ کوکین چند لوگوں کو برباد کرتی ہے، لیکن ناانصافی پورے معاشرے کو۔

اور آخر میں وزیر صاحب کیلئے ایک چھوٹا سا مشورہ:م اگر آپ واقعی نوجوانوں کا مستقبل بچانا چاہتے ہیں تو پہلے قانون کا مستقبل بچائیں۔ کیونکہ جب قانون صرف کمزور کیلئے رہ جائے تو ریاست آہستہ آہستہ مذاق بن جاتی ہے۔
اور قومیں مذاق پر نہیں چلتیं، انصاف پر چلتی ہیں۔

Address

Peshawar Press Club Peshawar
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nexuspak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nexuspak:

Share