Nexuspak

Nexuspak Digital Creator ,

20/09/2026

1954 کی CIA رپورٹ: پاکستان کی سڑکوں کا خفیہ امریکی جائزہ

مسرت اللہ جان

سال 1950 کی دہائی میں جنوبی اور وسطی ایشیا سرد جنگ کے اہم ترین جغرافیائی خطوں میں شمار ہوتا تھا۔ پاکستان ایک طرف مغربی دنیا کے لیے اہم جغرافیائی مقام رکھتا تھا، جبکہ دوسری طرف سوویت یونین کی جنوبی سرحدوں کے قریب واقع وسطی ایشیا بھی امریکی انٹیلی جنس کی مسلسل توجہ کا مرکز تھا۔امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی، CIA، کی دو declassified دستاویزات اس دور کی ایک دلچسپ تصویر سامنے لاتی ہیں۔ ایک رپورٹ 1954 میں پاکستان کے اہم زمینی راستوں، شاہراہوں اور پلوں کا جائزہ پیش کرتی ہے، جبکہ دوسری 1957 میں سوویت یونین کے **Tyura Tam** میزائل ٹیسٹ ایریا کی نگرانی اور تجزیے سے متعلق ہے۔دونوں دستاویزات کو ایک ساتھ پڑھنے سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دور میں امریکی انٹیلی جنس کے لیے خطے میں **transportation، military mobility، communications اور missile infrastructure** کتنی اہمیت رکھتے تھے۔

3 مئی 1954 کی CIA رپورٹ میں پاکستان کی اہم سڑکوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔رپورٹ میں صرف یہ نہیں بتایا گیا کہ سڑک پکی ہے یا کچی۔ امریکی تجزیہ کاروں نے سڑکوں کی چوڑائی، پلوں کی گنجائش، موڑ، پہاڑی ڈھلوان، موسم کے دوران استعمال اور خاص طور پر **بھاری ٹرکوں اور بڑے سامان کی نقل و حرکت** کے حوالے سے ان کا جائزہ لیا۔رپورٹ میں جس نقشے کا حوالہ دیا گیا وہ **"50-mile Map of Pakistan, First Edition"** تھا، جو 1950 میں Survey of Pakistan کے مری دفتر میں تیار کیا گیا تھا۔

کراچی سے ملتان تک سڑک کی رپورٹ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، مظفرگڑھ اور ملتان کے درمیان راستے کو جدید پختہ شاہراہ قرار دیا گیا۔یہ دو لین کی سڑک تھی اور زیادہ تر مقامات پر دو گاڑیاں آسانی سے ایک دوسرے کو کراس کر سکتی تھیں۔ پل عمومی طور پر اچھی حالت میں تھے اور مناسب وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔تاہم دریائے سندھ پر موجود پل صرف ایک لین چوڑا تھا۔چونکہ راستہ زیادہ تر ہموار علاقے سے گزرتا تھا، اس لیے بڑی چڑھائیاں یا خطرناک موڑ موجود نہیں تھے۔

اس طرح ملتان سے مونٹگمری کے بارے میں CIA کے مطابق ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ایک اچھی پختہ سڑک بھی موجود تھی، اگرچہ وہ متعلقہ نقشے پر ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ یہ مکمل دو لین چوڑی تھی، ہموار علاقے سے گزرتی تھی اور اس پر ایسے پل یا فورڈ نہیں تھے جو آمدورفت میں بڑی رکاوٹ پیدا کرتے۔اسی سی آئی اے نے لائل پور سے مظفرگڑھ کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ سڑک دریائے جہلم کو عبور کرنے کے بعد دریا کے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ مظفرگڑھ تک جاتی تھی۔رپورٹ کے مطابق اس سڑک کا بڑا حصہ نقشے پر بھی موجود نہیں تھا، تاہم زمینی معلومات کے مطابق یہ مکمل دو لین پختہ سڑک تھی۔اس پر کوئی ایسا فورڈ یا پل نہیں تھا جو سفر کو محدود کرے اور راستہ عمومی طور پر ہموار تھا۔

امریکی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں لاہور سے لائل پور کے حوالے سے بتایا کہ شیرگڑھ کے راستے لاہور اور لائل پور کے درمیان سڑک کو معیاری دو لین پختہ شاہراہ قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ لاہور-سرگودھا ہائی وے سے لائل پور تک ایک نئی رابطہ سڑک بھی تعمیر کی گئی تھی جو اس وقت نقشے میں شامل نہیں تھی۔

سی آئی اے نے لاہور، راولپنڈی اور پشاور: گرینڈ ٹرنک ہائی وے کے حوالے سے1954 کی رپورٹ میں لاہور سے راولپنڈی اور پشاور جانے والی سڑک کو **Grand Trunk Highway** کہا گیا۔CIA نے اسے تعمیر اور دیکھ بھال کے لحاظ سے بہترین سڑکوں میں شمار کیا۔تقریباً **276 میل** طویل یہ پختہ سڑک مکمل دو لین چوڑی تھی۔اس راستے کو دو پہاڑی سلسلوں کو عبور کرنا پڑتا تھا، اس لیے ڈھلوانیں موجود تھیں، لیکن رپورٹ کے مطابق سڑک کی انجینئرنگ اچھی تھی اور بھاری ٹرک بھی اس پر آسانی سے سفر کر سکتے تھے۔پل بھی اچھی حالت میں تھے۔یہ نکتہ اہم ہے، کیونکہ 1954 میں امریکی انٹیلی جنس کے لیے لاہور، راولپنڈی اور پشاور کو ملانے والی یہ شاہراہ صرف شہری سفر کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ بھاری نقل و حرکت کے قابل ایک اہم زمینی رابطہ بھی تھی۔

اس طرح سڑکوں سے متعلق بننے والے اس رپورٹ پرسی آئی اے نے پشاور، اٹک، چکوال، خوشاب اور لائل پورکے حوالے سے لکھا ہے کہ پشاور سے اٹک، چکوال، خوشاب اور لائل پور جانے والے راستے کو بھی تفصیل سے جانچا۔یہ مکمل پختہ مگر نسبتاً تنگ دو لین سڑک تھی۔چکوال اور خوشاب کے درمیان راستہ ایک پہاڑی سلسلے کو عبور کرتا تھا، جہاں شدید ڈھلوانیں اور تیز موڑ موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق عام گاڑیوں اور چھوٹے ٹرکوں کے لیے یہ راستہ تمام موسموں میں قابل استعمال تھا، لیکن بھاری ٹرکوں کے لیے بعض حصے انتہائی مشکل بلکہ بعض حالات میں تقریباً ناقابل استعمال ہو سکتے تھے۔دریائے سندھ پر ایک ٹول برج صرف ایک لین چوڑا تھا، جبکہ دریائے جہلم پر موجود پل مضبوط reinforced-concrete کا تھا اور مکمل دو لین چوڑا تھا۔

جبکہ سی آئی اے نے سکھر، سبی اور کوئٹہ سے متعلق بتایا کہ سکھر سے سبی اور کوئٹہ جانے والی سڑک کو بھی نسبتاً بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مکمل پختہ اور تقریباً مکمل دو لین چوڑی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس کی انجینئرنگ اچھی تھی، ڈھلوانیں نسبتاً آسان اور موڑ کشادہ تھے۔سڑک کی دیکھ بھال بھی اوسط سے بہتر قرار دی گئی۔

بلوچستان میں سڑکوں سے متعلق رپورٹ میں سی آئی اے نے کوئٹہ، چمن اور بلوچستان کے راستے کے بارے میں لکھا کہ کوئٹہ سے چمن جانے والی سڑک کو اچھی، کشادہ اور پختہ دو لین شاہراہ ہے اس کے مقابلے میں کوئٹہ سے ہنڈوباغ اور فورٹ سنڈیمن جانے والا راستہ دشوار تھا۔ علاقے کے جغرافیے کے باعث اس میں بہت سے تیز موڑ تھے اور بھاری گاڑیوں کے لیے سفر مشکل تھا۔کوئٹہ، زیارت، لورالائی اور میختر کا راستہ اس کا متبادل تھا، لیکن رپورٹ کے مطابق اس کی انجینئرنگ اور دیکھ بھال نسبتاً کم بہتر تھی۔کراچی سے خضدار اور کوئٹہ جانے والے راستے کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ معلومات فراہم کرنے والے ذریعے نے خود اس راستے پر سفر نہیں کیا تھا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ راستہ صحرائی علاقے سے گزرتا تھا اور اس پر مناسب سروس اسٹیشن موجود نہیں تھے۔رپورٹ کے مطابق کراچی اور کوئٹہ کے درمیان سفر کرنے والے افراد عام طور پر سکھر کے راستے کو ترجیح دیتے تھے۔

19/09/2026

سی آئی اے کی خفیہ دستاویز: سوویت حملے کی صورت میں پاکستان، بھارت اور چین کا ممکنہ کردار

مسرت اللہ جان

واشنگٹن کی نظر میں پاکستان کو صرف افغانستان سے نہیں بلکہ بھارت سے بھی خطرہ درپیش تھاامریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز میں پاکستان پر ممکنہ سوویت حملے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال، سوویت فوج کی ممکنہ تعداد، بھارت اور چین کے کردار، بلوچستان کی شورش اور پاکستان کو امریکی مدد کے مختلف پہلوو¿ں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا۔دستاویز میں سی آئی اے نے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے تیار کردہ "Pakistan Contingency Paper" کا جائزہ لیتے ہوئے کئی نکات سے اتفاق کیا، تاہم سوویت یونین کی جانب سے پاکستان پر حملے کے لیے درکار فوجی طاقت اور امریکی پیشگی وارننگ کے دورانیے سے متعلق اہم اختلافات بھی ظاہر کیے۔

سی آئی اے کے مطابق امریکی تجزیے میں یہ تصور بہت زیادہ حاوی تھا کہ پاکستان پر بڑے حملے کے لیے سوویت یونین کو 15 سے 20 ڈویڑن متحرک کرنا پڑیں گے۔سی آئی اے نے اس اندازے پر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سوویت فوج اس سے کہیں کم تعداد کے ساتھ بھی کارروائی شروع کر سکتی تھی۔مثلاً اگر سوویت یونین پاکستانی فوج کی مکمل تیاری سے قبل کارروائی کرتا، یا بھارت کو اس بات پر آمادہ کر لیتا کہ وہ پاکستان کی بڑی فوجی طاقت کو بھارتی سرحد پر مصروف رکھے، تو سوویت حملہ آور فوج کی تعداد اور مجموعی فوجی نقل و حرکت نسبتاً کم ہوسکتی تھی۔سی آئی اے نے اس امکان کو بھی اہم قرار دیا کہ ایسی صورت میں امریکہ کو حملے سے قبل بہت کم وارننگ ملتی۔دستاویز میں واضح طور پر کہا گیا کہ مکمل حملے کی صورت میں پیشگی اطلاع مہینوں کے بجائے چند ہفتوں تک محدود ہوسکتی تھی۔

سی آئی اے نے ایک اور اہم امکان کی نشاندہی کی۔اس کے مطابق سوویت یونین پاکستان تک فضائی اور سمندری رسائی روکنے کی کوشش کرسکتا تھا تاکہ پاکستان اپنی فوجی طاقت میں اضافہ یا بیرونی ذرائع سے اسلحہ اور دیگر سامان حاصل نہ کرسکے۔اس مقصد کے لیے سوویت یونین اپنے ان فضائی دستوں کو بھی استعمال کرسکتا تھا جو اس وقت سوویت یونین کے اندر موجود اور کسی دوسرے محاذ پر تعینات نہیں تھے۔سی آئی اے کے مطابق امریکی تجزیے میں پاکستان تک رسائی برقرار رکھنے کی ممکنہ جنگ کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی تھی۔

دستاویز کا ایک انتہائی اہم نکتہ پاکستان کی دفاعی پالیسی کے حوالے سے ہے۔سی آئی اے کے مطابق پاکستان خود کو بیک وقت سوویت یونین اور بھارت دونوں سے خطرے میں سمجھتا تھا۔اس لیے اگر امریکہ واقعی پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے تو سب سے فوری اور مو¿ثر اقدام یہ ہوگا کہ اسلام آباد کو یقین دلایا جائے کہ وہ بھارتی سرحد پر تعینات اپنی فوج کا کچھ حصہ محفوظ طریقے سے مغربی محاذ کی طرف منتقل کرسکتا ہے۔یعنی امریکی پالیسی سازوں کے سامنے بنیادی سوال صرف یہ نہیں تھا کہ سوویت حملے کی صورت میں پاکستان کی مدد کیسے کی جائے، بلکہ یہ بھی تھا کہ پاکستان کو بھارت کے ممکنہ حملے سے بے فکر کیے بغیر اس کی فوج کو سوویت خطرے کے مقابلے کے لیے کس طرح استعمال کیا جائے۔

سی آئی اے نے بلوچستان کی صورتحال پر بھی امریکی پالیسی کے ایک تجویز کردہ طریقہ کار سے اختلاف کیا۔امریکی محکمہ خارجہ کی تجویز میں بلوچستان کے رہنماو¿ں کو سیاسی مراعات دینے کی بات کی گئی تھی، لیکن سی آئی اے نے خبردار کیا کہ ایسا اقدام غیر متوقع اور خطرناک نتائج پیدا کرسکتا ہےدستاویز کے مطابق بلوچستان میں انتخابات کرانے کا مطلب پورے پاکستان میں سیاسی عمل کے حوالے سے بڑے فیصلے کرنا بھی ہوسکتا تھا۔اسی طرح صوبائی خودمختاری، قبائلی خودمختاری یا دیگر سیاسی رعایتیں پاکستان کے حکومتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں پیدا کرسکتی تھیں۔سی آئی اے نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر امریکہ پاکستان کو بلوچستان میں سیاسی و معاشی مراعات دینے پر زور دیتا ہے تو کیا اسلام آباد بعد میں ان مراعات اور ترقیاتی اقدامات کی مالی معاونت کے لیے امریکہ سے مدد طلب نہیں کرے گا؟مزید یہ کہ قبائلی بغاوت کو سختی سے کچلنے سے پاکستان کو روکنا بھی امریکی اعتبار کے لیے نقصان دہ ہوسکتا تھا اور بغاوت بلوچستان سے نکل کر ایران تک پھیلنے کا خطرہ پیدا کرسکتی تھی۔اگر پاکستان ٹوٹنے کے قریب پہنچ جائے؟

دستاویز میں ایک اور انتہائی حساس منظرنامہ بھی زیر بحث آیا۔اگر پاکستان میں شدید سیاسی اور قبائلی کشمکش پیدا ہوجائے اور ریاستی نظام ٹوٹنے کے قریب پہنچ جائے تو سی آئی اے نے ایسے حالات میں پاکستانی فوج کو مزید اسلحہ دینے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔خدشہ تھا کہ اگر فوج خود اندرونی طور پر تقسیم ہونے کے قریب ہو تو اسے ہتھیار فراہم کرنا خانہ جنگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔دستاویز میں اس امکان پر بھی غور کرنے کی بات کی گئی کہ اگر پاکستان واقعی ٹوٹنے کے عمل میں داخل ہوجائے تو بھارت سندھ اور پنجاب پر قبضہ کرسکتا ہے۔یہ تجویز اس دور کی امریکی سوچ میں پاکستان کے ممکنہ ریاستی انہدام کو لے کر موجود انتہائی سنگین خدشات کی عکاسی کرتی ہے۔

کشمیر ایک نیا بحران پیدا کرسکتا تھاسی آئی اے نے بھارت کے ممکنہ حملے کے ساتھ ایک مختلف صورتحال پر بھی غور کرنے کا مشورہ دیا۔اگر سوویت فوج افغانستان میں موجود ہو، پاکستان امریکی ہتھیاروں سے لیس ہو اور اسے امریکہ کی حمایت کا یقین ہو تو پاکستان کشمیر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرکے بھارت کے ساتھ نیا بحران پیدا کرسکتا تھا۔
یعنی امریکی تجزیہ کار صرف سوویت حملے کے امکان پر نہیں بلکہ اس خطرے پر بھی غور کر رہے تھے کہ امریکی حمایت سے مضبوط ہونے والا پاکستان خود بھارت کے ساتھ جنگ کا آغاز کرسکتا ہے۔

سی آئی اے نے سوویت اثرورسوخ کے ایک اور پہلو کی نشاندہی کی۔ دستاویز کے مطابق چونکہ سوویت فوج افغانستان میں پٹھانوں کے خلاف جنگ لڑ رہی تھی، اس لیے پاکستان کے پٹھانوں پر سوویت اثرانداز ہونے کی صلاحیت ماضی کے مقابلے میں کم ہوسکتی تھی۔ سی آئی اے نے یہ بھی لکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی بلوچستان میں کارروائی کو دیگر انسدادِ بغاوت کارروائیوں کے مقابلے میں انتہائی سفاک قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دستاویز کے مطابق بھٹو حکومت نے بغاوت کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ فوج کو چھاو¿نیوں میں واپس بلا کر بڑے پیمانے کی لڑائی ختم کی تھی۔

چین: مدد کرے گا، لیکن مفت نہیں پاکستان کے دفاع میں چین کے ممکنہ کردار کو بھی دستاویز میں زیر بحث لایا گیا۔ سی آئی اے کا خیال تھا کہ امریکی تجزیہ چین سے ممکنہ تعاون کے بدلے میں چین کی متوقع شرائط کو کم اہمیت دے رہا تھا۔ دستاویز میں اس بات پر بھی شک ظاہر کیا گیا کہ بھارتی سرحد کے قریب چینی فوجی دباو¿ اور بیجنگ کے ایک سیاسی بیان سے بھارت کو پاکستان کے خلاف کارروائی سے روکا جاسکتا تھا۔ سی آئی اے نے 1965 کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ اس نوعیت کے چینی اقدامات اس وقت بھی بھارت کو مکمل طور پر روکنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے تھے۔سوویت فوج کے "کم نفری والے" ڈویڑن بھی قابل استعمال تھے دستاویز کا ایک اہم فوجی تجزیہ سوویت فوج کے ان ڈویڑنوں سے متعلق تھا جو امن کے زمانے میں اپنی مکمل جنگی نفری سے کم تعداد میں رکھے جاتے تھے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے تجزیے میں یہ تصور موجود تھا کہ سوویت یونین شاید ان کم نفری والے ڈویڑنوں کو جنوبی ایشیا میں استعمال کرنا پسند نہ کرے اور اس کے بجائے نیٹو یا چین کے مقابل تعینات مکمل طاقت کے یونٹس کو استعمال کرے۔سی آئی اے نے اس تجزیے کو غلط قرار دیا۔سی آئی اے کے مطابق سوویت فوجی منصوبہ بندی میں کم نفری والے ڈویڑن بھی باقاعدہ جنگی قوت تصور کیے جاتے تھے اور اس بات کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی کہ سوویت یونین انہیں جنوبی ایشیا میں استعمال نہ کرے۔

سی آئی اے نے ایک اور مسئلے کی نشاندہی کی، یعنی سوویت فوج میں مسلم اور وسطی ایشیائی پس منظر رکھنے والے فوجیوں کی موجودگی۔افغانستان میں سوویت یونین کو ترکستان اور وسطی ایشیا سے آنے والے ایسے فوجیوں کے حوالے سے کچھ مشکلات کا سامنا تھا جن کی نسلی یا مذہبی شناخت افغان آبادی سے ملتی جلتی تھی سی آئی اے نے اندازہ لگایا کہ پاکستان میں فوجی کارروائی کے دوران بھی ایسا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ سوویت فوج کے دستیاب یونٹس کی بڑی تعداد ایسے علاقوں سے آتی تھی جہاں یہ مسئلہ موجود نہیں تھا، اس لیے ماسکو اس مشکل کو نسبتاً آسانی سے دور کرسکتا تھا۔

اس ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ سی آئی اے نے سوویت حملے کا امکان زیر بحث لایا تھا۔اصل اہمیت یہ ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اس وقت پاکستان کو ایک ایسے جغرافیائی بحران کے مرکز کے طور پر دیکھ رہی تھی جہاں سوویت یونین، بھارت، چین، افغانستان، کشمیر اور بلوچستان ایک ہی اسٹریٹجک تصویر کا حصہ بن سکتے تھے۔ سی آئی اے کے تجزیے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن کے لیے سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں تھا کہ سوویت فوج پاکستان میں داخل ہوگی یا نہیں۔

اصل سوال یہ تھا کہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان اپنی فوج کہاں رکھے گا؟ بھارت کیا کرے گا؟ چین کس قیمت پر مدد کرے گا؟ امریکہ کتنی جلدی ردعمل دے سکے گا؟ اور اگر پاکستان اندرونی طور پر کمزور ہوا تو کیا امریکی مدد اسے بچائے گی یا بحران کو مزید بڑھا دے گی؟یہ دستاویز سرد جنگ کے اس دور کی امریکی سوچ کی ایک اہم جھلک فراہم کرتی ہے، جب افغانستان صرف افغانستان نہیں رہا تھا بلکہ پورا خطہ بڑی طاقتوں کے ممکنہ تصادم کا میدان بن چکا تھا۔

19/09/2026

گھروں اور زمین پر قبضے کا الزام، متاثرہ خاندان کا تحفظ کا مطالبہ

پشاور: دریاب کورونہ، مٹہ مغل خیل، شبقدر سے تعلق رکھنے والی موجیدہ بی بی نے الزام عائد کیا ہے کہ رکن قومی اسمبلی ملک انور تاج اور رکن صوبائی اسمبلی محبوب شیر، پولیس کی مبینہ مدد سے ان کے رہائشی گھروں اور تقریباً چھ جریب زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پشاور پریس کلب میں اپنے بھائیوں مروت خان اور عبدالرزاق کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے موجیدہ بی بی نے دعویٰ کیا کہ منگل کے روز خواجہ وس پولیس کی موجودگی میں ان کے گھر پر حملہ کیا گیا، جبکہ خواتین اور بچوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق گھر گرانے کے لیے شاول بھی لایا گیا اور سکول کے راستے کے نام پر زمین حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ ان کے بقول سکول تک پہلے سے راستہ موجود ہے۔

موجیدہ بی بی نے مزید الزام عائد کیا کہ مبینہ دھمکیوں کے باعث ان کے بچے گزشتہ تین ماہ سے سکول اور مدرسے نہیں جا رہے۔ انہوں نے انور تاج پر علاقے میں 80 جریب زمین پر قبضے، ایل پی جی اور کرش پلانٹ چلانے اور سرکاری پانی کی ڈگی کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات بھی عائد کیے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں دستاویزات پریس کانفرنس میں پیش کیے جانے کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے انور تاج اور محبوب شیر سے منسوب مبینہ دھمکیوں اور پولیس کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری اور وزیراعلیٰ سے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے اور مبینہ غیر قانونی کارروائیوں کی تحقیقات کی اپیل کی۔

19/09/2026
19/09/2026

کوہاٹ پولیس لائنز واقعہ: وزیراعلیٰ کا شہداء کے اہلخانہ سے اظہارِ تعزیت، دہشت گردی پالیسی پر تنقید

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی واقعے کے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوہاٹ واقعے میں دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کے بقول دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہداء نے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ 2004 سے خیبرپختونخوا مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور گزشتہ 22 سال سے ایک ایسی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے جس کے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے، اس لیے اب پالیسی تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے افغانستان سے متعلق پالیسی پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے باوجود پاکستان میں امن قائم تھا۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں افغانستان کی حکومت کے ساتھ ملاقاتیں اور رابطے کیے گئے، تاہم تعلقات میں بہتری نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہونے اور بارڈر کی بندش کے باعث خیبرپختونخوا کو گزشتہ مالی سال میں 8 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان ہوا، جبکہ رواں مالی سال بھی صوبے کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دے رہی ہے، تاہم اس پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس کی توجہ دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ترجیح سیاسی انتقام ہے جبکہ دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ اس کی ترجیح نہیں۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر ملک کے تین چھوٹے صوبوں کو خطرہ قرار دیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ریاستی بیانیے پر سوالات اٹھتے ہیں۔ تاہم یہ وزیراعلیٰ کا سیاسی مؤقف ہے۔

پولیس کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کے لیے 35 ارب روپے اضافی فراہم کیے ہیں، جبکہ مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کو مضبوط کیے بغیر صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق صوبائی اسمبلی کے اراکین نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے پولیس کے لیے وسائل فراہم کیے۔

محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ناکام قرار دیا۔

شہداء کے خاندانوں کے لیے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو شہداء حکومتی شہداء پیکیج کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان کے خاندانوں کو بھی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کوہاٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال کو ضروری اور اہم طبی آلات فراہم کرنے، دھماکے سے متاثرہ مسجد اور اسپیشل برانچ پولیس اسٹیشن کی تعمیر نو اور کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کے ہسپتال کے منصوبے کو کم سے کم مدت میں مکمل کرنے کا اعلان بھی کیا۔

ملاقات کے موقع پر اراکین قومی اسمبلی شہریار آفریدی اور داؤد آفریدی جبکہ صوبائی وزراء شفیع جان اور آفتاب عالم بھی موجود تھے۔

امریکی سینیٹ کی 1988 کی رپورٹ: پاکستان کے جوہری پروگرام، جمہوریت اور منشیات پر تشویشمسرت اللہ جان تاریخ: 24 جون 1988دستا...
18/09/2026

امریکی سینیٹ کی 1988 کی رپورٹ: پاکستان کے جوہری پروگرام، جمہوریت اور منشیات پر تشویش

مسرت اللہ جان

تاریخ: 24 جون 1988
دستاویز: امریکی محکمہ خارجہ کا پیغام، بعد میں CIA کے ذریعے ڈی کلاسیفائیڈ
درجہ بندی: UNCLASSIFIED

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے اور کراچی، لاہور اور پشاور میں امریکی قونصل خانوں کو بھیجے گئے ایک پیغام میں امریکی سینیٹ کی جانب سے پاکستان سے متعلق اختیار کی گئی زبان اور موقف سے آگاہ کیا گیا۔پیغام کے مطابق، امریکی سینیٹ کی Appropriations Committee کی Foreign Operations Subcommittee نے 20 جون 1988 کو مالی سال 1989 کے امریکی غیر ملکی امدادی بل پر غور کرتے ہوئے پاکستان سے متعلق یہ متن منظور کیا، جسے مکمل کمیٹی نے 22 جون 1988 کو بھی منظور کر لیا۔ یہ زبان سینیٹر Barbara Mikulski نے پیش کی تھی۔

کمیٹی نے پاکستان میں اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر تشویش ظاہر کی۔دستاویز کے مطابق پاکستان نے امریکہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ: یورینیم کو ہتھیاروں کے درجے (Weapons Grade) تک افزودہ نہیں کرے گا۔امریکی برآمدی کنٹرول قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ امریکی سینیٹ کی کمیٹی نے کہا کہ وہ اس بات پر بدستور تشویش رکھتی ہے کہ پاکستان ان وعدوں کی پاسداری کرے گا۔

کمیٹی نے پاکستان میں جمہوری نظام کی جانب منتقلی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مثبت نظر سے دیکھا۔ تاہم کمیٹی نے واضح کیا کہ وہ حکومتِ پاکستان سے توقع کرتی ہے کہ وہ آئین کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروا کر جمہوریت کی جانب اس منتقلی کا عمل مکمل کرے گی۔دستاویز میں پاکستان سے منشیات کی مسلسل ترسیل پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ کمیٹی کے مطابق پاکستان سے منشیات کا بہاو¿ بدستور جاری تھا اور یہ امریکی پالیسی کے لیے ایک اہم مسئلہ تھا۔

امریکی سینیٹ کی کمیٹی نے قرار دیا کہ ایسے وقت میں جب امریکی بجٹ کے وسائل کم ہو رہے ہیں، امریکہ اور پاکستان کے درمیان قابلِ عمل امدادی تعلق صرف اسی صورت برقرار رکھا جا سکتا ہے جب:دونوں ممالک جمہوریت کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہوں۔پاکستان اپنے جوہری پروگرام سے متعلق اہم وعدوں کی پاسداری کرے۔ اکستان منشیات کے معاملے میں کیے گئے اہم وعدوں کو پورا کرے۔

دستاویز کے آخر میں امریکی وزیر خارجہ جارج شلٹز (George Shultz) کا نام درج ہے۔

18/09/2026

پشاور، U-2 اور سرد جنگ کا ایک پوشیدہ باب

مسرت اللہ جان

سرد جنگ کی تاریخ میں پشاور کا نام صرف افغانستان کی جنگ، افغان مہاجرین یا سوویت مخالف مزاحمت کے حوالے سے نہیں آتا۔ پشاور ایک ایسے خفیہ فضائی آپریشن کا بھی اہم حصہ رہا جس نے امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان طاقت کے توازن، انٹیلی جنس اور عالمی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔یہ کہانی U-2 جاسوس طیارے سے شروع ہوتی ہے۔

1950 کی دہائی میں امریکہ کو خدشہ تھا کہ سوویت یونین میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں کے میدان میں اس سے آگے نکل چکا ہے۔ امریکی حکام میں ”میزائل گیپ“ اور ”بمبار گیپ“ کے خدشات بڑھ رہے تھے۔ واشنگٹن کو سوویت میزائل تنصیبات، جوہری تجربات، فضائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات درکار تھیں۔اسی ضرورت کے تحت لاک ہیڈ کی خفیہ اسکنک ورکس نے U-2 طیارہ تیار کیا۔ یہ طیارہ تقریباً 70 ہزار فٹ کی بلندی پر طویل فاصلے تک پرواز کر سکتا تھا اور اپنے ساتھ ایسے آلات لے جا سکتا تھا جو تصویری، مواصلاتی اور الیکٹرانک انٹیلی جنس جمع کرتے تھے۔

1955 میں U-2 نے پہلی آزمائشی پرواز کی اور 1956 تک اسے آپریشنل بنا دیا گیا۔پھر سرد جنگ کا ایک انتہائی حساس باب شروع ہوا۔CIA نے یورپ، ترکی اور جاپان میں U-2 کے مختلف ڈیٹیچمنٹ قائم کیے۔ ان میں **ڈیٹیچمنٹ B** ترکی کے انجرلک ایئربیس پر قائم کیا گیا۔ لیکن اس یونٹ کی سرگرمیوں میں پاکستان اور خاص طور پر **پشاور** نے غیر معمولی اہمیت حاصل کی۔دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق **اگست 1957 میں ڈیٹیچمنٹ B نے پاکستان سے سوویت یونین کے اندر گہرائی تک جانے والی پہلی U-2 پرواز کی۔**یہ صرف ایک فضائی پرواز نہیں تھی۔ یہ سرد جنگ کے دو بڑے طاقتوں کے درمیان خفیہ انٹیلی جنس جنگ کا حصہ تھی۔

جولائی 1959 میں پشاور ایک بار پھر اس خفیہ پروگرام کا اہم نقطہ بنا۔ریکارڈ کے مطابق ڈیٹیچمنٹ B نے پشاور سے سوویت یونین کے اندر 18 ماہ سے زائد عرصے کے بعد پہلی Deep Pe*******on U-2 پرواز کی۔ اس مشن کے بعد طیارہ ایران میں اترا۔ اس کے بعد پشاور سے مزید پروازوں کا سلسلہ جاری رہا۔ دسمبر 1959 اور فروری 1960 میں نئے **U-2C** طیاروں کے ذریعے پشاور سے دو اہم مشن کیے گئے، جن کی واپسی ترکی میں ہوئی۔اپریل 1960 میں ایک اور U-2 مشن پشاور سے روانہ ہوا اور ایران کے شہر زاہدان میں اترا۔ لیکن اصل واقعہ ابھی باقی تھا۔

CIA نے سوویت یونین کے اوپر ایک انتہائی طویل اور خطرناک پرواز کا منصوبہ بنایا۔ اس کا نام تھا: **Operation Grand Slam** منصوبے کے مطابق U-2 طیارے نے **پشاور سے اڑنا تھا، سوویت یونین کے وسیع علاقے کو عبور کرنا تھا اور ناروے کے شہر بودو میں اترنا تھا۔** اس مشن کے لیے پائلٹ منتخب کیا گیا:
**فرانسس گیری پاورز۔**یکم مئی 1960 کو پاورز نے U-2C طیارے میں پشاور سے پرواز کی۔ لیکن سوویت یونین نے اس مرتبہ طیارے کو روک لیا۔ سوویت زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نے U-2 کو نشانہ بنایا۔ فرانسس گیری پاورز زندہ بچ گئے اور سوویت تحویل میں چلے گئے۔اس واقعے نے عالمی سفارت کاری میں زلزلہ پیدا کر دیا۔

امریکی حکومت کے لیے یہ صرف ایک جاسوسی طیارے کے مار گرائے جانے کا واقعہ نہیں تھا۔ یہ اس وقت پیش آیا جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے اور اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری تھے۔پاورز کی گرفتاری نے امریکی حکومت کو ایک مشکل صورت حال میں ڈال دیا۔ واشنگٹن پہلے طیارے کے مقصد کے بارے میں وضاحتیں دینے کی کوشش کرتا رہا، لیکن سوویت حکومت نے پائلٹ، طیارے اور جاسوسی مشن کے شواہد پیش کر دیے۔نتیجہ یہ نکلا کہ U-2 بحران نے امریکی صدر **ڈوائٹ آئزن ہاور** اور سوویت رہنما **نکیتا خروشیف** کے درمیان تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔

یہ سوال اصل میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ پشاور صرف اس لیے اہم نہیں کہ فرانسس گیری پاورز کی آخری پرواز یہاں سے شروع ہوئی تھی۔ اس سے پہلے بھی 1957 اور 1959 سے 1960 تک پشاور سے سوویت علاقے کے اندر جاسوسی پروازیں کی جا رہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پشاور سرد جنگ کے دوران جنوبی ایشیا اور سوویت یونین کے درمیان ایک حساس جغرافیائی نقطے کے طور پر استعمال ہو رہا تھا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اس کے لیے انتہائی اہم تھی۔ پشاور سوویت سرحدی علاقے کے نسبتاً قریب تھا اور یہاں سے شمال کی سمت پرواز کرتے ہوئے سوویت وسطی ایشیا اور دیگر حساس علاقوں تک پہنچنا ممکن تھا۔ اسی لیے پشاور سرد جنگ کے نقشے پر صرف پاکستان کا ایک شہر نہیں تھا۔ یہ امریکہ کے خفیہ فضائی انٹیلی جنس نیٹ ورک کا ایک اہم نقطہ بن چکا تھا۔

یہاں تحقیق کا اصل سوال شروع ہوتا ہے:**پشاور میں U-2 آپریشن کے لیے کون سی تنصیب استعمال ہوتی تھی؟** کیا یہ عام فضائی اڈہ تھا؟ کیا وہاں CIA کا خفیہ انتظام موجود تھا؟ کیا پاکستانی حکام اس پروگرام سے مکمل طور پر واقف تھے؟ اور اگر واقف تھے تو اس تعاون کی نوعیت کیا تھی؟ ان سوالات کے جوابات صرف اخباری رپورٹس سے نہیں مل سکتے۔ ان کے لیے CIA، امریکی محکمہ دفاع، امریکی فضائیہ اور پاکستانی سرکاری ریکارڈز کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر دیکھنا ہوگا۔یہ بھی ضروری ہے کہ **Badaber** کا نام ثبوت کے بغیر U-2 کے ساتھ جوڑنے سے گریز کیا جائے۔ اگر Badaber کو U-2 آپریشن کے مقام کے طور پر ثابت کرنا ہے تو اصل declassified document، نقشہ، operational record یا سرکاری correspondence درکار ہوگی۔

1960 میں جب فرانسس گیری پاورز سوویت یونین میں پکڑے گئے تو دنیا کی توجہ ماسکو، واشنگٹن اور سرد جنگ کی سفارت کاری پر مرکوز ہوگئی۔لیکن اس پوری کہانی کا ایک اہم جغرافیائی نقطہ پاکستان کا **پشاور** تھا۔ ایک ایسا شہر جہاں سے انتہائی خفیہ U-2 مشن سوویت یونین کے اندر تک جاتے تھے۔ بعد کے برسوں میں یہی پشاور افغانستان کی جنگ میں ایک اور عالمی طاقت کے خلاف مزاحمت، افغان مجاہدین، انٹیلی جنس نیٹ ورکس، مہاجرین اور بین الاقوامی صحافت کا مرکز بن گیا۔ یعنی پشاور نے سرد جنگ کے دو مختلف مگر آپس میں جڑے ہوئے ابواب دیکھے: **پہلے U-2 کے ذریعے سوویت یونین کی جاسوسی، پھر افغانستان میں سوویت فوج کے خلاف جنگ۔** یہ محض اتفاق نہیں تھا۔ اس کے پیچھے پشاور کی جغرافیائی اہمیت، پاکستان کی سوویت سرحد سے قربت اور خطے کی بدلتی ہوئی تزویراتی اہمیت موجود تھی۔اور شاید سرد جنگ کی تاریخ میں پشاور کا سب سے دلچسپ باب ابھی بھی مکمل طور پر سامنے نہیں آیا۔

اصل سوال اب یہ ہے: **پشاور سے اڑنے والے U-2 طیاروں کے پیچھے زمین پر کون لوگ، کون سی تنصیبات اور کون سا خفیہ انتظام کام کر رہا تھا؟** اس سوال کا جواب اخباری کہانی سے نہیں بلکہ declassified primary documents سے نکلے گا۔

Address

Peshawar Press Club Peshawar
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nexuspak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nexuspak:

Shortcuts

Share