Urduinfo.com

Urduinfo.com Daily News Updates in Urdu

کیا آپ ایکنی اور دانوں سے پریشان ہیں؟ 😔اب وقت ہے پراعتماد ہونے کا! 🌟​پیش ہے Nova Skin Ointment – جو ایکنی ولگیرس (Acne V...
06/08/2026

کیا آپ ایکنی اور دانوں سے پریشان ہیں؟ 😔
اب وقت ہے پراعتماد ہونے کا! 🌟
​پیش ہے Nova Skin Ointment – جو ایکنی ولگیرس (Acne Vulgaris) کا جڑ سے خاتمہ کرتی ہے۔
​ہماری خاص فارمولیشن:
✅ دانوں کی سوجن اور سرخی کو کم کرتی ہے 🌿
✅ مساموں کی گہرائی سے صفائی کرتی ہے (Deep Pore Cleansing) ✨
✅ مستقبل کے بریک آؤٹس کو روکتی ہے 🛡️
✅ جلد کو نرم اور بے داغ بناتی ہے 😍
​صرف چند دنوں کے استعمال سے واضح فرق دیکھیں (ہمارا Before/After رزلٹ چیک کریں!)۔
​🛍️ آج ہی آرڈر کریں اور اپنی جلد کو نیا نکھار دیں!
​👇 تفصیلات اور آرڈر کے لیے رابطہ کریں:
📞 فون/واٹس ایپ: 8941190 0347
​یا ہمیں ان باکس (DM) کریں!

09/07/2026

بیوی کے انتقال کے دن حامد
صاحب کی عمر صرف پینتالیس برس تھی۔
تعزیت کے لیے آنے والے ہر شخص نے ایک ہی مشورہ دیا۔
"حامد، ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے؟ دوسری شادی کر لو۔"
وہ ہر بار مسکرا دیتے، پھر اپنے
بارہ سالہ بیٹے عمار کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتے، "
اللہ نے مجھے اس کی صورت میں میری بیوی کی آخری امانت دے دی ہے۔ اب میری باقی زندگی اسی امانت کی حفاظت ہے۔"

اس کے بعد انہوں نے واقعی اپنی زندگی بیٹے کے نام کر دی۔ کاروبار بڑھتا گیا، مگر ان کی دنیا سمٹ کر صرف ایک لڑکے کی مسکراہٹ رہ گئی۔ اپنی خواہشیں، اپنی تنہائیاں، اپنی راتیں... سب انہوں نے خاموشی سے دفن کر دیں۔

وقت نے پلٹا کھایا۔

عمار جوان ہوا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، اور ایک دن باپ نے سارا کاروبار اس کے حوالے کر دیا۔

"اب تم سنبھالو۔ میں تھک گیا ہوں۔"

لیکن تھکن جسم کی نہیں تھی... رشتے کی تھی، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹا رہے تھے۔

پھر عمار کی شادی ہو گئی۔

گھر میں نئی ہنسی آئی، نئے پردے لگے، فرنیچر بدلا، برتن بدلے، حتیٰ کہ باورچی خانے کی ترتیب بھی بدل گئی۔

اور حامد صاحب؟

وہ بھی بدل گئے۔

اب وہ کبھی دفتر میں بیٹھے رہتے، کبھی کسی پرانے دوست کی دکان پر چائے پیتے، اور شام ڈھلے صرف سونے کے لیے گھر لوٹتے۔ اپنے ہی گھر میں وہ ایسے چلتے جیسے کسی اور کے مکان میں مہمان ہوں۔

ایک دوپہر سب ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے تھے۔

حامد صاحب نے روٹی کا آخری نوالہ توڑتے ہوئے نرمی سے کہا،

"بیٹا... اگر ذرا سا دہی ہو تو دے دو۔"

باورچی خانے سے بہو کی آواز آئی،

"آج گھر میں دہی نہیں ہے، ابا جی۔"

"اچھا..." انہوں نے پانی کا گھونٹ لیا اور خاموشی سے اٹھ گئے۔

کسی نے ان کے چہرے پر نظر نہیں ڈالی۔

وہ حسبِ معمول واک کے لیے نکل گئے۔

ان کے جاتے ہی بہو نے فریج کھولا، ٹھنڈی دہی کی پیالی نکالی اور عمار کے سامنے رکھ دی۔

"گرمی بہت ہے، دہی کے بغیر تمہارا کھانا مکمل نہیں ہوتا۔"

عمار نے پیالی کی طرف دیکھا۔

پھر دروازے کی طرف، جہاں سے ابھی ابھی اس کے باپ کی آہستہ آہستہ دور ہوتی چپلوں کی آواز گم ہوئی تھی۔

اس نے ایک لمحے کو بیوی کی آنکھوں میں دیکھا۔

پھر خاموشی سے دہی کھا لی۔

اس نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔

کوئی نصیحت نہیں کی۔

صرف اس دن کے بعد اس کے اندر کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔

چند روز گزرے۔

ایک صبح اس نے والد سے کہا،

"ابا، آج دس بجے تیار رہیے گا۔ ہمیں کچہری جانا ہے۔"

"کیوں؟"

"آپ کی شادی ہے۔"

حامد صاحب کے ہاتھ سے اخبار پھسل گیا۔

"پاگل ہو گئے ہو؟ اس عمر میں؟ مجھے کسی شادی کی ضرورت نہیں۔ میں نے تو ساری زندگی تمہارے لیے گزاری ہے۔"

عمار نے پہلی بار باپ کی آنکھوں میں ویسے دیکھا جیسے ایک مرد دوسرے مرد کی قربانی کو پہچانتا ہے۔

"ابا... میں آپ کے لیے ماں نہیں لا رہا، نہ اپنی بیوی کے لیے ساس۔"

وہ رکا، پھر دھیرے سے بولا،

"میں صرف آپ کے لیے ایک پیالی دہی کا بندوبست کر رہا ہوں۔"

کمرے میں ایسی خاموشی اتری کہ دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک بھی شرمندہ محسوس ہونے لگی۔

عمار نے جیب سے گھر کی چابی نکالی اور میز پر رکھ دی۔

"آج شام میں اور میری بیوی کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں منتقل ہو جائیں گے۔ کل سے میں آپ کے دفتر میں صرف ایک ملازم کی حیثیت سے آؤں گا، تنخواہ لوں گا... تاکہ جس گھر کی ہر چیز آپ نے ہمیں دے دی، وہاں رہنے والوں کو ایک پیالی دہی کی قیمت سمجھ آ جائے۔"

باورچی خانے میں کھڑی بہو کے ہاتھ سے شیشے کا گلاس چھوٹ کر فرش پر بکھر گیا۔

ٹوٹنے کی آواز معمولی تھی، مگر اس کے اندر برسوں سے جمی ہوئی خود غرضی میں ایک دراڑ پڑ چکی تھی۔

وہ لرزتے قدموں سے باہر آئی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ فریج سے دہی کی وہی پیالی نکالی، جسے چند لمحے پہلے اس نے صرف اپنے شوہر کے لیے محفوظ رکھا تھا، اور خاموشی سے حامد صاحب کے سامنے رکھ دی۔

پھر ان کے قدموں میں بیٹھ گئی۔

"ابا جی... مجھے معاف کر دیجیے۔ آج سمجھ آئی ہے کہ میں نے آپ سے دہی نہیں، آپ کا حق چھینا تھا۔"

حامد صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر ان کی آنکھوں میں ایسی نمی تھی جو صرف بڑھاپے کی تنہائی جانتی ہے۔

انہوں نے دھیرے سے کہا،

"بیٹی... بھوک روٹی نہ ملنے سے نہیں لگتی... بھوک اس دن لگتی ہے جب اپنے ہی گھر میں انسان کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اضافی ہے۔"

عمار نے آگے بڑھ کر باپ کے ہاتھ تھام لیے۔

اس روز نہ کوئی عدالت گئی، نہ کوئی نکاح ہوا، نہ کوئی گھر بکھرا۔

صرف ایک دسترخوان پر بیٹھے تین لوگوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھنا سیکھ لیا۔

اور اس دن کے بعد اس گھر میں دہی کبھی ختم نہیں ہوئی...

کیونکہ بہو نے فریج میں دہی رکھنے سے پہلے اپنے دل میں احترام رکھنا سیکھ لیا تھا۔

رشتے روٹی سے نہیں نبھتے، عزت سے نبھتے ہیں؛ اور جس گھر میں بزرگ کی عزت کم ہو جائے، وہاں نعمتیں چاہے جتنی بھی ہوں، برکت خاموشی سے دروازہ چھوڑ جاتی ہے۔

فرانس سے تعلق رکھنے والی خاتون نے 2003 میں آسڑیلیا میں ایک پاکستانی سے شادی کی اور 2014 میں وہ پاکستان کے شہر پشاور شفٹ ...
27/06/2026

فرانس سے تعلق رکھنے والی خاتون نے 2003 میں آسڑیلیا میں ایک پاکستانی سے شادی کی اور 2014 میں وہ پاکستان کے شہر پشاور شفٹ ہوئیں جہاں سے اُن کو فاٹا لے جایا گیا۔ پچھلے بارہ سال سے اُن کو ایک کمرے میں جس میں کوئی بنیادی سہولت موجود نہیں تھی رکھا گیا اُس کے علاوہ اُس کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے۔
خاتون کے پانچ بچے بھی ہیں جن میں سے ایک معذور ہے۔ بچوں کو بھی سکول میں داخل نہیں کروایا گیا۔
بڑے بچے نے گھر سے چھپ کر پولیس میں اطلاع دی جہاں سے پولیس نے فرانسی عورت اور بچوں کو بازیاب کروایا اور اب فرانسیسی سفارتخانہ خاتون اور بچوں کی واپسی کو یقینی بنائے گا۔
ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے یہ ہم ہمیشہ مغربی ممالک سے سیکھا۔
پانچ اُنگلیاں برابر نہیں ہوتی لیکن خواتین دور دراز علاقوں کے مردوں پر اعتبار کرکے کبھی کبھی اُس کی بھاری قیمت ادا کرتی ہیں۔

🚨💔 منتہا زہرہ کی رونگٹے کھڑے کرنے والی میڈیکل رپورٹ کی مکمل تفصیلات>> مریض کی معلوماتنام: منتہا زہرہعمر: 8 سالجنس: لڑکیہ...
27/06/2026

🚨💔 منتہا زہرہ کی رونگٹے کھڑے کرنے والی میڈیکل رپورٹ کی مکمل تفصیلات

>> مریض کی معلومات
نام: منتہا زہرہ
عمر: 8 سال
جنس: لڑکی
ہسپتال: ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا
پوسٹ مارٹم نمبر: 67/26
وفات: 22 جون 2026 دوپہر تقریباً 12 بجے
لاش مردہ خانے پہنچی: شام 4:30 بجے
پوسٹ مارٹم شروع ہوا: رات 8 بجے
پولیس نے لاش کی شناخت کروا کر پوسٹ مارٹم کے لیے پیش کی۔

>> جسم کا ظاہری معائنہ
ڈاکٹر نے نوٹ کیا کہ:
بچی سیدھی لیٹی ہوئی تھی۔
آنکھیں بند تھیں۔
زبان منہ سے باہر نکلی ہوئی تھی۔
چہرہ خون سے آلودہ تھا۔
ناک کے دونوں نتھنوں میں جما ہوا خون موجود تھا۔
جسم میں موت کے بعد آنے والی ابتدائی سختی شروع ہو چکی تھی۔

>> کپڑوں کی حالت:
پیلے رنگ کا پھولوں والا قمیض شلوار پہنا ہوا تھا۔
کپڑے پھٹے ہوئے تھے۔
کپڑوں پر خون لگا ہوا تھا۔
شلوار پر پاخانہ بھی موجود تھا۔

>> گردن کا معائنہ
یہ رپورٹ کا سب سے تشویش ناک حصہ ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق:
گردن کے اگلے اور بائیں حصے پر تقریباً 7.2 سینٹی میٹر لمبا گہرا کٹا ہوا زخم تھا۔
زخم اتنا گہرا تھا کہ اندر کا cartilage اور ہڈی نظر آ رہی تھی۔
گردن کی بڑی شریان (Left Carotid Artery) مکمل کٹ چکی تھی۔
اس قسم کی چوٹ سے شدید خون بہتا ہے اور زندگی کو شدید خطرہ ہوتا ہے۔

>> سر اور چہرے کی چوٹیں
ڈاکٹر نے چار بڑی چوٹیں درج کیں:
• سر کے دائیں حصے پر تقریباً 9×8 سینٹی میٹر کی شدید سوجن اور نیل۔
• کھوپڑی کھولنے پر کئی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور دماغ کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ دماغ کے اردگرد خون جمع تھا، یعنی سر پر بہت زور سے وار کیا گیا تھا۔
• ٹھوڑی کے نیچے تقریباً 5×1.5 سینٹی میٹر کا گہرا کٹا ہوا زخم جس میں ہڈی بھی نظر آ رہی تھی۔
• چہرے کے بائیں حصے پر شدید سوجن، نیل اور متعدد خراشیں۔

>> دماغ اور ریڑھ کی ہڈی
سر کی جلد زخمی تھی، کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی، دماغ زخمی تھا، دماغ کی جھلیاں متاثر تھیں جبکہ ریڑھ کی ہڈی نارمل تھی۔

>> پیٹ کے اندرونی اعضاء
معدہ، لبلبہ، آنتیں، جگر، تلی، دونوں گردے اور مثانہ سب نارمل پائے گئے۔ ان میں کوئی خاص چوٹ درج نہیں کی گئی۔

>> جنسی معائنہ
ڈاکٹر نے لکھا:
ہائیمن (پردۂ بکارت) پھٹا ہوا تھا۔
اندام نہانی میں سوجن موجود تھی۔
اندام نہانی میں سرخی تھی۔
اندر جما ہوا خون موجود تھا۔
شلوار خون آلود تھی اور شلوار پر پاخانہ بھی موجود تھا۔

>> فرانزک نمونے
ڈاکٹر نے بیرونی Vaginal Swab اور اندرونی Vaginal Swab لے کر PFSA لاہور بھیجے تاکہ DNA اور فرانزک ٹیسٹ ہو سکے۔

>> انجری نمبر
1. گردن کا گہرا کٹا ہوا زخم۔
2. سر اور دائیں آنکھ کے اوپر شدید ضرب۔
3. ٹھوڑی کے نیچے گہرا زخم۔
4. چہرے اور گردن کے بائیں حصے پر سوجن اور خراشیں۔

>> رپورٹ کا خلاصہ
گردن پر انتہائی گہرا جان لیوا وار کیا گیا۔
سر پر شدید تشدد کیا گیا جس سے کھوپڑی ٹوٹ گئی اور دماغ زخمی ہوا۔
چہرے پر متعدد زخم اور خراشیں تھیں۔
جنسی اعضا میں سوجن، سرخی، خون اور ہائیمن کے پھٹے ہونے کا ذکر موجود ہے۔
فرانزک نمونے PFSA لاہور بھیجے گئے ہیں جن کی حتمی رپورٹ تقریباً دو ہفتے تک متوقع ہے۔ مزید اور حتمی تصویر اس رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔

منقولکلاس میں ٹیچر سے طالبات نے پوچھا مس آپ کی صورت بھی ہے اور سیرت بھی، تو آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟؟؟؟ ٹیچر نے ...
14/06/2026

منقول
کلاس میں ٹیچر سے طالبات نے پوچھا مس آپ کی صورت بھی ہے اور سیرت بھی، تو آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟؟؟؟ ٹیچر نے جواب دیا!!
ایک عورت تھی جس کی پانچ بیٹیاں تھیں، اس کے شوہر نے کہا اگر چھٹی بار بھی بیٹی ہوئی تو میں اسے گھر میں نہیں بلکہ سڑک کے کنارے جا کے رکھ دوں گا!!!
خدا کی مصلحت تھی چھٹی بار بھی بیٹی ہوئی!! تو شوہر نے وہی کیا جو کہا تھا بیٹی کو اٹھا کر رات کے اندھیرے میں سڑک کے کنارے رکھ آیا!! صبح ہوئی تو جا کے دیکھا بچی کو کسی نے نہیں اٹھایا!!! سات دن تک یہی کرتا رہا مگر آخر کار بیٹی کو گھر لے کے آتا ہے!! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کے ہاں پر پیدائش ہوتی ہے مگر!!! اس بار لڑکی نہیں بلکہ لڑکا پیدا ہوا!!!! کچھ دن گزرنے کے بعد جو سب سے بڑی بیٹی تھی وہ مر جاتی ہے! پر بیٹا پیدا ہوتا ہے پر ایک اور بیٹی مر جاتی ہے! اسی طرح پانچ بیٹیاں مر جاتی ہیں مگر ان کے بدلے میں پانچ بیٹے مل جاتے ہیں صرف ایک بیٹی زندہ رہ جاتی ہے جس کو سات راتوں تک سڑک پر چھوڑ کے آتے تھے کہ شاید کوئی اٹھائے مگر کسی نے نہیں اٹھایا اور وہ بیٹی (میں ہوں)!!!!
میرا باپ بیمار ہے اور ماں اس دنیا سے چل بسی ہے! میری شادی نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ میں اپنے بیمار باپ کا خیال رکھتی ہوں اور میرے پانچ بھائی مہینے میں ایک بار آتے ہیں باپ کو دیکھنے کیلئے!!!!
میرے بابا روتے ہے اور بچپن میں جو کچھ میرے ساتھ کیا تھا اس کیلئے شرمندگی کا اظہار کرتے ہے!!!
پیغام: کبھی کبھار انسان کو کوئی چیز اچھی نہیں لگتی مگر اس میں انسان کی خیر چھپی ہوتی ہے!!!! اور قرآن میں اللہ کہتا ہے:
"واللہ یعلم وانتم لا تعلمون، جو اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے ہو!!"
کاپی

ہائے غربت 😭😭😭لاہور کے علاقے گوجرپورہ، کرول پنڈ کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر د...
12/06/2026

ہائے غربت 😭😭😭

لاہور کے علاقے گوجرپورہ، کرول پنڈ کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والی ایک محنت کش خاتون، جو بچوں کی ماں ہے، اپنے شوہر کے ہمراہ واپس جا رہی تھی کہ راستے میں چند افراد نے مبینہ طور پر اسے زبردستی قریبی مکئی کے کھیتوں میں لے جا کر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

واقعے کے بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس پر متعلقہ ادارے متحرک ہوئے اور تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ایک ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے جبکہ دیگر دو مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

متاثرہ خاتون ایک غریب اور محنت کش خاندان سے تعلق رکھتی ہے جبکہ اس کا شوہر ذہنی بیماری کا شکار بتایا جاتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر خواتین کے تحفظ اور قانون کی مؤثر عملداری کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

عوام کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ ہماری ہمدردیاں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں اور دعا ہے کہ انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔

شوہر سے پانی مانگتی ہوں تو اپنا پیشا۔ب میرے منہ میں کرتا میرے کپڑے اتار کر بر/ہنہ کر کے مجھے سڑک پر کھڑا کر دیا پہلے گنج...
10/06/2026

شوہر سے پانی مانگتی ہوں تو اپنا پیشا۔ب میرے منہ میں کرتا میرے کپڑے اتار کر بر/ہنہ کر کے مجھے سڑک پر کھڑا کر دیا پہلے گنجا کیا پھر سارے جسم پر سگرٹ لگاتا رہا میرے دوستوں کے ساتھ ہم/بس/تری کرو
ردانے آج سے دس سال پہلے محبت کے نام پر اپنے والدین، بہن بھائیوں اور پورے خاندان کو چھوڑ دیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ جس شخص کے لیے وہ سب کچھ قربان کر رہی ہے، وہ اسے دنیا کی ہر خوشی دے گا۔ محبت کی چکاچوند میں اسے اپنے ماں باپ کی نصیحتیں اور دعائیں بھی بے معنی لگتی تھیں۔

وقت گزرتا گیا، شادی ہوئی، چار بچے پیدا ہوئے، مگر وہ محبت جس کے لیے ردا نے اپنا گھر بار چھوڑا تھا، آہستہ آہستہ ظلم کی ایک خوفناک داستان میں بدل گئی۔ شوہر شراب کے نشے میں اسے بے رحمی سے مارتا، گالیاں دیتا، اس کی عزتِ نفس کو روندتا۔ کئی بار اسے کپڑے اتار کر گلی میں گھسیٹا گیا، اس کے بال مونڈ دیے گئے، اور اس کے جسم پر جلتی ہوئی سگریٹ سے ایسے نشان بنائے گئے جو شاید زندگی بھر نہ مٹ سکیں۔

لیکن ظلم کی انتہا تب ہوئی جب مار کھا کھا کر نڈھال ہونے والی ریتا پانی مانگتی تو اسے پانی کے بجائے ذلت دی جاتی۔ وہ شخص، جسے کبھی اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سہارا سمجھا تھا، اس کی انسانیت تک کو پامال کرنے لگا۔

آج ردا کی آنکھوں میں صرف ایک سوال ہے: کیا چند دنوں کی محبت کے لیے اپنے ماں باپ کا سایہ چھوڑ دینا درست فیصلہ تھا؟

یہ کہانی صرف ریتا کی نہیں، بلکہ ہر اس لڑکی کے لیے ایک سبق ہے جو وقتی جذبات اور جھوٹی محبت کے وعدوں میں آ کر اپنے والدین اور خاندان کی محبت کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ ہر محبت بری نہیں ہوتی، لیکن کسی بھی فیصلے سے پہلے انسان کے کردار، اخلاق اور ذمہ داری کو جانچنا ضروری ہے۔

محبت صرف خوبصورت لفظوں کا نام نہیں، بلکہ عزت، تحفظ، اعتماد اور احترام کا نام ہے۔ جو شخص آپ کو آپ کے والدین سے کاٹ دے، ضروری نہیں کہ وہ زندگی بھر آپ کا سہارا بھی بنے۔

والدین کی نصیحتیں اکثر وقت گزرنے کے بعد سمجھ آتی ہیں، مگر بعض اوقات تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔










پروسٹیٹ کینسر: ایک خاموش قاتل جو برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے جسم میں بڑھ سکتا ہےبہت سے مرد یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک در...
09/06/2026

پروسٹیٹ کینسر: ایک خاموش قاتل جو برسوں تک بغیر کسی واضح علامت کے جسم میں بڑھ سکتا ہے

بہت سے مرد یہ سمجھتے ہیں کہ جب تک درد نہ ہو، پیشاب میں شدید تکلیف نہ ہو یا روزمرہ زندگی متاثر نہ ہو، تب تک سب کچھ ٹھیک ہے۔ لیکن مردوں کی صحت کے حوالے سے سب سے خطرناک حقیقت یہ ہے کہ پروسٹیٹ کینسر اکثر ابتدائی مراحل میں خاموش رہتا ہے۔

یہ بیماری کئی سال تک جسم میں موجود رہ سکتی ہے، بڑھتی رہتی ہے اور بعض اوقات انسان کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے جب بیماری کافی حد تک آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔

پروسٹیٹ کیا ہے؟

پروسٹیٹ مردوں میں موجود ایک چھوٹا سا غدود ہے جو مثانے کے نیچے اور پیشاب کی نالی کے گرد واقع ہوتا ہے۔ یہ منی (Semen) کے ایک اہم حصے کی تیاری میں کردار ادا کرتا ہے اور مردانہ تولیدی نظام کا اہم جزو ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ پروسٹیٹ میں مختلف تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے ہر تبدیلی کینسر نہیں ہوتی، لیکن ہر تبدیلی کو نظر انداز کرنا بھی دانشمندی نہیں۔

پروسٹیٹ کے تمام مسائل کینسر نہیں ہوتے

بہت سے لوگ پروسٹیٹ کا نام سنتے ہی کینسر سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ پروسٹیٹ سے متعلق کئی مختلف بیماریاں ہو سکتی ہیں:

پروسٹیٹ کا سادہ بڑھ جانا (Benign Prostatic Hyperplasia) پروسٹیٹ کی سوزش (Prostatitis) پروسٹیٹ کا انفیکشن پروسٹیٹ کینسر

ان تمام بیماریوں کی علامات اور علاج مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے خود تشخیص کرنے کے بجائے معائنہ کروانا ضروری ہے۔

کون سی علامات خطرے کی گھنٹی ہو سکتی ہیں؟

اگرچہ پروسٹیٹ کینسر ابتدا میں خاموش رہ سکتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ بعض علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

پیشاب شروع کرنے میں دشواری پیشاب کا کمزور یا باریک بہاؤ بار بار پیشاب کی حاجت رات کو کئی مرتبہ اٹھ کر پیشاب کرنا پیشاب مکمل نہ ہونے کا احساس پیشاب یا منی میں خون آنا زیر ناف، کولہوں یا کمر کے نچلے حصے میں درد ٹانگوں یا ہڈیوں میں مسلسل درد غیر معمولی کمزوری یا وزن میں کمی

لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان علامات کا نہ ہونا بیماری کے نہ ہونے کی ضمانت نہیں۔

خاموش بیماری زیادہ خطرناک کیوں ہوتی ہے؟

جب بیماری شور نہیں مچاتی تو لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے۔

جب درد نہیں ہوتا تو معائنہ نہیں کروایا جاتا۔

جب علامات نہیں ہوتیں تو مسئلہ معمولی سمجھ لیا جاتا ہے۔

اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بیماری خاموشی سے آگے بڑھتی رہتی ہے۔

مرد معائنہ کروانے سے کیوں گھبراتے ہیں؟

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مرد اپنی صحت کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

کچھ لوگ شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ کچھ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ کہیں کوئی بڑی بیماری نہ نکل آئے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ "میں بالکل ٹھیک ہوں، مجھے کسی چیک اپ کی ضرورت نہیں۔"

لیکن حقیقت یہ ہے کہ بیماری سے آنکھیں بند کرنے سے بیماری ختم نہیں ہوتی۔

حقیقی بہادری بیماری کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ بروقت تشخیص کروانا ہے۔

PSA ٹیسٹ کیا ہے؟

PSA خون کا ایک ٹیسٹ ہے جو پروسٹیٹ کی صحت کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے۔ اگر PSA کی سطح غیر معمولی ہو تو ڈاکٹر مزید معائنے یا ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں۔

یہ ٹیسٹ اکیلا حتمی فیصلہ نہیں کرتا لیکن بیماری کی بروقت نشاندہی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اگر کینسر تشخیص ہو جائے تو کیا سب کچھ ختم ہو جاتا ہے؟

ہرگز نہیں۔

آج طب کی ترقی کی بدولت پروسٹیٹ کینسر کے بہت سے مریض کامیاب علاج حاصل کرتے ہیں، خاص طور پر جب بیماری ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے۔

بروقت تشخیص نہ صرف علاج کے امکانات بڑھاتی ہے بلکہ پیچیدگیوں کے خطرات بھی کم کرتی ہے۔

مرد حضرات اکثر اپنے خاندان کی ذمہ داریوں میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اپنی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، آپ کی صحت ہی آپ کے خاندان، بچوں، کاروبار اور مستقبل کی بنیاد ہے۔

اگر آپ کی عمر بڑھ رہی ہے، اگر پیشاب سے متعلق مسائل موجود ہیں، یا اگر خاندان میں پروسٹیٹ کی بیماریوں کی تاریخ موجود ہے تو اپنی صحت کو سنجیدگی سے لیں۔

آج کی احتیاط کل کی بڑی پریشانی سے بچا سکتی ہے۔

#تعلیم #سائنس

ڈاکٹر ماہ نور ناصر جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا 13 فیصد | وجود جلا ہے ایک آنکھ متاثر ہے اس کا بھی علاج ممکن ہے تمام اعضاء ...
07/06/2026

ڈاکٹر ماہ نور ناصر جس پر تیزاب پھینکا گیا تھا 13 فیصد | وجود جلا ہے ایک آنکھ متاثر ہے اس کا بھی علاج ممکن ہے تمام اعضاء سلامت ہیں آغا خان ہسپتال کراچی کا رپورٹ تیزاب حملے میں زخمی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کی حالت خطرے سے باہر ہے اور صحت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق آنکھوں کو نقصان نہیں پہنچا تاہم ابتدائی علاج کے دوران بینائی کے حوالے سے کچھ خدشات تھے۔

ڈاکٹر ماہ نور کراچی کے آغا خان اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں اسپتال حکام کے مطابق ان کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ جھلس گیا اور کچھ زخم گہرے ہیں، مگر علاج کامیابی سے جاری ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والا یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پوری ڈاکٹرز کمیونٹی اور انسانیت کے لیے صدمے کا باعث ہے۔ یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ ایسی انسانیت سوز جرائم کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

اللہ تعالی ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو جلد از جلد مکمل صحت و تندرستی عطا فرمائے، ان کے زخموں کو شفا دے

Address

Peshawar
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urduinfo.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share