06/09/2025
ضدی تاجر کی کہانی
ایک گاؤں میں اکبر نام کا تاجر رہتا تھا۔ وہ محنتی تھا، مگر اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ کبھی مفاہمت نہیں کرتا تھا۔ چھوٹی چھوٹی بات پر ضد پکڑ لیتا اور اپنی بات منوانے کے لیے دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا۔
ایک دن اس کا ہمسایہ، جو اُس کا بچپن کا دوست بھی تھا، معمولی سی زمین کے ٹکڑے پر جھگڑ پڑا۔ دوست نے کہا:
"آؤ بیٹھ کر بات کر لیتے ہیں، کوئی درمیانی راستہ نکال لیتے ہیں۔"
لیکن اکبر نے غرور سے جواب دیا:
"میری بات مانو گے تو ٹھیک ورنہ عدالت میں جا کر دیکھ لینا!"
بات عدالت تک جا پہنچی۔ برسوں مقدمہ چلتا رہا۔ پیسہ، وقت اور عزت سب ضائع ہوئی۔ آخرکار زمین بھی ہاتھ سے گئی اور دوست بھی۔
اکبر کے بڑھاپے میں کوئی اس کے پاس نہ بیٹھتا تھا۔ وہ اکثر گلی میں اکیلا بیٹھا سوچا کرتا:
"کاش اُس دن میں تھوڑا سا جھک جاتا، تو نہ دوستی ٹوٹتی، نہ زندگی تلخ ہوتی۔"
---
📌 سبق:
انا اور ضد انسان کو اکیلا کر دیتی ہے، لیکن مفاہمت اور برداشت دلوں کو جوڑ دیتے ہیں۔
#پچھتاوا