Pyar Ka Professor

Pyar Ka Professor 💘 Welcome to Pyar Ka Professor! 💘
Your ultimate destination for all things love, relationships, and romance.

Whether you’re falling, healing, or simply figuring it all out—I’m here with the advice, humor, and real talk you need to make sense of it all.

02/07/2026
02/07/2026

Celebrating my 7th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

تصویر میں ، بڈہ بیری زبیر" کے مشہور تاریخی کیس کا ذکر ہے۔ یہ پشاور کے علاقے بڈہ بیر سے تعلق رکھنے والے ایک پختون مجاہد ک...
02/07/2026

تصویر میں ، بڈہ بیری زبیر" کے مشہور تاریخی کیس کا ذکر ہے۔ یہ پشاور کے علاقے بڈہ بیر سے تعلق رکھنے والے ایک پختون مجاہد کا واقعہ ہے۔ بڈہ بیر کے یہ غیرت مند پختون انگریز راج کے خلاف کھل کر بولتے تھے اور انگریزوں کے مقامی نمائندوں کے خلاف بھی ان کا موقف بہت سخت تھا۔ اسی وجہ سے برطانوی حکومت ان سے بہت تنگ تھی اور انہیں خاموش کرانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا گیا۔ ایک طوائف کمار گلا ،کو آگے لایا گیا اور اس پر الزام لگایا گیا کہ زبیر نے اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا ہے۔ 21 ستمبر 1935ء کو تھانہ بدابیرہ میں FIR نمبر 34، علت نمبر 109 کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ پھر 10 جنوری 1936ء کو عدالت نے زبیر کو ڈھائی سال قید اور 15 روپے جرمانے کی سزا سنائی، جبکہ کمار گلا کو صرف 15 روپے انعام نہیں دیا گیا بلکہ برطانوی تاج نے اسے آفیشل طوائف کا درجہ بھی دے دیا۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ اس سے زبیر بدنام ہو جائے گا، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ پختون قوم اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور اس واقعے نے انگریزوں کے خلاف نفرت کو مزید بڑھا دیا۔ اسی کیس کے بعد پختونوں میں ایک محاورہ بہت مشہور ہوا ۔غم مہ بے دا بڈہ بیرے زبیر کوئی یعنی غم نہ کرو، بڈہ بیر کا زبیر ابھی زندہ ہے، جو ظلم کے سامنے ڈٹ جانے کی علامت بن گیا۔

اگر اس کی تاریخی حیثیت دیکھی جائے تو یہ کیس عوامی سطح پر ایک لوک تاریخ اور استعمار مخالف مزاحمت کی علامت کے طور پر زندہ ہے۔ اس کے نام سے 1935-1936 کا کوئی مصدقہ برطانوی سرکاری دستاویز یا عدالتی فیصلہ ڈیجیٹل آرکائیو میں ابھی تک نہیں ملا۔ ہو سکتا ہے وہ ریکارڈ پشاور ہائی کورٹ کے پرانے رجسٹر یا برطانیہ کی India Office Records میں بند فائلوں میں موجود ہو جو ابھی ڈیجیٹائز نہیں ہوئیں۔ لیکن بڈہ بیر، اور پشاور کے بزرگوں میں یہ واقعہ نسل در نسل سنا جاتا ہے اور کمار گلا کا نام اور 15 روپے کا ذکر اسی لوک روایت کا حصہ ہے۔ انگریز دور میں سرحدی علاقوں کے کئی مجاہدین پر زنا، چوری یا غداری کے جھوٹے مقدمے بنائے گئے تاکہ انہیں بدنام کر کے خاموش کرایا جائے، اس لیے یہ کہانی مقامی لوگوں کے اجتماعی حافظے میں سچ کے قریب محسوس ہوتی ہے۔
اپ کا کیا خیال ھے ؟؟؟؟؟؟؟
تصویر بشکریہ واٹساپ گروپ
تحقیق بذریعہ اے آئی
ریاض صدیقی

27/06/2026

واقعہ کربلا حصہ اول

25/06/2026

*_جب ہم ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدتے ہیں تو اکثر ہمیں مختلف کلاسیں نظر آتی ہیں، جیسے اکانامی کلاس، پریمیم اکانامی، بزنس کلاس اور فرسٹ کلاس۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ان میں اصل فرق کیا ہوتا ہے؟_*

*_اکانامی کلاس (Economy Class)_*

*_یہ جہاز کا سب سے عام اور کم قیمت حصہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر مسافر اسی کلاس میں سفر کرتے ہیں۔ نشستیں نسبتاً قریب قریب ہوتی ہیں، لیکن مختصر اور درمیانی فاصلے کے سفر کے لیے یہ بہترین اور معاشی انتخاب ہے۔_*

*_پریمیم اکانامی (Premium Economy)_*

*_یہ اکانامی اور بزنس کلاس کے درمیان کا درجہ ہے۔ اس میں ٹانگوں کے لیے زیادہ جگہ، نسبتاً آرام دہ نشستیں، بہتر کھانا اور کچھ اضافی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ لمبے سفر کرنے والے مسافروں کے لیے یہ ایک متوازن انتخاب سمجھا جاتا ہے۔_*

*_بزنس کلاس (Business Class)_*

*_یہ کلاس کاروباری افراد اور آرام دہ سفر کے خواہش مند مسافروں کے لیے بنائی گئی ہے۔ نشستیں زیادہ کشادہ ہوتی ہیں، کئی طیاروں میں مکمل بستر (Lie-flat Bed) میں تبدیل ہو جاتی ہیں، جبکہ اعلیٰ معیار کا کھانا، لاؤنج تک رسائی، ترجیحی چیک اِن اور دیگر خصوصی سہولیات بھی شامل ہوتی ہیں۔_*

*_فرسٹ کلاس (First Class)_*

*_یہ کسی بھی مسافر بردار طیارے کی سب سے پرتعیش کلاس ہوتی ہے۔ اس میں ذاتی کیبن، انتہائی آرام دہ نشستیں، اعلیٰ معیار کی سروس، خصوصی کھانے، نجی ماحول اور کئی ایئرلائنز میں شاور جیسی منفرد سہولیات بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ تاہم ہر ایئرلائن فرسٹ کلاس فراہم نہیں کرتی، اور جدید دور میں بعض ایئرلائنز نے اس کی جگہ جدید بزنس کلاس کو ترجیح دی ہے۔_*

*_ہر کلاس کا مقصد مختلف ضروریات اور بجٹ رکھنے والے مسافروں کو بہتر سہولت فراہم کرنا ہے۔ اگر آپ کم خرچ میں سفر کرنا چاہتے ہیں تو اکانامی کلاس بہترین ہے، جبکہ زیادہ آرام اور سہولیات کے لیے پریمیم اکانامی، بزنس یا فرسٹ کلاس کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔_*

25/06/2026

✍ *الـسـوال__1*
شیعہ اپنے آپ کو سید کہلواتے ہیں سید تو حضرت حسینؓ کی نسل سے ہیں تو کیا شیعہ کا سید کہلوانا درست ہے؟
✍ *الــجــواب*
شیعہ کبھی سید نہیں ہو سکتا اور سید کبھی شیعہ نہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمان و سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کو برا کہنے والا یا ان پر تنقید کرنے والا کبھی سید نہیں ہو سکتا۔
شیعہ اپنے آپ کو سید اس لیے کہلواتے ہیں کہ سادہ لوح عوام ان کو سید سمجھتے ہوے ان کی عزت کرے ان کے قریب ہو اور یہ شیعہ ان سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان تباہ کر سکیں۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__2*
ہم نے تو شروع سے سنا ہے کہ کربلا میں پانی بند تھا اب پہلی بار سنا ہے کہ پانی بند نہیں تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہی؟
✍ *الــجــواب*
ابھی بہت کچھ آپ پہلی بار سنیں گی کیونکہ تحقیقی مادہ تو ہمارے ہاں نہیں اور سنی سنائی جیسے داستانیں چلتی آرہی ہیں سنا رہے ہیں سب، حقیقت سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__3*
میرا سوال ہے کہ حضرت معاویہؓ حضرت حسن ؓ کے نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوۓ تھے کیا؟ یہ شیعہ کہتے ۔ہیں۔۔۔ اور حضرت حسن ؓ نے جو معاویہؓ سے صلح کی وہ صرف جنگ بندی کے لئے ہی کی تھی ؟
✍ *الــجــواب*
جو شیعہ کہتے ہیں ان سے ثبوت مانگیں کہ کہاں لکھا ہے۔
جس وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو وہ وقت آج جیسا نہیں تھا، مدینہ سے شام اطلاع پہنچتے پہنچتے بھی ہفتہ عشرہ لگ جاتا تھا تو ایسی صورتحال میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع ملنے اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے شام سے مدینہ آنے میں کم از کم پندرہ بیس دن کا وقت لگنا تھا تو اتنی دیر جنازے کو کون انتظار کرواتا ہے؟
غلط ہے بالکل جو بتایا شیعہ نے.
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__4*
میرا یہ سوال ہے کہ میں نے سنا ہے 12 امام 14 امام
معصوم کیا ہوتا ہے کون ہوتے ہیں؟
ان کے بارے میں کیا حکم ہے ان کا کیا رتبہ ہے؟؟؟؟
*حضرت امام مہدی* کے ساتھ کیا لگا سکتے ہیں
کیا فضیلت اور شان ہے ان اماموں کی؟
✍ *الــجــواب*
ان بارہ اماموں کے ساتھ رسولﷺ، حضرت فاطمہؓ کو ملا کر ان سب کو معصوم سمجھتے ہیں رسولﷺ تو صرف معصوم ہوے مگر باقی کسی غیر نبی کو معصوم سمجھنا گویا انبیاء والی صفات آپ اس غیر نبی میں شامل کر کے ان کو نبی کا درجہ دے رہے ہیں یہ ختم نبوت کا انکار ہے.
شیعہ ختم نبوت کے منکر اسی وجہ سے ہیں کہ یہ انبیاء کرام کے علاوہ اپنے بارہ اماموں کو بھی معصوم سمجھتے ہیں جو کے کفر ہے اور انکار ختمِ نبوت انسانوں میں معصوم صرف انبیاء کرام ہیں اور کوئی نہیں۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__5*
اسلام میں غم کی مدت 3 دن کی ہے ۔تو پھر جس سال حضرت خدیجہ اور حضرت ابو طالب کا انتقال ہوا تو اس سال کو غم کا سال کیوں قرار دیا گیا ؟
✍ *الــجــواب*
کیا اس سال کسی قسم کا دکھ منانا ثابت ہے؟ کیا اس سال کے بعد بھی رسولﷺ نے کسی سال کو غم کا سال فرمایا؟؟ یا رسولﷺ نے بعد میں آنے والے سالوں میں بھی سیدہ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا اور ابو طالب کا غم منایا؟؟؟
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__6*
شیعہ کہتے ہیں کہ اصول دین پانچ ہیں ۔
توحید،نبوت ،آخرت پے ایمان ،امامت اور عدالت۔
لیکن اہل سنت والے تین کہتے ہیں ۔اور پھر یہاں سے امامت ثابت کرتے ہیں کہ یہ دین کا حصہ ہے ۔
آپ وضاحت کر دیں کہ کتنے رکن ہیں اور کیا سچ ہے ؟
✍ *الــجــواب*
شیعہ کا عقیدہ امامت کفریہ عقیدہ ہے، شیعہ کہتے ہیں نبوت عام چیز ہے امامت خاص ہے، اور امامت نبوت سے افضل ہے یہی تو کفر ہے اور انکار ختم نبوت شیعہ کا ہے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__7*
جب ہم سٹیٹس لگاتے ہیں گروپ والی پوسٹ تو کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ کسی کے مذہب کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہٸے جو جہاں لگا ہے لگا رہنے دیں ہمارے کہنے سے کسی کو ہدایت نہیں ملتی کیا ایسا نہیں کرنا چاہٸے؟
✍ *الــجــواب*
بلکل جو جہاں لگا ہے لگا رہے تو شیعہ کو کس نے اجازت دی کہ صحابہ کرامؓ کو گالی گلوچ کریں صحابہ کرامؓ پر طرح طرح کے الزامات کیوں لگاتے ہیں؟ ان کا دفاع کرنا فرض عین ہے، جو صحابہ کرامؓ پر الزامات و اعتراضات ہوتے دیکھ کر خاموش رہے فرمان رسولﷺ ہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے
صحابہ کرامؓ کو تو سکھ عیسائی یہودی بھی نہیں مانتے ہمیں کوئی اعتراض نہیں نا مانیں مگر وہ برا نہیں کہتے صحابہ کو،، مگر شیعہ صرف انکار ہی نہیں کرتے بلکہ ان کو جہنمی کافر اور ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں نعوذباللہ اور پھر شیعہ اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں تو کیا شیعہ کا کفر امت مسلمہ میں پھیلانا نہیں چاہیے؟
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__8*
باجی شیعہ جو امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں تو ہم کتنے اماموں کو مانتے ہیں ہمارا کیا عقیدہ ہے اس بارے میں؟
✍ *الــجــواب*
عقیدہ امامت کے بارے تفصیل سے 50 روزہ ختمِ نبوت و رد شیعیت کورس میں ہی پڑھائیں گے۔ ان شاء الله
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتِ مسلمہ میں 30 سال تک خلافتِ راشدہ رہی۔ یعنی کہ چار خلیفہ گزرے ہیں جنہوں نے اسلام کی عمارت کو مستحکم کیا۔
ہمارے ہاں شیعہ کی طرح کا امامت کا کوئی تصور نہیں عقیدہ امامت کا بانی عبداللہ ابن سباء یہودی تھا۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__9*
کربلا کے بعد شیعہ لوگوں کو کب احساس ہوا کہ وہ لوگ غلط تھے اور کب پچھتاوا ہوا ان کو؟
✍ *الــجــواب*
پچھتاوا تو آج تک نہیں ہوا لیکن ان کی مظلومیت کو بیان کر کے ماتم کرنے کا آغاز انہوں نے واقعہ کربلا کے فوراً بعد ہی کر لیا تھا، البتہ باقاعدہ اور منظم طور پر ماتم کا آغاز 352 ہجری میں ہوا
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__10*
مروان کون تھا شیعہ انکے بارے میں غلط باتیں کرتے ہیں
میں جاننا چاہتی ہوں ہم اہلسنت کا کیا عقیدہ ہے ان حضرات کے بارے میں ؟
✍ *الــجــواب*
مروان بن الحکم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا داماد تھا، نیز یہ صحیح بخاری کے راویوں میں سے ایک ہیں۔ شیعہ نے بنو امیہ سے تعصب میں ان کے خلاف بہت سی باتیں پھیلائی ہیں جو لغویات پر مشتمل ہیں۔
➖➖➖➖➖➖➖➖
✍ *الـسـوال__11*
باجی 12 اماموں کے نام بتا دیں اور کیا امام معصوم ہوتے ہیں شیعہ کہتے ہیں امام معصوم ہیں؟
✍ *الــجــواب*
*12 اماموں کے نام درج ذیل ہیں:*
بارہ اماموں کے اسماء:
1. حضرت علی رضی اللہ عنہ
2. حسن بن علی رضی اللہ عنہ
3. حسین بن علی رضی اللہ عنہ
4. علی زین العابدین بن حسین رحمۃاللہ
5. محمد باقر بن علی زین العابدین رحمۃاللہ
6. جعفر صادق بن محمد رحمۃاللہ
7. موسی کاظم بن جعفر رحمۃاللہ
8. علی رضا بن موسی کاظم رحمۃاللہ
9. محمد تقی بن علی رضا رحمۃاللہ
10. علی نقی بن محمد تقی رحمۃاللہ
11. حسن عسکری بن علی نقی رحمۃاللہ
12. محمد بن حسن مہدی موعود منتظر (شیعی عقیدے کے مطابق اب سے تقریباً ساڑھے گیارہ سو سال پہلے 255 یا 256 ھجری میں محمد بن حسن مہدی پیدا ہو کر 4 یا 5 سال کی عمر میں معجزانہ طور پر غائب ہو گئے اور اب تک زندہ ایک غار میں روپوش ہیں.....ان پر امامت کا سلسلہ ختم ہو گیا.... لیکن یاد رہے کہ آخری امام کے تعلق سے یہ شیعوں کا عقیدہ ہے... تاریخی شہادت اور تحقیقی بات یہ ہے کہ حسن بن علی عسکری کا کوئی بیٹا پیدا ہی نہیں ہوا پھر محمد بن حسن مہدی موعود منتظر کا وجود کہاں سے؟..........................
یہ سب اہلسنت کے بزرگ تھے شیعہ نے ان کی طرف جھوٹ منسوب کر رکھا ہے اور ان کی طرف منسوب سب باتیں جھوٹ ہیں۔ ان کا تعارف 50 روزہ ختمِ نبوت و رد شیعیت کورس میں پڑھاتے ہیں۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖
دارالافتاء دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

میرا ذاتی خیال ہے کہ KPK میں اگلی بار People's Party کو بھی موقع ملنا چاہیے۔ کم از کم سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے...
12/06/2026

میرا ذاتی خیال ہے کہ KPK میں اگلی بار People's Party کو بھی موقع ملنا چاہیے۔ کم از کم سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے کے لیے جو ریلیف اور مراعات دی جا رہی ہیں، وہ قابلِ غور ہیں۔
جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے، یہ صرف ایک جماعت کا مسئلہ نہیں، تقریباً ہر حکومت پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ایک عام ملازم پورا سال اس انتظار میں رہتا ہے کہ بجٹ میں اس کی تنخواہ، پنشن یا الاؤنسز میں کچھ اضافہ ہو اور اسے مہنگائی سے کچھ ریلیف ملے۔
افسوس یہ ہے کہ PTI، PMLN یا دوسری جماعتوں نے بھی غریب اور متوسط طبقے کے مسائل مکمل طور پر حل نہیں کیے۔ عوام کو نعروں سے زیادہ عملی ریلیف چاہیے۔
آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا KPK میں People's Party کو ایک موقع ملنا چاہیے؟

25/04/2026

I got over 150 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

25/04/2026

ہمبستری کے دوران گیس (فلیٹس) خارج ہونا — یہ شرمندگی کی بات نہیں، ایک قدرتی جسمانی کیفیت ہے

“اُس لمحے وہ شرمندہ ہو گئی… چہرہ لال، نظریں نیچی، زبان خاموش — حالانکہ وہ قصوروار نہیں تھی۔”

ہمبستری صرف جسمانی عمل نہیں، یہ جذبات، اعتماد، اور قربت کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ لیکن بعض اوقات جسم ایسی حرکات کرتا ہے جن پر کسی کا اختیار نہیں ہوتا — جیسے جھٹکوں کے دوران فلیٹس (گیس) خارج ہو جانا۔

اکثر عورتیں اس پر شرمندہ ہو جاتی ہیں، ہنسی روک لیتی ہیں، یا خود کو قصوروار سمجھتی ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

یہ ایک عام، فطری اور سائنسی طور پر ثابت شدہ جسمانی ردعمل ہے۔

---

گیس کیوں خارج ہوتی ہے؟

1. پیڑو اور پیٹ کے نچلے حصے پر دباو:
ہمبستری کے دوران مرد کے جسمانی جھٹکوں سے عورت کے پیٹ اور آنتوں پر دباو آتا ہے، جس سے گیس نیچے کی طرف دھکیل کر خارج ہو سکتی ہے۔

2. اندام نہانی میں ہوا بھر جانا (Vaginal Flatulence):
بعض اوقات دخول کے دوران اندام نہانی میں ہوا بھر جاتی ہے، جو بعد میں جھٹکوں کے ساتھ خارج ہوتی ہے۔
یہ "واجی گیس" ہوتی ہے، نہ کہ بدبو دار گیس، اور یہ بالکل نارمل ہے۔

3. نظامِ ہضم کی حساسیت:
اگر پیٹ میں پہلے سے گیس ہو یا ہمبستری سے پہلے بھاری خوراک لی گئی ہو، تو بھی یہ کیفیت پیش آ سکتی ہے۔

---

یہ بیماری نہیں — اور عورت کی غلطی ہرگز نہیں ہے

یہ کوئی شرمناک بات نہیں۔
یہ ویسا ہی فطری ردعمل ہے جیسے ہنسی، چھینک یا جمائی۔
عورت کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں — بلکہ اعتماد اور تحفظ کا احساس ہونا چاہیے۔

---

مرد کا کردار: محبت، فہم اور حفاظت

یہ وہ نازک لمحہ ہوتا ہے جہاں مرد کا رویہ عورت کی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
ایسے میں:

عورت کو شرمندہ نہ کریں

ہنسی یا مذاق سے گریز کریں

پیار، نرمی اور احترام سے بات بدل دیں

اگر عورت خود ہنس دے، تو اس کا ساتھ دیں تاکہ ماحول ہلکا اور خوشگوار رہے

یاد رکھیں، عورت اس لمحے آپ پر اعتماد کر کے خود کو آپ کے حوالے کرتی ہے۔
اسے شرمندہ کرنا نہیں، اعتماد دینا آپ کا اصل امتحان ہے۔

---

کیا کوئی احتیاط ممکن ہے؟

اگر یہ اکثر ہوتا ہو تو ان باتوں کا خیال رکھیں:

ہمبستری سے پہلے بھاری کھانوں یا گیس پیدا کرنے والی اشیاء سے پرہیز کریں

پیٹ صاف رکھیں

پانی کا استعمال بڑھائیں

ذہنی سکون کے ساتھ وقت گزاریں — کیونکہ دباؤ بھی جسمانی نظام کو متاثر کرتا ہے

---

یہ موضوع شرم کا نہیں، شعور کا ہے

آئیں ہم باشعور بنیں، محبت اور احترام کے ساتھ زندگی گزاریں، اور ایک دوسرے کو محفوظ اور باوقار احساس دیں۔

Address

Peshawar
25000

Telephone

+923459246354

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pyar Ka Professor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pyar Ka Professor:

Shortcuts

Share