ANP Social Media Department

ANP Social Media Department ANP Social Media Department

24/06/2026

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی شاہدہ وحید ہوتی کا پختونخوا اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال:

|

24/06/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان خان کا بجٹ اجلاس میں فنانس بارے اظہار خیال:

|

23/06/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب

🟥 باجوڑ میں 2022 میں شروع کیے گئے 64 اسکولوں کے منصوبے چار سال گزرنے کے باوجود فنڈز کی عدم فراہمی سے مکمل نہ ہو سکے۔

🟥 پرائمری، ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں پر مشتمل منصوبوں کو فوری فنڈز جاری کیے جائیں۔

🟥 تعلیم کے شعبے میں جاری منصوبوں کو ترجیح دی جائے، تعلیمی منصوبوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

🟥 نئی اسکیموں کے ساتھ پرانی جاری اسکیموں کی تکمیل بھی یقینی بنائی جائے۔

🟥 محکمہ خزانہ محکموں کو بروقت فنڈز جاری کرے تاکہ منصوبے وقت پر مکمل ہوں۔

🟥 فنڈز کی تاخیر سے فراہمی کی وجہ سے بجٹ لیپس ہوتا ہے، اس عمل کو روکا جائے۔

🟥 جون میں فنڈز جاری کرنے کے بجائے بروقت فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔

🟥 عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ شفاف طریقے سے عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔

🟥 فنڈز کے اجرا میں مبینہ کمیشن کی شکایات کا خاتمہ کیا جائے۔

🟥 64 اسکولوں کی تکمیل باجوڑ کے بچوں کے مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

🟥 64 اسکولوں کے لیے مختص رقم سرنڈر نہ کی جائے اور منصوبے مکمل کیے جائیں۔

| |

22/06/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی و پارلیمانی لیڈر ارباب عثمان خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب

🟥 بجٹ کو سیاسی معاملات سے مشروط کرنے کے بجائے خیبرپختونخوا کے عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے

🟥 خیبرپختونخوا میں بار بار وزیراعلیٰ کی تبدیلیوں سے گورننس کا نظام متاثر ہو رہا ہے، صوبے کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات ضروری ہیں

🟥 سیاست کو پوائنٹ اسکورنگ سے نکال کر عوامی خدمت، ڈیلیوری اور کارکردگی کی طرف لے جانا ہوگا

🟥 عمران خان کی سیاست کی بنیاد خیبرپختونخوا سے رکھی گئی، اب توجہ خیبرپختونخوا کے عوام کی مشکلات پر ہونی چاہیے

🟥 صحت، تعلیم، زراعت، توانائی اور امن و امان خیبرپختونخوا کے اصل مسائل ہیں، ان پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے

🟥 ایم ٹی آئیز نظام کے نفاذ سے پہلے خیبرپختونخوا کے ہسپتالوں میں مرحلہ وار تجربہ کیا جانا چاہیے تھا

🟥 پختونخوا کے بڑے ہسپتالوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، صحت کے بجٹ کے استعمال کا جائزہ لینا ہوگا

🟥 صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے آر ایچ سیز اور بی ایچ یوز کو فعال کرنا ہوگا

🟥 عوام کو بروقت علاج کی فراہمی کے لیے اضلاع کی سطح پر سہولیات بڑھانا ہوں گی

🟥 ادویات کے معیار، نگرانی اور فراہمی کے نظام کو مضبوط کرنا ہوگا

🟥 لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں، صرف ماڈل سکول بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

🟥 تعلیمی نظام میں اساتذہ کی کارکردگی اور معیار بہتر بنانے کے لیے جدید اصلاحات ضروری ہیں

🟥 امتحانی نظام کو رٹے سے نکال کر جدید اور صلاحیت پر مبنی بنانا ہوگا

🟥 پختونخوا میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مطابق تعلیم کو فروغ دینا ہوگا

🟥 پختونخوا کی زراعت کو مضبوط بنانے کے لیے گندم اور دیگر فصلوں کی پیداوار بڑھانا ضروری ہے

🟥 عوام کی بنیادی ضروریات روٹی، روزگار، بجلی اور پانی ہیں، منصوبہ بندی انہی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہیے

🟥 بی آر ٹی سمیت بڑے منصوبوں کے اخراجات، خسارے اور مستقبل کے اثرات کا جائزہ لینا ہوگا

🟥 پختونخوا حکومت کو سرمایہ کاری کے لیے ماحول پیدا کرنا چاہیے، ہر شعبے میں خود کاروبار نہیں کرنا چاہیے

🟥 اٹھارویں ترمیم کے بعد خیبرپختونخوا کے توانائی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا

🟥 خیبرپختونخوا میں مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ عملدرآمد اور گورننس کا ہے

🟥 ضم اضلاع میں خیبرپختونخوا حکومت کو بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینا ہوگی

🟥 پختونخوا میں امن و امان کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور مؤثر پولیس نظام ضروری ہے

🟥 عوام کے تحفظ کے بغیر معاشی اور سماجی ترقی ممکن نہیں

🟥 پختونخوا اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو جمہوری کردار ادا کرنا ہوگا

🟥 پختونخوا کے منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا ضروری ہے

🟥 بجٹ صرف کاغذی اعداد و شمار نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے عوامی مسائل کے حل کا عملی منصوبہ ہونا چاہیے

🟥 بجٹ کی مسلسل نگرانی، جائزہ اور شفافیت ضروری ہے

🟥 ترقیاتی پروگراموں پر مؤثر مانیٹرنگ کے بغیر عوام کو فائدہ نہیں پہنچ سکتا

🟥 اداروں کو جواب دہ بنائے بغیر خیبرپختونخوا میں بہتر گورننس قائم نہیں ہو سکتی

🟥 سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر خیبرپختونخوا کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی ہوگی

| |

21/06/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا بجٹ اجلاس میں خطاب

🟥 عجیب بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص اقتدار میں ہوتا ہے تو اس کا رویہ، اس کا انداز اور اس کی باتیں کچھ اور ہوتی ہیں، لیکن جب اقتدار کی کرسی سے ہٹ جاتا ہے تو اس کے خیالات بدل جاتے ہیں۔

🟥 وفاقی سیاست میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ اقتدار اسٹیبلشمنٹ کے سہارے حاصل کیا جاتا ہے، عوام کے ووٹ ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

🟥 صوبے کا 93 فیصد بجٹ وفاق پر منحصر ہے

🟥 قومی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے، عوامی فلاح کے لیے بہت کم بچتا ہے

🟥 دفاعی اخراجات اور سرکاری تنخواہوں کے بعد ترقیاتی بجٹ آٹے میں نمک کے برابر رہ جاتا ہے

🟥 صوبائی بجٹ میں کوئی نئی سمت یا وژن نظر نہیں آتا، وہی پرانا بجٹ نئے الفاظ میں دہرایا گیا ہے

🟥 524 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کیا گیا، جس میں 150 ارب روپے غیر یقینی بیرونی امداد پر مشتمل ہیں

🟥 صوبے میں تقریباً 2800 ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں، جن کے لیے درکار وسائل دستیاب بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہیں

🟥 متعدد ترقیاتی منصوبوں کے لیے محض چند ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ان کی تکمیل ناممکن بنا دیتے ہیں

🟥 قبائلی اضلاع کا بجٹ کم کر کے 65 ارب سے 55 ارب روپے کر دیا گیا، جو مزید محرومی کا سبب بنے گا

🟥 فاٹا انضمام کے وقت کیے گئے وعدے آج تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے

🟥 قبائلی اضلاع کے نام پر رکھا گیا بجٹ زیادہ تر تنخواہوں اور پنشنز میں خرچ ہو رہا ہے

🟥 آئی ڈی پیز کے نام پر ہر سال اربوں روپے رکھے جاتے ہیں، مگر ان کے استعمال کی کوئی شفاف تفصیل موجود نہیں۔

🟥 باجوڑ میں 46 تعلیمی اداروں کا آغاز ہوا، مگر کئی سال گزرنے کے باوجود وہ مکمل نہیں کیے جا سکے۔

🟥 تحصیل اسپتالوں میں نہ ڈاکٹر موجود ہیں اور نہ دوائیاں، جس کے باعث مریضوں کو پشاور ریفر کیا جا رہا ہے۔

🟥 بلاک ایلوکیشن کی مد میں رکھے گئے 50 ارب روپے شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔

🟥 غیر منتخب افراد کے لیے کروڑوں روپے مختص کیے گئے، جبکہ منتخب نمائندوں کے سوالات حذف کر دیے گئے۔

🟥 جب تک ادارے اور محکمے اس ایوان کو جواب دہ نہیں سمجھیں گے، نظام میں بہتری ممکن نہیں

| |

20/06/2026

پچھلے سال این ایف سی ایوارڈ میں جب صوبے کے حق کی بات آئی تو ہم صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوئے اور وفاق سے اپنے صوبے کے حق کا مطالبہ کیا۔ لیکن جب بطور رکن صوبائی اسمبلی اپنا حق مانگتے ہیں تو یہ سنجیدگی نہیں دکھاتے، دو سال ہوچکے ہیں ہمیں اپنے حلقوں کیلئے ایک روپے کا فنڈ بھی نہیں ملا۔ یہ ہمیں فنڈز دینے سے انکاری ہیں اور غیر منتخب لوگوں کو فنڈز دے رہے ہیں۔

ارباب عثمان خان
ایم پی اے، عوامی نیشنل پارٹی

20/06/2026

یہ لوگ کبھی ایک نام تو کبھی دوسرے نام پر پشاور کو ترقی دینے کا دعوی کرتے آئے ہیں، مگر زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ پشاور کیلئے ان کے سب سے میگا پراجیکٹ بی آر ٹی نے پشاور کو سے سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ ایم ٹی آئی ایکٹ اور صحت کارڈ کے نام پر لوٹ مار کی گئی۔ آج تک ہسپتال مالی طور پر خودمختار نہیں بن پائے۔ ان پیسوں کو کیتھ لیبز کے قیام اور دیگر بنیادی ضروریات پر کیوں نہیں لگایا جاتا؟

ارباب عثمان خان
ایم پی اے، عوامی نیشنل پارٹی

20/06/2026

پختونخوا میں ریونیو پیدا کرنے کے بہت زيادہ مواقع ہیں۔ آئی ایم ایف جہاں بھی جاتی ہے ان کا اپنا مینڈیٹ ہوتا ہے اور وہ کسی ملک کی معاشی حالت کو درست نہیں کرسکتی۔ آئی ایم ایف اگر سرپلس بجٹ مانگتی ہے تو اس میں فائدہ نہیں صرف نقصان ہے۔ بدقسمتی سے یہاں ٹیکس نیٹ میں زيادہ لوگ لانے کی بجائے چند طبقوں پر بہت زيادہ ٹیکس لگایا جاتا ہے جو کہ کسی بھی طور صحیح حکمت عملی نہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا ہے، پچھلے 13 سالوں میں صوبے کے حکمران گرڈ سسٹم کیوں نہیں بنا پائے۔ جہاں بنیادی سہولیات ہی میسر نہ ہو، وہاں آپ یہ تصور نہیں کرسکتے کہ کاروبار یا ریونیو بڑھے گا۔

ارباب عثمان خان
ایم پی اے، عوامی نیشنل پارٹی

20/06/2026

پچھلے سال بھی یہی ڈرامہ ہوا تھا اور کہا جارہا تھا کہ جب تک عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی بجٹ پیش نہیں کرینگے۔ اس دفعہ بھی یہی کہا گیا۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ محض ڈرامہ ہے، بجٹ ہر صورت یہ پیش کرینگے۔ یہ لوگ ہر وقت وفاقی حکومت سے فنڈز نہ ملنے کا رونا روتے ہیں، مگر ان کو جو وفاق سے ملا ہے، مگر یہ لوگ اس کا حساب کتاب دینے سے کترا رہے ہیں۔ فنانس کمیٹی میں ہم نے ان سے مختلف محکموں کے فنڈز کے بارے میں پوچھا مگر 6 مہینوں میں حکومت ہمیں اس کا جواب نہ دے سکی۔ جو کہ اس ہمارا استحقاق اور اسمبلی کا تقدس ہے۔ صوبے میں گورننس کا نام و نشان تک نہیں۔ یہ لوگ بالکل بھی سنجیدہ نہیں۔

ارباب عثمان خان
ایم پی اے، عوامی نیشنل پارٹی

19/06/2026

🟥 پختونخوا دو دہائیوں سے بدامنی، تباہ حال انفراسٹرکچر اور شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔

🟥 صوبے کے 68 فیصد نوجوانوں کے لیے کوئی واضح پالیسی موجود نہیں، جس سے مستقبل مکمل طور پر غیر یقینی ہے

🟥 وفاق کی جانب سے قبائلی اضلاع کے ساتھ مسلسل ناانصافی اور وعدہ خلافی کا سلسلہ جاری ہے

🟥 قبائلی اضلاع کے لیے 157 ارب روپے خرچ کرنے کے دعوے کیے گئے، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں

🟥 2018 کے معاہدے کے مطابق 800 ارب روپے خرچ ہونے تھے، مگر یہ وعدہ بھی آج تک پورا نہیں ہو سکا

🟥 بدامنی کے باعث ترقی کا عمل مکمل طور پر جمود کا شکار ہے اور ریاست و عوام کے درمیان فاصلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے

🟥 2025-26 کے بجٹ میں صرف 47 فیصد استعمال جبکہ 31 فیصد بجٹ لیپس ہونا حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے

🟥 صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی، منصوبہ بندی کا فقدان اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی کمی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں

🟥 130 ارب روپے کے ضمنی بجٹ پر ایوان کو اعتماد میں نہ لینا آئینی اور جمہوری سوالات کو جنم دیتا ہے۔

🟥 آئی ڈی پیز اور سیلاب متاثرین کے لیے 18 ارب اور 13 ارب روپے کے دعوے کیے گئے، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ رقوم کہاں خرچ ہوئیں۔

🟥 تمام فنڈز اور پیکجز کی مکمل اور شفاف تفصیل عوام کے سامنے لائی جائے

نثار باز خان
رکن صوبائی اسمبلی، عوامی نیشنل پارٹی

| |

Address

Bacha Khan Markaz
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ANP Social Media Department posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ANP Social Media Department:

Share