ANP Social Media Department

ANP Social Media Department ANP Social Media Department

21/07/2026

پختونخوا میں تو پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے، پولیس بھی ان کی اور انتظامیہ بھی۔ پھر یہاں جلوس کس کے خلاف؟ اگر احتجاج کرنا ہے تو اُن صوبوں میں کریں جہاں ان کی حکومت نہیں۔

سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان
مرکزی سیکرٹری مالیات، عوامی نیشنل پارٹی

|

21/07/2026

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار ایک مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں۔ گزشتہ رات 35 پیسے کی کمی کو خوشخبری بنا کر پیش کیا گیا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہر شعبے پر پڑتا ہے۔ عوام مہنگائی اور بیروزگاری سے پہلے ہی پریشان ہیں، حکومت کو موثر ریلیف کیلئے اقدامات کرنے چاہیئے۔

سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان
مرکزی سیکرٹری مالیات عوامی نیشنل پارٹی

|

21/07/2026

خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال، پشاور میں نکاسی آب کی ابتر صورتحال اور صوبائی حکومت کی غفلت، اے این پی کے مرکزی سیکرٹری مالیات سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان کی خصوصی گفتگو:

|

20/07/2026

🟥 پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں، موبائل نیٹ ورک کام نہیں کر رہا، جس کے باعث لوگ اپنے پیاروں سے رابطہ نہیں کر پا رہے

🟥 باجوڑ میں آئے روز ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے بیرونِ ملک مقیم افراد اپنے اہلِ خانہ کی سلامتی کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا رہتے ہیں

🟥 باجوڑ سے وزیرستان تک دہشت گردوں کا راج ہے، جبکہ حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آتی

🟥 پختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ بدامنی ہے۔ جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا جاتا، ترقی کی بات کرنا بے معنی ہے۔ امن ہی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے۔

🟥 ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع میں ٹیکس کے نفاذ کے خلاف دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی جرگہ بلایا تھا اور اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔

🟥 صوبائی حکومت نے اپنا سیلز ٹیکس ختم کر دیا ہے، اب وفاق کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیکس کے معاملے پر وزیراعلیٰ کو عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔

🟥 وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع کے عوام کے مسائل وفاق کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائیں اور اس ٹیکس کے فیصلے کو واپس لینے کے لیے اقدامات کریں۔

🟥 اس سلسلے میں کل ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع کی تاجر برادری نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا ہے، اور ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

🟥 ہم اپنی یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وفاقی حکومت ٹیکس کے نفاذ کا یہ فیصلہ واپس نہیں لیتی۔

🟥 پچیسویں آئینی ترمیم کے وقت ضم شدہ اضلاع کے عوام سے جو وعدے کیے گئے تھے، وہ آج تک پورے نہیں کیے گئے۔

🟥 صوبائی حکومت کو چاہیے کہ صوبائی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل مرتب کرے، تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے اور وفاق کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے۔

🟥 پختونخوا بھی اس وفاق کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیاسی کشمکش کا خمیازہ پختونخوا کے پانچ کروڑ عوام بھگت رہے ہیں۔

🟥 ایک طرف بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری جاری ہے، جن پر وفاق لاتعلقی کا مظاہرہ کرتا ہے، لیکن جب ٹیکس عائد کرنے کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

🟥 جب اس بارے میں سوال کیا جاتا ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کی شرط تھی۔

🟥 ایک طرف ہم خودمختار ریاست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہمارا بجٹ، معیشت اور معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف کے زیرِ اثر ہیں۔

🟥 ایک طرف ہم ایران اور امریکہ کے درمیان خیرسگالی اور ثالثی کے دعوے کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اپنے ہی ملک میں پختونخوا اور بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے بدامنی کا شکار ہیں۔

🟥 جب اپنے ہی گھر میں آگ لگی ہو تو بیرونی دنیا میں سفارت کاری مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔

🟥 یہاں معیشت، سیکیورٹی، سیاسی استحکام، ریاستی رٹ اور آئین پر عمل درآمد جیسے بنیادی مسائل موجود ہیں، مگر دنیا کے سامنے محض ایک خوشنما تاثر پیش کیا جا رہا ہے کہ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کرا کے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔

🟥 آپ باجوڑ سے وزیرستان تک بھی وہی امن قائم کریں جو لاہور میں موجود ہے۔ ہم بھی اپنے علاقوں میں وہی امن چاہتے ہیں۔

🟥 اگر ایک ہی وفاق اور ایک ہی سیکیورٹی فورسز لاہور میں امن قائم کر سکتی ہیں تو باجوڑ میں کیوں نہیں؟

🟥 دو دہائیوں سے پختونخوا بدامنی کا شکار ہے، لیکن قومی میڈیا بھی اس مسئلے کو توجہ نہیں دیتا

🟥 جو لوگ بدامنی اور دوسروں کی جنگوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، ان کے خلاف ایف آئی آرز درج کی جاتی ہیں، ان کے نام ای سی ایل اور شیڈول فور میں شامل کیے جاتے ہیں

🟥 بندوق کے زور پر ملک نہیں چل سکتا۔ یہ ملک صرف آئین و قانون کی بالادستی اور اس پر عمل درآمد سے ہی چل سکتا ہے

🟥 یہاں اسٹیبلشمنٹ آئین کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتی، اور یہی رویہ ملک میں نئے مسائل اور بحرانوں کو جنم دیتا ہے

🟥 صوبائی حکومت کو چاہیے کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے اور اس معاملے سے لاتعلقی اختیار نہ کرے، کیونکہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد امن و امان صوبائی ذمہ داری ہے

🟥 پولیس فورس میں پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ کیا جانا چاہیے

نثار باز خان
رکن صوبائی اسمبلی، عوامی نیشنل پارٹی

| |

20/07/2026

ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ بار بار پختونخوا کو قربانی کا بکرہ کیوں بنایا جاتا ہے

یہاں تیل، گیس اور بے شمار معدنی وسائل موجود ہیں، لیکن یہاں کے عوام کو ان سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا

ضم شدہ اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس کے نفاذ کو ہم مسترد کرتے ہیں، اور اس کے خلاف ہم نے جرگہ بھی بلایا تھا

وہاں اتنے وسائل موجود ہیں کہ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بھی دوگنا ریونیو ان وسائل سے حاصل کیا جا سکتا ہے

ڈیفنس کنسلٹنسی گروپ اور آربن گروپ کو دیے گئے دو ارب ڈالر کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں

یہاں امن و امان کا قیام اور نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے

ارباب عثمان خان
رکن صوبائی اسمبلی، عوامی نیشنل پارٹی

| |

20/07/2026

ضلع پشاور سے اساتذہ کے دیگر اضلاع میں تبادلوں اور ان کی جگہ دوسرے اضلاع کے اساتذہ کو پشاور کے من پسند سکولوں میں تعینات کیے جانے کے معاملے پر عوامی نیشنل پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی ارباب محمد عثمان نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کردیا

جب دیگر اضلاع میں خالی آسامیاں موجود ہیں تو انہیں پُر کرنے کی بجائے پشاور میں سفارشی پوسٹنگز مقامی اساتذہ کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم اپنی ٹرانسفر پالیسی واضح کرے اور اس غیر منصفانہ عمل پر فوری نظرِ ثانی کرے

| |

18/07/2026

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین کا مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف جدوجہد بارے خصوصی گفتگو/ صوبائی حکومت کی جانب سے ٹیکسز نفاذ کا فیصلہ واپس لینے کا خیر مقدم، وفاق سے بھی جلد فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کی جانب سے مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں ٹیکس نفاذ کے خلاف ہم نے مشترکہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اس سلسلے میں مالاکنڈ ڈویژن میں ایک عظیم الشان گرینڈ جرگہ منعقد کیا

تمام سیاسی جماعتوں، چیمبرز آف کامرس، تاجروں، کاروباری طبقے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے مشکور ہیں کہ انہوں نے اس جرگے میں شرکت کی

اس جرگے میں سب نے اپنا اپنا مؤقف پیش کیا اور باہمی مشاورت سے سولہ نکاتی اعلامیہ منظور کیا گیا

اعلامیے کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں ٹیکس نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور اگر صوبائی اور وفاقی حکومت فیصلہ واپس نہیں لیتی تو اس کے خلاف بھر پور جدوجہد کی جائے گی

اس عوامی دباؤ اور مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں صوبائی حکومت نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے تمام سیاسی جماعتوں اور مختلف مکاتبِ فکر پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ طلب کیا۔ جرگے میں تفصیلی گفتگو ہوئی، ہم نے اپنے مؤقف اور مطالبات پیش کیے، جس کے بعد حکومت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اس ٹیکس کو واپس لینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، اور یوں صوبائی حکومت نے اپنا ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس لیا

ہم عوامی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ جمہوریت کی اصل طاقت عوام ہیں۔ جب لوگ اپنے حقوق کے لیے متحد ہو کر میدان میں آتے ہیں تو ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس لینے کا خیر مقدم کرتے ہیں

ہم وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھی خیبر پختونخوا حکومت کی طرح عوامی جذبات، زمینی حقائق اور عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس لے

یہ کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی مخصوص حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا معاملہ ہے۔ ہم ٹیکس کے خلاف نہیں، لیکن ٹیکس اسی وقت لیا جانا چاہیے جب حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے، ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے

بدقسمتی سے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ یہاں کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، کارخانے بند پڑے ہیں، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی راستے تقریباً مفلوج ہیں۔ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، گیس کی قلت اور دیگر بنیادی مسائل نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ معاشی اعتبار سے ہمارا صوبہ شدید بحران کا شکار ہے، غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کا جینا مشکل ہو چکا ہے

اس سے بھی بڑا مسئلہ امن و امان کی خراب صورتحال ہے۔ دہشت گردی نے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ پولیس اور سیکیورٹی ادارے بھی شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے عوام کی حکمرانی نہیں بلکہ خوف کی فضا قائم ہے

ایسے حالات میں ٹیکس عائد کرنا عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ پہلے امن بحال کیا جائے، کاروبار بحال کیے جائیں، لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں، پھر ٹیکس کی بات کی جائے

مالاکنڈ ڈویژن کی ایک آئینی اور تاریخی حیثیت ہے۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کے وقت جو معاہدے اور یقین دہانیاں دی گئی تھیں، ان کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مالاکنڈ کے عوام کو مزید مشکلات میں دھکیلنے کے بجائے انہیں سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ہم مالاکنڈ ڈویژن میں کسی بھی صورت ٹیکس نفاذ کا فیصلہ قبول نہیں کرینگے

ضم اضلاع کے عوام کے ساتھ بھی مسلسل ناانصافی ہو رہی ہے۔ انضمام کے وقت وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں این ایف سی ایوارڈ میں تین فیصد حصہ دیا جائے گا، ہر سال سو ارب روپے فنڈز دیے جائیں گے، سڑکوں، ہسپتالوں، سکولوں، پولیس، ریونیو اور دیگر تمام نظام کو صوبے کے دیگر علاقوں کے برابر لایا جائے گا، مگر افسوس کہ ان وعدوں میں سے کوئی بھی پورا نہیں کیا گیا

ضم اضلاع کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ دہشت گردی کے باعث لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، کاروبار تباہ ہوئے۔ حکومت نے نہ وعدے پورے کیے، نہ ترقیاتی وسائل دیے اور اب ان پر مزید ٹیکس بھی عائد کیا جا رہا ہے، جو سراسر ظلم ہے۔

ضم اضلاع پر کسی بھی صورت ٹیکس نافذ نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں خصوصی مراعات دی جائیں تاکہ وہ باقی صوبے کے برابر ترقی کر سکیں

خیبر پختونخوا آج غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے۔ یہاں ہر روز لوگ جان و مال کے عدم تحفظ کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈالنا کسی بھی لحاظ سے انصاف نہیں
ہم صوبائی حکومت کے فیصلے کو سراہتے ہیں اب وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی فوری طور پر ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس لے اور ان علاقوں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان کرے تاکہ عوام کی زندگی آسان بن سکے

سیاسی جماعتوں، تاجروں، صنعت کاروں، کاروباری برادری اور تمام مکاتبِ فکرکے ساتھیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے عوامی نیشنل پارٹی کے گرینڈ جرگے میں شرکت کی اور اسے کامیاب بنایا

مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں آج مثبت فیصلے سامنے آ رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وفاقی حکومت بھی جلد عوام کے مفاد میں فیصلہ کرے گی

| |

18/07/2026

ضم اضلاع کے ساتھ انضمام کے وقت دس سال کیلئے سالانہ 100 ارب کا وعدہ ہوا تھا۔ کیا آج تک اس وعدے کی تکمیل ہوئی؟ وفاق ان کو اپنا آئینی حق نہیں دے رہا مگر ٹیکسز لگا رہا ہے۔ ہماری خواہش تھی کہ انضمام ہو تاکہ وہ ترقی کرسکیں، مگر ان اضلاع کی حالت بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑ گئی ہے۔ صوبائی خودمختاری کے تحفظ اور حقوق کے حصول کیلئے صوبائی حکومت کا ساتھ دینگے۔

میاں افتخار حسین
صدر اے این پی خیبر پختونخوا
| |

18/07/2026

پشاور: عوامی نیشنل پارٹی میٹروپولیٹن پشاور کے صدر ارباب راشد ثمین کا این سی 128 سفید ڈھیری میں شہید مولانا خانزیب کی یاد میں تعزیتی ریفرنس اور تنظیمی اجلاس سے خطاب:
| |

18/07/2026

صوبائی حکومت وفاق کے پاس معذرت خواہانہ یا بھیک مانگنے کے انداز میں نہ جائیں بلکہ مضبوط مؤقف کے ساتھ جائیں۔ اگر آئی ایم ایف کے دباؤ کی وجہ سے فیصلے کیے جا سکتے ہیں تو عوام کے حق میں بھی فیصلے کیے جائیں۔ اگر وفاق نے صوبے کو حق دینے سے انکار کیا اور صوبائی خودمختاری پر ضرب لگانے کی کوشش کی تو حالات مزید خراب ہوں گے۔

میاں افتخار حسین
صدر اے این پی خیبر پختونخوا
| |

Address

Bacha Khan Markaz
Peshawar
25000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ANP Social Media Department posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ANP Social Media Department:

Shortcuts

Share