Bara Citizen Journalists-BCJ

Bara Citizen Journalists-BCJ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Bara Citizen Journalists-BCJ, Media/News Company, BARA BAZAR, Peshawar.

Citizen Journalists Bara is a dedicated network of community-based journalists from Bara, committed to bringing authentic and impactful stories from the heart of our region.

03/11/2025
03/11/2025

ہمارا مقصد روایتی صحافت کا خاتمہ کرنا ہے اور سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے

پریس ریلیز بارہ میں شہری صحافیوں کا تیسرا اجلاس منعقدبارہ، نومبر 2025:باڑہ (سی جے بی ) باڑہ بازار کے ایک مقامی کیفے میں ...
02/11/2025

پریس ریلیز

بارہ میں شہری صحافیوں کا تیسرا اجلاس منعقد

بارہ، نومبر 2025:

باڑہ (سی جے بی ) باڑہ بازار کے ایک مقامی کیفے میں سٹیزن جرنلسٹ باڑہ کے صحافیوں کا **تیسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقے میں صحافتی خدمات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے حوالے سے تجاویز اور در پیش مشکلات پر بحث کی گئی۔

اجلاس کی صدارت اصغر خان، صدر سٹیزن جرنلسٹس باڑہ نے کی۔ شرکاء میں جی ایس محمد یونس، صدیق خان، خلیل خان، فنانس سیکرٹری شاہین شاہ، ڈاکٹر گل مند،اور ساقی آفریدی شامل تھے۔

اجلاس میں صحافتی پیشہ ورانہ معیار، ہم آہنگی، اور اخلاقی رپورٹنگ کو فروغ دینے کے لیے تنظیمی ڈھانچے، ضابطہ اخلاق، اور ایس او پیز (SOPs) پر مشاورت کی گئی۔

مزید یہ کہ **صحافتی تحفظ، سکیورٹی، اسٹیک ہولڈر انگیجمنٹ، اور صلاحیت بڑھانے کے موضوعات پر تربیتی ورکشاپس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔

شرکاء نے عہد کیا کہ وہ اخلاقی صحافت، مثبت مکالمے، اور علاقائی مسائل پر بامعنی رپورٹنگ کے ذریعے عوامی شعور بیدار کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

اجلاس کے اختتام پر **نئے دفتر کے قیام، رکنیت سازی، سروس کارڈز، اور تحفظ و تربیتی نشستوں کے آغاز کے منصوبے پیش کیے گئے۔

دانشورانہ تنہائی: خیبرپختونخوا میں حساسیت کا بوجھمحمد یونس کیا واقعی خیبرپختونخوا (کے پی) میں ذہین اور حساس لوگ تنہائی ا...
03/08/2025

دانشورانہ تنہائی: خیبرپختونخوا میں حساسیت کا بوجھ

محمد یونس

کیا واقعی خیبرپختونخوا (کے پی) میں ذہین اور حساس لوگ تنہائی اور غم کی زندگی گزار رہے ہیں؟ یہ سوال کسی ایک فرد کی جذباتی کیفیت کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ ایک اجتماعی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جو اس خطے میں گہرائی سے محسوس کی جاتی ہے۔ یہاں ہمیں نوجوانوں، صحافیوں، ادیبوں اور سماجی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ملتی ہے جو گہری سوچ، تنقیدی نقطہ نظر اور حقیقت کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ، یہی صلاحیتیں اکثر ایک بھاری بوجھ بن جاتی ہیں۔
اس خطے کا معاشرہ اکثر ان افراد کے خیالات اور احساسات کی گہرائی کو سمجھنے یا برداشت کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسی خاموش تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے جو نہ تو مکمل طور پر ذاتی ہوتی ہے اور نہ ہی محض ذہنی۔ یہ ایک اجتماعی، تاریخی اور ثقافتی تنہائی ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔
کے پی اور سابقہ قبائلی اضلاع کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جہاں ذہین افراد کو صرف ان کے سوچنے کے انداز کی وجہ سے معاشرے سے الگ کر دیا گیا یا انہیں موجودہ نظام سے کاٹ دیا گیا۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جاری عسکریت پسندی اور انتہا پسندی نے پشتون معاشرے کے سماجی تانے بانے کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے روایتی ادارے اور اقدار کمزور ہو گئے ہیں۔ نتیجتاً، یہ خطہ ان لوگوں کے لیے اور بھی زیادہ محدود ہو گیا ہے جو دانشورانہ لچک یا تنقیدی سوچ رکھتے ہیں۔

دانشورانہ تنہائی: ایک نفسیاتی یا سماجی المیہ؟

یہ حساس اور ذہین افراد اکثر یا تو معاشرے سے مکمل طور پر کنارہ کش ہو جاتے ہیں یا اپنی دانشورانہ برتری کو انا کی دیوار کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات اسے "دانشورانہ خود غرضی" کہہ سکتے ہیں—ایک ایسی ذہنی کیفیت جہاں ایک شخص اپنی ذہانت اور تجزیاتی صلاحیتوں کو اس قدر اہمیت دیتا ہے کہ وہ خود کو دوسروں سے دور کر لیتا ہے۔ تاہم، خیبرپختونخوا جیسے خطے میں، جہاں دانشورانہ فضا اور رواداری کی ثقافت پہلے ہی کمزور ہے، یہ دوری سماجی تعلقات کے مکمل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ دانشورانہ تنہائی اکثر ان افراد کو شدید نفسیاتی دباؤ، مایوسی اور خود کو بے قدر سمجھنے کے احساس کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ جرنل آف دی پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، "سماجی تنہائی اور اکیلا پن" دماغی صحت کے لیے خطرے کے اہم عوامل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 182 ملین کی آبادی کے لیے صرف 342 ماہرِ نفسیات دستیاب ہیں، جو کہ وسائل کی شدید کمی کو ظاہر کرتا ہے، اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں رسائی اور شعور کی کمی کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ان کی بات نہیں سن رہا اور نہ ہی ان کے درد کو سمجھ رہا ہے۔ نتیجتاً، وہ یا تو معاشرے سے مکمل طور پر الگ ہو جاتے ہیں یا تلخی سے ردعمل دیتے ہیں۔ کچھ لکھنا شروع کر دیتے ہیں، کچھ خاموش ہو جاتے ہیں اور کچھ ہمیشہ کے لیے ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

حساسیت یا خود غرضی؟ ایک نازک فرق

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہر ذہین شخص جو تنہائی محسوس کرتا ہے، وہ خود غرض نہیں ہوتا۔ اکثر یہ تنہائی گہری حساسیت، سچ کی تلاش اور سماجی بے حسی کے خلاف ایک خاموش احتجاج کی شکل ہوتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں درجنوں نوجوانوں، ادیبوں اور دانشوروں نے معاشرے کی نبض کو محسوس کیا ہے، گمنامی میں لکھا ہے اور خاموشی سے تبدیلی لانے کی کوشش کی ہے۔
لیکن یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ان کی کوششوں کو سننے اور سمجھنے کے لیے جگہ فراہم کی جائے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں ان افراد کو مکالمے اور ذہنی صحت کے معاونت تک رسائی حاصل ہو، تاکہ وہ خود کو تنہا محسوس نہ کریں۔ دانشوروں اور حساس لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا اجتماعی دانشمندی اور بصیرت کا نقصان ہے۔ یہ نقصان خاص طور پر خیبرپختونخوا جیسے معاشروں کے لیے بہت گہرا ہے جو تاریخی واقعات سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ فریڈم نیٹ ورک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں کے پی صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک صوبہ تھا، جہاں دھمکیوں اور ہراساں کرنے کے 22 دستاویزی کیسز تھے۔ اس خطے میں اردو صحافت پر ایک تحقیق "آزادیٔ اظہار، ڈی-ملٹرائزیشن اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال" کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے تاکہ ان آوازوں کو مؤثر طریقے سے سنا جا سکے۔
تو، کیا ذہین لوگ تنہا اور ناخوش زندگی گزارتے ہیں؟ جواب ہے، ہاں، وہ ایسا کرتے ہیں۔ خاص طور پر جہاں ان کے خیالات کو جگہ نہ دی جائے، ان کی آوازوں کو اہمیت نہ دی جائے اور جہاں معاشرہ ان کی گہرائی سے خوفزدہ ہو۔ یہ افراد محض لوگ نہیں ہیں؛ یہ آئینے ہیں جن میں ہم اپنی اجتماعی حالت دیکھ سکتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم میں دیکھنے کی ہمت ہو۔

Muhammad Younas
Bara Citizen Journalists-BCJ

باڑہ سیاسی اتحاد کا ہنگامی گرینڈ جرگہ: وادی تیراہ کے عوام کی پکارباڑہ، خیبر پختونخوا – آج (6 جولائی 2025) باڑہ میں عبدال...
06/07/2025

باڑہ سیاسی اتحاد کا ہنگامی گرینڈ جرگہ: وادی تیراہ کے عوام کی پکار

باڑہ، خیبر پختونخوا – آج (6 جولائی 2025) باڑہ میں عبدالبادشاہ کے حجرے میں باڑہ سیاسی اتحاد کے زیرِ اہتمام ایک انتہائی اہم گرینڈ جرگہ منعقد ہوا۔ اس جرگے میں وادی تیراہ کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے مشران، نوجوان، علمائے کرام اور سماجی نمائندے شریک ہوئے تاکہ وادی میں ممکنہ فوجی آپریشن اور جبری نقل مکانی کے خلاف اپنی آواز بلند کر سکیں۔
جرگے کے شرکاء نے متفقہ طور پر واضح پیغام دیا:
فوجی آپریشن ہرگز نامنظور: ہم اپنے علاقے میں کسی بھی فوجی کارروائی کو مسترد کرتے ہیں۔
جبری نقل مکانی ناقابلِ قبول: وادی تیراہ کے مکینوں کو دوبارہ بے گھر کرنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہم امن کے قیام کے لیے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر ایک بزرگ نے رندھی ہوئی آواز میں کہا، "تیراہ کے لوگ دو بار اپنے گھر چھوڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہم نے پچھلی دو دہائیوں میں شاید پورے پاکستان سے زیادہ دکھ جھیلے ہیں۔ اب مزید عسکریت پسندی یا فوجی آپریشنز ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔" ان کے الفاظ نے جرگے میں موجود ہر شخص کے جذبات کی عکاسی کی۔
امن کے اس مشترکہ پیغام اور قومی وحدت کو دنیا تک پہنچانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ جمعہ کو باڑہ مینار چوک میں تمام اقوام مل کر مشترکہ نمازِ جمعہ ادا کریں گی۔ یہ صرف ایک نماز نہیں، یہ ہمارے اتحاد اور امن کی خواہش کا مظہر ہو گی۔
باڑہ سیاسی اتحاد کے نمائندے نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا، "یہ صرف ایک جرگہ نہیں، یہ ہماری پوری قوم کی اجتماعی آواز ہے۔ آئیے! ظلم، جنگ اور جبر کے خلاف ایک ہو کر کھڑے ہوں۔"
وادی تیراہ، جو کہ ضلع خیبر کا ایک اہم حصہ ہے، سیکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے ہمیشہ مشکلات کا شکار رہی ہے۔ حالیہ فوجی آپریشن کے خدشات نے یہاں کے باسیوں کو مزید بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے بعد مقامی قیادت نے پرامن حل کی تلاش میں یہ قدم اٹھایا ہے۔

Muhammad Younas
Bara Citizen Journalists-BCJ

https://www.linkedin.com/posts/younasafridi_trauma-journalism-conflictzone-activity-7345754983125979136-p2_6?utm_source=...
01/07/2025

https://www.linkedin.com/posts/younasafridi_trauma-journalism-conflictzone-activity-7345754983125979136-p2_6?utm_source=share&utm_medium=member_android&rcm=ACoAAARRDpMBhjNSeHLLnj2xu4HZ6G34GZyQ9kI

The Unseen Scars: When Journalism Bleeds in Silence In Pakistan's rugged Khyber Pakhtunkhwa province, journalists do more than just report; they embody the untold grief of communities, their souls silently bearing the unseen wounds of conflict. I met Shah Khalid in Bajaur, his hands trembling—...

باڑہ: تیراہ میں ممکنہ آپریشن اور نقل مکانی کسی صورت قبول نہیں، قومی سیمینار میں متفقہ اعلامیہ جاریباڑہ سیاسی اتحاد کے زی...
15/06/2025

باڑہ: تیراہ میں ممکنہ آپریشن اور نقل مکانی کسی صورت قبول نہیں، قومی سیمینار میں متفقہ اعلامیہ جاری

باڑہ سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام باڑہ پریس کلب میں منعقدہ قومی سیمینار میں فیصلہ کیا گیا کہ تیراہ میں کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی، جبری نقل مکانی اور گھروں کی بے دخلی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ سیمینار کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ریاست امن کی بحالی کو یقینی بنائے، اور اگر یہ ذمہ داری پوری نہ کی گئی تو علاقے میں "سوشل بائیکاٹ" جیسے آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

سیمینار کے اعلامیہ میں اعلان کیا گیا کہ چند دنوں کے اندر اندر خیبر کے کسی اہم مقام پر امن کے حق میں ایک بڑی عوامی ریلی یا جلسے کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں کم از کم پچاس ہزار افراد کی شرکت کو یقینی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اجلاس میں مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور قبائلی تنظیموں کے نمائندوں سمیت مقامی عمائدین اور طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کو غیر یقینی صورتحال، بدامنی اور زبردستی کی نقل مکانی جیسے حالات کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

سیمینار کے اختتام پر باڑہ سیاسی اتحاد کے مرکزی صدر نے کہا کہ آفریدی اقوام کے تمام قبیلوں اور تاجر تنظیموں سے تین، تین نمائندے لے کر ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو آئندہ کے لائحہ عمل میں باڑہ سیاسی اتحاد کے ساتھ مشاورت کرے گی۔

مزید برآں، فیصلہ کیا گیا کہ تیراہ کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے جلد پشاور اور اسلام آباد پریس کلبز میں پریس کانفرنسز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر کا کہنا تھا کہ اگر حکومت باڑہ یا تیراہ کے مسئلے پر کوئی جرگہ تشکیل دینا چاہتی ہے تو مقامی سطح پر سیاسی، سماجی اور قبائلی نمائندوں کے ذریعے متفقہ اور دیرپا حل نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی سیمینار میں منتخب عوامی نمائندوں کو باقاعدہ دعوت دی گئی تھی، تاہم وہ شریک نہ ہو سکے۔
Muhammad Younas
Bara Citizen Journalists-BCJ Bara Press Club

پشتون بیلٹ سے مؤثر اور بااثر خبریں کیوں سامنے نہیں آتیں؟آج جب معلومات کی ترسیل بے حد تیز ہو چکی ہے، مصنوعی ذہانت (AI) جی...
03/06/2025

پشتون بیلٹ سے مؤثر اور بااثر خبریں کیوں سامنے نہیں آتیں؟

آج جب معلومات کی ترسیل بے حد تیز ہو چکی ہے، مصنوعی ذہانت (AI) جیسے جدید ترین ٹولز دستیاب ہیں، اور کئی صحافی مضبوط علمی پس منظر رکھتے ہیں — پھر بھی پشتون خطے کی اصل کہانیاں میڈیا کی روشنی سے محروم کیوں ہیں؟

🔹 میڈیا لٹریسی کی کمی:
عام لوگوں کو یہ شعور ہی حاصل نہیں کہ سچ کو کس طرح محفوظ طریقے سے دنیا کے سامنے لایا جائے۔
🔹 ٹیکنالوجی کی غیر مساوی تقسیم:
جدید ٹولز کا فائدہ صرف شہروں تک محدود ہے، دیہی اور متاثرہ علاقوں کو وہ رسائی حاصل نہیں۔
🔹 تعلیم یافتہ صحافی، مگر وسائل سے محروم: مضبوط تعلیمی پس منظر رکھنے کے باوجود مقامی صحافیوں کو ادارہ جاتی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔
🔹 مرکزی میڈیا کی بے رخی:
قومی سطح پر صرف مخصوص علاقوں اور بیانیوں کو کوریج دی جاتی ہے، باقی خطے نظرانداز ہو جاتے ہیں۔
🔹 خوف، دباؤ اور سنسرشپ:
کئی صحافی اور شہری خوف، دھمکیوں اور سیکیورٹی خطرات کے باعث لب کشائی نہیں کر پاتے۔

📢 وقت آ گیا ہے کہ ہم مقامی صحافت کو مضبوط کریں، کمیونٹی میڈیا کو فروغ دیں، اور ان آوازوں کو جگہ دیں جنہیں برسوں سے دبایا جا رہا ہے۔



Muhammad Younas
Bara Citizen Journalists-BCJ

Address

BARA BAZAR
Peshawar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bara Citizen Journalists-BCJ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share