01/06/2026
کراچی
لیڈی پولیس افسر کا بیان اور ہمارا قانون
یہ وہ ملزم ہے جس نے 22 لڑکیوں کا ریپ کیا ہوا ہے، عدالت کے حکم سے 10 دن سے میں نے اس کو ریمانڈ پہ لیا ہوا ہے، ٹھیک ہے؟ اور یہ جو ہے، یہاں پر ڈی ایس پی صاحب ظفر اقبال صاحب، ایس ایچ او نیپیئر، ہیڈ محرّر نیپیئر، اور جو ڈیوٹی افسر نیپیئر ہیں، ان کے ساتھ، ان کے جو ملازمین ہیں، سپاہی ہیں، جو ڈرائیور ہیں وہ اس کو پیسے لے کے نشہ بھی دیتے ہیں، اسپیشل پروٹوکول دے رہے ہیں اس کو۔
10 دن ہو گئے ہیں مجھے ریمانڈ لیے ہوئے، مجھے ایک دن بھی اس کی تفتیش نہیں کرنے دی، انٹیروگیشن نہیں کرنے دی، بار بار ڈی ایس پی صاحب لاک اپ میں جا کر اس کی ننگا کر کے اس کو ویڈیو بناتے ہیں، اس کی بار بار غلط انٹری کرتے ہیں کہ اس کو چوٹیں لگی ہیں، یہ بیمار ہے، یہ آپ کے سامنے دیکھیں صحیح سلامت کھڑا ہوا ہے۔ بار بار کہتے ہیں اس کی ٹانگیں ٹوٹ گئی ہیں، سپاہیوں کو کہتے ہیں، پولیس والوں کو کہتے ہیں 'یار آپ اس عورت سے ڈرتے کیوں ہو؟ اس کو لٹاؤ، اس کو ننگا کرو اور اس کا ریپ کرو اور کچھ نہیں ہوتا، جس عورت کو ننگا کرو، اس کو مارو، کچھ نہیں ہوتا'۔
تو میری ایڈیشنل آئی جی صاحب، آئی جی صاحب اور تمام میڈیا پرسن، تمام سیاسی جماعتوں سے گزارش ہے کہ یہ جو اس وقت نیپیئر تھانے میں جو پولیس بیٹھی ہوئی ہے، اس کا کیا کام ہے؟ بتایا جائے، مہربانی کر کے، مجھے اتنا ٹارچر کیا جا رہا ہے، مجھے صبح ملزم ریمانڈ پر پیش کرنا ہے، 12 بج گئے ہیں میں یہاں پہ کھڑی ہوئی ہوں، صبح سے 10 دن ہو گئے ہیں، صبح 8 بجے سے یہ وقت ہو جاتا ہے مجھے، میں یہاں کھڑی رہتی ہوں سارا وقت، نہ مجھے بیٹھنے کی جگہ دی جاتی ہے، نہ مجھے کوئی کمرہ دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ملزم کو اسپیشل پروٹوکول دے کے اس کے لاک اپ میں اس کو پنکھا دیا جاتا ہے، اس کو نشہ دیا جاتا ہے، اس کو برگر دیے جاتے ہیں، اس کو بوتل دی جاتی ہے، سب کیمروں میں ریکارڈ ہے لیکن کوئی بھی افسر ان کو پوچھ نہیں رہا ہے، جو یہاں کا نیپیئر تھانے کا ایس ایچ او ہے وہ مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ اس ملزم کو چھڑایا جائے۔
جبکہ کورٹ نے تمام چیزیں، فیکٹس دیکھے ہیں اور کورٹ میں تمام چیزیں موجود ہیں، اس کے باوجود بھی ڈی ایس پی صاحب اور جو ڈی ایس پی ایس ایس او آئی یو ہیں اور جو ایس پی صاحب کو میں نے بتائی ہے، انہوں نے ایکشن بھی لیا، ان کو شوکاز بھی دیے ہیں، اس کے باوجود یہ دیکھیں۔ یہ میری چھپ کے ویڈیو بنا رہے ہیں اور ان میں اتنی جرأت نہیں ہے، یہ مرد کہلاتے ہیں، یہ وردی پہن کے کھڑے ہیں کہ یہ سامنے آ کے میرے سے بات کریں اور میری ویڈیو بنائیں، یہ دیکھیں، سارا تھانہ انہوں نے اندھیرا کر دیا ہے، سارے تھانے میں اندھیرا کر دیا ہے، صرف ملزمان سے پیسے لیتے ہیں اور جو غریب اور شریف لوگ آتے ہیں یہاں پر ان کو ذلیل کیا جاتا ہے، ان کو بے عزت کیا جاتا ہے۔ ایک لیڈی افسر کو جب اتنا ذلیل کیا جا رہا ہے تو وہ لڑکی اور وہ لڑکیاں جن کی عزتیں تارتار کی گئیں، جن کے ریپ کیے گئے، جن کو آج ہسپتال اور قبرستان میں جانے میں مجبوری کیا اس لڑکے نے، یہ دیکھیں اس کا چہرہ، ٹھیک ہے؟ یہ ہے وہ ملزم جو کہ غیر ملکی ہے، کسی سمندری راستے سے یہاں آیا ہے، تو آپ سوچیں گے ایک لیڈی افسر کے ساتھ جب یہ ہو رہا ہے تو ایک عام عورت کو کیا انصاف ملے گا، یہ دیکھیں۔
ٹھیک ہے؟ تو یہ مجھے اس طرح سے دھمکیاں دی جا رہی ہیں، یہ وہ تفتیشی افسر ہیں جو اس طرح سے مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں اور مجھے ذلیل کر رہے ہیں اور میں یہاں کھڑی ہوں، صبح مجھے کورٹ نہیں پہنچنے دیا جا رہا، کہتا ہے کہ آپ بار بار اس کا ریمانڈ کیوں لیتے ہیں؟ تو میری آئی جی صاحب، ایڈیشنل آئی جی صاحب کو سلام ہے، میں آپ کو سلوٹ کرتی ہوں اور آپ سے گزارش کرتی ہوں کہ آپ اس قوم کی بیٹیوں کو بچائیں، مہربانی کر کے۔"