03/06/2026
ایک چھوٹا سا عمل اور معافی کا پروانہ
پروانہ
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا ایمان افروز واقعہ
حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد کسی نے انہیں خواب میں دیکھا اور پوچھا: "حضرت! فرمائیے اللہ پاک نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟"
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: “جب میں اللہ پاک کے حضور پیش ہوا، تو مجھ سے پوچھا گیا: 'بایزید! ہمارے لیے کیا لائے ہو؟' میں نے عرض کیا: 'یا اللہ! میں نے تجھے واحد مانا اور تیری توحید کا اقرار لایا ہوں بشرطیکہ وہ قبول ہو جائے۔'”
اللہ پاک نے فرمایا: “بایزید! تمہیں یاد ہے، ایک دن تم نے دودھ پیا تھا اور تمہارے پیٹ میں درد ہو گیا تھا؟ تب لوگوں نے پوچھا تھا کہ درد کیوں ہوا؟ تو تم نے کہہ دیا تھا کہ 'میں نے دودھ پیا ہے، اس لیے پیٹ میں درد ہوا ہے'۔ تم نے اس وقت یہ کیوں نہ کہا کہ اللہ کے حکم سے درد ہوا؟ تم نے اس درد کی نسبت دودھ کی طرف کر دی تھی، اس لیے تمہاری وہ توحید اس لائق نہیں کہ یہاں پیش کی جائے۔”
حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میرا دل خوف سے کانپ اٹھا اور میں خاموش ہو گیا۔
پھر اللہ رب العزت نے اپنی رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: “بایزید! گھبراؤ مت۔ ایک دن تم راستے سے گزر رہے تھے، وہاں سردی سے کانپتا ہوا ایک چھوٹا سا بلی کا بچہ موجود تھا۔ تم نے اس پر رحم کھایا، اسے راستے سے اٹھایا اور اپنے چوغے (قمیص) میں لپیٹ کر اسے گرمائش دی۔ تمہارا وہ چھوٹا سا عمل، جو تم نے محض ہماری مخلوق پر رحم کرتے ہوئے کیا تھا، ہمیں بہت پسند آیا۔ جاؤ! اسی ایک عمل کی برکت سے ہم نے تمہاری بخشش فرما دی۔”
ضرور فالو کریں