آواز دا KPK

آواز دا KPK آوازِ دا کے پی کے — شعور اور مکالمہ 🌍
ہمارا مقصد معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ آگاہی اور شعور دینا ہے۔
کیونکہ معلومات کھلے عام ہیں۔

So, JOIN us TODAY

امریکہ میں سائنس کا زوال اور چین میں سائنس کی ترقی کا حال اس ایک گراف سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ گراف دنیا کے بہترین سائنسی...
04/04/2026

امریکہ میں سائنس کا زوال اور چین میں سائنس کی ترقی کا حال اس ایک گراف سے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ گراف دنیا کے بہترین سائنسی جرنلز میں مختلف ممالک کے سائنس دانوں کے شائع شدہ پیپرز کی سالانہ تعداد بتا رہا ہے

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم نے ایران کی تینوں فورسز کو قریباً ختم کر ہی ڈالا۔زمینی فوج ، فضائی اور بحری فوج روند ڈالا۔مگر اگلے...
04/04/2026

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم نے ایران کی تینوں فورسز کو قریباً ختم کر ہی ڈالا۔

زمینی فوج ، فضائی اور بحری فوج روند ڈالا۔

مگر اگلے ہی دن انکو ذلت اٹھانی پڑی دو پائلٹس کو ڈھونڈنے ایران دھر آئے۔

دنیا کے ممالک انکو اکیلے چھوڑ رہے ہیں ، آسٹریا جیسا ایک چھوٹا دیش بھی امریکہ کو اپنے اڈے استعمال کرنے سے روک رہا ہے۔

امریکہ تینوں افواج کے سربراہ اور سینئر آفسیر مستعفی ہورہے ہیں۔

پر ٹرمپ گلا پھاڑ پھاڑ کر وکٹری کا نشان بنا رہا ہے۔

جب کہ درحقیقت انکو میدان میں مشکل پیش آرہی ہے 😌

30/03/2026

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری نہیں…
بلکہ **صحیح سمت کی کمی** ہے۔

آج دنیا بدل چکی ہے۔
ڈگری اکیلے کامیابی کی ضمانت نہیں رہی —
اب کامیاب وہی ہے جس کے پاس **ڈیجیٹل اسکل** ہے۔

گرافک ڈیزائننگ، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیولپمنٹ اور AI اسکلز ایسی صلاحیتیں ہیں جو آپ کو صرف نوکری نہیں بلکہ **مالی آزادی** دے سکتی ہیں۔

اگر آپ واقعی اپنی زندگی بدلنا چاہتے ہیں تو انتظار چھوڑیں اور آج ہی ایک نئی اسکل سیکھنا شروع کریں۔
یاد رکھیں: چھوٹی شروعات ہی بڑی کامیابیوں کی بنیاد بنتی ہے۔

💡 ایسے مزید رہنمائی، آن لائن کمائی کے طریقے اور نوجوانوں کے لیے حقیقی مواقع جاننے کے لیے ہمارا پیج فالو کریں۔





بن سلمان کے بارے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو جملے کیا تاثر دے رہے ہیں۔"آپکو مجھ سے اچھا ہونا چاہئے (یعنی اپنی چلن درست ...
29/03/2026

بن سلمان کے بارے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دو جملے کیا تاثر دے رہے ہیں۔

"آپکو مجھ سے اچھا ہونا چاہئے (یعنی اپنی چلن درست کریں) "

دوسرا

"آپ میری 'پوچھل' پر بوڈا بھی دے چکے ہیں"

یہ جملے ٹرمپ کی فرسٹریشن کو بیان کررہی ہیں یعنی جو امید انھیں بن سلمان سے تھی وہ خواب ہی ثابت ہوئی ، بن سلمان سے جنگ میں کودنے کا خواب اور یہاں کے اڈوں کو استعمال کرنے کی اجازت۔

بن سلمان اچھا کھیل رہا ہے ؟
آپ بتائیں ؟ اپنی رائے دیں

**⚠️ امریکہ، اسرائیل اور ایران کشیدگی — جنگ کا 29واں دن**مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل...
28/03/2026

**⚠️ امریکہ، اسرائیل اور ایران کشیدگی — جنگ کا 29واں دن**

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری اور صنعتی مراکز پر حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ایران نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں کی “بھاری قیمت” ادا کرنا ہوگی، جبکہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی افواج نے تہران میں مبینہ “ریجیم ٹارگٹس” کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ جوہری تنصیبات سے کسی قسم کا تابکاری اخراج رپورٹ نہیں ہوا۔

دوسری جانب امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات جلد متوقع ہیں، اور ایک 15 نکاتی امن منصوبہ تہران کے جواب کا منتظر ہے۔ تاہم عالمی مبصرین کے مطابق زمینی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے اور کسی بھی غلط قدم سے علاقائی جنگ عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے طویل دفاعی تعاون کے باوجود اتحادی ممالک نے مکمل حمایت نہیں کی، جس سے مغربی اتحاد میں اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

📌 ماہرین کے مطابق اس تنازع کے ممکنہ اثرات:
• عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
• مشرقِ وسطیٰ میں پراکسی جنگوں کا خطرہ
• عالمی معیشت پر دباؤ
• سفارتی حل کی فوری ضرورت

دنیا کی نظریں اب آنے والے مذاکرات اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں — سوال یہ ہے کہ کیا کشیدگی کم ہوگی یا خطہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے؟

👉 آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا مذاکرات کامیاب ہوں گے یا صورتحال مزید بگڑے گی؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

**BREAKING: Iran outlines conditions for a possible end to the ongoing conflict — reshaping regional power discussions.*...
26/03/2026

**BREAKING: Iran outlines conditions for a possible end to the ongoing conflict — reshaping regional power discussions.**

Reports indicate that Iran has presented a set of key demands tied to any potential ceasefire agreement. These conditions reportedly focus on strategic security interests, military policy independence, and long-term regional stability guarantees.

Among the reported points:

▪️ Greater control and security influence over the Strait of Hormuz — one of the world’s most critical oil transit routes.
▪️ No external limits on Iran’s missile development program.
▪️ Compensation and reparations related to war damages.
▪️ Security guarantees aimed at preventing future military escalation.
▪️ Steps toward ending ongoing hostilities under mutually agreed terms.

The Strait of Hormuz alone carries a significant portion of global energy shipments, meaning any development here could impact international markets, geopolitics, and global stability.

⚠️ This remains a **developing situation**, with diplomatic responses expected from global powers in the coming days.

👉 Do you think these conditions could realistically lead to peace, or will tensions continue to rise?

💬 Share your opinion below.

25/03/2026

کیا پاکستان عالمی سیاست میں ایک نیا کردار ادا کرنے جا رہا ہے؟

امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان نے امن مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر کے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک سفارتی قدم نہیں بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ کے لیے ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔

کیا پاکستان واقعی عالمی امن کا مرکز بن سکتا ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Asad Muhammad, Faisal Sh A, Bakht Rawan, Safi Khan, TauSe...
19/03/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Asad Muhammad, Faisal Sh A, Bakht Rawan, Safi Khan, TauSeef JaNi, M Osama, Adil Khan, Prewaz Khan Khan, Saleem Khan, Yasir Zaman, Ajmal Khan, Jalal Ahmad, Hanzala Hanpi, Bilal Khan Khan, Dilo Singh, محمد عثمان

**🕌 سجدہ (Prostration) کی اہمیت — اسلام کا روحانی اور انسانی معجزہ**سجدہ اسلام کی عبادات کا سب سے خوبصورت اور عاجزی سے ب...
18/03/2026

**🕌 سجدہ (Prostration) کی اہمیت — اسلام کا روحانی اور انسانی معجزہ**

سجدہ اسلام کی عبادات کا سب سے خوبصورت اور عاجزی سے بھرپور عمل ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: *“بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے۔”*

سجدہ صرف ایک جسمانی حرکت نہیں بلکہ مکمل اطاعت، عاجزی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار ہے۔ جب انسان اپنی پیشانی زمین پر رکھتا ہے تو وہ دنیا کی غرور، تکبر اور پریشانیوں کو پیچھے چھوڑ کر خالقِ کائنات سے جڑ جاتا ہے۔

✨ **سجدے کی روحانی حکمت**

* انسان میں عاجزی اور شکرگزاری پیدا کرتا ہے
* دل کو سکون اور ذہنی دباؤ سے نجات دیتا ہے
* اللہ سے تعلق کو مضبوط بناتا ہے
* نفس کی اصلاح اور دل کی پاکیزگی کا ذریعہ بنتا ہے

🌿 **سجدہ اور انسانی فطرت**
سجدہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت اور اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ یہی احساس انسان کو صبر، برداشت اور مثبت سوچ عطا کرتا ہے۔

ہر سجدہ ایک دعا ہے…
ہر سجدہ ایک امید ہے…
اور ہر سجدہ بندے اور رب کے درمیان محبت کا ایک خاموش مکالمہ ہے۔

🤍 آج اپنے سجدوں کو صرف عادت نہیں بلکہ احساس بنائیں۔

#سجدہ #اسلام #نماز #روحانیت

کیا آپ جانتے ہیں ؟؟ٹرمپ حضور نے روسی تیل پر سے عارضی طور پر سینکشنز ہٹالی ہیں۔ وجہ ؟ سٹریٹ آف ہارموز۔ٹرمپ اڈمینسٹریشن یو...
16/03/2026

کیا آپ جانتے ہیں ؟؟

ٹرمپ حضور نے روسی تیل پر سے عارضی طور پر سینکشنز ہٹالی ہیں۔

وجہ ؟

سٹریٹ آف ہارموز۔

ٹرمپ اڈمینسٹریشن یورپی ممالک کو کیا جواب دیتا ہے ، اس کا انتظار کریں اور مزے لیں 🙂

ایران کی آخری جنگ میں آج ایران امریکا جنگ پر آپ سے اپنے دو دوستوں مشعل حسین اور ولی نصر کا تجزیہ شیئر کرتا ہوں. دونوں نا...
14/03/2026

ایران کی آخری جنگ

میں آج ایران امریکا جنگ پر آپ سے اپنے دو دوستوں مشعل حسین اور ولی نصر کا تجزیہ شیئر کرتا ہوں. دونوں نامور لوگ ہیں اور اپنی فیلڈ کے ماہرین میں شامل ہیں. طرز فکر مغربی ضرور ہے مگر اپنے ضمیر سے سوچنے والے لوگ ہیں. بلومبرگ پر مشعل حسین کے شو میں ولی نصر کی گفتگو سنیے تو ایک بات واضح ہوتی ہے۔ ایران ٹوٹ نہیں رہا۔ اور جو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ بمباری کے بعد عوام سڑکوں پر نکلیں گے، حکومت گرے گی، نیا ایران بنے گا، وہ خواب دیکھ رہے تھے۔ خواب ٹوٹ چکا ہے۔

ولی نصر۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں پروفیسر۔ اوباما انتظامیہ کے سابق مشیر۔ تہران میں پیدا ہوئے۔ انیس سو انہتر کے انقلاب نے خاندان کو جلاوطنی پر مجبور کیا۔ پوری زندگی ایران اور امریکہ کے رشتے کا مطالعہ کیا۔ ایران کی گرینڈ اسٹریٹیجی پر کتاب لکھی۔ یہ آدمی نہ حکومت کا وکیل ہے نہ مخالف۔ تجزیہ کار ہے۔ اور اس کا تجزیہ واشنگٹن اور تل ابیب دونوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔

مشعل حسین پوچھتی ہیں کہ ٹرمپ تو کہہ رہے ہیں جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ ولی نصر کا جواب صاف ہے: ٹرمپ چاہتا ہے کہ ختم ہو، کمبل سے جان چھوٹے، لیکن ایران کا کمبل چھوڑنے کو تیار نہیں۔ نصر کہتے ہیں کہ ایران نے امریکہ میں دانت گاڑ دیے ہیں اور جب تک حساب برابر نہیں ہوتا، نہیں چھوڑے گا۔ ٹرمپ کا خواب تھا کہ سپریم لیڈر مارو، چند اسٹریٹیجک ٹھکانے بم سے اڑاؤ، نئی قیادت آئے، سب بدل جائے۔ یہ خواب تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ لمبی ہو گئی ہے۔ گندی ہو گئی ہے۔ امریکی اڈوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ توانائی کی منڈیاں ہل رہی ہیں۔ عالمی معیشت دباؤ میں ہے۔

مشعل حسین ایک اہم سوال اٹھاتی ہیں: ایران کتنا برداشت کرنے کو تیار ہے؟ ہزاروں مردے۔ ایندھن کے ذخائر جل رہے ہیں۔ تیل کی سپلائی تباہ۔ حد کہاں ہے؟

ولی نصر کا جواب جنگ کے فلسفے کو بدل دیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ گولہ بارود گننے کا کھیل نہیں۔ یہ درد کی دہلیز کا مقابلہ ہے۔ یہ کربلا کے فلسفے سے نکلا ہے کہ میں تمہیں اپنے صبر سے مار دوں گا. ایران کا حساب ہے کہ امریکہ اور اسرائیل تیز دوڑ سکتے ہیں لیکن لمبی دوڑ نہیں دوڑ سکتے۔ ایران طویل فاصلے کا لڑاکا ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ زیادہ دیر برداشت کر سکتا ہے۔ اور جب تک برداشت کرتا رہے گا، امریکہ کی بھوک ختم ہوتی رہے گی۔

لیکن ایران اتنا کچھ برداشت کر کے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ کیا واپس پرانی صورتحال پر آنا؟

نصر کہتے ہیں: نہیں۔ بالکل نہیں۔ ایران کی سوچ یہ ہے کہ یہ آخری جنگ ہونی چاہیے۔ یا ہم ختم ہوں، یا امریکہ اور اسرائیل یہ خیال ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں کہ وہ جب چاہیں ایران میں گھس سکتے ہیں۔ یہ اندر گھس کے مارنے والا تصور، کہ ہر چھ مہینے بعد آ کر مار لو، یہ ختم ہونا چاہیے۔ ایران چاہتا ہے کہ امریکہ کو اتنی قیمت چکانی پڑے کہ آنے والا کوئی بھی صدر ایران سے الجھنے کا سوچے بھی نہیں۔

اور صرف یہ نہیں۔ نصر بتاتے ہیں کہ ایران کے مطالبات وسیع ہیں: پابندیاں اٹھائی جائیں، لبنان سے اسرائیلی واپسی ہو، اور سب سے اہم، امریکہ خطے سے اپنے فوجی اڈے سمیٹے۔ ایران خلیجی ریاستوں کو قائل کرنے کی حکمتِ عملی پر عمل کر رہا ہے کہ امریکی اڈے تمھاری حفاظت کے لیے نہیں ہیں، یہ ایران پر حملے کے لیے ہیں اور جنگ تمھاری دہلیز پر لاتے ہیں۔ یہ شاید حد سے زیادہ بڑے مقاصد ہیں۔ نصر خود تسلیم کرتے ہیں کہ شاید سب حاصل نہ ہوں۔ لیکن یہی وہ چیز ہے جو ایران کو چلا رہی ہے۔

پھر مشعل حسین بات مجتبیٰ خامنہ ای کی طرف لے جاتی ہیں۔ نیا سپریم لیڈر۔ مقتول آیت اللہ کا بیٹا۔

ولی نصر کا تجزیہ یہاں گہرا ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے انقلاب کی پہلی نسل کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ سپاہِ پاسداران کے سینئر کمانڈرز، سپریم لیڈر۔ اب ایک نئی نسل سامنے آئی ہے۔ نوجوان کمانڈرز جنھوں نے اپنے فوجی تجربے ایران عراق جنگ میں نہیں بلکہ شام اور عراق میں داعش اور امریکہ کے خلاف لڑ کر حاصل کیے۔ ان کا قومی سلامتی کا نظریہ بالکل مختلف ہے۔ اور مجتبیٰ انھی لوگوں کا آدمی ہے۔ پچیس سال سے وہ سپاہِ پاسداران میں ترقیوں کے عمل میں شامل تھا۔ کس کو آگے بڑھانا ہے، کس کو نہیں، یہ فیصلے اسی نے کیے۔

مشعل حسین کہتی ہیں کہ مجتبیٰ کی مذہبی اسناد تو وہ نہیں جو روایتی طور پر اس عہدے کے لیے چاہیے ہوتی ہیں۔ باپ سے بیٹے کو اقتدار منتقل کرنا اسلامی جمہوریہ کی روح کے خلاف ہے۔

نصر کا جواب تاریخی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خود خامنہ ای بھی روایتی معنوں میں بڑے آیت اللہ نہیں تھے۔ یہ عہدہ وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ لیکن مجتبیٰ کے پاس دو چیزیں ہیں جو اس وقت سب سے زیادہ اہم ہیں۔ پہلی: وہ تیس سال سے اپنے باپ کے ساتھ بیٹھا ہے، پہلے دن سے کام سنبھال سکتا ہے، سیکھنے کے لیے دو تین سال درکار نہیں۔ دوسری: اس کے باپ، ماں، بیوی، بیٹے، بہن سب اس حملے میں مارے گئے۔ ایران کی مذہبی اور قومی فضا میں یہ شہادت ایک کرشمہ ہے۔ مجتبیٰ نے یہ عہدہ علم سے نہیں کمایا، مصیبت سے کمایا ہے۔ وہ کربلا کے اماموں، شیعہ اولیاء اور ایرانی اساطیری ہیروز کی علامت بن گیا ہے۔

اور یہاں ولی نصر وہ بات کہتے ہیں جو پورے انٹرویو کا مرکز ہے۔

مشعل حسین پوچھتی ہیں کہ کیا اس جنگ نے ایران کو امریکی منشا کے بالکل الٹ سمت میں بدل دیا ہے؟ جنوری میں لاکھوں لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر تھے۔ اب کیا ہوا؟

نصر کہتے ہیں: ہاں۔ غصہ ابھی بھی ہے۔ کوئی مذہبی حکومت یا معاشی تنہائی میں نہیں رہنا چاہتا۔ لیکن اب ایرانیوں کے سامنے سادہ سیاہ سفید فیصلہ نہیں رہا کہ تم حکومت کے ساتھ ہو یا خلاف۔ اب نیا سوال کھل گیا ہے: تم جنگ کے حق میں ہو یا خلاف؟ تم ملک کی حفاظت چاہتے ہو یا تباہی کا خطرہ مول لینے کو تیار ہو؟ تہران پر تیزابی بارش ہو رہی ہے تیل کے ذخائر جلنے سے۔ لوگ مر رہے ہیں۔ زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں۔ اور ایسے میں حکومت مخالف ایرانی بھی ریلیوں میں آ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ابھی اندرونی سیاسی لڑائی کا وقت نہیں، ابھی ملک کا ساتھ دینے کا وقت ہے۔

نصر واضح الفاظ میں کہتے ہیں: اگر ٹرمپ ایران میں فوری سیاسی بغاوت کا انتظار کر رہا تھا تو یہ نہیں ہو رہی۔ اور جب تک جنگ کا غبار نہیں بیٹھتا، نہیں ہو گی۔ ایرانی عوام اس وقت جنگ میں ایک فریق نہیں ہیں۔ اور یہ وہی عوام تھے جن پر امریکہ اور اسرائیل دونوں نے دارومدار رکھا تھا۔

نصر ایک اور اہم نکتہ اٹھاتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ نے اپنا نظام عرصے سے بکھیر رکھا ہے۔ جون دو ہزار پچیس کی بارہ روزہ جنگ کے بعد، جب اسرائیل نے سپاہِ پاسداران کے تیس کمانڈرز مارے اور باقی سب زیرِ زمین چلے گئے، ایران نے نظام کو مزید بکھرا دیا۔ سپریم لیڈر مارا جائے تو نظام مفلوج نہ ہو۔ فیصلے ایک جگہ سے نہیں، کئی مراکز سے ہوں۔ حکومت میں، بیوروکریسی میں، سپاہ میں، ہر جگہ خودمختار فیصلہ سازی کا ڈھانچہ بنایا گیا ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای خود عوام کے سامنے نہیں آ رہا۔ نصر کہتے ہیں کہ اس کی وجوہات ہیں۔ افواہ ہے کہ وہ بمباری میں زخمی ہو گیا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ نے واضح کیا ہے کہ اسے بھی نشانہ بنائیں گے۔ ایران دوبارہ قیادت کی تبدیلی کے بحران سے بچنا چاہتا ہے۔

اور جب مشعل حسین پوچھتی ہیں کہ یہ جنگ کب تک چلے گی، تو نصر کا جواب مختصر مگر بھاری ہے: ٹرمپ جتنا سوچ رہا ہے اس سے زیادہ لمبی چلے گی۔

یہ انٹرویو سنیے تو ایک بات واضح ہوتی ہے۔ ایران جنگ نہیں جیت رہا۔ ایران صبر جیت رہا ہے۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ طویل جنگوں میں صبر ہمیشہ بموں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

ٹرمپ نے ایران پر وار اس لیے کیا کہ وہ سمجھتا تھا کہ ایک ضرب میں کام تمام ہو جائے گا۔ پلان بی نہیں تھا۔ آج بھی نہیں ہے۔ اور جب حملہ آور کے پاس پلان بی نہ ہو اور مدافع کے پاس صبر ہو تو نتیجہ پہلے سے طے ہوتا ہے۔

جنگیں وہ نہیں جیتتا جو زیادہ مارتا ہے۔ جنگیں وہ جیتتا ہے جو زیادہ سہتا ہے۔ اور سہنے کا فن ایران نے پینتالیس سال میں سیکھا ہے۔ ٹرمپ نے اسّی سال میں نہیں سیکھا۔

عارف انیس

Address

Peshawar City Road
Peshawar
25060

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when آواز دا KPK posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share