17/06/2026
✍️منقبت حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ
حق کا پرچم ہے ثریا پر اٹھایا آپ نے
کفر کا ایوانِ باطل ہے گرایا آپ نے
دیکھ کر شاہِ مدینہ کو بدل ڈالا تھا دل
کلمہ پڑھ کر کفر کا رخ ہی پھرایا آپ نے
مصطفیٰ کی وہ دعا، وہ عزّتِ دینِ مبیں
دینِ حق کو اک نیا رتبہ دلایا آپ نے
روک لے جو روک سکتا ہے، یہ کہہ کر دہر میں
قوت دشمن کو مٹی میں ملایا آپ نے
عدل کی تاریخ میں روشن ہے فاروقی نظام
ظلم کا ہر ایک تانا بانا ڈھایا آپ نے
کانپتے تھے قیصر و کسریٰ بھی عمر کے نام سے
دبدبہ وہ دین کا جگ میں دکھایا آپ نے
رات بھر پہرا دیا خود بستیوں میں گھوم کر
حاکمی کا اصل وہ رتبہ سکھایا آپ نے
خود اٹھایا آٹے کا بورا شبِ تاریک میں
بے کسوں اور بیوگاں کا گھر بسایا آپ نے
منبرِ مسجد بھی لرزاں تھا جلالِ وعظ سے
حق کا وہ خطبہ زمانے کو سنایا آپ نے
تھا چغہ پیوند کا پہنے ہوئے تن پر عمر!
شہرِ قدسِ پاک میں خطبہ سنایا آپ نے
نہرِ نیلِ مصر کو خط اک لکھا فاروق نے
حکم کا دریا روانہ کر دکھایا آپ نے
مصطفیٰ کے دل کی حسرت، اے مرادِ مصطفیٰ!
گلشنِ اسلام کو دائم سجایا آپ نے
حق و باطل میں کڑی تفریق کی ہے دہر میں
راستہ سچا خلافت کا دکھایا آپ نے
کیجیے عابد پہ بھی اب ایک ادنیٰ سی نظر
عشق کا جس کو سلیقہ ہے سکھایا آپ نے
عابد بنوی