28/12/2025
کیا جھوٹے قصے اور جھوٹی تاریخ اور غلو سنانا ہی ذاکری ہے؟
(ذاکری ایک فریضہ یا معاش کا ذریعہ)
ہمارے ہاں جب ذاکری کی بات کی جاتی ہے تو اس میں سب سے پہلی چیز جو شیعہ مؤمنین بھائیوں کے ذھن میں آتی ہے وہ یہ کہ ذاکر کتنی درد بھری آواز رکھتا ہے اور لوگ اسے پسند کرتے بھی ہیں یا نہیں کرتے، اور ایک اور چیز جو آج کل سب سے پہلے ذھن میں آجاتی ہے کہ یہ پیسے کتنے لیتا ہے کیونکہ جس ذاکر کی بھی عوام میں شہرت ہے اس کا معاوضہ بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا اور آجکل تو مشہور
ذاکرین کی مجلس کا منٹ منٹ بھی ہزاروں روپیہ کا ہوتا ہے
لیکن اہم بات یہ ہے کہ کتنے مؤمنین کے ذھن میں یہ سؤال
آتا ہے کہ یہ ذاکر جو مصائب و فضائل ہمیں سنا رہا ہے ہے یہ کہاں سے پڑھ کر سناتا ہے اور کیا یہ مستند تاریخ کربلا اور معتبر روایات سے بیان کرتا ہے یا اپنے پاس سے جھوٹ گھڑتا ہے؟
کیا جو فضائل یہ بتا رہا ہے اور ہم نعرے لگا رہے ہیں یہ
فضائل و مناقب اہل بیت ع قرآن و احادیث میں آئے ہیں ؟
کیا ان ذاکر صاحب کا ذاتی اخلاق و کردار ویسا ہی ہے جیسا کہ اہلبیت علیہم السلام اپنے ذاکر کیلئے چاہتے ہیں؟
کیا یہ ذاکر منبر حسینی پر پڑھنے کا حقدار ہے اور اس کے عقائد ، قرآن و سنت و روایات معصومین کے مطابق ہیں؟
یہ وہ سؤالات ہیں کہ اگر آج کی شیعہ جوان نسل اس پر سوچنا شروع کر دیں تو چند سالوں کے اندر شیعہ ذاکرین کی ناگفتہ بہ حالت ایک آئیڈیل صورتحال اختیار کر سکتی ہے
اہلبیت علیہم السلام لکیر کے فقیر پیروکار کو نہ صرف پسند نہیں کرتے بلکہ اس کو خود کیلئے عار سمجھتے ہیں اور شیعہ کی ایک بنیادی ترین صفت جو اہلبیت ع نے بیان کی ہے وہ عاقل ہونا ہے
عاقل جو مسئلے کو گہرائی سے تجزیہ و تحلیل کرے ،
بہت سی روایات میں جب راوی نے بتایا کہ فلاں شخص کا ظاہر ایسا ایسا ہے تو امام نے پوچھا کہ اس کی عقل کیسی ہے وہ دین کی بصیرت رکھتا ہے یا نہیں ؟ ایک موقع پر راوی نے جب کسی شخص کی کثرت عبادات کا ذکر کیا تو اس کے جواب میں امام صادق ع نے فرمایا کہ "کیف عقلہ " فلاں کی عقل کیسی ہے ، یعنی دینی بصیرت اور فہم دین کیسا ہے ، راوی نے کہا کہ اتنی سوجھ بوجھ رکھنے والا نہیں ہے تو حضرت نے فرمایا پھر اس کی عبادتیں بھی اسے فایدہ نہیں پہنچائے گی۔۔
تو کیا شیعہ سب کو منبر پر لے آئیں اور سب سے دین سنیں او بغیر چوں چرا صرف نعرے لگاتے آئیں تو کیا یہ ان کی عبادتیں ہیں ؟ اور کیا یہ انھیں فایدہ پہنچائیں گی اور کیا یہ تشیع ہے؟
علم و ادب سے آراستہ اور غلو سے پاک ذاکری اس وقت شیعہ کمیونٹی کی سب سے بڑی ضرورت ہے ایسے ذاکرین جو خود کتابوں کا مطالعہ کریں اور مستند تاریخ کربلا و مصائب لوگوں کو سنائیں اور آیات قرآن اور احادیث و روایات معتبرہ سے فضائل و مناقب اہلبیت ع پیش کریں اور سب سے بڑھ کر عالمی تشیع کے ساتھ ہم آہنگ ہو اپنے رہبر اور مراکز کی طرف پوری توجہ رکھتے ہو ، عالمی شیطانی سازشوں سے اپنی قوم کو آگاہ کریں تاکہ حسینی حرارت مؤمنین کے قلوب کو منور کردے اور مؤمنین بھی راہ حسین علیہ السلام پر چلتے ہوئے مقاصد حسینی تک پہنچ جائیں
آج بہت ہی دکھ و الم کی بات یہ ہے کہ منبر حسینی پر بہت سے ایسے نوجوان ذاکر نظر آرہے ہیں کہ جو بنیادی طور پر ٹک ٹاکرز ہیں اور تعلیم و تربیت ان کے پاس سے بھی نہیں گزری ہے اور تعجب ہے ان لوگوں پر کہ جو ان سے پڑھوا رہے ہیں اور اس سے بھی زیادہ تعجب ان پر ہے کہ جو ان سے ھدایت حاصل کرنے کیلئے آتے ہیں
اور بعض کی ایسی ناشائستہ حرکات روزانہ کی بنیاد پر میڈیا پر نظر آرہی ہوتی ہیں اور اس میں ان کے شریک ایسے بانیان مجالس بھی ہیں کہ جن کو مجلس عزا سے زیادہ اپنا نام و نمود چاہیے اور یہ پست کردار بانیان مجالس , در حقیقت مخلص بانیان مجالس کیلئے بھی بدنامی کا باعث بنتے ہیں
اگر مخلص بانیان خود کو پست مزاج بانیوں سے جدا کرنا چاہتے ہیں تو ان ذاکرین کا بائیکاٹ کریں کہ جو منبر کے تقدس کا خیال نہیں رکھتے ہیں
میں یہ بات سوچتا رہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اگر آج امام حسین علیہ السلام ظاہر میں موجود ہوں تو ایسے افراد کے خلاف اعلان جنگ فرما دیں گے اور آئمہ اہلبیت ع نے یہی غالیوں کے خلاف کیا بھی ہے
بعض ایسے ذاکر آجکل نظر آرہے ہیں کہ جو تاریخ کربلا میں۔ کھل کر تحریف کرتے ہیں اور انتہا کے جھوٹے قصے سناتے ہیں
کیا منبر حسینی ع پر آنے کیلئے کوئی علمی ، اخلاقی دستور نہیں ہے ؟
اس پر مؤمنین اور خاص کر جوان نسل کو سوچنا چاہیے
تاکہ عزاداری امام حسین علیہ السلام جگ ہنسائی کا سبب بننے کی بجائے مسلمانوں کے مسائل کا حل پیش کرے اور ان کی
اجتماعی امراض کا مداوا کر سکے
خدارا تھوڑا نہیں بہت زیادہ سوچیں اور اپنے آنے والی نسلوں کو صحیح معنوں میں کربلا شناس اور وقت کے امام ع کا سپاہی بنائیں واسلام