01/09/2026
پنڈدادنخان ۔ عوام کا وقت گزرنے کیساتھ جینا محال ہو رہا ہے لوگ پریشان ہیں ایک وقت تھا یہ شہر دنیا کی دوسری بڑی تجارتی منڈی تھا اب سمیٹ کر آدھی تحصیل میں کنورٹ ہو چکا ہے شہریوں کی(Disinterested) اور سیاسی نمائندگان کی(Shrinking) کنارہ کشی سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے انتظامات نہیں کیے گئے تیس سے چالیس سینٹری ورکر جن میں آدھے کیمرہ مینی کے فرائض انجام دے رہیے ہیں اور چند ملازمین پر صفائی کا انحصار ہے گلی محلے کے لوگ چیخ چیخ کر فریاد کر ریے ہیں ہمیں ہمیں گلی محلے کی صفائی ستھرائی اور پینے کو صاف پانی فراہم کیا جاۓ لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہمارا شہر پنڈدادن خان جو اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے صحت و صفائی سے لے کر بجلی گیس کے اپنے اپنے شیڈول ہیں گیس اور بجلی کا آنا جانا لگا ریتا ہے ان دونوں کا کوئی یقین نہیں کب آۓ اور کب رخصت ہو جائیں THQ ہسپتال اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو چکا ہے لمبی لائنیں مریضوں کا رش یہ ہمارے تحصیل ہسپتال کا حال ہے ہمارا شہر پنڈدادن خان ٹیپ ٹاپ میں سب سے آگے ہے لیکن عملا ہم پیچھے ہیں ہمارا حال بہتر ہونے کے بجاۓ ابتر ہو رہا ہےہم دوبارہ ماضی میں لوٹ چکے ہیں پہلے ہاتھوں میں ٹین ہوتے تھے اب اس کی جگہ کین نے لے لی ہے دوبارہ پبلک سٹینڈ پر کھڑے ہونے پر مجبور ہیں بجلی اور گیس کی بندش نے ہینڈ فین کی یاد تازہ کر دی ہے اور دوسری طرف ہمارے تعلیمی اداروں جن میں بچوں کو پینے کا پانی میسر نہیں اگر بات کی جاۓ بیوٹیفیکیشن بازار کی جس کو خوبصورت بنانے کیلۓ ٹالیں لگائی گئی جو وقت سے پہلے ہی آہیستہ آہیستہ گرنا شروع ہو چکی ہیں ٹف ٹائل جگہ جگہ سے بیھٹنا شروع ہو چکی ہے جلد بازی میں لگایا گیا ناقص مٹیریل اپنی اصلیت ظاہر کر رہا ہے بجلی کیلئے لگائی گئی انڈر گراؤنڈنگ ڈی پی جن میں اکثر بارش کے دنوں میں کرنٹ محسوس کیا گیا سیفٹی کے اصولوں پر پورا نہیں اتر سکا ڈی پی کا یہ حال ہے کبھی ان سے دھواں سلگتا ہے اور کبھی شعلے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں دوسری جانب دیکھا جاۓ تو محکمہ پی ٹی سی ایل بھی کسی سے پیچھے نہیں اپنی تاروں کے جال بنانے شروع کر دیے ہیں انڈرگراونڈ کا مقصد فیل ہو چکا ان تمام مسائل کے حل کیلۓ وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ سے پرزور اپیل کی گیئ ہے کہ وہ اپنا ایک سرپرائز دورہ رکھیں اور شہر کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھیں