Pishin news

Pishin news public and social activities

اختلاف نہیں، آئین کی بات: مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کیوں زیرِ بحث ہے؟پاکستان کی سیاست میں بعض تقاریر محض جلسوں کا حصہ ...
15/07/2026

اختلاف نہیں، آئین کی بات: مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کیوں زیرِ بحث ہے؟

پاکستان کی سیاست میں بعض تقاریر محض جلسوں کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ قومی مکالمے کا رخ متعین کرتی ہیں۔ پنجاب ضلع قصور میں مولانا فضل الرحمٰن کی حالیہ تقریر بھی اسی نوعیت کی ایک تقریر ہے، جس نے سیاسی، آئینی اور قومی سلامتی سے متعلق کئی اہم سوالات کو دوبارہ زیرِ بحث لا کھڑا کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تقریر کے مجموعی پیغام پر سنجیدہ بحث کرنے کے بجائے اس کے چند جملوں کو سیاق و سباق سے الگ کرکے سوشل میڈیا پر پیش کیا گیا، اور ایک منظم انداز میں ایسا تاثر دیا گیا جیسے پوری تقریر کا مقصد صرف ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا تھا، حالانکہ مکمل تقریر کا مطالعہ اس تاثر کی تائید نہیں کرتا۔

مولانا فضل الرحمٰن کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے مؤقف پر علمی تنقید بھی کی جا سکتی ہے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ وہ پاکستان کے ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جو نصف صدی سے زائد عرصے سے پارلیمانی سیاست، آئینی جدوجہد اور جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔ ان کی گفتگو کا بنیادی وصف یہ ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو واضح، بے لاگ اور دلیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالفین بھی ان کی سیاسی بصیرت، پارلیمانی تجربے اور قومی معاملات پر گہری نظر کا اعتراف کرتے ہیں۔

قصور کی تقریر میں سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا جملہ وہ تھا جس میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ریاست نے دفاع، امن و امان اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے مخصوص ادارے قائم کیے ہیں، انہیں وسائل، اختیارات، تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں، تو پھر عام شہریوں سے یہ توقع کیوں رکھی جائے کہ وہ خود اسلحہ اٹھا کر لشکر تشکیل دیں اور مسلح گروہوں کے خلاف جنگ کریں؟ اس سوال کو بعض حلقوں نے جان بوجھ کر شہداء کی قربانیوں کی نفی یا دفاعی اداروں کی توہین کا رنگ دینے کی کوشش کی، حالانکہ مولانا کے الفاظ کا مرکزی نکتہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ جس فریضے کی ذمہ داری اور معاوضہ کسی ادارے یا شعبے کو دیا گیا ہے، اس کی ادائیگی بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو پورا کرنا کسی پر احسان نہیں بلکہ آئینی اور اخلاقی فرض ہے۔

یہ اصول صرف دفاعی اداروں تک محدود نہیں۔ ایک استاد نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے تنخواہ لیتا ہے، ایک ڈاکٹر مریضوں کے علاج کے لیے، ایک جج انصاف فراہم کرنے کے لیے، ایک انجینئر تعمیر کے لیے اور ایک پولیس اہلکار قانون نافذ کرنے کے لیے۔ ہم کبھی کسی مزدور سے دل کا آپریشن کرنے کی توقع نہیں رکھتے، نہ کسی مستری سے میزائل بنانے کی، نہ کسی ڈاکٹر سے پل تعمیر کرنے کی۔ اسی طرح عام شہری سے یہ توقع بھی غیر منطقی ہے کہ وہ ریاست کی جگہ مسلح کارروائیاں کرے یا اپنی حفاظت کے لیے نجی لشکر تشکیل دے۔ تقسیمِ کار ہی ہر مہذب ریاست کی بنیاد ہے، اور جب یہ اصول کمزور ہوتا ہے تو ادارہ جاتی ذمہ داریاں بھی دھندلا جاتی ہیں۔

مولانا کا اصل اعتراض بھی یہی تھا کہ اگر کہیں امن و امان کی صورتحال خراب ہے، اگر دہشت گردی بڑھ رہی ہے، اگر شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں، تو اس کی ذمہ داری عوام پر منتقل نہیں کی جا سکتی۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں، ریاستی اداروں کو وسائل فراہم کیے جاتے ہیں، دفاع اور داخلی سلامتی کے لیے قومی بجٹ مختص ہوتا ہے، اس لیے امن قائم رکھنا ریاست اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ناکامی کی صورت میں احتساب بھی اسی تناظر میں ہونا چاہیے، نہ کہ عوام کو موردِ الزام ٹھہرایا جائے۔

ان کی تقریر کا ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ریاست کے تمام ستونوں کو ان کے آئینی دائرۂ اختیار کی یاد دہانی کرائی۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے، پارلیمنٹ قانون سازی کرے، عدلیہ انصاف فراہم کرے، انتظامیہ نظم و نسق سنبھالے اور دفاعی ادارے ملکی سلامتی کو یقینی بنائیں۔ یہی آئین کا تقاضا ہے اور یہی جمہوری ریاست کا بنیادی اصول بھی۔

پختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے مولانا نے جو سوالات اٹھائے، وہ بھی محض سیاسی نعرے نہیں بلکہ وہاں کے عوام کے حقیقی خدشات اور احساسات کی ترجمانی ہیں۔ برسوں سے دہشت گردی، بدامنی اور جان و مال کے نقصانات کا سامنا کرنے والے علاقوں میں لوگ یہ سوال ضرور کرتے ہیں کہ امن کب بحال ہوگا اور ان کی جان و مال کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے۔ ان سوالات کو محض سیاسی مخالفت قرار دے کر نظر انداز کرنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ان پر قومی سطح پر سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے۔

افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ مولانا کی تقریر پر سب سے زیادہ اعتراض وہ حلقے کر رہے ہیں جن کی اپنی تقاریر، ویڈیوز اور بیانات میں ریاستی اداروں، خصوصاً فوج، پر اس سے کہیں زیادہ سخت زبان استعمال ہو چکی ہے۔ اس وقت انہی بیانات کو آزادیِ اظہار، جمہوری حق اور سیاسی تنقید قرار دیا جاتا تھا، لیکن آج اگر ایک سیاسی رہنما آئینی ذمہ داریوں اور ریاستی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے تو اسے غداری، اشتعال انگیزی یا اداروں کے خلاف مہم قرار دیا جاتا ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ قومی مکالمے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

سیاسی اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، کردار کشی، گالم گلوچ، تنخواہ دار پروپیگنڈے یا ویڈیوز کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے نہیں۔ کسی تقریر کے چند جملے نکال کر پوری گفتگو کا مفہوم بدل دینا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اگر مولانا کے کسی مؤقف سے اختلاف ہے تو اس کا جواب بھی آئین، قانون، حقائق اور اعدادوشمار کی بنیاد پر دیا جانا چاہیے، کیونکہ مضبوط دلائل ہمیشہ مضبوط قوموں کی پہچان ہوتے ہیں۔

پاکستان کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ الزام تراشی نہیں بلکہ قومی مکالمہ، ادارہ جاتی احتساب، آئینی بالادستی اور سیاسی برداشت ہے۔ اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اسے سنا جائے، تنقید کو دشمنی نہ سمجھا جائے، اور ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ریاست کو مضبوط، عوام کو مطمئن اور جمہوریت کو مستحکم بناتا ہے۔

ہمیں پرواہ نہیں کہ کتنے بیانات ہمارے خلاف دلوائے جائیں مولانا اسد محمود فرزند مولانا فضل الرحمٰن کا ٹویٹ
15/07/2026

ہمیں پرواہ نہیں کہ کتنے بیانات ہمارے خلاف دلوائے جائیں مولانا اسد محمود فرزند مولانا فضل الرحمٰن کا ٹویٹ

14/07/2026

جو لوگ مولانا فضل الرحمان صاحب کے خلاف منفی افواہیں پھیلا رہے ہیں اور عوام کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان سے صرف ایک سوال ہے:

اگر آپ کو چند جذباتی جملوں پر اعتراض ہے، تو پھر زیارت کے شہداء، کے پی کے اور بلوچستان کے مظلوم عوام کا درد کیوں نظر نہیں آتا؟ ان کے لیے آپ کی آواز کہاں ہے

مولانا فضل الرحمٰن نے صرف ایک کڑوا سچ بولا جس پر پنچاب کے چند لوٹے اعتراض کررے ہیں لشکر بنانا اور لڑنا ہمارا کام نہیں یہ آپ کا کام ہے عوام کی ٹکس کے پیسوں سے تنخوا آپ لیتے ہیں یہ آپ کی زمہ داری ہے

13/07/2026

قلعہ عبداللہ کا ممتاز سوشل میڈیا ایکٹوسٹ باری ماما کیلئے ایک جملہ..

یہ آپ کا اختیار ہے کہ جسے چاہیں حکومت دیں گے، جس سے چاہے حکومت چھین لیں گے، آپ نے سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، ال...
12/07/2026

یہ آپ کا اختیار ہے کہ جسے چاہیں حکومت دیں گے، جس سے چاہے حکومت چھین لیں گے، آپ نے سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجئے، پتہ چل جائے گا وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں، جے یو آئی امیر مولانا فضل الرحمان

کوئٹہ کوئلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنا گزشتہ چار دنوں سے مسلسل جاری ہے۔ یہ دھرنا زیارت میں دہشتگردی کے افسوسناک واقعے م...
12/07/2026

کوئٹہ کوئلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنا گزشتہ چار دنوں سے مسلسل جاری ہے۔ یہ دھرنا زیارت میں دہشتگردی کے افسوسناک واقعے میں 30 پولیس اہلکاروں کی شہـادت کے خلاف دیا جا رہا ہے، جہاں لواحقین اور مظاہرین انصاف اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دھرنے کے اہم مطالبات:
1- واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور بااختیار جوڈیشل کمیشن کا قیام۔
2- تمام پشتون علاقوں سے دہشتگردوں اور مسلح گروہوں کا مکمل خاتمہ اور مستقبل میں پائیدار امن و امان کی ضمانت۔
3- پورے صوبے سے ایف سی کے انخلا کا مطالبہ۔
4- پولیس میں ضم کی گئی لیویز فورس کی سابقہ حیثیت میں بحالی۔

زیارت دھرنا کمیٹی نے حکومتی وفد کو 8 مطالبات پیش کئے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں 👇1۔ مورخہ 6 جولائی 2026ء کو ضلع زیارت کی پ...
11/07/2026

زیارت دھرنا کمیٹی نے حکومتی وفد کو 8 مطالبات پیش کئے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں 👇
1۔ مورخہ 6 جولائی 2026ء کو ضلع زیارت کی پولیس فورس کے 42 اہلکاروں کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کچھ، ضلع زیارت اور سران کے درمیان واقع ایک سنسان اور غیر آباد علاقے میں موجود ایک خشک اور غیر استعمال شدہ پانی کی ٹینکی کی حفاظت کے بہانے تعینات کیا گیا۔ وہاں دہشت گردوں نے ان پر چاروں طرف سے حملہ کیا۔ پولیس اہلکاروں نے محدود وسائل اور صرف ایک ایک میگزین کے ساتھ انتہائی بہادری سے مقابلہ کیا۔ جب ان کا اسلحہ ختم ہو گیا تو انہوں نے بارہا ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام، انسدادِ دہشت گردی فورس (CTD) اور ایف سی، جو محض چند کلومیٹر کے فاصلے کچھ بازار پر موجود تھے، سے فوری مدد کی اپیل کی، مگر یہ ادارے اور ان کے سربراہان اخر تک ٹس سے مس نہ ہوئے، جس کے نتیجے میں ضلع زیارت کی تاریخ کا ایک نہایت المناک سانحہ پیش ہوا جس میں 30 پولیس فورس کے اہلکار شہید ہوئے۔
لہٰذا ہمارا پُرزور مطالبہ ہے کہ اس سانحے کی سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج یا ایک آزاد جوڈیشل کمیشن کے ذریعے مکمل، غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

2۔ ضلع زیارت اور متاثرہ علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کیا جائے اور آئندہ کے لئے دہشت گردوں کو دوبارہ نہ لانے کی ضمانت دی جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

3۔ لیویز فورس کو بحال کرکے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے، جدید وسائل، تربیت اور اختیارات فراہم کیے جائیں تاکہ مقامی سطح پر امن و امان کو مؤثر بنایا جا سکے۔

4۔ فرنٹیئر کور (FC) کو واپس بھیجا جائے

5۔ بلوچستان کے لیویز فورس کی بحالی کے بعد ان کےسیکورٹی بجٹ کو دگنا کیا جائے۔

6۔ شہداء پولیس فورس کے اہلِ خانہ کے لیے اعلان کردہ مالی معاوضہ کو دگنا کیا جائے۔

7۔ شہداء کے اہلِ خانہ، خصوصاً ان کے بچوں کو سرکاری ملازمتوں میں فوری بنیادوں پر روزگار فراہم کیا جائے۔

8۔ شہداء کے بچوں کو ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں مکمل طور پر مفت اور معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

کوئٹہ کوئلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنا گزشتہ تین روز سے مسلسل جاری ہے۔ یہ دھرنا زیارت میں دہشتگردی کے افسوسناک واقعے می...
11/07/2026

کوئٹہ کوئلہ پھاٹک پر جاری احتجاجی دھرنا گزشتہ تین روز سے مسلسل جاری ہے۔ یہ دھرنا زیارت میں دہشتگردی کے افسوسناک واقعے میں 30 پولیس اہلکاروں کی شہادت کے خلاف دیا جا رہا ہے، جہاں لواحقین اور مظاہرین انصاف اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دھرنے کے اہم مطالبات:
1- واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور بااختیار جوڈیشل کمیشن کا قیام۔
2- تمام پشتون علاقوں سے دہشتگردوں اور مسلح گروہوں کا مکمل خاتمہ اور مستقبل میں پائیدار امن و امان کی ضمانت۔
3- پورے صوبے سے ایف سی کے انخلا کا مطالبہ۔
4- پولیس میں ضم کی گئی لیویز فورس کی سابقہ حیثیت میں بحالی۔

کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے تحت متعدد نئے ا...
11/07/2026

کوئٹہ: حکومت بلوچستان نے صوبے میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے تحت متعدد نئے اضلاع، ڈویژنز، سب ڈویژنز اور تحصیلیں قائم جبکہ کئی علاقوں کی انتظامی حدود میں بھی تبدیلی کر دی گئی ہے۔ ذرائع بولتا بلوچستان کے مطابق، یہ اقدامات بلوچستان لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ضلع کوئٹہ کو ریلوے ٹریک کی بنیاد پر کوئٹہ ایسٹ اور کوئٹہ ویسٹ میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جبکہ مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل، قلات ڈویژن کو خضدار اور لسبیلہ ڈویژنز میں تقسیم اور متعدد نئے اضلاع، سب ڈویژنز اور تحصیلوں کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ اسی طرح مختلف اضلاع کے ہیڈکوارٹرز، انتظامی حدود اور پٹوار سرکلز میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
ذرائع بولتا بلوچستان کے مطابق، نوٹیفکیشن میں ضلع وڈھ، برشور، نارتھ ڈیرہ بگٹی، ساؤتھ ڈیرہ بگٹی سمیت کئی نئے انتظامی یونٹس کے قیام، بعض اضلاع و تحصیلوں کے ناموں میں تبدیلی اور متعدد سب تحصیلوں کو مکمل تحصیل کا درجہ دینے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بورڈ آف ریونیو کو ایک ماہ کے اندر علاقائی حدود کا جائزہ لے کر ضروری انتظامی ایڈجسٹمنٹس مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔

گلستان کلی فقیران کے قریب فائرنگ باچا خان شمشوزئی اور ان کا بیٹا زخمی زخمیوں کو ہسپتال منقل کردیا گیا واقعہ کی تفصلات تا...
11/07/2026

گلستان کلی فقیران کے قریب فائرنگ باچا خان شمشوزئی اور ان کا بیٹا زخمی زخمیوں کو ہسپتال منقل کردیا گیا
واقعہ کی تفصلات تاحال معلوم نہیں ہوسکی..

Address

Pishin

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pishin news posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Pishin news:

Shortcuts

Share