06/12/2021
اوکانوالہ
سائنس وٹیکنالوجی کے اس دور میں جب حضرت انسان چاند پر کمندیں ڈال چکا ہے یہ یقین کرنا انتہائی مشکل ہے کہ اس دور میں دنیا کے کچھ خطے ایسے بھی ہیں جہاں پتھر کا زمانہ اپنی پوری آ ب وتاب سے موجود ہے ارتقائی عمل ان خطوں کو چھو کر بھی نہیں گزرا اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں اب بھی ایسے دو سوسے زائد قبائل موجود ہیں جن کی زیادہ تر تعداد برازیل کے جنگلوں میں پائی جاتی ہے ایسے قبائل کو "ان کنڈکٹڈ پیوپل" دنیا سے منقطع لوگوں کا نام دیا گیا ہے ماہرین کا خیال ہے کہ ان قبائل کی اس قدر قطع تعلقی کی دو بڑی وجوہات ہیں پہلی یہ کہ یہ لوگ اپنی اقدار اور روایات کے ساتھ اس قدر شدت سے جڑے ہوئے ہیں کہ کسی بھی قیمت پر ان کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں دوسری یہ ہے کہ سائنسدان یہ چاہتے ہیں کہ ان قبائل کی اقدار کو سلامت ہی رہنے دیا جائے اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ترقی اور مادیت پرستی نے جہاں انسان کو آسائشیں فراہم کی ہیں تو وہیں پر ٹیکنالوجی کے استعمال نے بے سکونی کو بھی جنم دیا ہے ہمارا گاؤں اوکانوالہ گرچہ ان قبائل کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا لیکن اس کی حالت زار ویسے ہی منقطع لوگوں کی سی ہےوسطی پنجاب کے ضلع سرگودھا تحصیل ساہیوال کی یونین کونسل جہانیاں شاہ میں واقع یہ گاؤں اس قدر غیر معروف ہے کہ اس کے باسی جب بھی باہر کہیں اپنے آبائی گاؤں کے محل وقوع کا ذکر کریں تو لوگ ششدر رہ جاتے ہیں بڑے سے بڑے سیروسیاحت کے شوقین حضرات بھی اس کی موجودگی کے متعلق نہیں جانتے ہم سے اپنی یونین کونسل سے باہر جب بھی کوئی ہوم ٹاؤن کے متعلق دریافت کرتا ہے تو ہم کبھی فاروکہ، کبھی نہنگ یا پھر سیال شریف کا بتا کر کہتے ہیں کہ ان شہروں سے اتنے کلومیٹر دور فلاں سمت میں یہ واقع ہے آبادی کا تناسب بھی کچھ زیادہ نہیں ہے تاہم اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پیر قاسم شاہ صاحب کی پہلی کوششوں کو یاد رکھا جائے گا ان کے بعد محمد حیات موچی، سیٹھ اعجاز اور پھر دور حاضر میں عمر حیات عرف بھٹی نے بھی اس میدان میں جوہر دکھائے ہیں حال ہی میں ریلیز ہونے والی انڈین پنجابی فلم میں جس کلچر کو ہیرو کے چشم تصور میں دکھا کر یہ تاثر دیا گیا ہے کہ یہ واقعہ اور ماحول زمانہ ماضی سے تعلق رکھتا ہے ہمارا گاؤں اس کلچر کی حقیقی تصویر ہے ضرورت زندگی کے بشتروسائل یہاں پر ناپید نظر آتے ہیں دو سے تین کریانہ مرچنٹ کی دکانیں، کچے کمروں میں تمام تر لوازمات سے پاک قدرتی ماحول سے آ راستہ دو حجام کی دکانیں، دوعدد درزی اور استاد عطاء کی ایک صندوق پر مبنی پنکچر کی دکان اس گاؤں کی مجموعی ترقی کا کل سرمایہ ہیں ایک پرائمری سکول جو 1970 سے قائم شدہ ہے جس میں طلباء وطالبات کی تعداد ایک سو کا عدد کراس کر چکی ہے لیکن اتنے طلباء پر صرف دو ٹیچر تعینات کیے گئے ہیں ان میں بھی ایک ٹیچر کو بطور سزا اس علاقے میں بھیجا گیا ہے ایک زمانے تک ہمارے سکول سے پانچویں پاس کرنے کا معیار کوئی بورڈ یا پیک کا امتحان نہ تھا بلکہ جس نے استاد ظفر صاحب کی مار برداشت کر لی وہی کامیاب و کامران ٹھہرا یونس مل، جباربھٹی اور علی عون رضا شاہ اپنے دور کے ارتغرل مانے جاتے ہیں جنہوں نے استاد ظفر کی مار برداشت کرنے کے ریکارڈ قائم کیے طبی سہولیات کا یہ عالم ہے کہ بوقت ضرورت ڈسپرین اور پیناڈول جیسی عام گولیاں بھی مشکل سے میسر آتی ہیں ڈاکٹر فلک شیر جس نے میری معلومات کے مطابق شاید میٹرک بھی آرٹس مضامین میں پاس کی ہو اس کی تین قسم کی گولیوں والے شاپر سے سردرد سے لیکر عارضہ قلب میں مبتلا لوگوں نے بھی شفا پائی ہے ہلکے بخار سے ٹائفائیڈ تک، آشوبِ چشم سے موتیا چڑھنے تک، ہلکی کھانسی سے دمہ کی مرض تک اور معدے کے درد سے اپنڈکس کے پھٹنے تک لوگ ادھر ہی فلک شیر اور افضل کی خدمات سے افاقہ کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں یہ بھی ایک دلچسپ پہلو ہے کہ کوئی ڈاکٹر، ڈسپنسر اور میڈیکل سٹور نہ ہونے کے باوجود آج تک کسی مریض نے بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے وفات نہ پائی ہے اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے حد سے زیادہ سہولیات بھی انسان کو کمزور بنا دیتی ہیں بیس سے پچیس سال قبل ایک طرف سے ملحقہ برائے نام پکی سڑک کا ٹھیکہ شاید کسی ایسے غریب ٹھیکیدار کے حصے میں آ یاتھا جس کے پاس مشینری یا لیبر کی قلت ہو گی اس کی پھینکی گئی بجری اس کے جانے کے صرف ایک ماہ بعد باآسانی جھاڑو سے اکٹھی کی جا سکتی تھی اس سڑک پر دو سے تین دفعہ سفر کرنے سے گردے کی پتھری باآسانی مثانے تک سرایت کر جاتی ہے دوسری طرف نہر والی سڑک آ ج تک کسی شیرشاہ سوری کی منتظر پڑی ہے برسات کے دنوں میں نہر والی طرف سے یہ زمینی راستہ بھی منقطع ہو جاتا ہے کسی خوشی یا غم کے موقع پر اگر کسی کا مہمان راستہ پوچھتے ہوئے غلطی سی پہنچ بھی جائے تو وہ آ تے ہی آ ئندہ کے لیے معذرت کر لیتا ہے زیادہ تر لوگ تو اس نام پر ہی چونک جاتے ہیں میری دوسری نوکری کے انٹرویو کے دوران مجھ سے ڈپٹی ڈی ای او نے اس کےغیر معمولی نام کی وجہ تسمیہ بھی پوچھ لی تاہم یہاں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے کہ اوکانوالہ کے نام سے ضلع خانیوال کبیر والا کے علاقے میں بھی ایک شہر آباد ہے جو ترقی کے لحاظ سے بڑے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں یونین کونسل کے ساتھ ساتھ ہائیر سیکنڈری سکول اور بڑی مارکیٹیں بھی دستیاب ہیں انتخابات کے دنوں میں یہاں کچھ حضرات گاڑیاں دوڑاتے ہوئے پہلی اور آخری دفعہ ناگواری سے تشریف لاتے ہیں اور پھر ووٹ دے کر ہم ان کی راہ تکتے رہ جاتے ہیں میں نے کئی دفاتر میں لگے مقامی نقشوں کو بغور دیکھا ہے مجھے اپنے گاؤں کا نام شاذونادر ہی نظرآیا ہے گوگل سرچ پہ جائیں تو کسی دل جلے نے اس شہرگمنام کو "شہر خاموشاں" کانام دے دیا ہے
ہمارے گاؤں کے بزرگ اس امید کے ساتھ رخصت ہوئے کہ ہماری اگلی نسل شاید اس گاؤں میں زندگی کی بنیادی ضروریات سے استفادہ کر سکے گی اب ہمارے بالوں کی سفیدی بھی اس بات کی منتظر ہے کہ شاید ہم سے اگلی نسل وہ سنہرے دن دیکھ پائے گی۔ دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارا گاؤں نہ تو ایمازون کے گھنے جنگلوں میں آ باد ہے اور نہ ہی برازیل کے کسی دور افتادہ علاقوں میں واقع ہے نہ ہمارے بڑے اپنی روایات پر اس قدر فریفتہ ہیں کہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوں اور نہ ہی سائنس دانوں کا ہمارے گاؤں کے متعلق ایسا کوئی نظریہ سامنے آ یا ہے کہ اس گاؤں کے قدرتی ماحول کو نہ چھیڑا جائے تو پھر ہم پچھلی دونسلوں سے موجودہ ترقی یافتہ دور تک پتھر کے زمانے میں کیوں جی رہے ہیں؟ ارباب اختیارکو ہماری حالت زار سے اس قدر بیزاری کیوں ہے؟
Written by:
محمد عمر
دسمبر 2021