mujahid bhatti officials

mujahid bhatti officials mujahid Hussain from mahra khas punjab Pakistan
I am video creator

01/02/2026
رمضان المبارک اگلے مہینے آ رہا ہے۔یہ وقت ہے کہ:• قضا روزے ادا کریں• اگر ضرورت ہو تو فدیہ ادا کریں• بقایا زکوٰۃ ادا کریں•...
01/02/2026

رمضان المبارک اگلے مہینے آ رہا ہے۔

یہ وقت ہے کہ:

• قضا روزے ادا کریں
• اگر ضرورت ہو تو فدیہ ادا کریں
• بقایا زکوٰۃ ادا کریں
• اپنے قرض ادا کریں / جس کا حق ہے اسے واپس کریں
• جن لوگوں کا دل دکھایا اُن سے معافی مانگیں
• پانچوں نمازوں کی پابندی درست کریں
• قرآنِ پاک کی تلاوت شروع کریں، چاہے تھوڑی ہی کیوں نہ ہو
• جاری گناہوں سے سچی توبہ کریں
• فضول مشغلے کم کریں (موسیقی، زیادہ اسکرولنگ، غیبت وغیرہ)
• رمضان کے لیے خالص نیت کریں

اللّٰهُمَّ بَلغنَا رَمَضَان 🥹🫀
یا اللہ! ہمیں رمضان تک پہنچا دے

بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی 🥺*‎‎*کچھ لوگ بیٹوں کے لیے روتے ہیں کہ بیٹا ہونا چاہیے... بیٹا ہونا چاہیے...*🙃🥲‎* ہونا چاہیے مگر دھ...
16/07/2025

بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی 🥺*

‎*کچھ لوگ بیٹوں کے لیے روتے ہیں کہ بیٹا ہونا چاہیے... بیٹا ہونا چاہیے...*🙃🥲
‎* ہونا چاہیے مگر دھیان رکھیں بیٹے چار بھی ہوں تو ضروری نہیں کہ تمہیں ٹھنڈا پانی ملے گا**🥹🤔

‎*ہاں لیکن بیٹی ایک بھی ہوئی تو تم نے ٹھنڈا پانی ضرور ملے گا*💗😍

‎*لیکن پتہ نہیں پھر بھی ہمارا معاشرہ بیٹیوں کو بوجھ کیوں کہتا ہے کوئی بتائے انہیں کہ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی بہت خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جن کی پہلی اولاد بیٹی ہوتی ہے*💖

چور پڑوسی*‎‎.ایک شخص بیان کرتا ہے کہ: میرے والد ایک بوڑھے شیخ تھے، جن کے ہاں دیر تک کوئی اولاد نہ ہوئی۔ پھر ایک وقت آیا ...
14/07/2025

چور پڑوسی*

‎.ایک شخص بیان کرتا ہے کہ: میرے والد ایک بوڑھے شیخ تھے، جن کے ہاں دیر تک کوئی اولاد نہ ہوئی۔ پھر ایک وقت آیا جب میں پیدا ہوا۔
‎والد ہمیشہ میرے مستقبل کے بارے میں سوچتے رہتے اور کہتے:
‎میں بوڑھا آدمی ہوں اور میری بیوی بھی بڑی عمر کی ہے، میرے بعد میرے بیٹے کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ کہتا ہے:
‎ایک رات کی بات ہے، ان دنوں مکان کچی مٹی کے ہوتے تھے اور بارش کا موسم تھا۔ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
‎میرے والد لیٹے ہوئے تھے، دیکھا تو ہمارا پڑوسی تھا۔ بارش کی وجہ سے اُس کا سارا گھر گر گیا تھا اور وہ مدد مانگنے آیا تھا۔
‎والد نے تکیے کے نیچے سے ایک تھیلی نکالی، اور آدھی رقم اُس پڑوسی کو دے دی، باقی آدھی تھیلی میں رکھ کر دوبارہ تکیے کے نیچے رکھ دی۔
‎پڑوسی غور سے اس جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں والد نے تھیلی رکھی۔
‎پڑوسی نے دل میں کہا:
‎میں باقی رقم کیسے حاصل کر سکتا ہوں کہ میرے پڑوسی کو خبر نہ ہو؟
‎وہ شیطانی منصوبہ سوچنے لگا، لیکن اُسے خبر نہ تھی: کہ ہر خیال ربِ جبار کی نگاہ میں ہوتا ہے!
‎پڑوسی نے دل میں کہا: میں بچے کو رات کے وقت گھر سے باہر نکال دوں گا، جب وہ رونے لگے گا تو ماں اسے سن کر باہر نکلے گی، اُس کے پیچھے باپ بھی چلا جائے گا۔
‎پھر میں گھر میں داخل ہوکر اُس بوڑھے کو مار ڈالوں گا اور ساری رقم لے جاؤں گا۔
‎اس نے ایسا ہی کیا۔
‎جب بارش برسنے لگی، بچہ باہر رو رہا تھا۔
‎ماں نے آواز سنی تو شوہر سے کہا:
‎“میرا بیٹا گھر سے باہر رو رہا ہے! وہ تو خود سے چل بھی نہیں سکتا، باہر کیسے گیا؟ آؤ اسے لے آئیں۔شوہر نے کہا: تم جاؤ، اور لے آؤ۔
‎ماں نے کہا: نہیں! میں محسوس کر رہی ہوں کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ ہمارا بیٹا تو چل نہیں سکتا، باہر کیسے گیا؟ وہ ضد کرنے لگی اور آخرکار دونوں باہر چلے گئے۔
‎اسی دوران وہ پڑوسی چوری کے ارادے سے گھر میں داخل ہوا۔
‎ادھر میاں بیوی بچے کو کھیت کے آخری کنارے سے اٹھا کر واپس لوٹے،
‎تو دیکھا کہ ان کا گھر گر چکا ہے اور چھت زمین بوس ہو چکی ہے!
‎وہ سمجھ گئے:
‎فرشتوں نے بچے کو باہر نکالا تاکہ ہم اس گرنے والے مکان میں مرنے سے بچ جائیں۔
‎رات انہوں نے ایک اور پڑوسی کے گھر گزاری۔
‎لیکن اگلی صبح ایک زبردست حیرت ان کی منتظر تھی!
‎جب وہ اپنے گھر سامان لینے واپس گئے،
‎تو کیا دیکھتے ہیں؟
‎پڑوسی چور گھر میں مردہ پڑا ہے، اور اُس کے ہاتھ میں وہی رقم کی تھیلی ہے جسے وہ چرانا چاہتا تھا۔
‎سبحان اللہ!
‎اس نے منصوبہ بنایا، لالچ کیا، لیکن جب اُس کا ظلم اپنے عروج کو پہنچا،اللہ تعالیٰ نے اُسے پکڑ لیا اور ہلاک کر دیا!
‎{وَاللّٰهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ}
‎اور اللہ تعالی بہترین تدبیر فرمانے والا ہے۔
‎(الأنفال آیۃ:۳۰)
‎*📌پیغام حکایت:*
‎جو دوسروں کے لیے گڑھا کھودتا ہے، وہ خود اُس میں گرتا ہے۔ اور اللہ کی تدبیر ہر چال پر غالب ہے بے شک نیتوں کو وہ جانتا ہے جو دلوں کے رازوں کا عالِم ہے۔

‎اگر آپ نے تحریر مکمل پڑھ لی تو ری ایکٹ کریں، شیئر کریں اور ایسی مزید تحاریر کے لیے ہمارے چینل کو فالو کریں۔

اشفاق صاحب لکھتے ہیں‎‎مجھے وہ بات یاد آرہی ہے جو شاید میں نے ٹی وی پر ہی سنی ہے کہ ایک اخبار کے مالک نے اپنے اخبار کی اس...
13/07/2025

اشفاق صاحب لکھتے ہیں

‎مجھے وہ بات یاد آرہی ہے جو شاید میں نے ٹی وی پر ہی سنی ہے کہ ایک اخبار کے مالک نے اپنے اخبار کی اس کاپی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے۔

‎ جس میں دنیا کا نقشہ تھا اور اس نقشے کو 32 ٹکڑوں میں تقسیم کردیا اور اپنے پانچ سال کے کمسن بیٹے کو آواز دے کر بلایا اور اس سے کہا کہ لو بھئی یہ دنیا کا نقشہ ہے جو ٹکڑوں میں ہے، اس کو جوڑ کر دکھاؤ۔ اب وہ بیچارہ تمام ٹکڑے لے کر پریشان ہوکے بیٹھ گیا۔

‎ کیونکہ اب سارے ملکوں کے بارے میں کہ کون کہاں پر ہے، میرے جیسا بڑی عمر کا آدمی بھی نہیں جانتا ہے۔ وہ کافی دیر تک پریشان بیٹھا رہا لیکن کچھ دیر بعد اس نے تمام کا تمام نقشہ درست انداز میں جوڑ کر اپنے باپ کو دے دیا۔ اس کا باپ بڑ ا حیران ہوا اور کہا کہ بیٹا مجھے اس کا راز بتا کیونکہ اگر مجھے اس نقشے کو جوڑنا پڑتا تو میں نہیں جوڑ سکتا تھا۔

‎اس پر اس لڑکے نے کہا کہ بابا جان میں نے دنیا کا نقشہ نہیں جوڑا بلکہ نقشے کے دوسری طرف سیفٹی بلیڈ کا ایک اشتہار تھا ۔

‎اور اس میں ایک شخص کا بڑا سا چہرہ تھا جو شیو کرتا دکھایا گیا تھا۔ میں نے سارے ٹکڑوں کو الٹا کیا اور اس آدمی کو جوڑنا شروع کیا اور چار منٹ کی مدت میں میں نے پورا آدمی جوڑ دیا۔ اس لڑکے نے کہا کہ

‎ "بابا اگر آدمی جڑ جائے تو ساری دنیا جڑ جائے گی۔

‎(’’زاویہ 2‘‘ از اشفاق احمد سے اقتباس)

ہارٹ اٹیک کیسے ہوتا ہے؟* ‎‎*مکمل حقیقت، علامات، علاج، اور احتیاطی تدابیر 🫀* ‎‎دل انسان کے جسم کا سب سے محنتی اور نازک عض...
12/07/2025

ہارٹ اٹیک کیسے ہوتا ہے؟*

‎*مکمل حقیقت، علامات، علاج، اور احتیاطی تدابیر 🫀*

‎دل انسان کے جسم کا سب سے محنتی اور نازک عضو ہے۔
‎یہ دن رات بغیر رکے خون کو جسم کے کونے کونے تک پہنچاتا ہے، لیکن جب یہی دل خون سے محروم ہو جائے، تو ایک شدید خطرہ جنم لیتا ہے، جسے ہم "ہارٹ اٹیک" کہتے ہیں۔

‎دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں کو کورونری آرٹریز کہتے ہیں۔
‎جب ان میں کولیسٹرول یا چکنائی جم جائے تو شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں، اور خون بہاؤ میں رکاوٹ آ جاتی ہے۔
‎جب یہ رکاوٹ اتنی بڑھ جائے کہ خون مکمل طور پر رک جائے، تو دل کے ایک حصے کو آکسیجن نہیں ملتی، اور وہاں درد اور خلیوں کی موت شروع ہو جاتی ہے۔
‎اسی حالت کو ہارٹ اٹیک کہتے ہیں۔

‎دل مسلسل پمپ کرتا ہے، مگر اگر اسے خود ہی خون نہ ملے، تو وہ پمپنگ کا عمل متاثر کر دیتا ہے، جس سے جان لیوا صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

‎🔴 ہارٹ اٹیک کی عام علامات:
‎▪️ سینے میں دباؤ، جکڑن یا شدید درد جو گردن، جبڑے، بائیں بازو یا کمر تک جا سکتا ہے۔
‎▪️ ٹھنڈا پسینہ
‎▪️ سانس پھولنا
‎▪️ قے، متلی یا بدہضمی کی کیفیت
‎▪️ تیز دھڑکن یا دل کا زور زور سے دھڑکنا
‎▪️ چکر آنا یا بے ہوشی

‎⚠️ خطرے میں کون لوگ ہوتے ہیں؟
‎▪️ شوگر، ہائی بلڈ پری

اہم اطلاع – سب دوستوں سے گزارش ہے کہ لازمی پڑھیں اور آگاہ رہیں 🚨ذرا تصور کریں:آپ کو اچانک کسی واٹس ایپ گروپ میں شامل کر ...
10/07/2025

اہم اطلاع – سب دوستوں سے گزارش ہے کہ لازمی پڑھیں اور آگاہ رہیں 🚨ذرا تصور کریں:
آپ کو اچانک کسی واٹس ایپ گروپ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ وہاں کوئی شخص توہین آمیز مواد شیئر کرتا ہے۔ آپ پریشان ہو کر گروپ ایڈمن کو میسج کرتے ہیں:
“براہ کرم چیک کریں کہ گروپ میں کیا بھیجا جا رہا ہے۔”

ایڈمن کہتا ہے:
“مجھے وہ میسج نظر نہیں آیا، آپ مجھے فارورڈ کر دیں۔”
آپ سادہ لوحی یا نیکی سمجھ کر وہ مواد فارورڈ کر دیتے ہیں۔

😨 کچھ دن بعد آپ پر FIA کی جانب سے دفعہ 295C کے تحت مقدمہ درج ہو جاتا ہے۔
الزام؟
توہین آمیز مواد سوشل میڈیا پر پھیلانا۔

آپ چونک جاتے ہیں، صدمے میں ہوتے ہیں، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

📛 یہی طریقہ استعمال کر کے 400 سے زائد نوجوانوں کو پھنسایا گیا ہے۔
اکثر کا تعلق مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس گھرانوں سے ہے۔ کئی سالوں سے جیلوں میں بند ہیں، نہ ضمانت، نہ انصاف۔

اور یہ سب ایک خاتون کی چال تھی، جو معصوم نوجوانوں کو ہنی ٹریپ کرتی ہے، اور اُن کے ہاتھوں خود ہی مواد پھیلوا کر اُن کے خلاف مقدمات درج کرواتی ہے
📢 عوام سے گزارش ہے:

❌ کبھی بھی کوئی مشکوک، گستاخانہ یا متنازعہ مواد آگے فارورڈ نہ کریں – چاہے نیکی کی نیت سے کیوں نہ ہو۔
⚠️ اگر کسی گروپ یا فرد سے ایسا مواد آئے تو:
1️⃣ خاموشی سے گروپ چھوڑ دیں
2️⃣ اس شخص کو بلاک کر دیں
3️⃣ اگر رپورٹ کرنا چاہیں تو اسکرین شاٹ یا لنک محفوظ رکھیں، خود مواد نہ فارورڈ کریں

🛑 یاد رکھیں:
قانون نیت نہیں، عمل دیکھتا ہے۔
آپ کی نیت ٹھیک ہو سکتی ہے، لیکن فارورڈ کیا گیا مواد آپ کو مجرم بنا سکتا ہے۔

🙏 یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔
شاید آپ کا ایک میسج کسی کو جیل جانے سے بچا لے۔

*وہ لڑکا جس نے کتے کو کھانا کھلایا*ایک دن عمر بن عبید اللہ جو اپنے سخاوت اور فیاضی کے لیے مشہور تھے، باہر نکلے۔ راستے می...
09/07/2025

*وہ لڑکا جس نے کتے کو کھانا کھلایا*ایک دن عمر بن عبید اللہ جو اپنے سخاوت اور فیاضی کے لیے مشہور تھے، باہر نکلے۔ راستے میں ان کا گزر ایک باغ کے قریب سے ہوا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک غلام باغ کی دیوار کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور کھانا کھا رہا ہے۔
اسی دوران ایک کتا اس کے قریب آیا، تو وہ لڑکا ایک نوالہ خود کھاتا اور ایک کتے کو ڈال دیتا۔
عمر بن عبید اللہ اس منظر کو حیرت سے دیکھتے رہے۔ انہوں نے اس غلام سے پوچھا:
کیا یہ کتا تمہارا ہے؟ لڑکے نے جواب دیا: نہیں۔
عمر نے پوچھا: تو تم اسے اپنے جیسا کھانا کیوں کھلا رہے ہو؟ لڑکے نے جواب دیا: میں شرم محسوس کرتا ہوں کہ کوئی مجھے کھاتے دیکھے اور میں اسے کچھ نہ دوں۔
یہ بات عمر کو بہت پسند آئی۔
انہوں نے پوچھا:
“کیا تم آزاد ہو یا غلام؟
لڑکے نے کہا: میں اس باغ کے مالکوں کا غلام ہوں۔ عمر بن عبید اللہ واپس چلے گئے، پھر کچھ دیر بعد لوٹ کر آئے اور اس لڑکے سے کہا:
“خوش ہو جاؤ، اللہ نے تمہیں آزاد کر دیا ہے اور یہ باغ بھی اب تمہاری ملکیت ہے۔
لڑکا خوشی اور اطمینان سے بولا:
میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس باغ کے تمام پھل مدینے کے غریبوں کے لیے وقف کر دیے ہیں۔
عمر حیرت سے بولے: تم یہ سب کچھ اپنی غربت اور حاجت کے باوجود کر رہے ہو؟
لڑکے نے یقین اور ایمان کے ساتھ جواب دیا:
“میں اللہ سے شرم محسوس کرتا ہوں کہ وہ مجھے کچھ عطا کرے اور میں اس میں بخل سے کام لوں۔
*📌پیغامِ حکایت:*
دل کا سخی ہونا مالداری سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
وہ لڑکا تھا تو غلام لیکن اس کا ظرف بادشاہوں جیسا تھا۔ بے شک جس دل میں رحم ہو، وہی دل اللہ کو محبوب ہوتا ہے اور اللہ کی راہ میں دینے والا کبھی محروم نہیں رہتا

مجھے یہاں تک پہنچانے والی میری ماں ہے*_ 🥀ایک مجرم کہ جو ڈکیت بھی تھا اور کئی قتل بھی کر چکا تھا پکڑا گیا عدالت میں کیس چ...
08/07/2025

مجھے یہاں تک پہنچانے والی میری ماں ہے*_ 🥀
ایک مجرم کہ جو ڈکیت بھی تھا اور کئی قتل بھی کر چکا تھا پکڑا گیا عدالت میں کیس چلا اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزاۓ موت سنا دی گئی پھانسی سے پہلے اس سے اسکی آخری خواہش پوچھی گئی تو اسنے کہا مجھے اپنی ماں سے ملنا ہے تو اسکی خواہش کے مطابق اسکی ماں کو بلوایا گیا جب ماں اپنے بیٹے سے ملنے گئی تو بیٹے کے گلے لگ کر رونے لگی
اس دوران ایک عجیب واقعہ ہوا بیٹے نے ماں کے کان کو دانتوں سے زور سے کاٹنا شروع کر دیا ماں چلانے لگی بڑی مشکل سے ماں کو چھڑایا گیا وہاں موجود تمام لوگ بیٹے کی اس حرکت پر حیران تھے اور اس ڈاکو سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی تو اس ڈاکو نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ سنایا میں جب چھوٹا تھا تو بہت شرارتی تھا اکثر لوگوں کو تنگ کیا کرتا تھا مگر میری ماں مجھے کچھ بھی نا کہتی ایک بار میں نے ایک پڑوسی کی کوئی چیز چرالی اس پڑوسی کو پتہ چل گیا وہ شکایت لیکر میرے گھر آگئے تو میری ماں نے بجاۓ مجھے ڈانٹنے سمجھانے کے مجھے اپنے پیچھے چھپا لیا اور اس پڑوسی سے لڑنے لگی اسے برا بھلا کہنے لگی پڑوسی بیچارہ اپنی عزت بچا کے چلا گیا حالانکہ میری ماں اچھی طرح جانتی تھی کہ میں نے چوری کی ہے مگر ماں نے مجھے ایک لفظ نا کہا اور میرا منہ ہاتھ دھلا کے مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے لگی بس اس دن سے میرا حوصلہ بڑھ گیا پہلے میں چور بنا پھر ڈکیت پھر قاتل اور آج میں اس پھانسی کے پھندے تک پہنچ گیا اور مجھے یہاں تک پہنچانے والی میری ماں ہے اگر اس وقت مجھے سمجھایا جاتا کہ یہ کام غلط ہے تو میں آج اس انجام کو نا پہنچتا اور پھر اس ڈکیت کو پھانسی دے دی گئی اور آج جب میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں تو مجھے اسی قسم کی ہی مائیں نظر آتی ہیں حد تو یہ کہ اسکول میں استاد بھی اگر کسی غلط حرکت پر ڈانٹ دے تو فوراً گھر سے شکایت آجاتی ہے اور اسکول انتظامیہ کو تو فیسوں کی فکر بچوں کی تعلیم و تربییت سے زیادہ ہوتی ہیں تو وہ بھی بچوں کو منہ پر انگلی رکھنے کے بجاۓ ٹیچرز کو منہ پر انگلی رکھنے کا کہہ دیتے ہیں اور مجھے یہ سب دیکھ کر خوف آتا ہے کہ آگے چل کر ہمیں کس قسم کا معاشرہ دیکھنے کو ملے گا اللہ تعالی سے عاجزانہ دعا ہے کہ وہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں پر رہنمائی فرماۓ آمین🤲🏼

*یومَ عاشورہمحرم الحرام میں نواسہ رسولﷺ کی عظیم قربانی دراصل ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ حق کی راہ میں کھڑے ہونے والے ہی رہ...
06/07/2025

*یومَ عاشورہ

محرم الحرام میں نواسہ رسولﷺ کی عظیم قربانی دراصل ہمارے لیے مشعل راہ ہے کہ حق کی راہ میں کھڑے ہونے والے ہی رہتی دنیا تک زندہ رہتے ہیں جبکہ باطل کے پیروکار مٹ جاتے ہیں اور رسوائی کا نشان بن جاتے ہیں.
عاشورا حقیقت کے ذریعے طاقت پر غلبے، انصاف کے ذریعے استبداد پر فتح اور ایثار و فداکاری کے ذریعے ظلم پر کامیابی کا ابدی ثبوت ہے۔

عاشورا وہ دن ہے جب حضرت امام حسین ؓ نے میدان کربلا میں حق و باطل، علم و جہل، رضائے الٰہی اور خواہشات نفسانی کے درمیان حد فاصل قائم کرنے والی وہ عظیم و بے مثال قربانی پیش کی کہ محرم الحرام کی نسبت ہی امام عالی مقام سے ہوگئی۔

حضرت امام حسین ؓ کی ذات اقدس اور ان کا مقصد شہادت اتنا بلند ہے کہ ضروری نہیں ہر ذہن ان فضائل، مراتب اور راہ خدا میں اس بے مثال قربانی کا احاطہ کرسکے، جو خاندان نبوت نے میدان کربلا میں پیش کی۔

یومِ عاشور جہاں امام عالی مقام اور ان کے عظیم رفقاء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے وہیں یہ دن ہمیں اس بات کا بھی احساس دلاتا ہے کہ ہم واقعہ کربلا کی اصل روح اور پیغام کو دلی طور پر سمجھیں اورحضرت امام حسین ؓ کی جانب سے ایثار و قربانی کی لازوال مثال پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہونے کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کریں۔

امّی! مجھے کالج کے لیے دیر ہورہی ہے، جلدی سےناشتا لگادیں۔‘‘ ڈائننگ روم سے بیٹی کی بلند آواز آئی، تو پسینے میں بھیگا ہو...
05/07/2025

امّی! مجھے کالج کے لیے دیر ہورہی ہے، جلدی سےناشتا لگادیں۔‘‘ ڈائننگ روم سے بیٹی کی بلند آواز آئی، تو پسینے میں بھیگا ہوا وجود عجلت میں روٹیاں سینکنے لگا۔

دوسری طرف چائے کا پانی اُبل کر چولھے سے باہر گر رہا تھا۔ ’’مما! جلدی سے لنچ باکس دے دیں، ورنہ اسکول بس نکل جائے گی۔‘‘ چھے سالہ ننّھے روحان کی آواز سن کر اُس کے ہاتھ مزید تیزی سے چلنے لگے۔ ’’ابھی لائی بیٹا، بس دو منٹ صبر رکھو۔‘‘ وہ جلدی سے چائے تھرماس میں انڈیلتے ہوئے بولی۔

تھوڑی سی چائے ہاتھ پر بھی گرگئی، مگر پروا کس کو تھی؟’’ارے فوزیہ! میری گھڑی نہیں مل رہی، ذرا آکر دیکھ دو ناں۔‘‘ کمرے سے شوہر کی آواز آئی تو وہ ہاتھ کی پشت سے پسینہ صاف کرتے ہوئے بولی۔ ’’نعمان! ڈریسنگ ٹیبل کے بائیں طرف والی دراز میں دیکھیں، مَیں نے وہیں رکھی تھی۔‘‘’’اچھا، ٹھیک ہے۔‘‘وہ جھنجھلاتے ہوئے بولے اور واپس مُڑ گئے۔ ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ عُمر کچن میں آ دھمکا۔ ’’امّی! میری شرٹ کا بٹن ٹوٹ گیا ہے۔‘‘ ’’اوہ بیٹا! ثناء سے کہہ دو۔‘‘ وہ انڈا پلیٹ میں نکالتے ہوئے بولی۔

عُمر منہ بسورنے لگا۔ ’’امّی! وہ کہہ رہی ہے کہ مَیں تمہاری نوکر نہیں ہوں۔‘‘ ’’اچھا دکھاؤ۔‘‘ فرائنگ پین چولھے پر رکھتے ہی اُس نے سوئی، دھاگا لیا اور بٹن ٹانکنے لگی۔ سوئی کی نوک انگلی میں چُبھ گئی۔ ’’آہ…!‘‘ ’’امّی! آپ کی انگلی میں لگ گئی ہے... رہنے دیں، شرٹ پرداغ لگ جائے گا۔‘‘ عُمر نے پریشانی سے کہا۔ ’’نہیں بیٹا! بس ہوگیا۔‘‘ ’’چھوڑیں امّی! مَیں دوسری شرٹ پہن لیتا ہوں۔‘‘ وہ ماں کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے چلا گیا اور وہ اُس کی پشت کو ایک نظر دیکھ کر پھر چولھے کی طرف پلٹی۔

’’فوزیہ! امّی کو دوا دے دی ہے؟‘‘ نعمان صاحب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے بولے۔’’بس ابھی دینے جا ہی رہی تھی...‘‘وہ ناشتا لگاتے ہوئے بولی۔ ’’ابھی دینےجا رہی تھی؟ فوزیہ! ڈاکٹر نے کہا ہے کہ وقت پر دوا دینا ضروری ہے، اور ایک تم ہو...!‘‘ وہ غصّے سے چنگھاڑتے ہوئے کرسی سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

وہ ہڑبڑا کر بولی۔’’نعمان! ناشتا تو کرلیں، مَیں ابھی دوا دے دیتی ہوں۔‘‘ ’’چھوڑو یہ نیک بہو بننے کا ناٹک! مَیں سب جانتا ہوں، میری ماں تمہارے لیے بوجھ ہے۔‘‘ ’’نعمان! آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟‘‘ وہ ساکت نظروں سے اُنھیں دیکھنے لگی۔ اُس نے ہمیشہ اپنی ساس کی خدمت ماں سمجھ کر کی تھی، اور آج اُس کا شوہر ہی اُس کی نیت پر شک کر رہا تھا۔

اُس کی سوچ ثناء کی آواز نے توڑی۔ ’’مما! بابا، دادی کو دوا کھلانے چلے گئے ہیں، آپ مجھے ناشتا دے دیں، یا مَیں بھی بھوکی ہی چلی جاؤں۔‘‘ وہ چونک کر بیٹی کی طرف متوجّہ ہوئی اور جلدی سے اُس کے لیے ناشتا لے کر آئی۔ ’’مما! یہ کیا ہے؟ وہی ہر روز والا انڈا، پراٹھا۔ مما! آپ کو پتا ہے، میری سب فرینڈز ہیلتھی ڈائٹ لیتی ہیں اور مَیں...؟‘‘ ثناء بدتمیزی سے کہتی ہوئی میز سے اُٹھی اور زور سے دروازہ بند کرتی ہوئی کالج کے لیے روانہ ہوگئی۔ ننّھا روحان بھی گھر کی فضا دیکھ کر خاموشی سے بغیر کچھ کھائے اسکول کے لیے روانہ ہو گیا۔ اور وہ…؟

وہ آئینے کےسامنے کھڑی، اپنا عکس دیکھ رہی تھی… بکھرے بال، اُلجھی سانسیں، پسینہ زدہ چہرہ… ایک عورت جو شوہر، بچّوں اورگھر بارکے لیے اپنا آپ کھپا چُکی تھی، مگر سب کے لیے ’’گُلِ ناآشنا‘‘ ہی رہی۔ ایسا گُل، جو کِھل کر بھی پہچانا نہ گیا، چہار سُو محبّتیں بانٹ کربھی محبّت کا مستحق نہ ٹھہرا۔

ازقلم:: 🖋

Address

Mahra Khas Punjab
Punjab
<MAHRAKHASPUNJABPAKISTAN

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when mujahid bhatti officials posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share