08/07/2026
صحیح بخاری: 528)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
"اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہے گا؟"
صحابہ نے عرض کیا: "نہیں، اس کا کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا۔"
آپ ﷺ نے فرمایا: "یہی مثال پانچوں وقت کی نمازوں کی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔"
خلاصہ:
حضور علیہ السلام کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے، اور نماز کی قبولیت کا راز یہی ہے کہ ہم اسے بالکل اسی طریقے سے ادا کریں جیسے پیارے نبی ﷺ نے سکھایا۔