02/10/2025
انسانیت کے ماتھے کا جھومر
وہ کبھی فرانس کی پھول جیسی دلکش اور نازک اداکارہ تھی، مگر آج چہرے کی تازگی مرجھا چکی ہے۔ اس کے ریشمی بال اب کسی مکرانی خاتون کی طرح الجھے ہوئے۔ دو ہفتوں کے مسلسل سمندری سفر، ہچکولوں، سی سیکنس، بے آرامی اور نیند سے محرومی نے اسے بالکل بدل ڈالا ہے۔ شاید ہی کوئی پہچان پائے کہ یہ وہی اڈیل ہینل (Adèle Haenel) ہے، جس نے Portrait of a Lady on Fire جیسی فلم سے عالمی شہرت حاصل کی تھی۔ پیرس کی اس شہزادی نے کم عمری ہی میں فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا اور دو بار "سیزر ایوارڈ" کی فاتح بنی۔ اس کا شمار فرنچ سینما کے نمایاں اور تیزی سے ابھرتے ہوئے ستاروں میں ہوتا تھا۔
مگر چند ماہ پہلے ہی اس نے خاموشی سے شوبز کی چکاچوند کو خیر باد کہہ دیا۔ کیوں؟ اس نے ایک ویڈیو دیکھی تھی، غزہ کے معصوم بچوں کی روتی بلکتی تصویریں، بکھرے اعضاء کی منظر کشی۔ جس نے اس کے نازک دل کو چھلنی کر دیا۔ وہ منظر اسے چین سے جینے نہ دے سکا۔
بحیرۂ روم کے کھلے پانیوں میں، الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے وہ خود بھی آنسوؤں میں ڈوب گئی اور سننے والوں کو بھی رلا دیا۔ لرزتی آواز میں اس کا کہنا تھا: "ان مناظر کو دیکھنے کے بعد میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ مجھے ہر حال میں ان بچوں تک پہنچنا تھا۔ اسی لیے میں قافلۂ صمود کا حصہ بنی۔"
اڈیل نے اس سفر کو ایک علامتی اور انسانی فریضہ قرار دیا اور کہا: "یہ وہ لمحہ ہے جس میں ہمیں دنیا کو دکھانا ہے کہ انسانیت اب بھی زندہ ہے۔"
اس کی یہ جرات مندانہ شمولیت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی۔ وہ ایک اداکارہ سے بڑھ کر مظلوموں کی آواز بن گئی ہے۔ آج اس کی آنکھوں کے آنسو، اس کی زبان کے الفاظ اور اس کا عزم، سب مل کر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان بن گئے ہیں۔ دعا ہے کہ اڈیل اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچے اور تاریخ میں ایک اور روشن باب رقم کرے۔
بے شک یورپی حکومتوں کی منافقت اپنی جگہ، مگر اڈیل جیسے لوگ انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہیں۔