حافظ طاہر پونٹوی

حافظ طاہر پونٹوی اگر آپ میں اتنی اہلیت ہے کہ اختلاف رائے کے ساتھ آپس میں محبت قائم رکھ سکتے ہیں تو جی آیا نوں۔بسم اللہ

انسانیت کے ماتھے کا جھومروہ کبھی فرانس کی پھول جیسی دلکش اور نازک اداکارہ تھی، مگر آج چہرے کی تازگی مرجھا چکی ہے۔ اس کے ...
02/10/2025

انسانیت کے ماتھے کا جھومر
وہ کبھی فرانس کی پھول جیسی دلکش اور نازک اداکارہ تھی، مگر آج چہرے کی تازگی مرجھا چکی ہے۔ اس کے ریشمی بال اب کسی مکرانی خاتون کی طرح الجھے ہوئے۔ دو ہفتوں کے مسلسل سمندری سفر، ہچکولوں، سی سیکنس، بے آرامی اور نیند سے محرومی نے اسے بالکل بدل ڈالا ہے۔ شاید ہی کوئی پہچان پائے کہ یہ وہی اڈیل ہینل (Adèle Haenel) ہے، جس نے Portrait of a Lady on Fire جیسی فلم سے عالمی شہرت حاصل کی تھی۔ پیرس کی اس شہزادی نے کم عمری ہی میں فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا اور دو بار "سیزر ایوارڈ" کی فاتح بنی۔ اس کا شمار فرنچ سینما کے نمایاں اور تیزی سے ابھرتے ہوئے ستاروں میں ہوتا تھا۔
مگر چند ماہ پہلے ہی اس نے خاموشی سے شوبز کی چکاچوند کو خیر باد کہہ دیا۔ کیوں؟ اس نے ایک ویڈیو دیکھی تھی، غزہ کے معصوم بچوں کی روتی بلکتی تصویریں، بکھرے اعضاء کی منظر کشی۔ جس نے اس کے نازک دل کو چھلنی کر دیا۔ وہ منظر اسے چین سے جینے نہ دے سکا۔
بحیرۂ روم کے کھلے پانیوں میں، الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے وہ خود بھی آنسوؤں میں ڈوب گئی اور سننے والوں کو بھی رلا دیا۔ لرزتی آواز میں اس کا کہنا تھا: "ان مناظر کو دیکھنے کے بعد میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ مجھے ہر حال میں ان بچوں تک پہنچنا تھا۔ اسی لیے میں قافلۂ صمود کا حصہ بنی۔"
اڈیل نے اس سفر کو ایک علامتی اور انسانی فریضہ قرار دیا اور کہا: "یہ وہ لمحہ ہے جس میں ہمیں دنیا کو دکھانا ہے کہ انسانیت اب بھی زندہ ہے۔"
اس کی یہ جرات مندانہ شمولیت دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی۔ وہ ایک اداکارہ سے بڑھ کر مظلوموں کی آواز بن گئی ہے۔ آج اس کی آنکھوں کے آنسو، اس کی زبان کے الفاظ اور اس کا عزم، سب مل کر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعلان بن گئے ہیں۔ دعا ہے کہ اڈیل اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بحفاظت اپنی منزل تک پہنچے اور تاریخ میں ایک اور روشن باب رقم کرے۔
بے شک یورپی حکومتوں کی منافقت اپنی جگہ، مگر اڈیل جیسے لوگ انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

03/09/2025

راوی کو بہنے دو

پاکستان ایک دلچسپ ملک ہے۔یہاں صبح بتایا جاتا ہے کہ پانی ختم ہوگیا ہے۔شام کو بتایا جاتا ہےکہ ملک پانی میں ڈوب گیا ہے۔یہاں کئی علاقوں سے لوگ اس لئے ہجرت کر گئے کہ پانی ختم ہوگیا تھا۔کئی علاقے مٹ گئے کہ وہاں پانی آگیا تھا۔پانی کے اس ہونے اور نہ ہونےکے بیچ کہیں بڑا سا ایک خلا ہے جہاں آبی ماہرین پیدا ہو تے ہیں۔ان ماہرین نے نسل در نسل ایک لفظ ڈیم رٹا ہوا ہے۔سوال کچھ بھی ہو ان کاجواب ڈیم ہوتا ہے۔پانی کا بحران کیوں پیدا ہوگیا ہے؟ڈیم نہیں بنائے گئے۔سیلاب کیوں آرہے ہیں؟ڈیم نہیں بنائے گئے۔

ان ماہرین کی پڑھی لکھی نسل نے جیسے تیسے کرکے دو نئی اصطلاحات زبان پر چڑھا لی ہیں۔ایک کلائمیٹ چینج دوسرا کلاوڈبرسٹ۔ان دو اصطلاحات کی جگالی کرتے ہوئے بھی یہ تان لے جاکر ڈیم پر ہی توڑتے ہیں۔سیلاب کیوں آیا ہے؟ کلاوڈ برسٹ کی وجہ سے۔کلاوڈ برسٹ کیوں ہورہے ہیں؟کلائمیٹ چینج کی وجہ سے۔اب مسئلے کا حل کیا ہے؟ڈیم بنانے پڑیں گے۔کرلو بات۔جیسے گھر میں گلاس ٹوٹ جانے پر الزام دودھ پیتے بچے پر ڈال دیا جاتا ہے،ایسے ہی جب سیلاب آتا ہے تو موسمی ماہرین سارا الزام کسی مجہول ڈیم کے سر منڈ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی بلاشبہ ایک حقیقت ہے۔زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔گرین لینڈ ڈھائی سو سے تین سو ارب ٹن برف سالانہ کھو رہا ہے۔انٹارکٹیکا کی برفانی چادریں تیزی سے پگھل رہی ہیں۔سمندر کی سطح بلند ہورہی ہے۔فصلیں تباہ ہورہی ہیں۔ہجرت کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے۔موسمیاتی روٹ متاثر ہونے کی وجہ سے کئی پرندوں اور جانوروں کی بقا خطرے میں ہے۔قحط کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔یہ حقائق ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس سال جو سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی ہے، اس کی ذمہ داری فقط کلائمیٹ چینج پر عائد ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب سب دے رہے ہیں مگر پانی سے کوئی نہیں پوچھ رہا کہ اسکے احساسات کیا ہیں۔

قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پانی بہت ناراض ہے۔کلائمیٹ چینج پربھی ناراض ہے مگریہ ناراضی ٹوٹل ناراضی کا بیس فیصد بھی نہیں ہے۔زیادہ ناراضی اس بات پر ہے کہ اسکے علاقے پر مسلسل قبضہ ہو رہا ہے۔پھر لوگ طنز بھی کررہے ہیں۔خواجہ آصف کہہ رہے ہیں کہ پانی اپنی آمد سے پہلے خط نہیں لکھتا کہ مجھے ائیرپورٹ پرآکر ریسیو کرلو۔اب یہ کوئی بات ہے بھلا؟خواجہ صاحب محکمہ دفاع سے ہیں اسلئے معلومات کی کمی ہے۔محکمہ موسمیات سے پوچھ لیتے تو جان پاتے کہ پانی نے پندرہ سال پہلے ہی سیلاب کے ہاتھ تفصیلی خط بھیج کر اپنے ارادے ظاہر کر دیے تھے۔زیر آب آنے والے کئی علاقے اس خط کے گواہ ہیں۔جب دریائوں میں شہر بسانا سرکاری منصوبوں میں شامل ہوا تو پانی نے خط کے ساتھ ساتھ قدرت کی عدالت سے نوٹسز بھی بھجوانا شروع کر دیے تھے۔ایک نوٹس میں پانی نے یہ بھی لکھا کہ میری یادداشت میں وہ راستہ بھی ہزاروں سال تک رہتا ہے جہاں سے میں صرف ایک بار گزرتاہوں۔راوی اور چناب سے تو میرا تعلق ہی صدیوں پرانا ہے۔کوئی راوی کے river bed پہ اپنا بستر ڈال دے گا اور میں چپ چاپ دیکھتا رہوں گا؟ ممکن ہی نہیں ہے۔

کسی بھی نوٹس کا مثبت جواب دینے کی بجائے پانی کے راستے میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔پھر ایک ہی راستہ بچ گیا۔آپریشن!!پانی نے اسی طرز کا ایک بے رحم آپریشن شروع کردیا جو پنجاب حکومت نے تجاوزات ہٹانے کے لیے پنجاب بھر میں شروع کر رکھاہے۔اب ڈھور ڈنگر بہہ رہے ہیں اور انسان ہجرت کر رہا ہے،مگر پانی کیا کرے۔وہ سعود عثمانی کا شعر ہی سنا سکتا ہے

کہا نہیں تھا کہ دریا کے راستے مت روکو
کہ سیل آب کو قبضے چھڑانے آتے ہیں

کلائمیٹ چینج ایک مستقل حقیقت ہے مگر آج کا سوال اور ہے۔کیا اس بار دریاوں کی گنجائش سے زیادہ پانی آیا ہے؟ نہیں۔ڈھائی لاکھ کیوسک کے ریلے تو راوی ہنستے کھیلتے پی جاتا ہے۔چناب پہلے بھی آٹھ لاکھ کیوسک کے ریلے بغل کے نیچے سے گزار دیتا تھا۔دس لاکھ کا ریلا بھی آجائے تو اسکے ماتھے پر بل نہیں پڑتا۔ہم پانی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ڈیم اور کلائمیٹ کی جگالی کر رہے ہیں۔یہ بات پانی کوتنگ کررہی ہے۔

اشو لال کہتے ہیں دریا خاموش دیوتا ہے۔مگر یہ دیوتا کئی برس سے اپنی خاموشی توڑ چکا ہے۔چیخ چیخ کربتا رہا ہے کہ میں پہلے ہی ڈیم سے بہت تنگ آچکا ہوں۔ڈیم میرا بہائو روکتا ہے اور بہاو میرا مقدر ہے۔مجھے راوی اور چناب میں ٹہلنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔قدرت نے میرے ذمے کچھ کام لگائے ہیں۔میں بہتاہوں تو ریت کے ساتھ سلٹ بھی لے کرآتا ہوں۔سلٹ کی قیمت ڈیلٹا سے پوچھو اور کسان سے پوچھو۔پھر بھی یقین نہ آئے تو مچھیروں کی بستی میں جاکر پوچھو۔سلٹ قدرتی کھاد ہے جو صرف مجھے پتہ ہے کہ کہاں سے ملتی ہے۔یہ کھاد دے کر میں زمینوں کو زرخیر کرتا ہوں۔آبی حیات کیلئے ماحول بناتا ہوں۔مونگرو کے درخت اگاتا ہوں جو طوفان، کٹاو اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے ساحلوں کو بچاتے ہیں۔میں زمین کی تہوں میں انرجی دیتا ہواسمندر میں اترتا ہوں،وہاں میٹھے کھارے کا توازن بناتا ہوں،خود کو بخارات میں بدلتا ہوں، بادل بن کرپھر سے برستا ہوں،پھر سے دریائوں میں آتا ہوں اور زندگی کو ری چارج کرتا ہوا واپس سمندر میں اترتا ہوں۔رکاوٹوں کی وجہ سے میرا یہ چکر پورا نہیں ہو رہا۔مونگرو ختم ہورہا ہے زمین مر رہی ہے۔ظاہر ہے، میرا چکر نہیں چلے گا تو گلشن کا کاروبار کیسے چلے گا؟

مجھے بہنے دیا جاتا تو سجادعلی کو کبھی’جے راوی دے وچ پانی کوئی نئیں‘گانا نہیں پڑتا۔تم نے ٹھیکیداروں کی سنی،آج بربادیوں کا سوگ منارہے ہو۔میرے تعلق داروں کی سن لیتے تو آج راوی کے زندہ ہونے کا جشن منارہے ہوتے۔

نوجوان جوڑے پھول اور شیرینی دریا کے سپرد کرکے منتیں مانگ رہے ہوتے۔لوگ شام کے وقت خاموش سنہرے پانیوں میں سورج کا اترنا دیکھ رہے ہوتے۔ملاحوں کی زبانی راوی کی کہانی سن رہے ہوتے۔ کُل ملاکر کہانی یہ ہے کہ زندگی بہاو کا نام ہے۔زندگی کے واسطے پانی کو بہنے دو۔راوی کو بہنے دو!!

فرنود عالم/ روزنامہ جنگ

بادشاہی مسجد اور راوی کا لازوال عشق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راوی دریا اور بادشاہی مسجد کا عشق روز اول سے جاری تھا۔ راوی بادشاہی مس...
01/09/2025

بادشاہی مسجد اور راوی کا لازوال عشق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راوی دریا اور بادشاہی مسجد کا عشق روز اول سے جاری تھا۔ راوی بادشاہی مسجد کو دیکھ دیکھ کر جھوم جھوم جاتا تھا۔بادشاہی مسجد کے مینار بھی راوی کو جھک جھک کر سلام اور پیار کیا کرتے تھے۔
پھر 38سال پہلے حسب معمول انکے لازوال پیار میں ظالم سماج آ گیا اور دونوں کو جدا کردیا۔راوی کی جدائی میں شاہی مسجد بھی ویران نظر آنے لگی اور راوی کے بھی بادشاہی مسجد کے فراق میں آنسو بہہ بہہ کر خشک ہونے لگے۔
قدرت کو ان دونوں کے 38 سالہ لمبی جدائی کے بعد رحم آگیا۔
اس نے ان دونوں کا دوبارہ جوڑنے کا فیصلہ کیا۔
آخر کار جدائی کے لمبے دن اور راتیں ختم ہوئیں۔اللہ پاک نے
راوی کو طاقت عطا کی۔اور پھر ہفتہ بھر پہلے ساری دنیا کے سامنے ظالم سماج کو ملیا میٹ کردیا۔
یوں راوی دریا اور بادشاہی مسجد کو آپس میں 38 بعد ایک کر دیا۔
لازوال پیار کی داستان ملن پر اختتام پزیر ہوئی۔
اب تصویر میں دیکھیں۔ کیسے دونوں پُرسکون ہیں
منقول

صدیوں بعد لاہور کی اصل محبت راوی اور بادشاہی مسجد کا ملاپ ہو پائے گا کیا؟ یہ منظر محض پانی اور اینٹوں کا نہیں، یہ عشق او...
01/09/2025

صدیوں بعد لاہور کی اصل محبت راوی اور بادشاہی مسجد کا ملاپ ہو پائے گا کیا؟

یہ منظر محض پانی اور اینٹوں کا نہیں، یہ عشق اور تاریخ کا ملاپ ہے۔
راوی کہتا ہے: "میں تیرے میناروں کے عکس کو اپنی لہروں میں قید کرنے آیا ہوں"

اور بادشاہی مسجد جواب دیتی ہے: "آ ۔۔ صدیوں کی جُدائی کے بعد پھر سے میرا وضو بن جا۔"

16/06/2025

فارسیوں (ایرانیوں) نے گورے (اسرائیل) کو چار چپیڑیں ماری ہیں تو سعودی عرب نے بھی اس کو برادر اسلامی ملک تسیلم کر لیا ہے اور یہ اطلاع بھی دی ہے کہ ساری اسلامی دنیا برادر عزیز ایران کے پیچھے کھڑی ہے۔

اس بات کا ایک مطلب یہ ہے کہ جب تک اپنی بقا کیلئے آپ خود کوئی اسٹینڈ نہیں لیتے تب تک دوسرے آپ کو شکستہ حال اور غریب سمجھ کے نظر انداز کرتے رہیں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جن امیروں کو آپ اپنا دوست سمجھتے ہیں جب وہ آپ کے بھائی بندوں کیساتھ دست درازی پر اتر آتے ہیں تب ہی آپ کو سمجھ آتی ہے کہ برادری کے ساتھ رہنا اور برادری کا مضبوط ہونا سب کی بقا کیلئے کس قدر اہم ہے۔

بیرونی دنیا کے ہاتھ مضبوط کرنے یا ان کے ہاتھ میں کھیلنے والے اسلامی ممالک کو آج بھی دو باتیں سمجھ میں آجائیں تو بہتر ہے، ایک یہ کہ ایک ملت ہونے کے ناطے ایک دوسرے کو مضبوط کرنا کتنا اہم ہے اور دوسری یہ کہ ذاتی مفاد کیلئے مغرب کیساتھ جیسے تعلقات چاہیں رکھیں لیکن ان مفادات کیلئے اپنی برادری کے مفادات کا سودا مت کریں۔

ایران نے انڈیا پر ہمیشہ مسلمانوں سے زیادہ بھروسہ کیا ہے اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ اپنا بہت سا نقصان کرا کے اب درجنوں کے حساب سے انڈین جاسوس پکڑتا پھر رہا ہے اور عرب دنیا اس گورے سے تعلقات اچھے بناتے بناتے اتنا دور نکل گئے تھے کہ اب جب وہ ایران پر حملہ آور ہوا ہے تو ایکدم سب کو خدا اور برادرانِ اسلام یاد آگئے ہیں کیونکہ اس سے اگلا نمبر کسی کا بھی ہو سکتا ہے۔

عالم اسلام کی عرب دنیا اور عجمی دنیا کو ایک ساتھ چلنا ہوگا ورنہ اکیلئے اکیلئے مار کھاتے رہیں گے جبکہ تھوڑی سی ہمت کرکے ایک دوسرے کا بازو بن سکتے ہیں
جیسے ہمارے برے وقت میں آذربائجان، ترکیہ اور بنگلہ دیش کھل کے ہمارے ساتھ کھڑے ہو گئے تھے اور ایران کے برے وقت میں پاکستان نے کھل کے ایران کی حمایت کی ہے۔

💐

31/05/2025

کچھ لوگ آپ سے نفرت کرتے ہیں ،
اس لیے نہیں کہ آپ برے ہیں ،
بلکہ اس لیے کہ آپ کی موجودگی ان کی موجودگی کو ختم کر دیتی ہے ۔
پھر وہ اپنی جگہ بنانے کے لئے آپ کو بدنام کرتے ہیں ۔۔
لوگوں کی نظر میں گرانے کی کوششیں کرتے ہیں۔۔
لیکن عزت اور ذلت بیشک میرے اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے 😊

‏بس ایسا ایک گھر چاہیے جس میں ۔میں تنہا رہوں اور جنات میرے خادم ہوں۔😅
26/12/2024

‏بس ایسا ایک گھر چاہیے جس میں ۔میں تنہا رہوں اور جنات میرے خادم ہوں۔😅

13/12/2024

ایسے لوگوں کی صحبت سے کنارہ کیجئیے جو دوسروں کی ذات پر تبصرے کرتے ہیں
اس لیے کہ جب آپ اٹھیں گے تو اگلا موضوع آپ ہی ہونگے

جب آخری درخت کاٹ لیا جائے گا... جب آخری مچھلی پکڑ لی جائے گی... جب آخری دریا زہریلا ہو جائے گا... تب تم جان سکو گے... تم...
28/06/2024

جب آخری درخت کاٹ لیا جائے گا...
جب آخری مچھلی پکڑ لی جائے گی...
جب آخری دریا زہریلا ہو جائے گا...
تب تم جان سکو گے...
تم روپیہ پیسا نہیں کھا سکتے...

(ریڈ انڈین کہاوت)

28/06/2024

برداشت اتنی کہ 5روپے پر لڑائی اور بات جان لینے تک آ جاتی ہے
اور غلامی اتنی کہ 201یونٹ کا بل 9000 لائن میں کھڑے ہوکر ادب سے ادا کرتے ہیں💔

‏اور ظلم پہ ظلم جن کے 200 یونٹ ابھی مکمل بھی نہیں ہوئے زبردستی انکی ریڈنگ بڑھا کے 200 یونٹ سے اوپر کا بل بھیج دیتے ۔
25/06/2024

‏اور ظلم پہ ظلم جن کے 200 یونٹ ابھی مکمل بھی نہیں ہوئے زبردستی انکی ریڈنگ بڑھا کے 200 یونٹ سے اوپر کا بل بھیج دیتے ۔

18/06/2024

‏"اگر اپ عید پہ کسی کے میسج کا انتظار کر رہے ہیں تو مت کریں کیونکہ کچھ لوگوں میں جانور قربان کرنے کا حوصلہ تو ہوتا ہے مگر اپنی انا قربان کرنے کا نہیں"

Address

Basti Ashiq Nawaz Khan Babar, Chowk Nag Shah
Punjab

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when حافظ طاہر پونٹوی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to حافظ طاہر پونٹوی:

Share