03/11/2025
ایک در جو ازل سے ہمارے لیے کھلا ہے
قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم، 4) کہا: اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے سے چمکنے لگا ہے، مگر اے رب! تیری بارگاہ میں دعا مانگ کر میں کبھی محروم نہیں رہا۔
ایک ایسی نیاز مند شخصیت جو خدا سے سچی محبت کرتی ہے، کہتی ہے: "میں نے جتنا اللہ کو جانا، اس کے مطابق بس اپنا آپ لے کر اس کے حضور حاضر ہو جاؤ، خاموشی سے بیٹھو تو بھی وہ سن لیتا ہے۔" یہ محض سوچ نہیں، بلکہ یقینِ محکم کے ساتھ مانگنے کا وطیرہ ہے۔ اس ذات سے خلوصِ دل سے محبت کر کے مانگ کر دیکھیں، دل کے احساسات اور روشن وجدان کا تقاضا یہی ہے۔ انبیاء نے دعاؤں میں اس ذات کو کس عاجزی سے پکارا، قرآن کریم ان دعاؤں کو بار بار بیان کرتا ہے۔ خدا کے حضور سرِ تسلیم خم کرنا اور قرآن کی روشن آیات کے سامنے سرنگوں ہونا بھی ایک عظیم عمل ہے۔ قرآنی ہدایات پر عمل کرنا پروردگارِ عالم کو پسند ہے، چاہے اس میں مزہ آئے یا نہ آئے۔
نرم دلی اور پاکیزگی کے ساتھ کبھی فرصت میں قرآن کریم کی اسکیم، جو اس دنیا میں امتحان کے لیے برپا ہے، غور سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دعا کے ذریعے بندے کے رابطے کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ خلوصِ دل اور عاجزی سے مانگنا اس بارگاہِ اقدس میں پیش ہونے کی بنیادی شرط ہے۔ دعا محض ہاتھ پھیلانا یا الفاظ دہرانا نہیں، بلکہ ہر کمی، بے سروسامانی، انفرادی و اجتماعی ضروریات، مصائب و آلام، اور تمام حاجات کو اس کے سامنے پیش کرنا ہے۔ فیصلہ آپ کے حق میں باری تعالیٰ کی حکمت سے ہونا ہے۔ دعا میں پورے جسم و روح کو سمیٹ کر، لپک کر مانگنا عاجزی کی معراج ہے۔ اگر کوئی یہ کیفیت پا لے، تو اس کا بیڑہ پار ہے۔
دعا میں خلوص تبھی آتا ہے جب بندہ برسوں اس ذاتِ اقدس کی صفات، کمالات، اور قدرت و اختیار کو سمجھ کر زندگی گزارے۔ انبیاء علیہم السلام کی دعاؤں میں خدا کی تسبیح و تقدیس کا سلیقہ، حالات کی درستی، اور حاجات کی تکمیل کی طلب، حتیٰ کہ آخری سانس تک اسی ذات سے امید کا رشتہ مضبوط رہتا ہے۔ ہمارے دل کی گہرائیوں اور خیالات کی زبان کو صرف پروردگارِ عالم سمجھتا ہے۔
میرا ذاتی تجربہ ہے کہ دعا پوری ہو یا نہ ہو، اس کا فوری صلہ یہ ملتا ہے کہ دل کی کساوٹ، بے چینی، تنہائی، خوف، اور دہشت دور ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا مخالفت پر اتر آئے، مگر اگر وہ ذات ساتھ ہو اور سنبھالنے کا ارادہ کر لے، تو کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔ بس، حفاظت ہی حفاظت ہے۔
پورے شعور کے ساتھ ہر لمحے بہترین کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے پروردگار سے معافی، ضرورت، ملاقات، اور رضا مانگ لیں۔ سب سے عظیم رشتہ عبادت و دعا کے ذریعے نبھانا ہے۔ وقت انمول تحفہ بن جاتا ہے جب اس کی مزید قدر خدا کی یاد میں جینے اور مرنے سے بڑھتی ہے۔ خدا کی یاد کا بہترین ذریعہ دعا ہے۔ یہ کمزوری میں طاقت، محرومی میں عطا، بے چینی میں سکون، موت میں زندگی، اور بھوک و ناتوانی میں رزق و استحکام دیتی ہے۔ مشکل میں دعا مانگنے کا سلیقہ انبیاء نے کتابِ الٰہی میں سکھایا ہے۔ وہ کن کن نعمتوں، حوالوں، اور بنیادوں پر خدا کے حضور گریہ و زاری کرتے رہے۔ خدا کے سوا کوئی حقیقی سہارا نہیں۔
**ظفر اقبال چھینہ**