Zafar Iqbal Chheena

Zafar Iqbal Chheena Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zafar Iqbal Chheena, Digital creator, Leiah, punjab.

03/11/2025

ایک در جو ازل سے ہمارے لیے کھلا ہے

قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم، 4) کہا: اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور ہوگئی ہیں اور سر بڑھاپے سے چمکنے لگا ہے، مگر اے رب! تیری بارگاہ میں دعا مانگ کر میں کبھی محروم نہیں رہا۔

ایک ایسی نیاز مند شخصیت جو خدا سے سچی محبت کرتی ہے، کہتی ہے: "میں نے جتنا اللہ کو جانا، اس کے مطابق بس اپنا آپ لے کر اس کے حضور حاضر ہو جاؤ، خاموشی سے بیٹھو تو بھی وہ سن لیتا ہے۔" یہ محض سوچ نہیں، بلکہ یقینِ محکم کے ساتھ مانگنے کا وطیرہ ہے۔ اس ذات سے خلوصِ دل سے محبت کر کے مانگ کر دیکھیں، دل کے احساسات اور روشن وجدان کا تقاضا یہی ہے۔ انبیاء نے دعاؤں میں اس ذات کو کس عاجزی سے پکارا، قرآن کریم ان دعاؤں کو بار بار بیان کرتا ہے۔ خدا کے حضور سرِ تسلیم خم کرنا اور قرآن کی روشن آیات کے سامنے سرنگوں ہونا بھی ایک عظیم عمل ہے۔ قرآنی ہدایات پر عمل کرنا پروردگارِ عالم کو پسند ہے، چاہے اس میں مزہ آئے یا نہ آئے۔

نرم دلی اور پاکیزگی کے ساتھ کبھی فرصت میں قرآن کریم کی اسکیم، جو اس دنیا میں امتحان کے لیے برپا ہے، غور سے پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دعا کے ذریعے بندے کے رابطے کو خاص اہمیت دیتا ہے۔ خلوصِ دل اور عاجزی سے مانگنا اس بارگاہِ اقدس میں پیش ہونے کی بنیادی شرط ہے۔ دعا محض ہاتھ پھیلانا یا الفاظ دہرانا نہیں، بلکہ ہر کمی، بے سروسامانی، انفرادی و اجتماعی ضروریات، مصائب و آلام، اور تمام حاجات کو اس کے سامنے پیش کرنا ہے۔ فیصلہ آپ کے حق میں باری تعالیٰ کی حکمت سے ہونا ہے۔ دعا میں پورے جسم و روح کو سمیٹ کر، لپک کر مانگنا عاجزی کی معراج ہے۔ اگر کوئی یہ کیفیت پا لے، تو اس کا بیڑہ پار ہے۔

دعا میں خلوص تبھی آتا ہے جب بندہ برسوں اس ذاتِ اقدس کی صفات، کمالات، اور قدرت و اختیار کو سمجھ کر زندگی گزارے۔ انبیاء علیہم السلام کی دعاؤں میں خدا کی تسبیح و تقدیس کا سلیقہ، حالات کی درستی، اور حاجات کی تکمیل کی طلب، حتیٰ کہ آخری سانس تک اسی ذات سے امید کا رشتہ مضبوط رہتا ہے۔ ہمارے دل کی گہرائیوں اور خیالات کی زبان کو صرف پروردگارِ عالم سمجھتا ہے۔

میرا ذاتی تجربہ ہے کہ دعا پوری ہو یا نہ ہو، اس کا فوری صلہ یہ ملتا ہے کہ دل کی کساوٹ، بے چینی، تنہائی، خوف، اور دہشت دور ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا مخالفت پر اتر آئے، مگر اگر وہ ذات ساتھ ہو اور سنبھالنے کا ارادہ کر لے، تو کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔ بس، حفاظت ہی حفاظت ہے۔

پورے شعور کے ساتھ ہر لمحے بہترین کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے پروردگار سے معافی، ضرورت، ملاقات، اور رضا مانگ لیں۔ سب سے عظیم رشتہ عبادت و دعا کے ذریعے نبھانا ہے۔ وقت انمول تحفہ بن جاتا ہے جب اس کی مزید قدر خدا کی یاد میں جینے اور مرنے سے بڑھتی ہے۔ خدا کی یاد کا بہترین ذریعہ دعا ہے۔ یہ کمزوری میں طاقت، محرومی میں عطا، بے چینی میں سکون، موت میں زندگی، اور بھوک و ناتوانی میں رزق و استحکام دیتی ہے۔ مشکل میں دعا مانگنے کا سلیقہ انبیاء نے کتابِ الٰہی میں سکھایا ہے۔ وہ کن کن نعمتوں، حوالوں، اور بنیادوں پر خدا کے حضور گریہ و زاری کرتے رہے۔ خدا کے سوا کوئی حقیقی سہارا نہیں۔

**ظفر اقبال چھینہ**

02/11/2025

دیس طرب، تھل کا صائب الرائے

ہمارے وسیب اور قریبی ضلع بھکر کے مردم خیز خطے کے نواحی قصبے سے تعلق رکھنے والے ہمارے شہزادے، ہونہار، باسعادت اور باصلاحیت بھائی، اعلیٰ دل و دماغ کے مالک علی شاہ صاحب ایک ابھرتے ہوئے اسلامی اسکالر ہیں۔ پڑھنے والے احباب ان کے تحقیقی مضامین سے بخوبی واقف ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کے زور پر وہ مستقبل میں کئی اہم علمی، فکری اور ادبی مقالات پر کام کر رہے ہیں۔ فیس بک پر ان کی تحریریں جاذب نظر ہیں، جو اپنے منفرد علمی پس منظر اور تنقیدی جائزے کے ساتھ قارئین کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔ ذہانت کے ساتھ کم عمری میں غیر معمولی ذوقِ مطالعہ، دین اسلام کی اصل تعلیمات سیکھنے کی لگن، اور دور اندیش مہارتیں انہیں ایک ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔ اس کا منہ بولتا ثبوت ان کا علمی و عملی رویہ ہے، جو استاد مکرم جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر کو قبول کرنے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی سچی معرفت حاصل کرنے کا شوق انہیں ہر میدان میں سرفراز کر رہا ہے۔ یہی جذبہ انہیں غامدی صاحب کی مجلس میں لے گیا۔ ادارہ المورد میں غامدی صاحب سے ملاقات اور جرات مندانہ اظہار کے ساتھ ان کا یہ اقدام دیکھ کر ہمیں بے حد خوشی ہوئی۔ اس موقع پر احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر ایک بڑے پروجیکٹ کے پروگرام میں شرکت اور کتاب *علم النبی* کی تقریب رونمائی میں ان کا سب سے آگے بیٹھنے کا انداز اور توجہ منفرد تھی۔

انہوں نے اپنی فیس بک وال پر اس اہم دن کی روداد کو نہایت عمدگی سے اپنے ذوق اور تجربات کے ساتھ بیان کیا۔ بلاشبہ، ان کا ایک طویل تجرباتی سفر رہا ہے۔ انہوں نے ہر بڑے عالم اور چنیدہ افکار کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور بالآخر فراہی منہاج کو قبول کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس ذوق سلیم اور ایمانی جدوجہد کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

> یہی آئین قدرت ہے، یہی اسلوب فطرت ہے
> جو ہے راہ عمل میں گامزن، محبوب فطرت ہے۔

تحقیق اسے نہیں کہتے کہ ایک مسلک کی ایک کتاب پڑھ لی، ایک آدھ اسکالر کو سن لیا، یا سرسری مطالعہ کیا۔ فکر کی قبولیت سے زیادہ اس کے استدلال، استنباط، برہان، اور فہم دین کے بنیادی مقدمات سے ہم آہنگی جاننا ضروری ہے۔ اکثر مذہبی لوگ عقل و شعور کے مطابق دین کو اپنی زندگی کا نصب العین نہیں بناتے، بلکہ خاندانی روایات اور ماحول سے متاثر ہو کر سطحی دینی فہم رکھتے ہیں۔ سب سے اہم یہ ہے کہ دینی فکر کے بنیادی اصول کیسے دریافت ہوئے، دین کے مطالبات کیا ہیں، اور گروہوں کے اختلافات کی نوعیت کیا ہے۔ کیا یہ محض تعصبات ہیں، مالی مفادات ہیں، یا ماضی کے لٹریچر کی تدوین میں کوئی خامی رہ گئی؟ سرسری مطالعہ اور نری عقیدت نے ذہنیتوں کو پست کر دیا ہے۔ دین کی منشا کو صحیح معنوں میں جانے بغیر اس کی خدمت قبول نہیں ہوتی۔ قرآن و سنت کے ہر پیرامیٹر سے واقفیت ضروری ہے۔ معاشرہ سوچ میں جامد، بدتہذیبی کا گہوارہ، اور دین کے نام پر باہم دست و گریباں کیوں ہے؟ کیا مجموعی اخلاقیات بہتر ہو رہی ہیں؟ دین سیکھنے کا طالب علمانہ رویہ کیا ہے؟ جذباتی وابستگی دوسروں کے والدین، اساتذہ، یا فرقوں کی غلطیوں کی نشاندہی خیر خواہی کے بجائے گالم گلوچ سے کرتی ہے، جس سے دین کی بات پس پشت چلی جاتی ہے اور ذاتی انانیت ابھرتی ہے۔ دین کی ہدایات میں اخلاقیات کو اولین ترجیح حاصل ہے۔ آخرت میں میزان میں سب سے وزنی چیز اخلاقیات ہیں، یہی نجات کا سوال ہے۔ جو لوگ کھلے دل سے دین کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ کامیاب ہوتے ہیں۔

ہم والدین، خاندان، اور معاشرے کی کئی چیزوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔ پھر کیوں ہم اپنے نفس کی آرام پرستی کے لیے مذہب کو بغیر پرکھے مان کر خاموش رہتے ہیں؟ طالب علمانہ شعور کے بغیر مطالعہ ادھورا ہے۔ اگر ہم دین کی بنیادی تعلیمات نہیں سیکھتے، تو ہمارا عمل بھی مشکوک ہے۔ معاشرے میں روایتی اور رسمی دین بغیر سوال کے ہماری ذات کا حصہ بن جاتا ہے، جو غلط ہے۔ ایک پڑھا لکھا، شعور رکھنے والا نوجوان خود مطالعہ کرے اور سوالات اٹھائے۔ مولویوں سے فتویٰ لینے یا بحث کرنے سے بہتر ہے کہ کچھ عرصہ خاموشی سے ہر موضوع کو سنجیدگی سے سیکھا جائے۔ اگر کوئی دین کی بنیادی چیز سیکھنا چاہتا ہے تو تصور توحید کو قرآن کریم سے سمجھے کہ ایک بادشاہ مطلق کی صفات، احکامات، اور اس کی تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ میرا وجود اس کے کون سے احسانات کا مرہون منت ہے؟ اس کے بعد انبیاء اور خصوصاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دین میں حیثیت سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ ہم اپنی غفلت، لاعلمی، اور بد عملی کو مذہبی گروہوں کی آڑ میں چھپاتے ہیں۔ اکثریت کے دینی تعامل کو جنت کی ضمانت سمجھ لیتے ہیں۔ وہ قرآن کو چھپاتے ہیں، دین کو نعرہ بازی بناتے ہیں، اور چند منفی جملوں سے خود کو دین دار سمجھتے ہیں۔

جب ہم دوسرے کے موقف کو ایمانداری سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، اپنے آپ سے سوالات کرتے ہیں، اور سنجیدگی سے جواب ڈھونڈتے ہیں، تو کئی علمی خزانوں کے دروازے کھلتے ہیں۔ علم و فضل کے لیے تڑپنا پڑتا ہے، جیسے ہم روزی کماتے ہیں، ویسے ہی دین کو بھی کمانا پڑتا ہے۔ دین کی شرح صدر اور معرفت کی لذت جدوجہد سے ملتی ہے۔ دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر معاملے میں بھرپور سعی کی جائے۔ دین اور ایمان خدا کے خاص پھل ہیں، جنہیں تحقیق سے حاصل کیا جاتا ہے۔ جہالت کے پردے چاک کرنے سے دل محبت الٰہی سے منور ہوتا ہے۔ یہ کیفیات بیان نہیں، محسوس کی جاتی ہیں۔ ابدی راحت کوئی معمولی چیز نہیں۔ تلاش حق غاروں میں گم ہونا نہیں، بلکہ قرآنی آیات کے علم سے شخصیت کی تکمیل ہے۔ اس جستجو سے شخصیت کے وہ پہلو اجاگر ہوتے ہیں جو ہم نے پہلے کبھی دریافت نہیں کیے۔

مکرمی و محترمی علی شاہ بھائی نے دین اسلام کی حقانیت کو پانے کے لیے کئی جماعتوں، کتابوں، اور رسائل کا مطالعہ کیا۔ یہی ان کی ترقی کا زینہ ہے۔ ایسے نوجوان قوم کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔اس کے برعکس عقل کے استعمال پر پابندی لگانے والے مذہبی بہروپیوں کے اشاروں پر ناچنے والے کبھی حقیقی منزل حاصل نہیں کر سکتے۔

**ظفر اقبال چھینہ**

https://www.facebook.com/share/1XFh2Pt3Rb/

20/10/2025

نغمہء حقیقت ادارہ المورد میں نوجوان اسکالر کی آمد

اَفَمَنْ شَرَحَ اللّـٰهُ صَدْرَهٝ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُـوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوْبُـهُـمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّـٰهِ ۚ اُولٰٓئِكَ فِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (الزمر، 22) بھلا جس کا سینہ اللہ نے دینِ اسلام کے لیے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے۔ سو جن لوگوں کے دل اللہ کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے، ان کے لیے بڑی خرابی ہے۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔

ہمارے قابلِ احترام بھائی فاضلِ درسِ نظامی، جناب مولانا احمد دین صاحب، خصوصی ملاقات کے لیے دورِ دراز سندھ کے شہر کشمور سے لاہور تشریف لائے اور عہد کے سب سے بڑے عالم، استادِ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب کی علمی نشست میں شرکت کی۔ المورد کے ڈائریکٹر، شیخ القرآن و تفسیر ڈاکٹر ساجد حمید صاحب کے ساتھ ملاقات ہوئی اور یادگار لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ بنایا۔ حال دل یوں گویا ہوا، استاد نے پچھلے سب افکار بدل دئیے۔ استاد کے بار احسانات سے سر اٹھا سکتا نہیں۔

روایتی علماء جب درسِ نظامی کی سند لیتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو اس روایت کا پابند بناتے ہیں اور برسوں کے نقطہٰ نظرِ مخالف کھڑی فکر کو قبول کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ایسے میں علم کے پیاسے اور حقائق کو دلائل کی روشنی میں پرکھنے کے لیے ایک درخشاں، ابھرتا ستارہ، ہمارے اولعزم بھائی مولانا احمد دین صاحب کی قربانی کی نظیر نہیں ملتی، جو انہیں استاد کی فکر تک لے آئی۔ استادِ محترم جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر میں سب سے بلندتر چیز جو انہیں باقی روایتی علماء کے نظریات اور لٹریچر سے ممتاز بناتی ہے، وہ ان کا قرآن کریم کے حوالے سے اعلیٰ فہم ہے۔ ان کے ڈسکورس میں قرآن کو اساس کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن کریم کی حاکمیت دوسرے اسلامی علوم میں ایک درجے میں دب کر رہ گئی ہے۔ اس دور میں انہوں نے اس حوالے سے ’تفصیلِ قرآن‘ اور قرآن کریم کی بنیاد پر ایک شاہکار کتاب لکھی جو ’حجت اللہ البالغہ‘ سے کسی درجے میں بھی کم نوعیت کی نہیں، بلکہ تاریخی اسلامی ادب میں اس جیسی بہترین کتاب ہمیں کوئی دوسری نظر نہیں آتی۔ کتابِ اللہ کی آیاتِ بینات کی روشنی میں میزانِ کتاب مرتب کی۔ ہر مشتاقِ علم اور صاحبِ ذوق کو پڑھنی چاہیے کہ ہمارا دین پورا کا پورا ہے کیا۔

ہمارے بھائی احمد دین صاحب بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں۔ وہ اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود ایک بڑے استاد کی محفل سے لطف اندوز ہونے اور اپنے دامن کو خالص قرآنی علم سے آراستہ کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ آپ صاحبِ مطالعہ، نڈر مجاہد اور اخلاق و کردار میں پختہ ہیں۔ دیوبندی وفاق المدارس کے سند یافتہ ہیں، مختلف جماعتوں کو قریب سے دیکھا اور اب فکرِ فراہی سے مطمئن ہیں۔ اس حوالے سے وہ اپنے دوستوں، عزیزوں اور علاقے میں مثبت سوچ، علم دوست رویوں کی بنیاد پر ایک جانی مانی شخصیت ہیں۔ اب ہمارے بھائی بہت سے لوگوں کو قرآن کریم کے قریب لانے کا سبب بنیں گے، ان شاء اللہ۔

میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
مجھے خوف آتشِ گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے

مدارس کے طلبہ اور فاضلین کے لیے بڑا مشکل مرحلہ یہ ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کی فکر کے برخلاف ایسی تعبیرِ دین کو اختیار کریں جس کے خلاف وہ فتویٰ جاری کر چکے ہوں، مخالف پروگراموں، شخصیات، لٹریچر، تنظیموں اور ان کی سرگرمیوں پر سخت گیر موقف رکھتے ہوں اور انہیں دائرۂ اسلام سے باہر سمجھتے ہوں۔ ایسی فضا اور ایسے رویوں کے درمیان ایک طالبِ علم جسے مطالعہ کا نہ صرف شوق ہو بلکہ بھرپور توجہ، شرکت اور دلیل کی بنیاد پر سچائی کو تسلیم کرنے کا جذبہ ہو، اور جب اس کا ذہن کسی بات سے مطمئن ہو تو اسے اختیار کرنے کے لیے کسی چیز کی پرواہ نہ کرے—ایسا مردِ حر اور رجلِ رشید ہمارے بھائی احمد دین صاحب ہیں۔ انہوں نے استادِ مکرم جاوید احمد غامدی صاحب کے نقطہٰ نظر کو قبول کرنے پر اپنے ماضی کے دوستوں اور حلقۂ احباب میں زیرِ عتاب رہے اور ہر طرح کی باتیں برداشت کیں۔ اس فکر کو قبول کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

ہر اس طالبِ علم جو کسی روایتی علم کے ساتھ منسلک ہے لیکن قرآن کریم سے خاص محبت اور اہمیت اس کے دل میں ہے، اسے چاہیے کہ قرآن کریم پر تحقیق کرے، خود غور کرے، مختلف تفاسیر پڑھے، پورا دینی پس منظر سمجھے، آج کے معاشروں کی ضرورت اور دینِ اسلام کو درپیش نئے چیلنجز کا ادراک کرے، نوجوان نسل دین کے متعلق کیا سوچتی ہے، آج کے مستشرقین کے سوالات کیا ہیں، دینی علوم میں قرآن کریم کو کیا اہمیت حاصل ہے، قرآن حکیم کا اصل چیلنج کیا ہے اور یہ کس چیز کی تعلیم دیتا ہے—یہ وہ سوالات ہیں جو بغیر تعصب کے پیشِ نظر رکھے تو بالآخر آج کے دور میں اسے استادِ گرامی جاوید احمد غامدی صاحب کی قرآنی فکر کو ماننے کے بغیر چارہ نہیں۔ یہ قرآنی فکر اب ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔

**ظفر اقبال چھینہ**

https://www.facebook.com/share/p/1FdVYbfzf8/

19/10/2025

آپ کا اختلاف سر آنکھوں پر، ایک بار سن تو لیں ان کی دعوتِ فکر کیا ہے۔

امام مالکؒ فرماتے ہیں، "اس قوم کے آخری حصے کی اصلاح بھی اس وقت تک نہ ہوگی جب تک وہ اسی طریقے کو نہ اختیار کرے جس طریقے پر ابتدا میں اصلاح ہوئی تھی۔" دعوت و اصلاح کے عمل کے موثر اور پائیدار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا فہمِ قرآن کریم، خدا کی منشا و مقصد کے زیادہ سے زیادہ قریب اور ہم آہنگ ہو جائے، جیسا کہ رسولِ اکرمؐ نے اور صحابہِ اکرامؓ نے اختیار کیا۔ بعثتِ نبویٰ کے تمام ادوار میں اللہ کے رسولؐ کے دعوتی منہج میں تذکیر بالقرآن کی خصوصیت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ آپؐ سب کے سامنے، ایک فرد سے لے کر شاہانِ وقت تک، قرآن کریم سے ہی دعوتِ فکر رکھتے۔ آج بھی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے خاص نصیحت اور تزکیہِ نفس کے لیے کتابِ اللہ ہی ہے۔

ایک دور میں ہم جوشیلے واعظین، سروں والے مقررین اور مناظرانہ ذہنیت سے تنگ آکر اسلام کو بھی تقریباً خیرباد کہہ چکے تھے۔ سوشل میڈیا پر استادِ محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے مختلف موضوعات پر وڈیو مکالمے، رسائل اور کتب ہمارے محسن دوست اشتیاق بھائی آف ڈھرنال تلہ گنگ کی وساطت سے ملے، جن کی کمال شفقت اور مہربان سلوک نے پھر سے اسلام کے قریب کر دیا۔ ابتدا میں جب سننا شروع کیا تو غامدی صاحب کی باتیں اجنبی اور پچھلے روایتی علماء سے مختلف لگتی تھیں، لیکن باتیں اختصار سے کرتے اور جوابات دیتے وقت لب و لہجہ شائستہ ہوتا۔ اپنے سے شدید مخالف رائے والے کا احترام دیکھ کر لگتا کہ بندہ چاہے غلط فہمی میں مبتلا ہے، پر اعلیٰ تربیت یافتہ اور بلا کا ذہین و فطین ہے۔ کیوں نہ کچھ تو ان کی ذہانت سے کی گئی چالاکی سے فائدہ اٹھایا جائے۔ یوں ہم بغیر زانوئے تلمذ طے کیے، ان کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔

پیدا تو ہم کٹر بریلوی خاندان میں ہوئے، جو ہر سال عرس کرواتے اور باہو سلطان مزار کی حاضری قرض لے کر بھی پورا کرتے۔ پھر گاؤں میں تبلیغی جماعت آتی تو امامِ مسجد اور ان کے چند چہیتے ان کی خوب مخالفت کرتے کہ ان کی مجلس میں بیٹھنا ایک طرح سے گستاخِ رسول کے مرتکب ہونا ہے۔ یہ تبلیغی درودِ شریف کے اول تو منکر ہیں، اگر پڑھتے ہیں تو اوپر اوپر سے دیکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں۔ میرے والدِ گرامی کی طبیعت میں نرمی سے سوال کرنے والے بندے کی طرف متوجہ ہونے اور اس کے کام آنے کا داعیہ موجود تھا، چنانچہ کسی کی محبت کو یوں بنا سنے سمجھے ٹھکرانا شامل نہ تھا۔ ان کا یہ ملائمت والا رویہ اور نرم گوشہ، تبلیغی جماعت میں جانے کا سبب بنا۔ پھر کوئی سولہ سترہ سال دیوبندی مسلک کی تمام ذیلی جماعتوں کے نامی گرامی علماء کو سنا۔ اب اس ڈھلتی عمر میں، استادِ محترم جاوید احمد غامدی صاحب کی تعبیرِ دین اور قرآنی استدلال میں، اس عزم کے ساتھ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم سے بڑھ کر ہدایت کی کوئی کتاب نہیں۔ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی سنت، جو امت میں من حیثِ المجموعہ تواتر سے جاری و ساری ہے، اس پر عمل کی بھرپور سعی کرنی ہے۔ اپنے آپ کو خدا کا مطلوب و مقبول بندہ بنانے کے لیے اپنی فکر سب سے زیادہ کرنی ہے کہ میں کیسے پروردگارِ عالم کے دربار میں اپنی اہلیت ثابت کر سکوں۔

استادِ مکرم جاوید احمد غامدی صاحب نے اس دعوتِ فکر کی بنیاد قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی رکھی ہے۔ قرآن کریم کی بے لوث دعوت، اس عہد ساز شخصیت نے آج کے معلمِ صادق نے کتنی عمدگی اور خوبصورتی سے اس دنیا میں برپا خدا کی اسکیم بتائی۔ دین میں اخلاق و کردار کی اہمیت اور انسان کی زندگی میں وقار، اعتبار، توازن برقرار رکھنے میں بنیادی ایمان کی دولت اور عمل صالح کتنا ضروری ہے۔ اسی طرح ایک بندہِ مومن اپنے آپ کو قبولیت کے کس درجے میں لے جائے کہ اللہ کا وہ مقبول بندہ بن جائے۔ آخرت کے حوالے سے قرآن کریم کی روشنی میں یہ بہت ہی عام فہم اور بنیادی تعلیمات، جامعیت کے ساتھ، کس حسنِ بیان اور دل کے صدق کے ساتھ بیان کرتے آرہے ہیں۔ بفضلِ خدا، اس فکر کی قبولیت ہر خاص و عام میں ہو رہی ہے۔

**ظفر اقبال چھینہ**

12/10/2025

ملک کی سلامتی کے لیے ہم سب ایک ہیں

قرآن حکیم میں جہاد اور قتال کے بارے میں واضح قانون بیان کیا گیا ہے۔ جہاد بمعنی قتال کا حکم مسلمانوں کو بحیثیت جماعت دیا گیا ہے، نہ کہ انفرادی طور پر۔ کوئی فرد یا گروہ اپنی مرضی سے قتال نہیں کر سکتا۔ طالبان کا بیانیہ قرآن و سنت سے متصادم اور اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے۔ یہ دراصل شرپسندی اور خودساختہ دینی تشریحات پر مبنی ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ قتل و غارتگری اور دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ اس بیانیہ نے قوم اور اس کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کیا اور اسلام کے پرامن چہرے کو دنیا بھر میں داغدار کیا۔ یہ انتہاپسندانہ اور خونخوار سوچ ہے، جس نے اسلام کی عزت کو نقصان پہنچایا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس فسادی بیانیہ کو سختی سے کچلا جائے اور اس کے حامی گروہوں کو لگام دی جائے۔

کون ہے جس نے پوری دنیا کو دشمن قرار دے کر لڑائی شروع کرنے کا بیانیہ بنایا؟ ہر وقت نفاذِ شریعت، جہاد و قتال، کفر و شرک، اور ارتداد کے نام پر خودساختہ تشریحات پیش کرنا اور نفرت کی فضا قائم کرنا اسلام نہیں ہے۔ اسلام کی بنیاد دعوت، علم و شعور، پرامن تعمیری سوچ، اور اخلاقی بھائی چارے پر قائم ہے۔ بدقسمتی سے، اس بیانیہ نے خواتین کی تعلیم، ترقی، اور باعزت زندگی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کی ہے۔ یہ حیران کن ہے کہ اسلام نے عورت کو جو عزت اور مقام دیا، اسے یہ نام نہاد مولوی نفرت اور دہشت کی علامت بنا دیتے ہیں۔ یہ خارجی سوچ رکھنے والے عناصر مذہب کے نام پر شرپسندی پھیلاتے ہیں اور اسلامی نظام یا انقلاب کے نام پر قوم، وطن، اور انسانیت کے لیے زہر قاتل بن چکے ہیں۔

افغانستان یا خیبرپختونخوا میں جو مسلح گروہ پاکستانی افواج کے خلاف برسرپیکار ہیں، ان کا خاتمہ ضروری ہے۔ ہر چند ماہ بعد یہ گروہ لڑنے اور مرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اس وقت پاکستانی سول حکمرانوں اور مسلح افواج پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی کو بخوبی سرانجام دیں، اور ہماری بہادر افواج اس ذمہ داری کو پورا کر رہی ہیں۔ ہماری افواج سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اندرونی دشمنوں سے بھی نمٹ رہی ہیں، جو بیرونی دشمنوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ اندرونی دشمن اپنی دہشت گردی اور ترقی و امن کے خلاف بیانیہ کے ذریعے نوجوان نسل کو تباہ کر رہے ہیں۔ بیرونی دشمنوں کو طاقت کی زبان میں جواب دینا ضروری ہے، اور ہماری افواج اسے بروقت اور بھرپور طریقے سے دے رہی ہیں۔

ملک کی خوشحالی، ترقی، اور سلامتی کے لیے ہمیں متحد ہونا ہوگا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مذہب کے نام پر غیر ریاستی عناصر (نان اسٹیٹ ایکٹرز) کو لگام دی جائے۔ کوئی گروہ مذہب کے نام پر پوری قوم کو یرغمال نہیں بنا سکتا۔ دہشت گردی کی کوئی بھی شکل قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ اہل علم اور پڑھے لکھے افراد کو اس حوالے سے شعوری جدوجہد کرنی چاہیے اور اپنی دین داری اور حب الوطنی کا ثبوت دینا چاہیے۔ ایک شخص ہاتھ میں کلاشنکوف اٹھا کر پوری قوم کو ازسرنو مسلمان بنانے کا دعویٰ کرتا ہے، یہ سراسر جاہلانہ سوچ ہے۔ مختلف زبانیں، ثقافتیں، رنگ و نسل، اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا ہی تہذیب یافتہ معاشرے کی ضرورت ہے۔ اس مشکل وقت میں تمام محب وطن پاکستانی اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ہماری فوج کی قیادت اس وقت ایک زیرک اور بہادر سپہ سالار کے ہاتھوں میں ہے۔ جو بھی اس ملک میں پیدا ہوا اور جس کے رگ و پے میں حلال خون دوڑتا ہے، وہ مودی کی جنونیت، طالبانائزیشن کی عسکریت پسندی، علاقائی شرپسندوں، اور خاص طور پر مذہب کے لبادے میں دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کے خلاف آپریشن کی حمایت کرے۔

**ظفر اقبال چھینہ**

11/10/2025

تلخ حقیقتوں میں بھی زندگی خوبصورت ہے۔

آئے، ٹھہرے، اور روانہ ہو گئے
زندگی کیا ہے؟ بس سفر کی بات ہے۔

خدا کی محبت پانے کے لیے اس کی یاد میں تڑپنا میں کئی دنیاوی اور آخروی فوائد حاصل ہوں گے۔ اس کائنات میں انسان کا سب سے بڑا رشتہ اپنے خالق کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس کے پاس محبت کی مختلف پرتیں ہیں—طمانیت، رحمت، فضل اور بخشش کے لامحدود خزانے۔ اس نے ہمیں بیشمار نعمتیں عطا کی ہیں، جو اس کی خاص محبت کی نشانی ہیں۔ انہی چند قطروں سے ہزاروں میرے جیسے میں پیدا ہو سکتے تھے، لیکن اس نے مجھے وجود بخش کر اپنی رحمت اور محبت سے نوازا۔ ورنہ وہ مجھے پیدا ہی نہ کرتا۔ وہ یقیناً ہر انسان سے محبت کرتا ہے، اور ہماری ذات کی موجودگی اس کی محبت کی گواہی ہے۔ خدا سے محبت کا مطلب اپنے آپ کو اس ذاتِ کبریا کے سامنے سپرد کرنا ہے۔ اسی نے ہمارے دل میں اپنی پیاس رکھی ہے۔ جب تک اس سے تعلق استوار نہ ہو، ہماری روح پریشان رہتی ہے۔ خالص محبت سے ہی بندگی کا تقاضا پیدا ہوتا ہے، اور سجدے کی حالت میں تمام مسائل وہ اپنے ذمے لے لیتا ہے۔ دعا کا یقین اور اس سے زندہ و جاوید تعلق سب سے پراثر ہتھیار ہے۔ ہمارے مانگنے میں کمی ہے۔ بندگی ہمارا مقصدِ حیات ہونا چاہیے، جو ہمیں انسان بن کر جینے کے لیے راہ دکھاتی ہے۔ آخرت میں اس ذات کی عظیم اسکیم کا حصہ بننے کے لیے خود کو اہل کرنا ہے۔ بے پروائی اور بے نیازی صرف اسی کی ذات کو سجتی ہے۔ اس نے ہماری شخصیت کو اس طرح بنایا کہ ہم مانگتے رہیں، محبت کرتے رہیں، اور ہمیں جواب بھی محبت سے ملے۔ تب ہی ہمارا دل درست جگہ پر ٹھہرتا ہے۔ اسی لیے پروردگار نے اپنی رضا جنت میں رکھی ہے، جہاں اہلِ دل اور محبت کرنے والے ہوں گے، جنہوں نے اس زندگی میں نہ صرف اس کی محبت پائی بلکہ اس کی اطاعت بلا چون و چرا بجا لائی۔ خدا کی محبت پانے کا نظریاتی علم کتاب اللہ میں ہے، اور ہدایت کا عملی نظام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ہے۔

انسان کے حسِ جمال، خوش مزاجی اور جائز تفریح کے لیے فنونِ لطیفہ نہ صرف جائز ہیں، بلکہ یہ خداوندی نعمتیں ہیں۔ جنت میں یہ ساری نعمتیں ابد تک میسر رہیں گی۔ فنونِ لطیفہ میں تخیل، تجسس اور دکھوں کو زبان دینا شامل ہے۔ کمالِ اداکاری ہر بندے کو اپنی خوشیوں اور غموں کے ملے جلے جذبات میں غرق کر دیتی ہے۔ کوئی غم زدہ کو تھام لے، تو دکھوں سے بھی ایک دلچسپ کہانی بنتی ہے، جو چہروں پر خوشیاں لاتی ہے۔

ہم پیدا ہوتے ہی زندگی بچانے کی جدوجہد میں لگ جاتے ہیں۔ مگر مختلف مراحل کے تسلسل کے بعد تھک کر، ٹوٹ کر، اور بالآخر مر جانا مقدر ٹھہرتا ہے۔ پریشانی تو ویسے ہی مل جاتی ہے۔ کبھی خوابوں کے ٹوٹنے اور جوڑنے کی تگ و دو، کبھی رشتوں کی ناراضگی، کبھی بچھڑنے کی فکرمندی، کبھی ساتھ جینے کے مسائل، اور کبھی دوری کی گھبراہٹ۔ کبھی کسی کی یادوں کے سناٹوں میں گونجتی آوازیں سنائی دیتی ہیں، کبھی کسی کا ذکر خون جلاتا ہے۔ کبھی ماضی کی حسین یادیں، کبھی مستقبل کے اندیشے۔ ہم خود کو کب تک سنبھالیں گے؟ ایک بار تو دفن ہونا ہی ہے۔ پھر کیوں نہ خوش دلی سے جیا جائے؟

اصل میں انسانیت دوسروں کے درد کو محسوس کرنے کا نام ہے۔ ہر وقت اپنائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کے دکھوں اور تکلیفوں کا مداوا ایک وقت میں ہو جائے گا۔ خالقِ کائنات کی رضا میں راضی رہنا زندگی کا بہترین انتخاب ہے، جو اخلاص کے ساتھ صبر و شکر کے ساتھ وقت گزارتا ہے۔ انسان کو ہر چیز کی ایک خاص مقدار درکار ہوتی ہے، لیکن محبت ہر وقت بے تحاشا چاہیے۔ آئیے، کچھ دیر پھولوں میں، خوبصورتی میں، اور خوشحال لمحات میں جینے کی کوشش کریں۔

**ظفر اقبال چھینہ**

09/10/2025

وحید مراد ایک منفرد تعلیمی محقق کا نظامِ فکر و عمل

تعلیمی میدان کے شہسوار، جناب وحید مراد صاحب کی پراثر تحریروں نے کچھ عرصہ قبل علمی حلقوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے۔ وہ اس وقت شعور کی منفرد آواز ہیں، جو مذہب، سائنس، نفسیات، عمرانی علوم، اور فلسفہ اخلاق پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔ وحید مراد صاحب نے علمی مضامین اور تحقیقی مقالات کے ذریعے تعلیمی نظام میں جدت لانے اور طلبہ، اداروں، اور قوم کے لیے نئی روشنی فراہم کرنے کا عزم کیا ہے۔ انہوں نے مسائل کو بنیاد سے سمجھ کر ایک منظم اور قابلِ عمل جہان دریافت کیا ہے، جو نہ صرف عملی ہے بلکہ رکاوٹوں کو دور کر کے قومی و ملی ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

ان کی تحریریں کئی ماہ سے فیس بک پر اہلِ علم کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ ہر موضوع پر ان کا قلم بھرپور انصاف کرتا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک قابلِ قدر توازن ہے، اور ان کی سوچ ارتقائی مراحل سے بلند ہو کر ایک نئی جہت اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مضامین میں الفاظ اور جملوں کی زینت علم و ادب کے ساتھ فصاحت و بلاغت سے مزین ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ برسوں ایک استاد اور اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں، اور وہ بھی ایسے استاد اور منتظم جنہوں نے طلبہ کی تخلیقی عدم دلچسپی اور معاشرے میں تعلیمی سوچ کے فقدان کی وجوہات کو گہرائی سے محسوس کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ کیا، مصنفین کے نفسیاتی تجزیوں پر غور کیا، اور ریاضی و سائنس جیسے موضوعات پر قدیم و جدید تقابل کر کے مغربی تعلیمی نظام کو گہرائی سے سمجھا۔ ان کی اس علمی اپروچ نے تنقیدی نگاہ کو تعمیری سوچ میں بدل دیا، اور برسوں کی چھان پھٹک کے بعد انہوں نے ایک ایسی فکر کشید کی ہے جو ہمارے خطے کے تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

تعلیمی نظام کے حوالے سے ان کی ہر بات اپنا ایک وزن رکھتی ہے۔ وہ جس موضوع پر بھی لکھتے ہیں، اس کے پس منظر اور پیش منظر کو منظم انداز میں پیش کرتے ہیں، اور اپنے دلائل کو ٹھوس بنیادیں فراہم کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ تعلیم اور معاشرے میں شعور کے فقدان کے مسائل کو بنیاد سے سمجھ کر ان کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں۔ میں انہیں تعلیمی اصلاحات کا امام اور شعوری علمی تحریک کا موجد سمجھتا ہوں۔

دو موضوعات پر ان کی گرفت نہایت مضبوط ہے۔ اول، سوشل میڈیا پر الحاد کے حوالے سے ان کا مکالمہ اور وہ اہم سوالات جو ہمارے دین کی اصل تعلیمات کو واضح کرتے ہیں۔ وہ دین میں مرورِ زمانہ کے باعث پیدا ہونے والی آمیزشوں کو نہایت خوبی سے علیحدہ بیان کرتے ہیں۔ دوم، الحاد کی بنیادی غلط فہمیوں اور مذہب پر اس کے بے بنیاد الزامات کے تاروپود بکھیر کر ان کی کمزوریوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ تاہم ان کا سب سے اہم موضوع ہمارے تعلیمی نظام کی بہتری ہے۔ تعلیم سے وابستہ سنجیدہ افراد ان کے نام اور مقام سے بخوبی واقف ہیں۔ اگر وہ ترقی یافتہ ممالک میں ہوتے، تو انہیں سرآنکھوں پر بٹھایا جاتا اور ان کے ساتھ مکمل انصاف کیا جاتا۔ ہر لیول پر ان کی خدمات سے استفادہ کیا جاتا۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ دنیا میں اپنا ممتاز مقام حاصل کرے، تو وحید مراد صاحب کی خدمات، علمی مشاہدات، اور تجربات سے استفادہ کرنا ہوگا۔ ان کی تازہ فکر ہماری قوم کے لیے کامیابی کی نوید ثابت ہو سکتی ہے۔

> تعلیم کو لکھیں گے اگر تاج محل ہم
> اس پیکرِ تدریس کو محراب لکھیں گے

سوشل میڈیا پر ہمارے اکثر دوست اسلام کی حقانیت اور دعوتی نظریات کو پھیلانے کے لیے لکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ دانشور جو ملک میں عدل و انصاف اور سیاسی حالات پر درست زاویہ نظر پیش کرتے ہیں، وہ بھی اپنی بات سادہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔ کچھ مذہبی افراد کا کہنا ہے کہ مذہب کے بغیر ترقی ممکن نہیں، مگر وہ یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ مذہب کی اصل تعلیمات کیا ہیں، ان کی اہمیت کیا ہے، اور انہیں کس طرح ہماری تہذیب کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ آج کے نوجوانوں کے سوچنے کے انداز اور ان کے پیچیدہ مسائل کو ایڈریس کرنے کے لیے ہمیں ایک نئے زاویے سے سوچنا ہوگا۔

وحید مراد صاحب اس حوالے سے نہایت عمدگی سے لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف ہمارے تعلیمی نظام کی خامیوں کی نشاندہی کی ہے بلکہ انہیں سدھارنے کے لیے ٹھوس حل بھی پیش کیے ہیں۔ وہ اجمالاً یا خالی تنقید نہیں کرتے، بلکہ واضح کرتے ہیں کہ تعلیمی نظام میں کن کن پہلوؤں سے کیا کمی ہے اور اسے کیسے سمجھنا اور درست کرنا چاہیے۔ جو لوگ اپنی قوم کی تعلیمی ترقی کے لیے پریشان ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ان کی تحریروں کا مطالعہ کریں۔

مختصراً، اسلام کی دعوت کو آج کے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ منفی پراپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے وحید مراد صاحب بروقت اور عمدہ رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ معاشرے کے تمام مسائل کی بنیاد تعلیم ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم معاملات میں منصفانہ ہو، گفتگو میں سچائی ہو، اور زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہو، تو ہمیں تعلیمی نظام کو درست کرنا ہوگا۔ جرائم کی شرح زیادہ ہونے کی صورت میں قوانین کو سخت کرنا پڑتا ہے، اور اخلاقی دیوالیہ پن کے پیش نظر اسلام کی تعلیمات کو ازسرنو پیش کرنے اور تربیت کے میکانزم پر توجہ دینا ہوتی ہے۔ اگر ہم دوسروں کی اندھی تقلید کریں گے اور تحقیقی و ترقیاتی ذہنیت کو فروغ نہ دیں گے، تو کبھی بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں گے۔

انسانوں نے ہی سماجی اداروں اور نظاموں کو بنایا ہے، اور انسان ہی ان کی ترقی کے لیے لٹریچر ترتیب دیتے ہیں۔ ہر دور میں اعلیٰ سوچ کے حامل افراد پیدا ہوتے ہیں جو پرانے نظاموں کو چیلنج کرتے ہیں۔ وحید مراد صاحب نے ہمارے نظام کی خرابیوں کو نہایت خوبصورت اسلوب اور مثالوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کے مقالات پڑھ کر اہلِ علم یقیناً سنجیدگی سے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان اپ جیسی عظیم شخصیت موجود ہیں جو نہ صرف خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کے حل کے لیے عملی کاوشیں بھی کر رہے ہیں۔ آج ان کی کتاب ہمیں بطور تحفہ موصول ہوئی ہے، جو ہمارے لیے ایک اعزاز ہے۔ اتنی عظیم علمی شخصیت سے ہمیں قیمتی تحفہ ملنا باعثِ فخر ہے۔

**ظفر اقبال چھینہ**
👇
وحید مراد صاحب کے فیس بک پیج کا لنک
https://www.facebook.com/share/1dE8CzPvSA/

07/10/2025

اس پیکر خاکی کے لیے قرآن جیسی نعمت

**الٓرٰ ۚ كِتَابٌ اَنْزَلْنَاهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِۙ بِاِذْنِ رَبِّـهِـمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَـمِيْدِ (ابراہیم، 1)**
اے نبی! یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائیں، ان کے رب کے حکم سے اس عزت والے اور قابلِ حمد ہستی کے راستے کی طرف۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی تربیت ایک عظیم معلم کی طرح کی۔ قرآن کریم کے ذریعے انہیں سمجھایا کہ وہ اس دنیا میں امتحان کے دور سے گزر رہے ہیں۔ قرآن کریم کا انسانیت سے مطالبہ نہایت متوازن ہے۔ دنیا، علم، اور وسائل جو بھی میسر ہیں، ان کے اندر رہتے ہوئے اپنی پاکیزگی کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ کائنات کی وسعتوں اور اس کے حقائق سے مکمل آگاہی شاید انسان کے بس میں نہ ہو، لیکن اسے یہ شعور حاصل کر لینا چاہیے کہ اس کی عظیم ہستی سے تعلق درست ہو۔ یہ تعلق اس وقت درست ہوتا ہے جب انسان یہ جان لے کہ ذاتِ کبریا کی غرض و غایت اور منشا کیا ہے۔ انسان کا اس دنیا میں مختصر قیام کا مقصد کیا ہے؟ کیا وہ اس دنیا میں بے مقصد زندگی گزارے؟ مذہب کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسانوں کی آخری منازل میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ کائنات کے اسرار و رموز سے آگاہی کے ساتھ ہدایت کا یہ جاننا سب کے لیے ضروری ہے کہ اس زندگی کو کن اصولوں پر گزارنا ہے اور آخرت کی کامیابی کن بنیادوں پر منحصر ہے۔

درحقیقت، فطری فیض اب قیامت تک کتاب اللہ میں محفوظ ہے۔ مومنین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شرافت، اخلاقِ عالیہ، وسعتِ قلبی، رواداری، اور جود و سخا جیسے اوصاف اپنائیں۔ جو لوگ کمزور، ناتواں، یا اس ربانی خزانے اور حیرت انگیز علم و معرفت سے محروم ہیں، جاننے والوں کو ان پر رحم کرنا چاہیے۔ دعوتِ حق اور خدمتِ خلق کے ذریعے ان کے ساتھ ہمدردی کرنی چاہیے، کیونکہ وہ اس عظیم نعمت اور حقائق سے محروم ہیں۔ جو لوگ اللہ کی فطرت کے قوانین کو نہیں دیکھتے، جو تاریخ کے تجربات کی روشنی میں سننِ الٰہیہ کو تلاش نہیں کرتے، جو اپنے اندر کی پیاس بجھانے کے لیے حیاتِ نو نہیں پاتے، اور جو کائنات کے اسرار و رموز سے ناواقف ہیں، وہ خالق کی عظمت سے بے خبر ہو کر غفلت کی زندگی گزارتے ہیں۔

قومی و بین الاقوامی سطح پر امامت یا سیاسی تبدیلی کے خواہشمند مسلم انقلابی رہنماؤں نے دینِ اسلام کے بنیادی پیغام کو ثانوی حیثیت دی ہے۔ ان کے نزدیک معاشرے کی مجموعی اصلاح، تزکیہ نفس، اجتماعی ترقی و بہبود، اور آخرت کی فلاح بغیر انقلابِ اسلامی کے ممکن نہیں۔ نظام کی درستگی کے داعی اور کسی مسیحا کے منتظر، دونوں نے اسلام کے بنیادی پیغام کو سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ نظام کے درست ہونے تک اعمال کو مؤخر کرنا اپنے آپ کو خطرناک نتائج کی طرف دھکیلنا ہے۔

**ظفر اقبال چھینہ**

05/10/2025

اے عظیم استاد! تیرے مبارک قدموں کی چاپ کے لیے وہ دھرتی بھی ناز کرتی ہوگی۔

میں آج کے دن کی مناسبت سے اپنے عظیم استاد، ملک ممتاز احمد صاحب آف صادق آباد، کی یاد تازہ کرتا ہوں، جن کی صحبت میں میں نے دو سال گزارے۔ نویں اور دسویں جماعت میں وہ ہمارے انگریزی کے استاد تھے۔ وہ اس وقت میرے آئیڈیل استاد تھے۔ ان کا معیاری اندازِ تکلم، وقت کی پابندی، وضع قطع میں درویشانہ انداز، لباس میں سادگی، اور خیالات میں تہذیبی اقدار کی پاسداری بدرجہ اتم موجود تھی۔ سچے دور کے اس عظیم المرتبت شخص نے بچوں میں ذوقِ علم و فضل کے ساتھ اعتماد پیدا کرنے کے لیے ساتھی اساتذہ کی مخالفت بھی مول لی۔ ان کے بعض ہم عصر اساتذہ ان کی اس درجہ محنت اور فرض شناسی کو دیکھ کر حاسد بھی تھے، لیکن وہ عظمت کا پہاڑ اپنے فرائضِ منصبی کو جان پر کھیل کر پورا کرتا تھا۔ زندگی بھر انہوں نے اپنے فرائض سے کبھی غفلت نہ برتی۔ رزقِ حلال کیسے کمایا جاتا ہے، ایک مثالی استاد کیسا صاحبِ کردار ہوتا ہے، وقت کی پابندی کیوں ضروری ہے، اور بغیر محنت و نظم و ضبط کے کامیابی نصیب نہیں ہوتی—یہ سب انہوں نے سکھایا۔ انگریزی مضمون میں ان کی شاندار مہارت تھی، اور اپنے پرائے سب مانتے تھے کہ ممتاز صاحب کی قابلیت میں کوئی شک نہیں۔ احساسِ ذمہ داری کی خوبی کی وجہ سے وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں بھی چاک و چوبند تھے۔ مال کی حرص سے دور، قناعت پسند طبیعت کے مالک، ایماندار شخص تھے۔ ان کی فرض شناسی کا مظاہرہ قابلِ دید تھا۔

صبح کا پہلا پیریڈ ہوتا تھا، اور کلاس میں ساٹھ سے زائد طلبہ کی تعداد ہوتی۔ سب کی حاضری لینا، سابقہ سبق سننا، نیا سبق پڑھانا، اور سب طلبہ کے ہوم ورک کو عقابی نگاہ سے چیک کرنا—ان کی ایسی منظم منیجمنٹ تھی کہ گویا ان کے اوقات میں برکت تھی۔ وہ بروقت اسکول پہنچتے اور شاید سب سے آخر میں جاتے۔ شہر سے دور دراز گاؤں میں ہمیں پڑھانے آتے۔ اسکول شروع ہونے سے پہلے وہ "زیرو پیریڈ" میں بچوں کو پڑھاتے اور چھٹی کے بعد بھی مفت میں تعلیم دیتے۔ اگر آٹھ دس لڑکوں کا گروپ یا کلاس راضی ہوتی، تو وہ بغیر فیس کے پڑھانا اپنی سعادت اور نیکی کا سرمایہ سمجھتے۔ وہ اکثر فرماتے کہ اگر کلاس میں استاد ایمانداری سے وقت گزارے، تو بچوں کو ٹیوشن کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ٹیوشن کو وہ روزی خراب کرنے اور والدین پر اضافی بوجھ سمجھتے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نورِ ایمان اور اعلیٰ اخلاقیات سے نوازا تھا۔

میں کلاس میں بہت زیادہ لائق تو نہ تھا، لیکن اتنی سوجھ بوجھ تھی کہ وہ مجھ سے اس لیے پیار کرتے تھے کہ میں قابل بن جاؤں اور اچھے نمبروں سے پاس ہوں۔ انہیں اپنے تمام اچھے شاگردوں کی نشستیں بھی یاد تھیں۔ وہ انگریزی کے استاد تھے، لیکن ایک بار اردو کے استاد کی غیر موجودگی میں انہوں نے پانچ اسباق پڑھائے۔ کتاب بند کرکے کچھ ہی دیر میں سب کو مضمون یاد ہوگیا۔ ان اسباق میں جو نتائج کتاب سے ہٹ کر بنتے تھے، وہ بھی ہمیں سکھائے۔ وہ سبق—مثلاً "گھر سے گھر تک" از احمد ندیم قاسمی، "کتبہ" از غلام عباس، اور "صادقہ کی مصیبت" از علامہ راشد الخیری—مجھے آج تک یاد ہیں۔ نہ اس سے پہلے کسی نے اس طرح پڑھایا، نہ بعد میں کسی نے اس طرح سمجھایا۔ جب انہیں کسی اور مضمون کی ڈیوٹی دی جاتی، تو وہ ایک دن پہلے کتاب گھر لے جاتے اور پوری دیانتداری سے تیاری کرتے۔ مجھے یاد ہے کہ جب سائنس ٹیچر، جو بائیولوجی پڑھاتا تھا، غیر حاضر ہوا، تو انہوں نے ہمیں بائیولوجی پڑھائی—سائنس ٹیچر سے کئی گنا بہتر سمجھایا۔ اس وقت دو باتیں ذہن میں آئیں: ایک تو یہ کہ استاد مکرم ممتاز صاحب سب کچھ جانتے ہیں اور ہر مضمون پڑھا سکتے ہیں؛ دوسرا یہ کہ شاگرد نالائق نہیں ہوتے، کچھ اساتذہ کے پڑھانے میں بھی خامیاں ہوتی ہیں۔ بخدا، ان کے اندر خدا کے حضور جواب دہی اور اپنی روزی کو حلال کرنے کا کتنا عظیم داعیہ تھا۔

ایک دو ماہ انہوں نے ہمیں قرآن کریم کا تیسواں پارہ تجوید کے ساتھ ناظرہ بھی پڑھایا۔ وہ تیسواں پارہ میں آج بھی روانگی سے پڑھتا ہوں، میری اس تجوید کی ریاضت میں استاد محترم کی محنت شامل تھی۔ مجھے بس اتنا یاد ہے کہ وہ نہ صرف قابل ترین استاد تھے، بلکہ کامیاب مومن بندے بھی تھے۔ فرض شناس، علم سکھانے کا جذبہ صادق رکھتے تھے، البتہ سختی بھی ضرور کرتے، لیکن دل کے بہت نرم تھے۔ جب اسکول میں ظہر کی نماز ہوتی، تو وہ پہلی صف کے ایک کونے میں عاجزی کے ساتھ کھڑے ہوتے—وہ شانِ عاجزی میرے دل پر آج بھی نقش ہے۔ ان کی چال ڈھال میں حیا، چہرے پر علم کی نورانیت، اور طلبہ کی تعلیم کے حوالے سے فکرمندی عیاں تھی۔میرا دل ان کی یادوں کی خوشبو سے ہمیشہ بھرا رہتا ہے۔ کتنے ہی محاسن ان کے یاد ہیں، مضمون کی طوالت آڑے آ رہی ہے۔ اس عظیم استاد کی عظمت لفظوں میں بیان نہیں کی جاسکتی۔

زندگی بھر تمھارا حق ادا ہو سکتا نہیں
بار احسانات سے ہے سر خم اٹھا سکتا نہیں

میرے پیارے عظیم استاد، ملک ممتاز صاحب! تیری شخصی عظمت اور علمی جلالت کے وہ سب شاگرد معترف تھے جنہوں نے زمانے میں آگے بڑھنا تھا اور جن کی بڑی شخصیت بننے میں آپ کا کردار اہم تھا۔ آپ کا پنجابی و سرائیکی لب و لہجہ عجب مٹھاس لیے ہوئے آج بھی یاد ہے۔ آپ کا جھک کر چلنا، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں اونچائی سے اترائی کی طرف، ان والدین کی خوش بختی جنہوں نے آپ کی مثالی تربیت پائی۔ آپ کا وہ عظیم جملہ کہ "استاد وہ ہوتا ہے کہ اس سے کوئی بھی سوال کریں تو وہ معقول جواب دے، تب ہی شاگرد اس کی عظمت کے معترف ہوں گے اور علم سے ان کی محبت بڑھے گی۔" آپ حقیقی معنوں میں فطری خیر خواہ اور قوم کے معمار تھے۔ میری زندگی میں سب سے زیادہ ویلیو ایڈیشن آپ کے کردار کی وجہ سے ہوئی۔ آپ مجھ نالائق کو سمجھاتے کہ "تم میں قابلیت بہت ہے، بس توجہ نہیں کرتے۔" میرے ذہن میں یہ تھا کہ شاید آپ کے پاس کوئی خاص پیرامیٹر ہے جس سے آپ نے میری قابلیت کو اندر سے دیکھ لیا، حالانکہ میں ایسا نہ تھا۔ شاید عظیم اساتذہ اسی طرح نرم لفظوں سے طلبہ میں اعتماد بھرتے ہیں۔

"میرے استاد نے اک دیپ روشن کیا تھا سچائی کا، اب ہر راہ میں اجالے میرے قدم چومتے ہیں۔''

وہ استاد جو بظاہر سخت لگتے تھے، لیکن اپنے مقاصد پورے کرتے تھے، ان کی سختیوں اور سرزنش میں رحمت، محبت، بھلائی اور عنایات تھیں۔ ایسے کریم النفس استاد کی صحبت کو گزرے بتیس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا۔ پروردگار عالم سے دعا ہے کہ ان پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کا ہمیشہ نزول فرمائے۔ اس دنیا میں وہ اپنے نام کی طرح ممتاز تھے، اور آخرت میں بھی انہیں ممتاز مقام عطا فرمائے۔ پل پل انہیں سکھ و چین میسر رہے۔
**ظفر اقبال چھینہ**

Address

Leiah
Punjab

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zafar Iqbal Chheena posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share