18/08/2026
بیٹی کے طلاق ہونے پر باپ نے ڈھول بجا کر استقبال کیااور کہا
مری ہوئی بیٹی سے طلاق یافتہ بیٹی بہتر ہےلوگ حیران تھے کہ
باپ اپنی بیٹی کی طلاق پر خوش کیسے ہو سکتا ہےمگر کوئی اس باپ کا دل نہیں جانتا تھاجس نے اپنی بیٹی کو ہر آنسو چھپا کر ہنستے دیکھا تھاوہ جانتا تھا کہ بیٹی سسرال سےجسم کے ساتھ واپس آئی ہےمگر اس کی روح وہیں کہیں چھوڑ آئی ہےاسی لیے باپ نے ڈھول بجواۓتاکہ بیٹی کو یہ احساس نہ ہوکہ وہ ناکام ہو کر واپس آئی ہےبلکہ اسے یہ یقین ہوکہ بابا کے گھر کے دروازےآج بھی اسی محبت سے کھلے ہیں جس محبت سے اسے کبھی رخصت کیا تھا.