16/05/2026
گوادر ( بیورو رپورٹ)
ہم معزز صحافی برادری، الیکٹرانک و سوشل میڈیا نمائندگان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس اہم اور حساس معاملے پر ہماری آواز کو عوام تک پہنچانے کے لیے یہاں تشریف لانے کی زحمت کی۔ میڈیا ہمیشہ معاشرے کے مسائل اور عوامی احساسات کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، اور آج کی یہ پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
معزز حاضرین! 13 مئی کو یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر صاحب، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور صاحب، پی ایس او ٹو وائس چانسلر ڈاکٹر ارشاد بلیدی صاحب، اور ڈرائیور حاتم بلوچ صاحب سرکاری امور کے سلسلے میں گوادر سے کوئٹہ روانہ ہوئے تھے۔ راستے میں مستونگ کے علاقے سے ان کے لاپتہ ہونے کی خبر نے نہ صرف گوادر بلکہ پورے بلوچستان اور ملک بھر میں تشویش اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
آج گوادر کی سول سوسائٹی، انجمن تاجران، اساتذہ اکرام، دانشور، قبائلی معتبرین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شدید فکرمندی کے ساتھ یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ ایک اجتماعی، مذہبی اور انسان دوست اپیل دنیا کے سامنے رکھ سکیں۔
ہم یہ بات نہایت احترام کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اساتذہ اکرام، پروفیسر ز اور تعلیمی منتظمین وہ لوگ ہوتے ہیں جو نئی نسل کی فکری تربیت، شعور اور مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف گوادر جیسے ادارے بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے امید کی کرن ہیں جہاں ہزاروں طلبہ و طالبات اپنے بہتر مستقبل کے خواب لے کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالرزاق صابر صاحب، اور ان کے ساتھیوں کا تعلق بھی اسی مقدس شعبہ تعلیم سے ہے۔ وہ ہتھیار یا طاقت کے نہیں بلکہ علم، تحقیق، مکالمے اور نوجوانوں کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ان کی خدمات کا مقصد صرف اور صرف تعلیم کی بہتری اور نوجوان نسل کی رہنمائی ہے۔
لہذا ہم نہایت ادب، سنجیدگی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان تمام افراد سے اپیل کرتے ہیں جن کے پاس یہ حضرات موجود ہوں یا جو اس معاملے میں کسی بھی نوعیت کا کردار رکھتے ہوں کہ وہ ان معزز تعلیمی شخصیات اور ان کے ساتھیوں کو بحفاظت رہا کریں۔ یہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ، ان کے خاندانوں اور پورے تعلیمی نظام کی تشویش کا معاملہ بن چکا ہے۔
ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہماری یہ اپیل کسی سیاسی یا اقتصادی انداز میں نہیں بلکہ خالصتاً انسانی، سماجی اور تعلیمی بنیادوں پر ہے، بلوچستان کے حالات، یہاں کے مسائل اور عوامی احساسات سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں، مگر اس کے باوجود تعلیم اور اس سے وابستہ شخصیات کو ہمیشہ احترام اور تحفظ دیا جانا چاہیے، کیونکہ یہی لوگ معاشرے میں شعور، برداشت اور بہتری کے پیغام رسا ہوتے ہیں۔
ہم حکومت بلوچستان متعلقہ اداروں اور تمام با اثر شخصیات سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس حساس معاملے کو سنجیدگی سے لیں اور لاپتہ افراد کی جلد اور محفوظ بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ ان کے اہل خانہ، شاگردوں اور ساتھیوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔
آخر میں ہم ایک بار پھر نہایت خلوص اور درد دل کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر صاحب، ڈاکٹر منظور صاحب، ڈاکٹر ارشاد بلیدی صاحب، اور حاتم بلوچ صاحب کو انسانی ہمدردی، بلوچستان کی تعلیمی بہتری اور نوجوان نسل کے مستقبل کے پیش نظر جلد از جلد بحفاظت رہا کیا جائے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام لاپتہ افراد کو خیریت اور سلامتی کے ساتھ اپنے اہل خانہ تک واپس پہنچائے اور ہمارے معاشرے میں امن، علم اور استحکام کو فروغ دے۔