02/12/2021
*بلوچستان میں لوکل سرٹیفکس برائے فروخت*
*گستاخیاں/ ولی محمد زہری*
بلوچستان ملک کا واحد صوبہ ہے یاں یوں کہا جائے کہ اس طرح کی کالونی ہے جس کا جو جی چاہئے بنا یا حاصل کر سکتا ہے یہاں نہ تو قانون ہے اور نہ ہی گورننس ظلم کی انتہائی ہے کہ بلوچستان کے جعلی لوکل سرٹیفکیٹس پر فوج وفاقی اداروں اسلام آباد ایف بی آر آئی بی سمیت درجنوں اداروں میں اعلی عہدوں پر فائز لوگوں کے بلوچستان ہی سے جعلی لوکل سرٹیفیکٹس پر ملازمت کر رہے ہیں بلوچستان میں یوں تو دعوی کی حد تک بلوچستان نیشنل پارٹی نیشنل پارٹی بی این پی عوامی سمیت دیگر قوم پرست صوبے کے حق وحقوق اور ساحل وسائل پر سیاست کرکے بلوچستان کے سادہ لوح لوگوں کے ووٹ حاصل کرکے دنیا کی عیش و عشرت کر رہے ہیں لیکن ان ہی قوم پرست مذہبی اور سیاسی پارٹیوں کے ہوتے ہوئے لوکل سرٹیفیکٹس جعلی بنانے پر خاموشی بلوچستان کے نوجوانوں کے حقوق ہو ہڑپ کرنے کے مترادف ہے نصیرآباد بلوچستان کے ضلع کوئٹہ تربت کے بعد گنجان آبادی کا حامل اضلاع میں سے ایک ہے جہاں زرائع کے مطابق مبینہ طور پر اب سے زیادہ جعلی لوکل سرٹیفیکٹ بنایا گیا ہے اور جعلی لوکل سرٹیفیکٹس مبینہ طور پر ایک باقاعدہ منافع بخش کاروبار کا روپ دھار چکی ہے جس پر قوم پرستوں سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سوشل ایکٹوسٹس سول سوسائٹی صحافیوں قبائلی رہنماوں کی خاموشی کا مقصد اس حمام میں سب ننگے کے مترادف ہے ظلم تو یہ ہے کہ نصیرآباد کے لوکل سرٹیفیکٹس کمیٹی میں ایسے کئی افراد ہیں جنہیں نہ تو علاقے سے شناسائی اور نہ ہی تعلیم یافتہ ہیں جبکہ دیگر سیاسی اور قبائلی رہنماوں کے فرنٹ مین یا خاص افراد ہیں ضلع کے رہائشیوں اور حقدر لوگوں کی سرٹیفکیٹسکے حصول کے لئے سخت شرائط سالوں تک اصل لوکل کا بننا جوئے شیر لانے کے مترادف جبکہ سیاسی نمائندوں صحافیوں سوشل ایکٹوسٹ جیسے لوگوں کے جعلی لوکل انتظامیہ ایک دن میں تمام شرائط بالائے طاقت رکھتے ہوئے بناکر سیاسی قیادت اور ان لوگوں کی خوشنودی حاصل کر کے ضلعی انتظامیہ خوشی سے نہال ہوتے رہتے ہیں باخبر زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نصیرآباد سے سندھ کشمیر پنجاب کے پی کے سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع کے جعلی لوکل سرٹیفیکٹس مبینہ طور پر بلا تعطل بن رہے ہیں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کوئٹہ کا این آئی سی ہولڈر معروف ٹرانسپورٹرز کا نصیرآباد سے لوکل سرٹیفیکٹس کی تیاری نصیرآباد کے سیاسی جماعتوں بلخصوص قوم