23/04/2026
20 مہینے گزر گئے، مگر حوصلہ نہیں جھکا۔ مشر علی وزیر آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے صرف اس لیے قید ہے کہ اس نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، اپنے لوگوں کے حق میں کھڑا ہوا۔ اڈیالہ سے لے کر بلوچستان اور کراچی سندھ کی جیلوں تک، اس کا جسم قید رہا مگر اس کی سوچ اور مزاحمت آزاد رہی۔ یہ قید دراصل ایک نظریے کی آزمائش ہے، اور علی وزیر اس آزمائش میں سرخرو کھڑا ہے۔دوسری طرف جمال مالیار جیسے لوگ بھی اسی جدوجہد کی روشن مثال ہیں۔ اس نے بھی مظلوموں کے لیے آواز اٹھا کر، سچ کا ساتھ دے کر ثابت کیا کہ حق کی راہ میں قربانی ہی اصل پہچان ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اندھیروں میں روشنی بنتے ہیں، اور آنے والی نسلوں کو حوصلہ دیتے ہیں کہ ظلم کے سامنے خاموشی نہیں،مزاحمت ہی راستہ ہے۔
Jamal Malyar