10/02/2026
Muhammad Tahir, PSP
Inspector General of Police (IGP), Balochistan
محترم جناب!
بلوچستان بھر میں یہ ایک تشویشناک امر بنتا جا رہا ہے کہ ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر بیٹھے ہوئے عام اور شریف شہریوں کو بلاجواز پولیس کی جانب سے تنگ کیا جاتا ہے، جبکہ چور، منشیات فروش، موبائل چھیننے والے اور جھڑپوں میں ملوث عناصر کھلے عام گھومتے نظر آتے ہیں۔
عام شہری—خصوصاً نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد—اگر ذہنی سکون کے لیے کسی دوست کے ساتھ ہوٹل پر چائے پینے بیٹھیں تو انہیں مشکوک سمجھ کر روک لیا جاتا ہے، تلاشی لی جاتی ہے اور بعض اوقات تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو افراد حقیقتاً جرائم میں ملوث ہوتے ہیں، ان کے ساتھ نرمی یا چشم پوشی دیکھنے میں آتی ہے۔
یہ دوہرا معیار نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ پولیس کا فرض عوام کو تحفظ دینا ہے، نہ کہ اپنی افسری دکھا کر شریف شہریوں کی عزتِ نفس مجروح کرنا۔
آپ سے پُرزور درخواست ہے کہ:
ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر بلاجواز ہراسانی کا فوری نوٹس لیا جائے
نفری کو واضح ہدایات دی جائیں کہ عام شہریوں کے ساتھ باعزت رویہ اپنایا جائے
اصل توجہ چوری، منشیات فروشی، موبائل اسنیچنگ اور تشدد میں ملوث عناصر پر مرکوز کی جائے
اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث اہلکاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے
اگر کوئی شخص کسی جرم میں ملوث ہو تو قانون کے مطابق کارروائی پولیس کا حق اور فرض ہے، مگر محض غریب یا عام ہونا جرم نہیں۔ عوام یہ امید رکھتی ہے کہ آپ کی قیادت میں پولیس انصاف، مساوات اور احترام کے اصولوں کو یقینی بنائے گی۔
゚viralシfypシ゚viralシ