30/01/2026
بلوچستان: فائلوں کی حکومت یا چوروں کا راج؟
رپورٹ ڈاکٹر ثناء خان اچکزئی
یہ سوال اب صرف عوام نہیں پوچھ رہے، یہ سوال اب خود ریاست سے ٹکرا رہا ہے۔
بلوچستان میں حکومت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی —نظر آتا ہے تو صرف ایک ایسا نظام جو کرپشن کے سہارے کھڑا ہے، اور جس کی بنیاد ہی لوٹ مار پر رکھی گئی ہے۔
ریونیو اور سیٹلمنٹ کا محکمہ اس وقت صوبے کا وہ ناسور بن چکا ہے جہاں قانون نہیں، صرف “ریٹ لسٹ” چلتی ہے۔ تحصیلدار ہو یا ریڈر، پی ایس ہو یا سیٹلمنٹ آفیسر سب کے ہاتھ ایک ہی تھیلی میں ہیں۔
یہاں انتقال بغیر رشوت نہیں، فردِ ملکیت بغیر نذرانے نہیں، اور فائل بغیر “حصے” کے آگے نہیں بڑھتی۔
اور جب شہری احتجاج کرے تو جواب ملتا ہے:
“ہم اکیلے نہیں کھاتے… اوپر تک سب سیٹ ہے۔”
یہ جملہ محض ایک بیان نہیں، یہ ریاست کے منہ پر طمانچہ ہے۔
یہ اس بات کا اعلان ہے کہ بلوچستان میں قانون فائل کے اندر دفن ہو چکا ہے اور طاقت چند کرسی نشینوں کے ہاتھ میں یرغمال بن چکی ہے۔
افسران سرعام دعویٰ کرتے ہیں کہ وزیروں اور سیکرٹری صاحبان کو “منتھلیاں” جاتی ہیں۔ اگر یہ جھوٹ ہے تو تحقیقات کیوں نہیں ہوتیں؟
اور اگر سچ ہے تو پھر یہ صوبہ کس کے رحم و کرم پر ہے؟
یہ وہ سوال ہے جس پر ہر دفتر خاموش ہے، ہر ادارہ گونگا ہے اور ہر ذمہ دار نظریں چرا رہا ہے۔
عوام کے لیے قانون ہے، لیکن افسر کے لیے سہولت۔
غریب کے لیے فائل ہے، مگر طاقتور کے لیے راستہ۔
یہ حکمرانی نہیں — یہ منظم غنڈہ گردی ہے۔
بلوچستان میں آج مسئلہ کرپشن نہیں، مسئلہ تحفظِ کرپشن ہے۔
یہاں چور کو سزا نہیں ملتی، بلکہ تحفظ ملتا ہے۔
یہاں ایماندار افسر کو نظام سے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔
ریاست کے اندر ایک ایسی ریاست قائم ہو چکی ہے جس کا کوئی آئین نہیں، کوئی قانون نہیں — صرف مفاد ہے۔
اگر یہی نظام چلتا رہا تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ بلوچستان پیچھے کیوں رہ گیا،
سوال یہ ہوگا کہ ریاست خاموش کیوں رہی؟
یہ کالم الزام نہیں — آئینہ ہے۔
اور آئینہ ہمیشہ تلخ سچ دکھاتا ہے۔