05/08/2026
بلوچستان میں ایک بار پھر انصاف، تحفظ اور قانون کی بالادستی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اسماء بلوچ کی جانب سے سامنے آنے والے بیان نے ایک ایسے دردناک معاملے کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے جہاں ایک خاندان انصاف کا منتظر ہے۔
اسماء بلوچ نے اپنے بیان میں اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے، مشکلات اور دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے حکومت، اداروں اور عوام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک شہری اپنے تحفظ کے لیے آواز اٹھائے اور اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو یہ پورے معاشرے کے لیے تشویش کی بات ہے۔
ان کے مطابق اس معاملے کے بعد ان کے والد ماسٹر عنایت کو قتل کر دیا گیا۔ یہ سوال آج بھی موجود ہے کہ آخر ماسٹر عنایت کا قصور کیا تھا؟ ایک خاندان کو ایسے حالات سے کیوں گزرنا پڑا؟ اگر کسی کے خلاف کوئی الزام تھا تو فیصلہ قانون کے مطابق ہونا چاہیے تھا، نہ کہ تشدد یا قتل کے ذریعے۔
کسی بھی معاشرے میں انصاف کا اصول یہی ہے کہ جرم ثابت ہونے سے پہلے کسی شخص کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کی جائیں، حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور اگر کوئی ذمہ دار ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
بلوچستان کے عوام صرف امن نہیں بلکہ انصاف، تحفظ اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، کیونکہ انصاف ہی وہ بنیاد ہے جو معاشرے میں اعتماد کو بحال کرتی ہے۔