BNC

BNC Bold News Center
(Private.)Limited is leading news channel from Balochistan, Pakistan, Bold News Center
(Private.)Limited
(1)

سانحہ 8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، شہداء کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں، میر علی مدد جتککوئٹہ:...
08/08/2026

سانحہ 8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، شہداء کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں، میر علی مدد جتک

کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور صوبائی وزیر میر علی مدد جتک نے سانحہ سول ہسپتال کوئٹہ کے شہداء کی دسویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، سانحہ سول ہسپتال کے شہداء کی عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

میر علی مدد جتک نے کہا کہ سانحہ 8 اگست کے زخم آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہیں، دہشت گردی نے بلوچستان کے قیمتی اور باصلاحیت افراد کو ہم سے چھینا۔ سانحہ سول ہسپتال میں بلوچستان اپنے نامور وکلاء، صحافیوں اور دیگر قیمتی انسانی جانوں سے محروم ہوا، جس سے صوبے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان کے عوام اور ریاستی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت بلوچستان امن، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے کارروائیاں جاری رہیں گی۔

میر علی مدد جتک نے سانحہ 8 اگست کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔*

سانحہ 8 اگست کوئٹہ: ایک زخم، ایک تاریخ اور بلوچستان کا سوالتحریر: ایڈووکیٹ فریدہ بلوچ8 اگست 20268 اگست بلوچستان کی تاریخ...
08/08/2026

سانحہ 8 اگست کوئٹہ: ایک زخم، ایک تاریخ اور بلوچستان کا سوال
تحریر: ایڈووکیٹ فریدہ بلوچ
8 اگست 2026
8 اگست بلوچستان کی تاریخ کا محض ایک دن نہیں بلکہ ایک ایسا المناک باب ہے جس کے زخم آج بھی بلوچستان کے اجتماعی شعور میں زندہ ہیں۔ 8 اگست 2016 کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے نے بلوچستان کی وکالت، صحافت اور سیاسی و سماجی زندگی کو ایک ایسا صدمہ دیا جسے ایک دہائی گزرنے کے باوجود فراموش نہیں کیا جا سکا۔
اس سانحے کا آغاز بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی ایڈووکیٹ کے قتل سے ہوا۔ ان کی میت سول ہسپتال لائی گئی، جہاں بڑی تعداد میں وکلا، صحافی اور شہری جمع تھے۔ اسی موقع پر ہونے والے خودکش حملے میں بڑی تعداد میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور بلوچستان کی قانونی و صحافتی برادری کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
8 اگست کے سانحے کو سمجھنے کے لیے بلوچستان کو صرف ایک دہشت گردی کے واقعے تک محدود کرکے دیکھنا کافی نہیں۔ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جو تقریباً 347 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور ملک کے تقریباً 44 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔ اس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں جبکہ جنوب میں بحیرۂ عرب واقع ہے۔ گوادر سے چاغی، تفتان، ژوب، سبی، خضدار، قلات اور کوئٹہ تک پھیلا یہ خطہ اپنے جغرافیائی محلِ وقوع، طویل سرحدوں، ساحلی پٹی اور قدرتی وسائل کے باعث غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
بلوچستان میں گیس، کوئلہ، تانبہ، سونا اور دیگر معدنی وسائل کے وسیع ذخائر موجود ہیں، لیکن قدرتی وسائل اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود صوبے کے عوام کو طویل عرصے سے غربت، بے روزگاری، پسماندگی، بنیادی سہولیات کی کمی اور سیاسی بے چینی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ بہت سے علاقوں میں معیاری تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات آج بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔
یہی تضاد بلوچستان کے سیاسی سوال کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ صرف ترقی یا امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ اس میں سیاسی نمائندگی، صوبائی خودمختاری، وسائل پر اختیار، انسانی حقوق اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد بلوچستان نے مختلف ادوار میں سیاسی کشمکش، مزاحمت، فوجی آپریشنز، مسلح تشدد، قبائلی تنازعات اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کا سامنا کیا۔ دوسری جانب بلوچستان میں ایسے سیاسی، جمہوری اور سماجی حلقے بھی موجود رہے جنہوں نے آئینی اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے حقوق اور مطالبات پیش کیے۔ وکلا، صحافی، طلبہ، سیاسی کارکن اور سول سوسائٹی نے اپنے اپنے دائرے میں قانون، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
اسی تناظر میں 8 اگست 2016 کا سانحہ محض چند افراد کی شہادت نہیں تھا۔ یہ ان لوگوں پر حملہ تھا جو عدالت، قانون اور آئین کے ذریعے انصاف کے نظام کو مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک ہی حملے میں اتنی بڑی تعداد میں وکلا کی شہادت نے بلوچستان کے قانونی نظام کو گہرے صدمے سے دوچار کیا۔
ان شہداء میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جنہیں ہم ذاتی طور پر جانتے تھے اور جن سے ہماری خاندانی و سماجی وابستگیاں تھیں۔ ایڈووکیٹ قاضی جمیل، ایڈووکیٹ قاضی بشیر، ایڈووکیٹ چاکر بلوچ اور ایڈووکیٹ محمود لہڑی سنگت جمالدینی جیسے محنتی اور باصلاحیت وکلا ہمارے فیملی فرینڈز تھے۔ ان کی شہادت ہمارے لیے محض ایک خبر یا تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ذاتی دکھ کا بھی حصہ ہے۔
شہید باز محمد ایڈووکیٹ، قاہر شاہ ایڈووکیٹ، بیرسٹر داؤد کاسی، آسکر اچکزئی اور دیگر کئی باصلاحیت وکلا بھی اس سانحے میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے علم، صلاحیت اور محنت کے ذریعے بلوچستان کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرسکتے تھے۔ ان کی شہادت نے ان کے خاندانوں کو توڑ کر رکھ دیا، لیکن اس کے ساتھ بلوچستان نے اپنے کئی ممکنہ مستقبل کے معمار بھی کھو دیے۔
وکلا پر حملہ دراصل اس تصور پر حملہ ہے کہ معاشرے کے تنازعات کا حل بندوق کے بجائے قانون کے ذریعے ہونا چاہیے۔ وکیل عدالت میں شہری کے حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، آئینی حقوق کی بات کرتا ہے اور انصاف تک رسائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ اگر قانون کی حفاظت کرنے والے ہی محفوظ نہ ہوں تو قانون کی حکمرانی کا تصور کیسے مضبوط ہوسکتا ہے؟
بلوچستان دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کرچکا ہے۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، فرقہ وارانہ حملوں اور دیگر پرتشدد واقعات نے ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا۔ دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان عام شہری اٹھاتا ہے، اور اس کے خلاف مؤثر کارروائی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
لیکن بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو صرف دہشت گردی کے تناظر میں دیکھنا بھی کافی نہیں۔ سیاسی بے چینی، معاشی محرومی، نوجوانوں میں بے یقینی، انسانی حقوق کے سوالات اور ریاستی اداروں پر اعتماد کا مسئلہ بھی موجود ہے۔ جبری گمشدگیوں کے معاملے پر بلوچستان کے سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقے طویل عرصے سے آواز اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ ریاستی ادارے مسلح گروہوں اور دہشت گردی کو ایک اہم سکیورٹی چیلنج قرار دیتے ہیں۔
ایسے حالات میں بلوچستان کے لیے ایک سنجیدہ، جامع اور بامعنی سیاسی مکالمے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی ضروری ہے، لیکن پائیدار امن صرف طاقت کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ امن اس وقت مستحکم ہوتا ہے جب شہری خود کو محفوظ، بااختیار اور انصاف کے نظام میں برابر کا فریق محسوس کریں۔
بلوچستان کے مسائل کا حل صرف ترقیاتی منصوبوں یا طاقت کے استعمال میں نہیں۔ سڑکیں، پل، بندرگاہیں، اسکول اور دیگر منصوبے ضروری ہیں، لیکن ان کے ساتھ سیاسی حقوق، انصاف، وسائل میں شراکت اور عوامی اعتماد بھی ضروری ہے۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی ترقی میں مقامی آبادی کی حقیقی اور باوقار شمولیت ہونی چاہیے اور انہیں اپنے وسائل اور مستقبل کے فیصلوں میں مؤثر شریک بنایا جانا چاہیے۔
انسانی حقوق کے معاملات میں بھی قانون کی بالادستی بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ اگر کسی شہری کے لاپتہ ہونے کا الزام ہو تو اس کے خاندان کو جواب ملنا چاہیے، اگر کوئی شخص قانون شکنی میں ملوث ہو تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، اور اگر کسی ریاستی ادارے یا فرد پر زیادتی کا الزام ہو تو اس کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ قانون کا اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
بلوچستان کا مستقبل خوف اور تشدد کے درمیان معلق نہیں رہنا چاہیے۔ یہاں ایسا سیاسی ماحول ضروری ہے جہاں اختلافِ رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے، سیاسی کارکن کو سیاسی سرگرمی کا حق حاصل ہو، صحافی آزادانہ اظہار کرسکے اور وکیل بلا خوف عدالت میں اپنا فرض ادا کرسکے۔
آج جب ہم 8 اگست کے شہداء کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں صرف ان کی قربانیوں کو دہرانے کے بجائے ان سوالات پر بھی غور کرنا چاہیے جو ان کی شہادت نے ہمارے سامنے رکھے۔ بلوچستان کو کب ایسا ماحول ملے گا جہاں انسانی جان سب سے قیمتی سمجھی جائے؟ کب اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے گا؟ کب عوام اپنے وسائل اور مستقبل کے فیصلوں میں خود کو حقیقی شریک محسوس کریں گے؟ اور کب بلوچستان کے نوجوان خوف کے بجائے امید کے ساتھ اپنے مستقبل کی طرف دیکھ سکیں گے؟
یہ سوال کسی ایک حکومت، جماعت یا ادارے کے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے سوال ہیں۔
بلوچستان کو صرف اس کے زخموں سے نہیں پہچانا جانا چاہیے۔ یہ سرزمین اپنے پہاڑوں، صحراؤں، ساحلوں، معدنی وسائل، قدیم تہذیبی ورثے اور سب سے بڑھ کر اپنے باشعور لوگوں کے باعث ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔ اگر امن، انصاف، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کو ترجیح دی جائے تو یہی بلوچستان پاکستان کے معاشی اور جغرافیائی مستقبل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
سانحہ 8 اگست کے شہداء کو حقیقی خراجِ عقیدت صرف یہ نہیں کہ ہر سال انہیں یاد کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ ان کی قربانی سے یہ سبق حاصل کیا جائے کہ قانون کی بالادستی، انسانی حقوق، جمہوریت، سیاسی مکالمہ اور انصاف کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔
آج 8 اگست 2026 کو ہم ان تمام وکلا، صحافیوں اور شہریوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس سانحے میں اپنی جانیں گنوائیں۔ ہم ان خاندانوں کے دکھ کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا اور آج بھی ان کے زخم اپنے سینوں میں لیے ہوئے ہیں۔
8 اگست صرف ایک تاریخ نہیں؛ یہ ایک زخم، ایک سوال اور ایک ذمہ داری ہے۔
یہ ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کے ماضی کے زخموں کو سمجھا جائے، موجودہ مسائل کا حقیقت پسندانہ سامنا کیا جائے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایسا مستقبل تعمیر کیا جائے جس میں خوف کے بجائے امن، محرومی کے بجائے برابری، خاموشی کے بجائے مکالمہ اور طاقت کے بجائے قانون کی حکمرانی ہو۔
سانحہ 8 اگست کے تمام شہداء کو سلام۔
بلوچستان کے تمام شہداء کو سلام۔
انصاف، امن، جمہوریت اور انسانی وقار کی جدوجہد جاری رہے گی۔

*قلات۔۔مینگل قبیلہ کے دو فریقین کے مابین تنازعے کا تصفیہ*۔*قلات۔۔مینگل قبیلہ کے دو فریقین کے مابین گزشتہ دنوں آپس میں تن...
08/08/2026

*قلات۔۔مینگل قبیلہ کے دو فریقین کے مابین تنازعے کا تصفیہ*
۔
*قلات۔۔مینگل قبیلہ کے دو فریقین کے مابین گزشتہ دنوں آپس میں تنازعے کا تصفیہ آج خوش اسلوبی سے ہوا، گزشتہ دو ہفتوں سے مینگل قبیلے کے دو فریقین کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑہ چل رہا تھا جس میں مینگل قبیلے کی ایک گروپ کے لوگ زخمی ہوئے تھے ایک قبائلی جرگہ بی این پی کے سابقہ جنرل سیکریٹری احمد نواز بلوچ اور سردار علی اکبر مینگل کی قیادت اور سادات فیملی کی نگرانی میں عارضی جنگ بندی کی گئی تھی۔ آج باقاعدہ قبائلی زعماء سادات فیملی آغا حسین شاہ، سردار علی اکبر مینگل احمد نواز بلوچ میر عبدالخالق پندرانی جوکہ سردار ممتاز محمد زئی کے ہمراہ مینگل ہاوس مغلزئی میں باہمی رضا مندی سے دونوں فریقین کو شیر و شکر کردیا دوسری طرف سے مینگل قبیلے کی طرف سے حاجی یوسف مینگل شیر احمد مینگل ماسٹر مراد مینگل جاوید مینگل رئیس محمد ابراہیم مینگل برات کے سینئر رہنماء حاجی بشیر جان مینگل محمد اسحاق مینگل و دیگر زعماء شامل تھے وہ اپنے قبائلی رسم و رواج کے تحت جرگہ کو عزت بخشی اور بلوچی حال احوال کے بعد محمد زئی مینگل کو معاف کیا جرگہ نے ان کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر کہا کہ ہم بلوچی روایات اور رسم کی پاسداری کرینگے تو یہ ہمارے اخلاق ٹقافت اور تہذیب کی بہترین حسن ہیں ارر جھگڑے بھی ختم ہونگے۔ آخر میں دعا کی گئی*

قلات۔  الیکشن کمیشن نے امن وامان کے پیش نظر قلات خضدار حب کی خالی نشستوں پر 9اگست کو ہونے والے الیکشن ملتوی کردیا نوٹیفک...
07/08/2026

قلات۔ الیکشن کمیشن نے امن وامان کے پیش نظر قلات خضدار حب کی خالی نشستوں پر 9اگست کو ہونے والے الیکشن ملتوی کردیا نوٹیفکیشن جاری

07/08/2026

بلوچستان میں جشن آزادی جوش و خروش سے منائی جارہی ہے ۔

07/08/2026

بلوچستان پیس فورم کے زیر اہتمام ​لشکری_رئیسانی کی رابطہ مہم کانفرنس جاری۔

07/08/2026

کانوں کی شہادت قومی سانحہ قرار، مائن اونرز اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ: عمر حیات

07/08/2026

کوئٹہ میں رابطہ مہم کانفرنس، سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد کا خطاب

مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ تاریخی پیشرفت ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز...
07/08/2026

مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ تاریخی پیشرفت ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہے، میر سرفراز بگٹی

مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں برادر ممالک کے باہمی اعتماد اور تعاون کو مزید مضبوط کرے گا، میر سرفراز بگٹی

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون مسلم امہ کے اجتماعی مفادات کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگا، میر سرفراز بگٹی

مکہ معاہدہ تینوں ممالک کے محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے، میر سرفراز بگٹی

معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی قوت دے گا، میر سرفراز بگٹی

اہم دفاعی معاہدے کو ممکن بنانے میں وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کا کردار قابلِ تحسین ہے، میر سرفراز بگٹی

مکہ مکرمہ میں ہونے والا تاریخی معاہدہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے نئے باب کا آغاز ہے، میر سرفراز بگٹی

اللہ تعالیٰ تاریخی معاہدے کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مسلم امہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے، میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری برائے انسانی حقوق انیل غوری، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن نعیم بنگلزئی، سینئر رہنما ری...
07/08/2026

کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری برائے انسانی حقوق انیل غوری، صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن نعیم بنگلزئی، سینئر رہنما ریاض زہری، یار جان بادینی، میر مقبول لہڑی اور نصرت بادینی سمیت دیگر نے نیشنل پارٹی کی مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران یاسمین لہڑی کے والد کی تاحال عدم بازیابی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یاسمین لہڑی کے والد کو بازیاب نہ کرایا جانا موجودہ حکومت کی نااہلی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔

Address

News, House No. 78, A-1 City Quetta Phase-1, Dehwar Street, Bold, Center(bnc
Quetta
87300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BNC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to BNC:

Shortcuts

Share