29/09/2026
بلوچستان اسمبلی میں خواتین پارلیمانی کاکس اور عالمی ادارہ خوراک کے مابین اعلیٰ سطح کی مشاورتی ، اجلاس میں غذائی تحفظ، غذائیت اور خواتین و بچوں کی صحت پر تفصیلی تبادلہ خیال
اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی و چئیر پرسن خواتین پارلیمانی کاکس غزالہ گولہ نے کی، اجلاس میں اراکین اسمبلی سمیت عالمی ادارہ خوراک کی پاکستان میں نمائندہ و کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش اور WFP بلوچستان کے صوبائی آفس کی سربراہ ڈاکٹر فاریہ احسن سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں بلوچستان میں غذائی عدم تحفظ، زچہ و بچہ کی غذائیت اور بچوں میں غذائی قلت جیسے مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ صوبے میں جاری مختلف حکومتی پروگراموں اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے پارلیمانی کردار اور WFP کے تعاون پر بھی غور کیا گیا۔
ڈبلیو ایف پی کی جانب سے بلوچستان میں جاری پروگرامز اور ان کے دائرہ کار کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اسکول میلز پروگرام کے تحت کوئٹہ میں اس وقت پائلٹ بنیادوں پر کام جاری ہے، جس کے بعد مزید سات اضلاع کو بھی پروگرام میں شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ پروگرام کے لیے مالی معاونت 50 فیصد حکومتِ بلوچستان اور 50 فیصد عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے فراہم کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں اسکول میلز پروگرام کے مثبت اثرات سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔ بتایا گیا کہ مارچ 2024 سے جولائی 2026 تک کوئٹہ کے پروگرام میں شامل سرکاری اسکولوں میں طالبات کے داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ حاضری کی شرح بھی بہتر ہوئی ہے۔ WFP کے مطابق پروگرام کے تحت 2024 میں 10,907 طالبات کے مقابلے میں 2026 میں داخل شدہ طالبات کی تعداد 14,635 تک پہنچ گئی، جو 34 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح اوسط حاضری 81.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔