07/02/2026
کوئٹہ کی تاریخ حوالہ جات کے ساتھ۔ حوالہ
کی تصویر میں صفحہ نمبر اور کتاب کا نام
کوئٹہ کا پہلا تاریخی ذکر 11ویں صدی میں
ہے جب سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان کی فتوحات کے دوران اسے فتح کیا۔ یہ غزنوی سلطنت کا حصہ بنا۔
• اس وقت سے یہاں پشتون قبیلہ کاسی (Kasi Afghans) کی اکثریت تھی، جو اسے اپنی قدیم جائیداد سمجھتے تھے۔ کاسی قبیلہ ابتدائی مسلم مکین اور حکمران تھے (مثلاً Ain-i-Akbari اور H.G. Raverty کی کتابوں میں ذکر)۔
آئن اکبری نے تفصیل سے لکھا ہے کہ شال کوئٹہ قندھاری کا مشرقی ضلع تھا اور جتنا ٹیکس جمع ہوتا تھا وہ سب درج کیا گیا ہے۔
مغل کی تاریخ سے ہمایوں نامہ نے تفصیل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کوئٹہ قندھار کا مشرقی ضلع تھا اور بادشاہ کو مشکل میں دیکھ کر کہا گیا کہ شال مستان جاتے ہیں جو قندھار کا مشرقی سرحد ہے اور افغان اباد ہیں۔
مغل اور صفوی دور (16ویں صدی)
• 1543ء میں مغل بادشاہ ہمایوں نے ایران کی طرف پسپائی کے دوران کوئٹہ میں قیام کیا اور اپنے بیٹے اکبر (بعد میں عظیم مغل بادشاہ) کو یہاں چھوڑ دیا۔ اکبر دو سال بعد واپس آیا۔
اس کے بعد تحفتہ الکرام جو کہ سندھ کی لکھی گئی تاریخ ہے اس میں لکھا گیا ہے شال یعنی کوئٹہ قندھار کا حصہ تھے۔
اسی طرح تاریخ ہرات اور تاریخ فرشتہ میں بھی اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔
اس کے بعد شروع ہوتا ہے خلجی دور حکومت اس کے بارے جنرل راورٹی نے تفصیل سے لکھا ہے کہ شال کو خان کلات نے پشین تک قبضہ کیا لیکن شاہ حسین ہوتک نے انکو قلات تک پہنچایا اور اپنا جغرافیہ متصل کیا اور خان کلات کو اپنا تابع بنایا۔ تفصیل تصویر میں
اس کے بعد کوئٹہ شال نادرشاہ افشار کے زیر تسلط ایا ادھر بھی ایک بات واضح کرتا چلوں اس وقت بھی کلات نادر شاہ کی باج گزار تھی اور نصیر خان نادرشاہ کے قید میں تھا جنکو پھر قندھار کے ایک جرگہ نے نادرشاہ سے میر نصیر خان کی جان بخشی کروائی۔
اس کے بعد شروع ہوتا ہے ابدالی دور تب شال کا نام شال سے تبدیل ہو کر کوٹہ بن گیا کوٹہ پشتو میں مٹی کے ڈھیر کو کہتے ہیں یہ مٹی کا ڈھیر کینٹ ایریا میں موجود ہے اور فائنل سیٹلمنٹ میں اسکا ذکر موجود ہے نیچے تصویر میں تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔
اس وقت تک بلوچوں کوئٹہ سے کوئی تعلق نہیں تھا صرف ریوڑ چرانے آتے تھے یا خانہ بدوش بن کر آتے تھے۔
میمر اف کلات میں لکھتے ہیں کہ زنگی رند نے بولان کی طرف سے شال پر حملہ کیا اور ایک ندی کے پاس کاسی سے شکست کھائی اور اس ندی کا نام زنگی لوڑا یعنی زنگی ندی پڑ گیا۔
اس کے بعد میر نصیر خان نے درانی سلطنت سے بغاوت کی اور احمد شاہ ابدالی نے قندھار سے کوئٹہ آکر نصیر خان کو تسلیم ہونے کا پیغام بھیجا انکار کی صورت میں کلات کو محاصرہ کیا گیا اور چالیس دن محاصرہ کے بعد ایک معاہدہ طے پایا جس کے پہلے شک میں وفاداری لی گئ خان کلات سے اور اس معاہدے کا سورس بھی کلات ہی ہے۔ نیچے تصویر میں انگریزی ترجمہ موجود ہے ۔ پانی پت کی تیسری لڑائی میں نصیر خان کی شمولیت اور خان کلات محمود خان تک ٹیکس کی کابل کو ادائیگی اس بات کی دلیل ہے کہ کلات باج گزار ریاست تھی۔ نیچے دیئے گئے حوالہ موجود ہے کہ خان کلات محمود خان کتنا ٹکس ادا کرتے تھے اور کتنے فوجی فراہم کرنے کا پابند تھا۔
شال یا تحفہ کا معاملہ کہتے ہیں کہ شال تحفے میں دی گئی اس لئے ٹیکس خان کلات جمع کرتا رہا لیکن اس چیز کو بھول جاتے ہیں کہ خان کلات کے پاس انتظامی امور تھے اور ٹیکس قندھار کے لئے جمع کرتے تھے صرف یہاں نہیں کشمیر اور لاہور سے بھی ٹیکس غیر پشتون جمع کر کے درانی سلطنت کو سونپ دیتے تھے۔
انگریز کی امد۔
فرسٹ اینگلو افغان وار میں خان کلات نے انگریز سے معاہدہ کیا اور انگریز کو بولان پاس سے حملہ کرنے کی اجازت مل گئی اور پہلا حملہ کوئٹہ پر ہو گیا ۔ پھر وقتا فوقتا انگریز آتے رہے اخر کار کوئٹہ کو قندھار پر قبضہ کرنے کے لئے ایک چھاونی کی شکل دی۔
انگریز کے کوئٹہ کے حوالے سے اعداد و شمار
ایلفسٹائن صاف صاف الفاظ افغان سر زمین کی حدود لکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بولان کی گہری ندی بلوچستان کو افغانستان سے الگ کرتی ہے۔
انگریز نے اپنے فائنل سیٹلمنٹ میں تفصیل سے کاریزات وسائل اور آبادی کا ذکر کیا ہے اور اس میں تفصیل سے ایک ایک کاریز اور ایک ایک بزگر کا ذکر اور مالک کا ذکر موجود ہیں ان تمام تاریخی کاریزات پشتون کے نام ہیں یا ان کے نام پشتو میں ہے۔ آبادی کے اعتبار سے لکھا گیا ہے یہاں پشتون ابادی 91 فیصد ہے باقی آبادی کافی معمولی ہے۔
اس کے علاوہ کوئٹہ کو چھ سرکل میں تقسیم کیا ان میں سے درانی کاسی کچلاغ نوسار بلیلئ اور سریاب سرکل ہیں ان میں سے پانچ آج بھی مکمل پشتون آباد ہیں سریاب سرکل میاں غنڈی اور کاسی اباد لکپاس تک آج بھی کاسی اقوام کی زمین ہیں ۔
اس لئے تاریخ دانوں نے ہمیشہ ایک ہی جملہ ہے
Quetta is an Afghan city.