The Abdalian

The Abdalian The Abdalian

پانی پت کی تیسری لڑائی افغانستان کے بادشاہ احمدشاہ ابدالیؒ اور مرہٹہ سلطنت کے سپہ سالار سداشو راؤ بھاؤ کے درمیان 14 جنور...
02/11/2025

پانی پت کی تیسری لڑائی افغانستان کے بادشاہ احمدشاہ ابدالیؒ اور مرہٹہ سلطنت کے سپہ سالار سداشو راؤ بھاؤ کے درمیان 14 جنوری 1761ء کو دہلی سے 60 میل دور شمال میں واقع پانی پت کے تاریخی مقام میں ہوئی۔

احمد شاہ ابدالیؒ ایک سچا اور کھرا، نیک سیرت، صالح، دلیر، جراءت مند، حوصلہ مند اور مفاہمتی مسلمان حکمران اور تجربہ کار جنگجو اور سپہ سالار تھا۔ احمد شاہ ابدالی جدید افغانستان کے بانی تھے۔ افغانی آپ کو احمد شاہ بابا کے نام سے پکارتے ہیں۔ جبکہ مرہٹے ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ مرہٹے جنگجو اور بہادر لوگ تھے۔ مرہٹے، سکھ اور دیہاتی ہندو ساتھ مل گئے۔ ان کا ایک ہی مقصد تھا یعنی پہلے افغانوں کو پنجاب سے پھر مغلوں کو دہلی سے نکالنا۔ اس طرح وہ ہندوستان سے اسلامی سلطنت کی ہر علامت کو ختم کرکے مرہٹہ اور خالصہ راج قائم کرنا چاہتے تھے۔

مرہٹوں نے درجنوں جنگوں میں مغلوں کو شکست دے دی۔ شہزادے جانشینی کی جنگیں لڑتے رہے اور مرہٹے اپنی فوجی طاقت بڑھاتے رہے یہاں تک کہ 1755ء میں دہلی تک پہنچ گئے۔ مغل حکومت ان کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھے۔ 1760ء تک مرہٹے پاک و ہند کے بڑے حصے کو فتح کر چکے تھے۔ 1758 میں پنجاب کے اہم شہر امرتسر، پھر اسی سال لاہور، پشاور اور اٹک تک کے علاقے فتح کرلئے۔
پنجاب سے افغانوں کے مکمل انخلاء اور پشاور پر قبضے کے بعد مرہٹوں کی ہمت بہت بڑھ گئی۔ مرہٹوں کے سربراہ بالاجی پیشوا نے اپنے مرکز "پونا"میں تمام مرہٹے سردار جمع کرکے اپنے (یعنی مرہٹے) اقتدار کو عروج تک لے جانے، زوال پذیر مغل سلطنت سے جلد ازجلد نجات حاصل کرنے اور احمد شاہ ابدالی کا زور ٹوٹنے کے حوالے سے ایک بہت بڑا مشاورتی اجلاس طلب کیا۔
اجلاس کے دوران سپہ سالار بھاؤ نے پرجوش لہجے میں کہا: "محمود غزنوی کے حملوں سے ہمارے دلوں پر جو زخم لگے وہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اب تک مٹے نہیں۔ ہم سومنات کی مورتی کی بےعزتی نہیں بولے۔ آج ہمارے پاس اتنی قوت ہے کہ ہم مسلمانوں سے بدلہ لےسکے۔ سومنات کی مورتی ہم شاہجہان کی تعمیر کردہ جامع مسجد دہلی کے ممبر پر نصب کریں گے اور افغانستان میں گھس کر محمود غزنوی کا مقبرہ مسمار کر دیں گے۔"
بالاجی پیشوا نے اس کے جذبات کو سراہتے ہوئے کہا: "میرا ارادہ تو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ میں ہندوستان کو مسلمانوں سے صاف کر دینے کے بعد ایسا انتظام کر دینا چاہتا ہوں کہ آئندہ کوئی مسلمان ہمارے ملک پر حملے کا تصور بھی نہ کر سکے۔"
مشاورت میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ پہلے دہلی پر حملہ کرکے مغل بادشاہ کی جگہ بالاجی پیشوا کے بیٹے بسواس راؤ کو تخت نشین کرایا جائے اور پھر فوج کی کمان بھاؤ کے ہاتھ میں دےکر وہ پنجاب کو روندتے ہوئے افغانستان میں داخل ہوجائے۔
اس تاریخی مشاورت کے فیصلے نے ہندوؤں میں جوش اور امنگوں کی ایک لہر دوڑا دی اور ہر طرف سے مرہٹے سردار اپنی اپنی فوج لےکر پونا جمع ہونے لگے۔ ہندوؤں کو یقین تھا کہ عنقریب پوری دنیا کے مالک وہی ہوں گے، ہر طرف ان کے بتوں کی خدائی تسلیم کی جائےگی اور مسلمانوں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہے گا۔ ہر نوجوان فوج میں بھرتی کےلئے بےچین تھا تاکہ کابل اور قندھار کی لوٹ مار میں اسے بھی حصہ مل سکے۔
ان دنوں دہلی کے عظیم محدث حضرت شاہ ولی اللہ رح جنہوں نے برصغیر میں حدیث کی اشاعت میں سب سے بنیادی کردار ادا کیاتھا، مرہٹوں کے طوفان سے بڑا اندیشہ محسوس کررہےتھے اور چاہتےتھے کہ احمد شاہ ابدالی ایک بار پھر ہندوستان آکر یہاں کے مسلمانوں کا نجات دہندہ ثابت ہوں۔ ہندوستان کی سیاست کا اہم رکن نواب نجیب الدولہ بھی انکا ہم فکر تھا۔ یہ احمدشاہ ابدالیؒ کے بڑے عقیدت مند تھے۔ اس سے قبل ابدالی یہاں چار بڑی مہمات کرچکاتھا۔ مگر اب حالات بتا رہےتھے کہ جب تک بت پرستوں کی سرزمین کے قلب میں گھس کر مرہٹوں کی کمر نہ توڑ دی جائے یہاں کے مسلمانوں کا مستقبل ہرگز محفوظ نہیں رہ سکتا۔
شاہ صاحب رح نے نواب نجیب الدولہ کی معرفت سے احمدشاہ ابدالیؒ کو ہندوستان کے مشرکین کے خلاف بھرپور حملے کی دعوت دی اور اپنے خط میں تحریر فرمایا:
"ہم اللہ بزرگ وبرتر گھر کے نام پر آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس طرف توجہ فرما کر دشمنانِ اسلام سے جہاد کریں کہ اللّٰہ تعالیٰ کے یہاں آپ کے نامہ اعمال میں اجرِعظیم لکھا جائے اور آپ کا شمار اللّٰہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں میں ہوجائے۔ آپ کو دنیا میں بے اندازہ غنیمتیں حاصل ہوں اور مسلمانوں کو کفار کے چنگل سے نجات حاصل ہو۔"

احمدشاہ ابدالیؒ کو مرہٹوں کے اس سیلاب کا علم ہوچکا تھا جو پونا سے پنجاب کے طرف امڈرہاتھا۔ اب تک اسے اتنے بڑے لشکر سے مقابلے کا کوئی تجربہ نہیں ہوا تھا، اس لیے اپنے وطن سے سینکڑوں میل دور کمک کے بغیر ایک بہت بڑی اور غیر یقینی جنگ لڑنے کا تصور اس کےلیے پریشان کن تھا۔

حضرت شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے اسے تحریر فرمایا: " مرہٹوں کو شکست دینا آسان کام ہے, شرط یہ ہے کہ مجاہدین اسلام کمر کس لیں۔۔۔ درحقیقت مرہٹے تعداد میں زیادہ نہیں مگر دوسرے بہت سے گروہ ان کے ساتھ شامل ہو چکےہیں۔ مرہٹہ قوم طاقتور نہیں ہے۔ ان کی توجہ بس اپنی افواج جمع کرنے پر ہے جو تعداد میں چیونٹیوں ٹڈیوں سے بھی زیادہ ہو۔ جہاں تک شجاعت اور عسکری سازوسامان کا تعلق ہے وہ ان کے پاس زیادہ نہیں ہے۔"
حضرت شاہ صاحب کہ ان پرسوز، بصیرت افروز اور حوصلہ انگیز خطوط نے ابدالی کی ہمت کو مہمیز دی اور ملت اسلامیہ کا یہ شمشیر زن ہر خوف وخطر سے بے پرواہ ہوکر ہندوستان پر اس یادگار حملے کیلئے تیار ہوگیا جس نے تاریخ میں اس کا نام ہمیشہ کیلئے نقش کردیا۔

احمدشاہ ابدالیؒ ستمبر 1759ء میں قندھار سے 15 ہزار سواروں کے ساتھ مرہٹوں اور سکھوں کی فتنے کو تہہ تیغ کرنے کی مہم پر ہندوستان روانہ ہوئے۔ راستے میں بلوچستان اور اردگرد سے اور تیمور شاہ (جو احمد شاہ ابدالی کا بیٹا تھا) اور سابق حاکمِ لاہور جہان خان اپنی نفری کےساتھ اس سے آملے اور سپاہی 30 ہزار تک پہنچ گئے۔ پنجاب کے نئے مرہٹہ حاکم نے افغان لشکر کی آمد کا سن کر لاہور خالی کردیا اور اپنے جھتے سمیت سہارنپور میں سندھیا کے کیمپ میں پناہ لی۔ احمد شاہ کا لشکر پنجاب میں داخل ہوا تو سکھ اپنے گھروں میں دبک گئے۔
احمد شاہ مرہٹوں سے فیصلہ کن جنگ میں تاخیر نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اس سے پہلے اسے دہلی پہنچ کر مسلمانوں کی تہذیب وثقافت کے اس قدیم مرکز کو مرہٹوں کی لوٹ مار سے بچانا تھا۔ وہ شاہ عالمگیر ثانی کے اقتدار کو بھی مضبوط کرنا چاہتا تھا مگر راستے میں اسے اطلاع ملی کہ دہلی کی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ شروع ہوچکی ہے اور مغل بادشاہ، غازی الدین کی سازش کا شکار ہوکر مارا گیا ہے۔ یہ صورت حال ابدالی کےلیے غیر متوقع بھی تھی۔ اس وقت دشمن تین سمت سے ابدالی کی افواج کے گرد موجود تھا۔ دہلی میں غازی الدین اور مرہٹہ سردار جنکوراوجی ، دیتاجی سندھیا دہلی کے راستے اور ہولکر دریائے جمنا کے ساحل پر اپنی فوج لیے کھڑا تھا۔ ابدالی سہارنپور پہنچا تو نواب نجیب الدولہ، حافظ رحمت خان، سعداللہ خان، عنایت خان، قطب خان اور دیگر روہیلہ امراء نے دس ہزار سپاہیوں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔ یہ چالیس ہزار کا لشکر دہلی کی طرف روانہ ہوگیا۔

جنوری 1760ء کو دیتاجی سندھیا بیس ہزار لشکر کےساتھ ابدالی فوج کے مقابلے پر نکل آیا، ایک خونریز معرکے کے بعد مسلمان فتح یاب ہوئے اور دیتاجی گھوڑے سے گر کر مارا گیا۔ اس شاندار فتح کے بعد احمد شاہ دہلی سے پانچ میل دور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رح کے مزار پر حاضری دی۔ دہلی کی حفاظت کے لیے چند دن قیام کیا، پھر سرکش جاٹوں کے رہنما راجہ سورج مَل کو سزا دینے کے لئے جنوب کا رُخ کیا۔ فروری میں جاٹوں کے مرکز پر حملے کئے جس سے جاٹوں میں بددلی پھیلی گئی۔ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ جاٹوں کو مرہٹوں کےساتھ ملنے سے روکے اور اپنی جانب الجھائے رکھے۔
یہ مقصد پورا ہوتے ہی اس نے مرہٹوں کے اس لشکر کی جانب کوچ کیا جو دہلی کے آس پاس دریائے جمنا کے پار منڈلا رہا تھا ۔ احمد شاہ اسے دہلی پر قبضہ سے روکنا چاہتا تھا مگر مرہٹہ سردار ہولکر نے احمد شاہ کا سامنا نہ کیا۔ وہ کبھی ریگستانوں اور کبھی جنگل میں غائب ہو جاتا اور اچانک ابدالی فوج پر حملہ کرکے پھر روپوش ہوجاتا۔ یہ مارچ کا مہینہ تھا۔ ابدالی فوج نے ہولکر کے لشکر کا پڑاؤ معلوم کیا اور رات کی تاریکی میں حملہ کرکے مرہٹوں کے چھکے چھڑا دیے۔ ہولکر نے جم کر لڑنے کی بہت کوشش کی مگر اس زور دار لڑائی میں مرہٹوں کے کئی بڑے بڑے سردار اور سپاہی مارے گئے۔ ہولکر صرف تین سو آدمیوں کے ساتھ جان بچا کر بھاگ سکا۔ دہلی پر قبضے کا خیال ترک کرکے اب وہ آگرہ کی طرف دوڑ رہا تھا۔ دہلی کے گرد ونواح کو مرہٹوں سے پاک کرکے احمد شاہ ابدالی مغلوں کے اس پایہ تخت میں داخل ہوا۔ اس نے شہر کے نظم ونسق کو درست کیا اور قلعے سمیت تمام دفاعی انتظامات کے استحکام کا کام شروع کرایا۔ کچھ دنوں بعد ابدالی نے دو ہزار سپاہی دہلی کی حفاظت کےلئے چھوڑ کر 72 میل دور جمنا کے مشرقی کنارے پرانوپ شہر کو اپنی چھاؤنی بنالیا۔ اب اسے مرہٹوں کے ردعمل کا انتظار تھا۔

1760ء کا تقریباً پورا سال احمد شاہ ابدالی اور مرہٹوں کی جھڑپوں میں گزرا۔ مرہٹے کسی میدان میں اپنی پوری طاقت سامنے نہ لائے۔ دراصل یہ ان کا طریقہ جنگ تھا کہ چھوٹے چھوٹے گھڑسوار دستوں کے ساتھ دشمن پر متعدد اطراف سے حملہ کرکے اس کی طاقت کو منتشر کردی جائے۔ مغل کے بھاری بھرکم فوج کے خلاف یہ چال کامیاب رہی مگر افغان جانبازوں نے اس صورت حال کا بڑی ذہانت اور پامردی سے مقابلہ کیا اور تمام جھڑپوں اور معرکوں میں مرہٹے ہمیشہ شکست کھا کر پسپا ہوتے رہے۔
احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان میں نئے اتحادیوں کی تلاش جاری رکھی اور اپنی طاقت کو مقامی سرداروں اور نوابوں کی مدد سے بڑھانے میں کامیابی حاصل کی۔ روہیلہ سردار احمد خان بنگش سپہ سالار ابدالی کے پڑاؤ میں حاضری دی اور ہر طرح تعاون کا یقین دلایا۔ اس سال جولائی کے مہینے میں شاہ نے علی گڑھ میں قیام کے دوران اودھ کے نواب شجاع الدولہ کی حمایت بھی حاصل کرلی۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ نواب شجاع الدولہ ہندوستان کے طاقتور ترین امراء میں سے تھے۔ احمد شاہ بنگش نامور شجاع الدولہ نے دس ہزار سپاہی پیش کئے۔ کچھ دنوں بعد قندھار سے دس ہزار مزید تازہ دم سپاہیوں کی کمک آگئی۔ اس طرح فوج کی تعداد 60 ہزار تک پہنچ گئی۔
مرہٹہ سردار یہ کامیابیوں دیکھ کر سخت پریشان تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ پونا میں لاکھوں کی تعداد میں جمع ہونے والی مرہٹوں کی اصل طاقت جلد از جلد ظاہر ہو اور احمد شاہ سے فیصلہ کن ٹکر لے۔
آخر کار ساڑھے تین لاکھ مرہٹوں کا سیلاب "پونا" سے نکل کر جون کو گوالیار پہنچا۔ جولائی کے وسط میں یہ لشکر آگرہ پہنچا جہاں مرہٹہ سالار راؤ ہولکر اور جاٹوں کا سردار سورج مَل بھی اپنی فوجوں کے ساتھ ان سے آملے۔ یہ وہ دن تھے جب احمد شاہ ابدالی بلند شہر کے قریب انوپ شہر میں پڑاؤ ڈال کر اودھ کے نواب شجاع الدولہ سے مذاکرات کررہا تھا۔ برسات کا موسم تھا ، دریائے جمنا طغیانی پر تھا اور ابدالی فوج مرہٹہ فوجوں کو دہلی کی جانب پیش قدمی سے روکنے کے لیے دریا عبور نہیں کرسکتی تھیں۔
مرہٹہ لشکر آگرہ سے دہلی پر حملے کے لیے چلا تو جوش و خروش سے سہمی جاتی تھی۔ قدم قدم پر مسلمانوں کی بستیاں لوٹی جارہی تھیں، دیہات اُجڑ رہے تھے۔ ہزاروں مسلمانوں نے گھر بار چھوڑ کر جنگلوں میں پناہ لے لی تاکہ مرہٹوں کی غارت گری سے محفوظ رہیں۔

اس وقت ہندوستان کے مؤرخ کا قلم تھررہا تھا کہ آیندہ صفحے پر شاید مسلمانوں کی مکمل تباہی کے سوا کچھ تحریر نہ ہوگا۔۔۔۔ یقیناً ایسا ہی ہوتا اگر اس وقت اللّٰہ تعالیٰ کی تائید غیبی سے مسلمانوں کا محافظ احمد شاہ ابدالی میدان میں موجود نہ ہوتا۔
22 جولائی 1760ء کو مرہٹوں نے مغلوں کو شکست دے کر دہلی پر قبضہ کرلیا، شاہی خزانے میں انہیں کوئی خاص دولت ہاتھ نہ لگی اسلئے کہ مغل حکومت کا دیوالیہ نکل چکا تھا۔ البتہ انہوں نے لال قلعہ دہلی کی سونے کی چھت اترواکر اپنے لیے سونے کے سکے بنوائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی کی شاہی مسجد کے منبر پر رام کی مورتی رکھیں گے، جس سے مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
بھاؤ کے ساتھ تین لاکھ افراد کا لشکر دہلی میں ایک ماہ کے قیام کے دوران خوراک ورسد کی کمی کا شکار ہوگیا۔ ستمبر کے اواخر میں بھاؤ نے فوج کو لےکر گنج پورہ پر چھڑائی کرکے مسلمانوں کا بےدردی سے قتل عام کیا اور خوراک ورسد سمیت سب کچھ لٹ لیا۔

احمد شاہ ابدالی نے دہلی پر مرہٹوں کے قبضے کی خبر بڑے تحمل کے ساتھ سنی ، وہ جانتا تھا کہ مرہٹوں سے عنقریب کھلے میدان میں بدلہ لیا جائے گا۔ مگر گنج پورہ کے مرکزِ خوراک پر قبضہ اور مسلمانوں کی قتل عام اس کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اس نے عہد کیا کہ مرہٹوں کو اس بری طرح کچلے گا کہ ان کی نسلیں یاد کریں گی۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: "میں نے زندگی بھر اپنی قوم کی ایسی تذلیل نہیں دیکھی، میں یہ برداشت نہیں کر سکتا۔"

اس نے دریا کی طغیانی کو نظر انداز کرتے ہوئے فوج کو پار کرنے کا حکم دیا۔ اس سے قبل شاہ نے دو روز تک روزہ رکھا اور اللہ تعالیٰ سے فتح ونصرت کی دعائیں کرتا رہا۔ 25 اکتوبر کو افغان جانباز دریائے جمنا کے ٹھاٹھیں مارتے پانی میں اترے مگر پانی انہیں آگے بڑھنے سے روک رہی تھی۔ احمد شاہ ابدالی نے ایک تیر لیا، قرآن مجید کی چند آیات تلاوت کرکے اس پر دم کیں اور تیر دریا کے بپھرے ہوئے سینے میں پیوست کردیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دریا کا جوش تھمنے لگا، مجاہدین کی مسرت کا عالم دیدنی تھا، وہ تکبیر کے نعرے بلند کرکے ترتیب کےساتھ گھوڑے جمنا کے لہروں میں ڈالتے گئے۔ ابدالی خود بھی موجوں میں اترگیا۔ دوسری طرف مرہٹے یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ مجاہدین اسلام پر تیر برسانا شروع کردیا ۔ دو ہزار مسلمان ڈوب گئے اور 58 ہزار جانبازوں سمیت شام سے پہلے پہلے ابدالی دریا کے پار اُترچکا تھا۔
سدا شیو بھاؤ دہلی واپس آ کر فتح کا جشن منا رہا تھا ، کہ اچانک احمد شاہ ابدالی کے دریا عبور کرنے کی اطلاع ملی۔۔۔ ہکا بکا رہ گیا۔ اس نے فوری طور پر دہلی سے کوچ کیا اور پانی پت کی طرف ہٹنے لگا کیونکہ اس کے لاکھوں سپاہیوں کی صف بندی پانی پت کے وسیع میدان کےسوا کہیں نہیں ہوسکتی تھی۔
بھاؤ 29 اکتوبر 1760ء کو اپنے لشکر کے ساتھ پانی پت کے میدان میں پہنچا۔ احمد شاہ ابدالی دریائے جمنا عبور کرکے تقریباً 16 میل کا فیصلہ طے کر کے بھاؤ کے لشکر کے بالمقابل آگیا۔

یہ پانی پت کا وہ تاریخی میدان تھا جہاں 1526ء میں بابر اور ابرہیم لودھی کے معرکے نے ہندوستان کی تاریخ بدل دی تھی۔ پانی پت کا یہ میدان ایک بار پھر تاریخِ ہند کا ایک نیا باب دیکھنے والا تھا۔ ایک طرف ہندوستان کی تمام باطل قوتیں اب یہاں جمع تھیں تو دوسری طرف اس سیلاب کے مقابلے میں مٹھی بھر مسلمان جانباز تھیں۔ پانی پت کے میدان میں دونوں فریق تقریباً پانچ میل کا فاصلہ رکھ کر پڑاؤ ہوئے تھے۔ دو ماہ تک (نومبر ، دسمبر) دونوں فوجوں میں کئی چھوٹے بڑے جھڑپیں ہوئیں۔ مرہٹے فوج خوراک ورسد کی کمی اور تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے بغاوت پر اترنے والی تھی کہ بھاؤ نے ابدالی کو صلح کی پیشکش کی اور پس پردہ جنگ کیلئے اپنے لشکر کو تیار کردیا۔
نواب شجاع الدولہ مان گیا، مگر دہلی کے نواب نجیب الدولہ نے اس سے انکار کیا اور کہا: " مرہٹے دہلی کے لال قلعے پر قبضہ کر چکے ہیں، گنج پورہ کے 20 ہزار افغانوں کے خوں میں ہاتھ رنگ چکے ہیں، آج اگر ہم نے صلح کرلی تو کل کو بادشاہ سلامت کی افغان واپسی کے بعد یہ تازہ دم افواج کے ساتھ مسلمانوں پر یلغار کردیں گے اور ہندوستان کے مسلمانوں کو ختم کر ڈالیں گے۔"

یہ اہم مشاورت پانی پت کے میدان میں 13 اور14 جنوری کی درمیانی شب ہو رہی تھی نجیب الدولہ کی حقیقت کشاہ تقریر نے سب کی آنکھیں کھول دیں۔ احمد شاہ ابدالی کو بھی اطمینان ہوگیا کہ فیصلہ میدان جنگ میں تلوار کی دھار ہی سے ہوگا، تاہم انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ بھاؤ کا پیغام صلح بد نیتی پر مبنی ہے۔
صبح ہوئی تو حالات بدل تھے۔ بھاؤ کی لشکر پیش قدمی کررہے تھے۔ احمد شاہ تیزی سے اپنے خیمے سے باہر نکلا ، بدلتے حالات کا جائزہ لیا اور فوری طور پر فوج کو فوراً تیار ہونے کا حکم دیا۔ افغان سپاھی جو بے خبر سو رہے تھے یکدم بیدار ہوئے اور حیرت انگیز طور پر چند لمحوں میں اسلحوں سمیت صف آرا ہوئے۔
احمد شاہ ابدالی کے افغان لشکر کی تعداد 26 ہزار گھڑسواروں پر مشتمل تھی۔ ان کے ساتھ مسلمان امراء (روہیلہ، نجیب الدولہ، دوآب کے افغان اور اودھ کے نواب شجاع الدولہ) کے 40 ہزار پیادہ اور گھڑ سوار سپاہی تھے۔ شاہ نے 66 ہزار سپاہیوں کی صف بندی کی۔ مقابلے میں مرہٹوں کے لشکر کی تعداد 3 لاکھ سے اوپر تھی۔ ایک مؤرخ لکھتے ہیں کہ مرہٹہ فوج کی تعداد 5 لاکھ تھی۔

14 جنوری 1761ء کی صبح کو پانی پت کے میدان میں دونوں فوجوں میں گھمسان کا رن پڑا۔ یہ جنگ طلوع آفتاب سے شروع ہوئی جبکہ ظہر کے وقت تک ختم ہو گئی۔ روہیلہ سپاہیوں نے بہادری کی داستان رقم کی۔ ابدالی فوج کے سپاہیوں کا رعب مرہٹوں پر چھایا رہا۔ آخر کار زبردست لڑائی کے بعد سہ پہر کو مسلمانوں نے تین لاکھ مرہٹوں کے سیلاب کو کچل کر فتح حاصل کی۔

اس تاریخی جنگ میں 20 ہزار کے قریب مسلمان جانباز شہید ہوئے اور ایک لاکھ سے زیادہ مرہٹے مار کر جہنم رسید کئے گئے۔ 22 ہزار مرہٹے پکڑ کر قیدی بنالئےگئے۔ پچاس ہزار کے قریب بھاگنے اور بستیوں میں چھپنے کے دوران مارے گئے۔ بمشکل ایک لاکھ سے کم سپانہ بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔

مرہٹوں سے نفرت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب مرہٹے شکست کھاکر بھاگے تو ان کا پیچھا کرکے انہیں مارنے والوں میں مقامی افراد کے ساتھ ساتھ عورتیں، بچے اور دیہات کے ہندو بھی شامل تھیں جسے بےدردی سے مارے اور لوٹے گئے تھے۔
اس جنگ میں مرہٹوں نے عبرت ناک شکست کھائی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی جنگی میدان میں فتح حاصل نہ کرسکے۔ مسلمانوں نے اس جنگ میں ہزاروں ہاتھی اور اونٹ، لاکھوں گھوڑے، لاکھوں نقد روپے اور لاکھوں مویشیاں حاصل کئے۔

اس شاندار فتح کے بعد احمد شاہ ابدالی نے دہلی پہنچ کر اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرکے شہزادہ علی گوہر کو دہلی کے تخت پر بٹھایا۔ مغل سلطنت ہی کو ہندوستان کے مسلمانوں کی سطوت و شوکت کا وارث قرار دیا اور خود کوئی سیاسی فائدہ حاصل کرنے سے گریز کیا۔ شاہ نے تمام ہندوستانی امراء اور سرداروں کو ہدایت کی کہ مغل سلطنت کے وارث شاہ عالم ثانی کو ہندوستان کا فرمانروا تسلیم کریں۔ سلطنت دہلی کے اس انتظام کے بعد احمد شاہ ابدالی دو ماہ بعد 20 مارچ 1761ء کو دہلی سے واپس افغانستان روانہ ہوگیا۔
#نتائج
ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کا نام، شان و شوکت، عزت اور وقار بلند ہوگیا۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی وجود باقی رہ گئی۔
مرہٹوں کا خاتمہ ہو گیا۔
ہندوستان پر ان کی حکومت کی خواہش اور شاہی مسجد دہلی کے منبر پر رام کی مورتی لگانے کا خواب بکھر گیا۔
مرہٹوں کے تقریباً سارے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔
مرہٹے پھر کبھی اٹھنے کے قابل نہیں ہوئے۔

اللہ تعالیٰ اس عظیم مسلم فاتح کی قبر کو نور سے بھر دے

1952 وقت رات کے 12بجے ،،🌄🌄🌌🌠 لاھور سے ملتان جانے والی بس دیپالپور چوک اوکاڑہ  پر رکی اور ایک بارعب چہرہ , اور خوبصورت شخ...
07/10/2025

1952 وقت رات کے 12بجے ،،🌄🌄🌌🌠
لاھور سے ملتان جانے والی بس دیپالپور چوک اوکاڑہ پر رکی اور ایک بارعب چہرہ , اور خوبصورت شخصیت کا مالک نوجوان اترا اسے سول ریسٹ ہاؤس جانا تھا ،🚝🚆
اس نے آس پاس دیکھا تو کوئ سواری نظر نہ آئ مگر ایک تانگہ جو کہ چلنے کو تیار تھا نوجوان نے اسے آواز دے کر کہا کہ اسے بھی سول ریسٹ ھاؤس تک لیتے جائیں مگر کوچوان نے صاف انکار کر دیا ،🤗🤗
نوجوان نے التجائیہ الفاظ میں کوچوان سے پھر کہا تو اس نے سخت لہجے میں یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ آگے پھاٹک پر ایک سنتری کھڑا ھے وہ مجھے نہیں بخشے گا لہذا میں چار سواریوں سے زیادہ نہیں بٹھا سکتا,🧑‍🤝‍🧑👭
تانگے میں بیٹھی سواریوں نے جب نوجوان کو بے بس دیکھا تو کوچوان سے کہا کہ ہم سب مل کر اس نوجوان کی سفارش کریں گے لہذا اسے بھی ساتھ بٹھا لیں,
کوچوان نے نہ چاہتے ھوۓ بھی نوجوان کو سوار کر لیا,
جب پھاٹک آیا تو پولیس والے نے سیٹی بجا کر تانگہ روک لیا اور کوچوان پر برس پڑا کہ اس نے 4 سے زیادہ سواریوں کو تانگے میں کیوں بٹھایا ؟ 😡😡
کوچوان نے 5ویں سواری کی مجبوری بیان کی مگر پولیس والےکا لہجہ تلخ سے تلخ ھوتا گیا۔
نوجوان نے 5 روپے کا نوٹ کوچوان کو دیا کہ سنتری کو دے کر جان چھڑاؤ ۔
مگر جب سنتری نے 5روپے دیکھے تو وہ اور بھی زیادہ غصے میں آگیا اس نے کوچوان سے کہا کہ تم نے مجھے رشوت کی پیش کش کی ھے جوکہ ایک جرم ھے لہذا اب تمہارا لازمی چالان ھو گا, 🚦🚥🚦
سنتری نے کہا کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو پاکستان ہی کیوں بنایا ؟
یہ کہہ کر اس نے کوچوان کا چالان کر دیا , تانگہ چلا گیا ۔
سول ریسٹ ھاؤس کے قریب نوجوان اترا تو اس نے کوچوان سے کہا کہ یہ میرا کارڈ رکھ لو اور کل نو بجے ادھر آجانا میں تمہارا جرمانہ خود ادا کروں گا ۔
اگلی صبح 9بجے کوچوان سول ریسٹ ھاؤس پہنچا تو پولیس کے جوانوں نے اگے بڑھ کر کوچوان کو خوش آمدید کہا
اور پوچھا کہ گورنر صاحب سے ملنے آۓ ھو؟
کوچوان کی جانے کہ گورنر کیا ھوتا ھے ۔
پولیس کے جوان کوچوان کو دفتر کے اندر لے گۓ ۔
رات والے نوجوان نے کوچوان سے اٹھ کر مصافحہ کیا اور بیٹھنے کو کہا پھر اپنے پاس بیٹھے ڈی سی او کو رات والا واقعہ سنایا ,📢🔉📢
نوجوان نے رات والے سنتری کو فورا طلب کیا اور ڈی سی او کوحکم دیا کہ اس ایماندار پولیس والے جوان کو فورا ترقی دے کر تھانہ صدر گوگیرہ کا ایس ایچ او تعینات کرو ۔
اور کوچوان کا جرمانہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا ۔
اپنی جیب سے جرمانہ ادا کرنے والا وہ نوجوان سردارعبدالرب نشتر گورنر پنجاب تھے ۔ جس نے مسلم لیگ کیلیے بے شمار خدمات سر انجام دیں اور وہ جناح کے دست راست اور ایمانداری کی اعلی مثال سمجھے جاتے تھے۔ ۔۔۔۔!!🥰🥰🥰
(اب اتے ہیں میری ذاتی رائے کی طرف ایسے لیڈر کی آگے جو اولاد ہوگی اس میں بھی ایمانداری کا عنصر ہوگا ارباب اختیار سے التماس ہے کہ ایسے لیڈر ایماندار تھے ان کی اولاد کو آگے لایا جائے اور ان سے وطن کی خدمت کے لیے آمادہ کیا جائے یہ ان کے بڑوں کے لیے خراج تحسین بھی ہوگا اور اللہ بھی خوش ہوگا)لیکن یہاں ھمارے ملک میں انہی غدار ابن غدار قسم کے لوگ مسلط ھیں۔۔جو پہلے بھی اور آج بھی اپنے بیرونی آقاؤں کے کاسہ لیس ھیں۔۔ 🥀💖💖🙏🙏💖💖🥀

ہٹلر کی موت – حقیقت یا ایک راز؟ایڈولف ہٹلر کی موت 30 اپریل 1945 کو برلن کے زیرِ زمین بنکر میں خودکشی کے طور پر درج کی گئ...
05/10/2025

ہٹلر کی موت – حقیقت یا ایک راز؟
ایڈولف ہٹلر کی موت 30 اپریل 1945 کو برلن کے زیرِ زمین بنکر میں خودکشی کے طور پر درج کی گئی۔ سرکاری تاریخ کے مطابق، جب سوویت فوجیں برلن میں داخل ہو رہی تھیں، ہٹلر نے اپنی قریبی ساتھی اور نئی نویلی بیوی ایوا براؤن کے ساتھ خود کو ختم کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہٹلر نے خود کو گولی ماری جبکہ ایوا براؤن نے زہر پی لیا۔ ان کی لاشوں کو ان کے ساتھیوں نے بنکر کے باہر جلایا تاکہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔

لیکن اس واقعے پر ہمیشہ شکوک و شبہات رہے ہیں۔ کچھ نظریہ سازوں کا کہنا ہے کہ ہٹلر کی باقیات کی تصدیق مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکی، کیونکہ سوویت یونین نے جو کھوپڑی اور جبڑے کے ٹکڑے حاصل کیے، ان پر بعد میں ہونے والی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ وہ کسی خاتون کے تھے، نہ کہ ہٹلر کے۔ اس کے علاوہ، ہٹلر کے جسم کے بارے میں جو تفصیلات سوویت ریکارڈ میں درج ہیں، وہ بھی کئی جگہوں پر تضاد کا شکار ہیں۔

کچھ رپورٹس کے مطابق، ہٹلر برلن سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اور وہ جنوبی امریکہ کے کسی ملک، خاص طور پر ارجنٹینا میں جا بسا۔ کئی سالوں تک ایسی افواہیں گردش کرتی رہیں کہ ہٹلر کو ارجنٹینا، چلی یا برازیل میں دیکھا گیا۔ کچھ دستاویزات اور گواہوں کے بیانات بھی ان دعوؤں کو تقویت دیتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، نازیوں کے کئی اعلیٰ عہدیدار جنوبی امریکہ فرار ہوگئے تھے، جن میں ڈاکٹر جوزف مینگلے اور ایڈولف آئیخ مین جیسے لوگ شامل تھے، جس سے یہ مفروضہ مزید مضبوط ہوتا ہے کہ ہٹلر بھی زندہ بچ کر نکل سکتا تھا۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ ہٹلر کسی خفیہ تنظیم یا کسی بڑی طاقت کے تعاون سے غائب ہو گیا تھا تاکہ مستقبل میں کسی نئی حکمتِ عملی کے تحت کام کر سکے۔ تاہم، تاریخ دانوں کی ایک بڑی تعداد اس نظریے کو رد کرتی ہے اور سرکاری موقف کو ہی درست مانتی ہے کہ ہٹلر نے واقعی خودکشی کی تھی۔

ہٹلر کی موت ایک ایسا راز بن چکی ہے جس پر آج بھی مختلف نظریے موجود ہیں۔ کچھ لوگ اسے حقیقت مانتے ہیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ تاریخ کا ایک بڑا
دھوکہ تھا۔

پاکستان میں مارشل لاء کا بانی ! بشکریہ افتخار حسین خان----------‐‐-‐------------------------‐-----------میجر جنرل سکندر ...
05/10/2025

پاکستان میں مارشل لاء کا بانی !
بشکریہ افتخار حسین خان
----------‐‐-‐------------------------‐-----------
میجر جنرل سکندر مرزا پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پہلے صدر تھے‘ یہ 1955ء میں گورنر جنرل بنے‘ 1956ء کا آئین بنایا ‘ حلف اٹھایا اور ملک کے پہلے صدر بن گئے‘ وہ 27 اکتوبر 1958ء تک صدر رہے‘ مرشد آباد کے نواب خاندان سے تعلق رکھتے تھے‘شجرہ میر جعفر سے ملتا تھا‘ ہندوستان کے پہلے نوجوان تھے جسے رائل ملٹری کالج سینڈ ہرسٹ میں داخلہ ملا‘ 1921ء میں برٹش آرمی جوائن کی‘ کوہاٹ میں تعینات ہوئے‘ پوناہارس رجمنٹ میں بھی رہے‘ بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے لہٰذا جب کیپٹن تھے تو فوج سے سول سروس میں آگئے‘ انڈین پولیٹیکل سروس کا حصہ بنے اور پھر چار اضلاع میں ڈپٹی کمشنر رہے.
بطور ڈپٹی کمشنر پشاور وہ،چچا ملک محمد عمر خان کی دعوت پر مہمان بنکر پلوسی کے ہمارے ھجرے میں آئے تھے۔
پاکستان بنا تو یہپاکستان کے پہلے سیکرٹری دفاع بن گئے‘ ترقی کرتے کرتے گورنر جنرل غلام محمد تک پہنچ گئے ' غلام محمد علیل ہوئے تو یہ قائم مقام گورنر جنرل بن گئے‘ جوڑتوڑ کے ماہر تھے لہٰذا ایوب خان کی مدد سے باضابطہ گورنر جنرل بن گئے‘ تین برسوں میں چار وزراء اعظم کو نگل گئے یہاں تک کہ ایوب خان کی مدد سے ملک میں مارشل لاء لگایا اور چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بن گئے لیکن پھر کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے 27 اکتوبر 1958ء کو اقتدار پر قبضہ کر لیا‘ یہ اہلیہ کے ساتھ لندن جلاوطن کر دیے گئے‘ وہاں درمیانے درجے کے ہوٹل میں پبلک ریلیشنز آفیسر کی حیثیت سے جاب کرتے رہے‘ 1969ء میں انتقال ہوا اور تہران میں دفن کر دیےگئے‘ سکندر مرزا فوت ہو گئے لیکن انکے چار کارنامے ہمیشہ زندہ رہیں گے‘ ملک کا پہلا آئین ان کے دور میں بنا تھا‘ یہ ملک کے پہلے صدر بھی تھے‘ ملک میں مارشل لاء کی بنیاد بھی انہوں نے رکھی اور یہ ملکی تاریخ کے پہلے سربراہ تھے جس نے خود کو میجرجنرل کے عہدے پر ترقی دے دی تھی‘ یہ واقعہ نئی نسل کے لیے یقینا حیران کن ہو گا لیکن یہ بہرحال ہماری تاریخ کا حصہ ہے‘ واقعہ کچھ یوں تھا‘ سکندر مرزا جب گورنر جنرل بنے تو ان کے فوجی دور کے ساتھی ترقی کرتے کرتے میجر جنرل ہو چکے تھے‘گورنر جنرل کو برا لگتا تھا لہٰذا انہوں نے ایک صبح سرکاری حکم جاری کر کے خود کو میجر جنرل ڈکلیئر کر دیا‘ یہ ملکی تاریخ کے پہلے میجر جنرل ہیں جنکے ساتھ آج بھی ریٹائر کا لفظ نہیں لکھا جاتا‘ کیوں؟ کیوں کہ یہ ریٹائر
نہیں ہوئےتھے۔
منقول
----------------------------‐-------------
First President of Pakistan Iskander Ali Mirza with his 1st wife, Nighat Mirza, with whom he had six children before they separated in 1953.

پیر صبغت اللہ شاہ راشدی (ششم) اور انگریز سامراج کے ساتھ کشمکش – 1930 کی دہائی کا پس منظرپیر صبغت اللہ شاہ راشدی (ششم)، ج...
05/10/2025

پیر صبغت اللہ شاہ راشدی (ششم) اور انگریز سامراج کے ساتھ کشمکش – 1930 کی دہائی کا پس منظر

پیر صبغت اللہ شاہ راشدی (ششم)، جنہیں پیر پگارو بھی کہا جاتا ہے، سندھ کے ایک مشہور روحانی خاندان کے سربراہ تھے۔ انہوں نے سندھ میں انگریز سامراج کے خلاف بھرپور مزاحمت کی قیادت کی۔ ان کی جدوجہد کا آغاز 1930 کی دہائی میں ہوا جب انگریز حکومت نے سندھ کے مختلف علاقوں میں اپنی استعماری پالیسیوں کو سختی سے نافذ کرنا شروع کیا۔

سندھ کی معاشرتی اور سیاسی صورتحال:

1930 کے دوران سندھ کی زمینوں اور وسائل پر انگریز حکومت کا قبضہ مضبوط ہو رہا تھا، اور مقامی سرداروں اور جاگیرداروں کے ساتھ مل کر انگریزوں نے کاشتکاروں اور عام لوگوں کا استحصال بڑھا دیا تھا۔ سندھ کے جاگیردار طبقے نے اپنی طاقت بچانے کے لیے انگریزوں کے ساتھ اتحاد کر لیا، لیکن پیر پگارو نے ہمیشہ اس کے برعکس موقف اپنایا اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوئے۔

حریت تحریک کا آغاز:

پیر پگارو نے "حریت تحریک" کا آغاز کیا جس کا مقصد سندھ کے عوام کو انگریزوں کے ظلم و ستم سے بچانا تھا۔ یہ تحریک عوامی سطح پر مقبول ہوئی اور سندھ کے غریب اور مظلوم طبقے نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حریت تحریک نے مسلح مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، اور انگریز افسران اور فوجی دستوں کو مختلف علاقوں میں نشانہ بنایا۔ حریت کے جنگجوؤں کو "حریت پسند" کہا جاتا تھا، جنہوں نے پہاڑوں اور جنگلات میں رہتے ہوئے گوریلا طرز کی جنگ لڑی۔

انگریز حکام کا ردعمل:

انگریز حکام نے پیر پگارو کی اس تحریک کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا اور انہیں ہر ممکن طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے پیر پگارو کو دبانے کے لیے کئی فوجی آپریشنز کیے اور ان کے پیروکاروں کو گرفتار یا قتل کیا۔ انگریز حکومت نے سندھ کے کئی علاقوں میں سخت قوانین نافذ کیے تاکہ حریت تحریک کو ختم کیا جا سکے۔

سکھر کا واقعہ:

1930 کی دہائی کے وسط میں سکھر کے علاقے میں ایک انگریز افسر کے ساتھ پیر پگارو کی اہم ملاقات یا تصادم ہوا، جہاں انگریز حکومت نے انہیں اپنے ساتھ تعاون کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، پیر پگارو نے انگریزوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی تحریک جاری رکھی۔ انگریزوں کے ساتھ یہ کشیدگی اس حد تک بڑھ گئی کہ 1940 کی دہائی تک حالات بگڑتے چلے گئے۔

گرفتاری اور پھانسی:

انگریز حکومت پیر پگارو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی حریت تحریک سے خوفزدہ تھی۔ انہوں نے پیر پگارو کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا اور 1941 میں انہیں گرفتار کر کے سینٹرل جیل حیدرآباد منتقل کر دیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ انگریزوں کے خلاف مسلح بغاوت کی قیادت کر رہے ہیں اور عوام کو انگریز حکومت کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ طویل مقدمے کے بعد پیر پگارو کو 20 مارچ 1943 کو حیدرآباد جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ ان کی پھانسی کے بعد ان کی لاش کو ایک نامعلوم مقام پر دفن کر دیا گیا تاکہ ان کے مزار کو مرکز بنا کر مزید بغاوت نہ ہو سکے۔

تحریک کا تسلسل اور ورثہ:

پیر پگارو کی شہادت کے بعد بھی ان کی تحریک ختم نہ ہوئی۔ ان کے حریت پسند پیروکاروں نے سندھ میں انگریزوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھی، یہاں تک کہ ہندوستان آزاد ہو گیا۔ ان کی قربانی اور جدوجہد کو آج بھی سندھ اور پاکستان کی تاریخ میں انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کی تحریک کو سندھ کی عوامی جدوجہد کا سنگِ میل مانا جاتا ہے۔ ان کی تحریک نہ صرف سندھ بلکہ پورے برصغیر کی آزادی کی تحریکوں کے لیے ایک مثال بن گئی۔ ان کے کردار کو ہمیشہ جدوجہد اور قربانی کے عظیم نمونے کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

نوکیا کمپنی جب بکنے لگی مائیکر سافٹ اسے  لینے کا اعلان کرنے لگا تو اس پریس کانفرنس کے دوران ، نوکیا کے سی ای او نے اپنی ...
29/09/2025

نوکیا کمپنی جب بکنے لگی مائیکر سافٹ اسے لینے کا اعلان کرنے لگا تو اس پریس کانفرنس کے دوران ، نوکیا کے سی ای او نے اپنی تقریر کا اختتام یہ کہہ کر کیا:
"ہم نے کچھ غلط نہیں کیا ، لیکن پھر بھی ہم ہار گئے۔"
اس کے ساتھ ہی ، پوری مینجمنٹ ٹیم ، بشمول وہ خود سب رو پڑے۔

نوکیا ایک قابل احترام کمپنی تھی۔ اس نے اپنے کاروبار میں کچھ غلط نہیں کیا لیکن دنیا بہت تیزی سے بدلی اور وہ سیکھنے سے محروم رہے اور وہ تبدیلی سے محروم ہو گئے ، اور اس طرح انہوں نے ایک قیمتی موقع ضائع کر دیا جو کہ ایک بڑی کمپنی بننے کا تھا۔ انہوں نے نہ صرف بڑی رقم کمانے کا ایک موقع گنوایا ، بلکہ انہوں نے زندہ رہنے کا موقع بھی گنوا دیا!
اس کہانی کا پیغام:
اگر آپ تبدیل نہیں ہوتے ہیں تو آپ مقابل لوگوں سے ہار جائیں گے اور ماضی کی داستان بن جائیں گے۔ اگر آپ نئی چیزیں نہیں سیکھنا چاہتے اور آپ کے خیالات اور ذہنیت وقت کے ساتھ نہیں بدل رہی تو آپ وقت کے ساتھ ختم ہو جائیں گے!

کاسیو... یہ صرف ایک گھڑی نہیں، بلکہ زندگی کے لیے ایک سہولت ہے۔جنگِ عظیم کے بعد جاپان میں 1946 میں ایک انجینئر تاداؤ کاشی...
29/09/2025

کاسیو... یہ صرف ایک گھڑی نہیں، بلکہ زندگی کے لیے ایک سہولت ہے۔

جنگِ عظیم کے بعد جاپان میں 1946 میں ایک انجینئر تاداؤ کاشیو نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر "کاشیو سیساکوجو" کی بنیاد رکھی۔ ان کا پہلا بڑا کارنامہ دنیا کا پہلا کمپیکٹ الیکٹرانک کیلکولیٹر (1957) تھا۔ یہ ایجاد صرف حساب کے لیے نہیں بلکہ آسانی اور سب کی پہنچ میں ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی سوچ کا نتیجہ تھی۔

1974 میں کاسیو نے گھڑیوں کی دنیا میں قدم رکھا اور پہلی ڈیجیٹل گھڑی Casiotron متعارف کرائی، جو صرف وقت نہیں بلکہ پورے سال کا خودکار کیلنڈر بھی دکھاتی تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کاسیو نے دنیا کو بتایا کہ گھڑی زیور نہیں بلکہ ایک ایسا آلہ ہے جو روزمرہ زندگی کو آسان بناتا ہے۔

1983 میں کاسیو نے اپنے خواب کو ایک نئی بلندی پر پہنچایا اور پیش کی G-Shock — ایک ایسی گھڑی جو جھٹکوں، پانی اور مشکل حالات میں بھی ٹوٹتی نہیں تھی۔ یہ گھڑی اس فلسفے کی عملی مثال تھی کہ:
"ایک اچھی گھڑی انسان کو روکتی نہیں... بلکہ آگے بڑھاتی ہے۔"

کاسیو کی گھڑیاں طالب علم، مزدور، سائنسدان اور مہم جو — سب کے لیے بنیں۔ یہ صرف وقت نہیں دکھاتیں بلکہ الارم، کیلکولیٹر، اسٹاپ واچ اور دنیا کا وقت ساتھ لے کر چلتی ہیں۔

کاسیو نے اپنی قدر کو زیورات یا عیش و عشرت پر نہیں بنایا بلکہ اعتماد، معیار اور افادیت پر قائم کیا۔ اسی لیے یہ گھڑی ایک برانڈ نہیں بلکہ ایک ساتھی بن گئی ہے۔

ہر کاسیو گھڑی آج بھی یہی پیغام دیتی ہے:
"میں ہر چیلنج کے لیے تیار ہوں۔"

Lone Smile 🖋

ترکی کے خلیفہ سلطان مراد کی ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، اس نے ایک رات اپنے ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ کو ...
29/09/2025

ترکی کے خلیفہ سلطان مراد کی ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯿﺲ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﯿﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ، اس نے ایک رات اپنے ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ کو کہا کہ ،
ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﻗﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ _
ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ گرﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﮦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ . ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ .

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯼ ،
ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺅ ﺑﮭﺎﺋﯽ _

ﻟﻮﮒ ﺟﻤﻊ ﮨﻮ ﮔﮱ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﻧﮧ ﺳﮑﮯ . ﭘﻮﭼﮭﺎ : ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ؟_

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺁﺩﻣﯽ ﻣﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ . ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ . ﮐﻮﻥ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ .

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮨﮯ _

ﺗﻮ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﻣﺖ ﻣﺤﻤﺪﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ . ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ _

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺖ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯼ _

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﻻﺵ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﺗﻮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﯽ .

ﻟﻮﮒ ﭼﻠﮯ ﮔﮱ _

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﺳﮑﯿﻮﺭﭨﯽ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﻭﮨﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺭﻭﻧﺎ ﺳﻨﺘﮯ ﺭﮨﮯ .

ﻭﮦ کہہ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ،
ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺑﯿﺸﮏ ﺗﻮ ﺍﻟﻠّﻪ ﮐﺎ ﻭﻟﯽ ﮨﮯ . ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ .

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺍ _ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ . ﻟﻮﮒ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ .

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﺗﮭﯽ _ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺎﻧﮯ ﺟﺎﺗﺎ ، ﺟﺘﻨﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﮯ ﺷﺮﺍﺏ ﺧﺮﯾﺪﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻻ ﮐﺮ ﮔﮍﮬﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎ ﺩﯾﺘﺎ . ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﻮﺟﮫ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻮ .
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺍﺟﺮﺕ ﺩﮮ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﮯ . ﮐﻮﺋﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ _
ﮔﮭﺮ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ ، ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠّﮧ ! ﺁﺝ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﻮﺟﮫ ﮨﻠﮑﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ .
ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺟﮕﮩﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﺗﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ _
ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮫ ! ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻓﻨﺎ ﻧﺎ ﮨﮯ _
ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ، ﮔﮭﺒﺮﺍ ﻣﺖ _ ﺗﻮﺩﯾﮑﮭﮯ ﮔﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ، ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ .

ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻣﺮﺍﺩ ﮨﻮﮞ . ﮐﻞ ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻏﺴﻞ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ . ﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﮭﯽ ﭘﮍﮬﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﮔﮯ .

ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﮐﺜﯿﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﻧﮯ ﭘﮍﮬﺎ .

ﺁﺝ ﮨﻢ ﺑﻈﺎﮨﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﯾﺎ ﻣﺤﺾ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﮨﻢ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪ ﺟﺎﻥ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻧﯿﮟ ﮔﻮﻧﮕﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ۔۔

نیلسن منڈیلا مئی 1994ء کو ایوان صدر میں داخل ہوئے تو انھوں نے پہلا آرڈر دیا ایوان صدر اور آفس میں موجود تمام گورے افسر ا...
26/09/2025

نیلسن منڈیلا مئی 1994ء کو ایوان صدر میں داخل ہوئے تو انھوں نے پہلا آرڈر دیا
ایوان صدر اور آفس میں موجود تمام گورے افسر اپنے پرانے عہدوں پر کام کریں گے‘ کسی گورے کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا‘
دوسرا آرڈر سیکیورٹی گارڈز سے متعلق تھا۔
اس نے حکم دیا میری سیکیورٹی کی ذمے داری انہی گورے افسروں کے پاس رہے گی جو انگریز صدر کی حفاظت کرتے تھے‘
تیسرا آرڈر تھا
’’میں اپنے مہمانوں کو خود چائے بنا کر دوں گا‘ کوئی ویٹر مجھے اور میرے مہمانوں کو سرو نہیں کرے گا‘‘
چوتھا آرڈر تھا
میں اپنے ذاتی گھر میں رہوں گا اور شام کے وقت نائٹ اسٹاف کے سوا کوئی میری ڈیوٹی نہیں دے گا‘
پانچواں آرڈر تھا
ملک میں موجود تمام گورے جنوبی افریقہ کے شہری ہیں اور جو انھیں تنگ کرے گا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی‘
چھٹا آرڈر تھا
آج سے میرا کوئی سیاسی اور ذاتی مخالف نہیں ہوگا‘ میں اپنے تمام مخالفوں کے پاس گارڈز کے بغیر جاؤں گا‘
ساتواں آرڈر تھا
ملک کی سرکاری میٹنگ میں میرے خاندان اور میرے دوستوں میں سے کوئی شخص شامل نہیں ہوگا
اور آٹھواں حکم تھا
میں اس ملک کا ایک عام شہری ہوں چنانچہ میرے ساتھ وہ قانونی سلوک کیا جائے جو عام شہری کے ساتھ ہوتا ہے۔

یہ آٹھ احکامات تھے جنھیں جاری ہونے میں دس منٹ لگے اور بدترین بحران کے شکار جنوبی افریقہ کا مستقبل پہلے ہی دن طے ہو گیا‘

1994ء تک ساؤتھ افریقہ دنیا کا خطرناک ترین ملک تھا مگرنیلسن منڈیلا کے اقتدار سنبھالنے کے محض ایک سال بعد 1995ء میں ساؤتھ افریقہ میں رگبی کا ورلڈ کپ اور 2003ء میں کرکٹ کا ورلڈ کپ منعقد ہوا اور یہ آج دنیا کے ترقی یافتہ اور مضبوط ممالک میں شمار ہوتا ہے

نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے بانی تھے مگر یہ 5 سال کی صدارت کے بعد 2004ء میں سیاست سے ریٹائر ہو گئے اور 2014 میں اپنی وفات تک معمولی درجے کے چھوٹے سے گھر میں رہے

یہ درست ہے منڈیلا کے ابتدائی آٹھ احکامات سے جنوبی افریقہ میں نہ دیوار چین بنی‘نا یہ برطانیہ بنا‘ نا ہی یہ واشنگٹن بنا اور نہ ہی ان احکامات سے ان کا ریلوے‘ اسٹیل مل‘ ائیر لائین‘ واپڈا اور معیشت ٹھیک ہوئی مگر ان آٹھ احکامات نے جنوبی افریقہ کو قوم بنا دیا اور چار سال بعد جنوبی افریقہ کے 80 فیصد مسائل حل ہوگئے ۔"

سیاستدان اگلے لیکشن کا سوچتا ہے جبکہ لیڈر اگلی نسل کا سوچتا ہے ۔














Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Abdalian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share