The Abdalian

The Abdalian The Abdalian

کوئٹہ کی تاریخ حوالہ جات کے ساتھ۔ حوالہ  کی تصویر میں صفحہ نمبر اور کتاب کا نام کوئٹہ کا پہلا تاریخی ذکر 11ویں صدی میں ہ...
07/02/2026

کوئٹہ کی تاریخ حوالہ جات کے ساتھ۔ حوالہ
کی تصویر میں صفحہ نمبر اور کتاب کا نام

کوئٹہ کا پہلا تاریخی ذکر 11ویں صدی میں
ہے جب سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان کی فتوحات کے دوران اسے فتح کیا۔ یہ غزنوی سلطنت کا حصہ بنا۔
• اس وقت سے یہاں پشتون قبیلہ کاسی (Kasi Afghans) کی اکثریت تھی، جو اسے اپنی قدیم جائیداد سمجھتے تھے۔ کاسی قبیلہ ابتدائی مسلم مکین اور حکمران تھے (مثلاً Ain-i-Akbari اور H.G. Raverty کی کتابوں میں ذکر)۔
آئن اکبری نے تفصیل سے لکھا ہے کہ شال کوئٹہ قندھاری کا مشرقی ضلع تھا اور جتنا ٹیکس جمع ہوتا تھا وہ سب درج کیا گیا ہے۔
مغل کی تاریخ سے ہمایوں نامہ نے تفصیل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کوئٹہ قندھار کا مشرقی ضلع تھا اور بادشاہ کو مشکل میں دیکھ کر کہا گیا کہ شال مستان جاتے ہیں جو قندھار کا مشرقی سرحد ہے اور افغان اباد ہیں۔
مغل اور صفوی دور (16ویں صدی)
• 1543ء میں مغل بادشاہ ہمایوں نے ایران کی طرف پسپائی کے دوران کوئٹہ میں قیام کیا اور اپنے بیٹے اکبر (بعد میں عظیم مغل بادشاہ) کو یہاں چھوڑ دیا۔ اکبر دو سال بعد واپس آیا۔
اس کے بعد تحفتہ الکرام جو کہ سندھ کی لکھی گئی تاریخ ہے اس میں لکھا گیا ہے شال یعنی کوئٹہ قندھار کا حصہ تھے۔
اسی طرح تاریخ ہرات اور تاریخ فرشتہ میں بھی اسی طرح بیان کیا گیا ہے۔
اس کے بعد شروع ہوتا ہے خلجی دور حکومت اس کے بارے جنرل راورٹی نے تفصیل سے لکھا ہے کہ شال کو خان کلات نے پشین تک قبضہ کیا لیکن شاہ حسین ہوتک نے انکو قلات تک پہنچایا اور اپنا جغرافیہ متصل کیا اور خان کلات کو اپنا تابع بنایا۔ تفصیل تصویر میں
اس کے بعد کوئٹہ شال نادرشاہ افشار کے زیر تسلط ایا ادھر بھی ایک بات واضح کرتا چلوں اس وقت بھی کلات نادر شاہ کی باج گزار تھی اور نصیر خان نادرشاہ کے قید میں تھا جنکو پھر قندھار کے ایک جرگہ نے نادرشاہ سے میر نصیر خان کی جان بخشی کروائی۔
اس کے بعد شروع ہوتا ہے ابدالی دور تب شال کا نام شال سے تبدیل ہو کر کوٹہ بن گیا کوٹہ پشتو میں مٹی کے ڈھیر کو کہتے ہیں یہ مٹی کا ڈھیر کینٹ ایریا میں موجود ہے اور فائنل سیٹلمنٹ میں اسکا ذکر موجود ہے نیچے تصویر میں تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔
اس وقت تک بلوچوں کوئٹہ سے کوئی تعلق نہیں تھا صرف ریوڑ چرانے آتے تھے یا خانہ بدوش بن کر آتے تھے۔
میمر اف کلات میں لکھتے ہیں کہ زنگی رند نے بولان کی طرف سے شال پر حملہ کیا اور ایک ندی کے پاس کاسی سے شکست کھائی اور اس ندی کا نام زنگی لوڑا یعنی زنگی ندی پڑ گیا۔
اس کے بعد میر نصیر خان نے درانی سلطنت سے بغاوت کی اور احمد شاہ ابدالی نے قندھار سے کوئٹہ آکر نصیر خان کو تسلیم ہونے کا پیغام بھیجا انکار کی صورت میں کلات کو محاصرہ کیا گیا اور چالیس دن محاصرہ کے بعد ایک معاہدہ طے پایا جس کے پہلے شک میں وفاداری لی گئ خان کلات سے اور اس معاہدے کا سورس بھی کلات ہی ہے۔ نیچے تصویر میں انگریزی ترجمہ موجود ہے ۔ پانی پت کی تیسری لڑائی میں نصیر خان کی شمولیت اور خان کلات محمود خان تک ٹیکس کی کابل کو ادائیگی اس بات کی دلیل ہے کہ کلات باج گزار ریاست تھی۔ نیچے دیئے گئے حوالہ موجود ہے کہ خان کلات محمود خان کتنا ٹکس ادا کرتے تھے اور کتنے فوجی فراہم کرنے کا پابند تھا۔
شال یا تحفہ کا معاملہ کہتے ہیں کہ شال تحفے میں دی گئی اس لئے ٹیکس خان کلات جمع کرتا رہا لیکن اس چیز کو بھول جاتے ہیں کہ خان کلات کے پاس انتظامی امور تھے اور ٹیکس قندھار کے لئے جمع کرتے تھے صرف یہاں نہیں کشمیر اور لاہور سے بھی ٹیکس غیر پشتون جمع کر کے درانی سلطنت کو سونپ دیتے تھے۔
انگریز کی امد۔
فرسٹ اینگلو افغان وار میں خان کلات نے انگریز سے معاہدہ کیا اور انگریز کو بولان پاس سے حملہ کرنے کی اجازت مل گئی اور پہلا حملہ کوئٹہ پر ہو گیا ۔ پھر وقتا فوقتا انگریز آتے رہے اخر کار کوئٹہ کو قندھار پر قبضہ کرنے کے لئے ایک چھاونی کی شکل دی۔
انگریز کے کوئٹہ کے حوالے سے اعداد و شمار
ایلفسٹائن صاف صاف الفاظ افغان سر زمین کی حدود لکھتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بولان کی گہری ندی بلوچستان کو افغانستان سے الگ کرتی ہے۔
انگریز نے اپنے فائنل سیٹلمنٹ میں تفصیل سے کاریزات وسائل اور آبادی کا ذکر کیا ہے اور اس میں تفصیل سے ایک ایک کاریز اور ایک ایک بزگر کا ذکر اور مالک کا ذکر موجود ہیں ان تمام تاریخی کاریزات پشتون کے نام ہیں یا ان کے نام پشتو میں ہے۔ آبادی کے اعتبار سے لکھا گیا ہے یہاں پشتون ابادی 91 فیصد ہے باقی آبادی کافی معمولی ہے۔
اس کے علاوہ کوئٹہ کو چھ سرکل میں تقسیم کیا ان میں سے درانی کاسی کچلاغ نوسار بلیلئ اور سریاب سرکل ہیں ان میں سے پانچ آج بھی مکمل پشتون آباد ہیں سریاب سرکل میاں غنڈی اور کاسی اباد لکپاس تک آج بھی کاسی اقوام کی زمین ہیں ۔
اس لئے تاریخ دانوں نے ہمیشہ ایک ہی جملہ ہے
Quetta is an Afghan city.

ائیرمارشل نور خان ٹمن  ایک طلسماتی شخصیت تھے‘ وہ 1923 میں پیدا ہوئے‘ 1941 میں انڈین ائیرفورس جوائن کی‘ 1947ء میں پاکستان...
28/01/2026

ائیرمارشل نور خان ٹمن
ایک طلسماتی شخصیت تھے‘ وہ 1923 میں پیدا ہوئے‘ 1941 میں انڈین ائیرفورس جوائن کی‘ 1947ء میں پاکستان ائیر فورس کا حصہ بنے اور پھر ہیرو کی زندگی گزاری‘ وہ ’’مین آف اسٹیل‘‘ کہلاتے تھے۔

وہ 1965 کی جنگ میں ائیر چیف تھے لیکن خود جہاز اڑا کر حساس ترین مقامات پر چلے جاتے تھے‘ ان کی خدمات کا دائرہ صرف ائیرفورس تک محدود نہیں تھا‘ وہ 1959 سے 1965 تک پی آئی اے کے ایم ڈی رہے اور اسے دنیا کی پانچ بہترین ائیر لائینز میں شامل کرا دیا‘ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بنے اور پاکستان کو ہاکی کا ورلڈ چیمپیئن بنوا دیا ‘ وہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے اور ہم کرکٹ کی دنیا میں ’’مین پلیئر‘‘ بن گئے۔

نور خان نے اپنی زندگی میں جس ادارے میں قدم رکھا وہ ادارہ انٹرنیشنل بن گیا اور دوسرے ملکوں نے وہ ماڈل بعد ازاں نقل کیا تاہم یہ تمام کامیابیاں ائیر مارشل نور خان کی پروفیشنل زندگی تھی‘ آپ کو زندگی میں ایسے بلکہ ان سے بھی بہتر لوگ مل جائیں گے لیکن ان کا اصل کمال ان کی ذاتی زندگی تھی‘ وہ 1969 میں ریٹائر ہوئے اور ریٹائرمنٹ کے 42 سال بعد 2011 میں 88 سال کی عمر میں فوت ہوئے مگر وہ مرنے تک سپر فٹ تھے۔
وہ اسلام آباد میں روز مارگلہ ہلز کی ٹریل تھری پر ٹریکنگ کرتے تھے اور 40 منٹ میں بغیر رکے آخری پوائنٹ تک پہنچ جاتے تھے‘ میں اکثر انھیں ٹریل تھری پر دیکھتا تھا‘ وہ دائیں بائیں دیکھے بغیر بیس بیس سال کے نوجوانوں کو کراس کر جاتے تھے‘ ہم لوگ ان کے مقابلے میں جوان بھی تھے اور ’’سپر فٹ‘ بھی لیکن ہم جوان لوگ انھیں کبھی کراس نہ کر سکے‘ ہم جب آخری پوائنٹ پر پہنچتے تھے تو وہ نیچے پہنچ چکے ہوتے تھے‘ وہ 88 سال کی عمر میں بھی چالیس سال کے لگتے تھے‘ ہم میں سے اکثر لوگوں کے گھٹنوں میں درد ہوتا تھا‘ ہم مسلسل چار دن ٹریک نہیں کر سکتے تھے لیکن وہ آندھی ہو یا طوفان وہ وقت مقررہ پر مارگلہ کی پارکنگ میں ہوتے تھے اور ہاتھ پیچھے باندھ کر اوپر چڑھنا شروع کر دیتے تھے۔

میں نے ایک دن ان سے پوچھا ’’سر آپ کے گھٹنوں میں درد نہیں ہوتا‘ وہ ہنس کر بولے ’’مجھے اکثر لوگ کہتے ہیں پہاڑ پرچڑھنے اور اترنے سے گھٹنے جواب دے جاتے ہیں لیکن مجھے آج تک کسی جوڑ میں درد نہیں ہوا‘‘ میں نے عرض کیا ’’یہ شاید آپ کے طاقتور جینز کا کمال ہے‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’نہیں ہرگز نہیں‘ میرے خاندان کے زیادہ تر لوگ جلد فوت ہو گئے تھے‘‘ میں نے ان سے وجہ پوچھی‘ ائیر مارشل صاحب نے گھڑی کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے ’’ینگ مین وِل ٹیل یو نیکسٹ ٹائم‘‘ اور تیز تیز قدموں سے پہاڑ چڑھنے لگے۔

مجھے محسوس ہوا وہ ایکسرسائز کے ساتھ ساتھ وقت کے بھی ٹھیک ٹھاک پابند ہیں‘ میں اس کے بعد ان سے کئی مرتبہ ملا‘ سلام کیا ’’نیکسٹ ٹائم‘‘ کا حوالہ بھی دیا لیکن وہ مسکرا کر آگے نکل گئے لیکن پھر ایک دن معجزہ ہو گیا‘ وہ میرے قریب سے گزرے اور بولے ’’آپ اگر آج فارغ ہیں تو بات ہو سکتی ہے‘‘ میں نے عرض کیا ’’سر وقت ہی وقت‘ آپ فرمائیے‘‘ وہ بولے’’میں 40 منٹ میں نیچے آ جائوں گا‘ ہم آدھ گھنٹہ گپ لگا لیں گے‘‘ میں نے سلام کیا اور اوپر جانے کی بجائے نیچے کی طرف چل پڑا کیونکہ میں جانتا تھا میں 40 منٹ میں واپس نیچے نہیں پہنچ سکوںگا‘ میں بمشکل نیچے پارکنگ میں پہنچا‘ آپ یقین کیجیے وہ 88 سال کی عمر میں 39 منٹ میں اوپر آخری پوائنٹ کو ہاتھ لگا کر نیچے آ گئے تھے۔

ٹریل تھری کی پارکنگ کے سامنے کسی صاحب ذوق نے گھر میں کلب ٹائپ ریستوران بنا رکھا تھا‘ ہم وہاں چلے گئے‘ میرے پاس وقت کم تھا اور سوال زیادہ چنانچہ میں نے ان سے فٹنس کا راز پوچھنا شروع کر دیا‘ وہ بولے ’’صحت اٹھارہ اصولوں کا مکمل پیکیج ہے‘ ایکسرسائز اس پیکیج کا صرف ایک اصول ہے‘ ہم جب تک باقی 17 اصولوں کو ایکسرسائز جتنی اہمیت نہیں دیتے ہم اس وقت تک سپر فٹ نہیں ہو سکتے‘‘ میرے لیے یہ نئی بات تھی‘ میں خاموشی سے سننے لگا‘ وہ بولے ’’وقت کی پابندی صحت کا پہلا اصول ہے‘ آپ جب تک وقت کو کنٹرول نہیں کرتے‘ آپ اس وقت تک صحت مند نہیں ہو سکتے۔

میں نے اپنی زندگی میں وقت کی پابندی نہ کرنے والے کسی شخص کو 60 سال سے اوپر جاتے نہیں دیکھا‘ میں نے 18 سال کی عمر میں گوروں کے ساتھ کام شروع کیا تھا‘ میں نے وقت کی پابندی ان سے سیکھی‘ ٹائم اور ٹائمنگ فلائنگ کے بنیادی اصول ہیں‘ فلائنگ نے میری یہ عادت پختہ کر دی چنانچہ کچھ بھی ہو جائے میں وقت کی پابندی کرتا ہوں‘ مجھے صدر ایوب خان نے بلایا تھا‘ وہ چار منٹ لیٹ تھے‘ میں ماتحت ہونے کے باوجود ملاقات کے بغیر واپس آ گیا تھا‘ وہ دوسرے دن خود میرے دفتر آئے۔

دوسرا‘ میں سگریٹ اور شراب نہیں پیتا‘ چائے اور کافی بھی زیادہ نہیں لیتا‘ میری نوکری کے زمانے میں سگریٹ اور شراب فوجی کلچر کا حصہ تھی‘ ہمیں کوٹہ ملتا تھا‘ میں اپنا کوٹہ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیتا تھا‘ میرے کوٹے کو انجوائے کرنے والے تمام لوگ چالیس سال پہلے فوت ہو گئے جب کہ میں آج بھی روزانہ پہاڑ پر چڑھتا ہوں‘ تیسرا‘ میں زندہ رہنے کے لیے کھانا کھاتا ہوں‘ کھانا کھانے کے لیے زندہ نہیں رہتا‘ میں نے کیریئر کے شروع میں انگریز افسروں کو فاقے کرتے دیکھا تھا‘ ہمارے بیس میں ایک بودھ بھکشو آیا کرتا تھا‘ وہ افسروں کو فاقہ کراتا تھا‘ افسر فاقے کے بعد چاق و چوبند ہو جاتے تھے‘ میں نے ان کی دیکھا دیکھی روزے رکھنا شروع کر دیے۔

میری جسمانی اور ذہنی صحت روزوں کی وجہ سے زیادہ اچھی ہو گئی‘ میں نے اس تجربے سے سیکھا روزہ بھی اچھی صحت کا ایک اصول ہے‘ میں یہ اصول بھی کیری کرتا ہوں‘ رمضان کے سارے روزے بھی رکھتا ہوں اور عام دنوں میں بھی ہر مہینے دو چار روزے رکھ لیتا ہوں‘ میرا جسمانی نظام ٹھیک رہتا ہے‘‘ وہ رکے اور بولے ’’میں نمک‘ چینی‘ مسالے اور گھی کم استعمال کرتا ہوں‘ تلی ہوئی اشیاء نہیں کھاتا‘ گوشت کی جگہ مچھلی کھاتا ہوں اور وہ بھی گرلڈ‘ ہمیں اچھی صحت کے لیے ہفتے میں کم از کم تین مرتبہ مچھلی کھانی چاہیے‘ یہ ہمیں فٹ رکھتی ہے‘‘ وہ رکے اور بولے ’’پریشانی‘ دکھ اور غم انسان کو جلد بوڑھا کر دیتے ہیں‘ میں پریشان ہونے کی بجائے ہمیشہ اپنی پریشانی کا حل تلاش کرتا ہوں‘ حل نکل آئے تو ٹھیک ورنہ اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کر لیتا ہوں‘‘۔

وہ رکے اور مسکرا کر بولے ’’میں روز اپنا وزن کرتا ہوں‘ میں نے باتھ روم میں وزن کی مشین رکھی ہوئی ہے‘ میں صبح اٹھ کر وزن دیکھتا ہوں جس دن میرا وزن زیادہ ہو میں اگلے دن روزہ بھی رکھ لیتا ہوں اور ٹریکنگ کا دورانیہ بھی بڑھا دیتا ہوں‘ وزن کا صحت سے گہرا تعلق ہے‘ آپ کا وزن جتنا بڑھتا جاتا ہے‘ آپ اتنا اپنی قبر کے قریب ہوتے جاتے ہیں چنانچہ آپ کسی قیمت پر اپنا وزن نہ بڑھنے دیں‘ آپ فٹ رہیں گے‘‘ وہ رکے اور بولے ’’میں دوستوں کے معاملے میں بھی بہت سخت ہوں‘ میں صرف ہم مزاج لوگوں کو دوست بناتا ہوں‘ چڑچڑے‘ بدتہذیب‘ نمائشی اور نالائق لوگوں سے پرہیز کرتا ہوں لیکن جو لوگ میرے دوست بن جاتے ہیں میں روز ان سے ضرور ملتا ہوں۔

انسان کو اچھے اور ہم مزاج لوگوں کی کمپنی ہمیشہ انرجی دیتی ہے‘ میں یہ انرجی بھی لیتا ہوں‘ میں نے دوستوں سے محروم تنہائی پسند لوگوں کو بھی جلد مرتے دیکھا‘‘ وہ رکے اور بولے ’’آپ اگر اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے رہیں تو بھی آپ صحت مند رہتے ہیں‘ امید انرجی ہوتی ہے اور یہ شکر سے جنم لیتی ہے‘ آپ اللہ کا شکر کرتے جائیں‘ آپ کی امید بڑھتی جائے گی‘ میں نے مایوس اور ناشکرے لوگوں کو ہمیشہ بیمار بھی دیکھا اور جلدی قبرستان پہنچتے بھی چنانچہ کچھ بھی ہو جائے امید اور شکر کو ہاتھ سے نہ جانے دو تم لمبی اور صحت مند زندگی پائو گے‘‘۔

وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور فرمایا ’’فیملی بھی آپ کو انرجی دیتی ہے‘ آپ اگر دن کا ایک حصہ بچوں اور ان کے بچوں میں گزارتے ہیں تو بھی آپ جوان اور صحت مند رہتے ہیں‘ میں پوری زندگی فیملی مین رہا ہوں‘ میں نے فیملی کو دور جانے دیا اور نہ خود ان سے دور گیا چنانچہ میں آج بھی چاق وچوبند ہوں‘ میں نے ان لوگوں کو بھی بیمار اور لاچار پایا جو صاحب اولاد نہیں تھے یا جو بچوں سے دور رہتے تھے جب کہ بچوں والوں کو خوش بھی دیکھا اور فٹ بھی‘‘۔

میں ان کی گفتگو غور سے سن رہا تھا‘ وہ بولے’’صحت کے چند اور اصول بھی ہیں مثلاً آپ اگر دوسروں کے کام آتے ہیں‘ چیریٹی ورک کرتے ہیں تو بھی آپ صحت مند ہوں گے‘ مثلاً آپ کم سے کم ریڈیو سنیں اور کم سے کم ٹی وی دیکھیں آپ صحت مند رہیں گے‘ مثلاً آپ جلدی سوئیں اور جلدی جاگیں‘ کم از کم نو دس گھنٹے نیند لیں‘ آپ کی جسمانی بیٹریاں چارج رہیں گی‘ مثلاً آپ فطرت کے قریب رہیں‘ میری طرح روزانہ پہاڑ پر آئیں‘ جنگلوں میں نکل جائیں‘ جھیلوں اور دریائوں کے ساتھ واک کریں اور برف میں چلیں‘ مثلاً آپ روز چند منٹوں کے لیے خاموش بیٹھ جائیں‘ کسی سے بات کریں اور نہ کسی کی سنیں‘ یہ مراقبہ بھی آپ کو صحت مند بنا دے گا۔

مثلاً خوراک میں سبزیاں اور فروٹ بڑھا دیں‘ ڈرائی فروٹ بھی کھائیں‘ مثلاً آپ کی زندگی کا کوئی نہ کوئی گول‘ کوئی نہ کوئی مقصد ہونا چاہیے‘ بے مقصد لوگ زمین پر بوجھ ہوتے ہیں‘ زمین انھیں جلد اتار دیتی ہے اور مثلاً آخر میں روزانہ ایکسرسائز بلاناغہ‘ ریس لگائیں‘ نہ لگا سکیں تو جاگنگ کریں‘ یہ بھی نہ کر سکیں تو واک ضرور کریں‘ آپ لمبی زندگی گزاریں گے‘‘۔ وہ رکے‘ گرین ٹی کا آخری گھونٹ بھرا اور بولے ’’آخری ٹپ‘ تجربہ کار لوگوں سے تجربے کی باتیں سیکھتے رہا کریں‘ علم بھی انسان کو رواں اور صحت مند رکھتا ہے‘‘ وہ اٹھے‘ ہاتھ ملایا اور رخصت ہو گئے‘ وہ چند دن بعد بیمار ہوئے‘ اسپتال داخل ہوئے اور دو دن بعد انتقال فرما گئے‘ وہ اسپتال جانے سے پہلے بھی ٹریل تھری پر آئے تھے اور اپنی آخری واک مکمل کی تھی۔

 #خبر وزیر ایک کروڑ 50 لاکھ،آفریدی ایک کروڑ 40 لاکھ 50 ہزار،خان ایک کروڑ 11 لاکھ 👍
28/01/2026

#خبر
وزیر ایک کروڑ 50 لاکھ،آفریدی ایک کروڑ 40 لاکھ 50 ہزار،خان ایک کروڑ 11 لاکھ 👍

د احمدشاه دراني شجره‌نامهدا شجره‌نامه د معتبرو تاریخي سرچینو پر بنسټ ترتیب شوې ده، چې په هغو کې «تاریخ تیمورشاهی»، «تاری...
27/01/2026

د احمدشاه دراني شجره‌نامه
دا شجره‌نامه د معتبرو تاریخي سرچینو پر بنسټ ترتیب شوې ده، چې په هغو کې «تاریخ تیمورشاهی»، «تاریخ احمدشاه دراني»، «تاریخ خورشیدِ جهان» (چاپ هندوستان)، «تاریخ احمدشاهی» د محمود الحسیني تألیف (چاپ مسکو)، «تاریخ جهانګشای نادري»، «مجمل‌التواریخِ نگارستان سلطاني»، د «درّةالزمان» کتاب (چاپ کابل)، «خزانه عامره» (چاپ هندوستان)، «جامِ جم» (چاپ هندوستان) او ګڼ نور تاریخي آثار شامل دي. دا معلومات د تاریخي فرمانونو، قبالو، سکو او مهرونو، خطي او چاپي اسنادو او شجرو له مخې راټول شوي دي. د دې شجره‌نامې ترتیب او نشر د عزیزالدین وکیلي له‌خوا ترسره شوی دی. د نومونو تفصیلي او تشریحي ذکر په ځانګړي ډول د «تاریخ تیمورشاهی» په کتاب کې په مشرح او مستند ډول ثبت شوی دی.

السلام علیکم تو اج ہم بات کریں گے پشتو انڈسٹری کے ایک نامور فنکار کے بارے میں جس کا نام خیال محمد عرف بادشاہ غزلخیال محم...
27/01/2026

السلام علیکم تو اج ہم بات کریں گے پشتو انڈسٹری کے ایک نامور فنکار کے بارے میں جس کا نام خیال محمد عرف بادشاہ غزل

خیال محمد کا تعلق پشتونوں کے آفریدی قبیلے سے ہے۔ وہ
اصل میں خیبر ٹرائبل ڈسٹرکٹ کے تیراہ سے ہیں۔ وہ 5 جنوری 1946 کو پشاور میں ایک موسیقار خاندان میں پیدا ہوئے۔

ان کے بھائی سیف الملوک 1960 کی دہائی میں ایک مشہور گلوکار تھے، جو اکثر ریڈیو پشاور پر پرفارم کرتے تھے۔ سیف نے انہیں ریڈیو اسٹیشن سے متعارف کرایا، جہاں انہوں نے 1958 میں 13 سال کی عمر میں پہلی بار پرفارم کیا۔ تاہم، اگلے دس سال تک وہ بنیادی طور پر خود کو طبلہ
اور ہارمونیم جیسے آلات بجانے تک محدود رکھا۔

1960 کی دہائی کے آخر میں انہوں نے غزلیں، روایتی پشتو نظمیں گانا اور ریکارڈ کرنا شروع کیں، یہ ایک جرات مندانہ قدم تھا کیونکہ اس وقت موسیقی کا منظر لوک موسیقی کے زیر تسلط تھا۔ ان کا انداز جلد ہی پشاور اور صوبہ سرحد میں مقبول ہوگیا۔ مقامی ریڈیو پر اپنا نام بنانے کے بعد،

1973-74 میں خیال محمد اپنی پہلی فلم "درہ خیبر" میں نظر آئے، جو پہلی "پولی ووڈ" پشتو فلموں میں سے ایک تھی۔ اس سے ان کے کیریئر کو ایک کک اسٹارٹ ملا، اور تب سے وہ بہت سی دیگر فلموں میں نظر آئے ہیں۔ جیسے جیسے ان کی مقبولیت بڑھتی گئی، وہ اکثر افغانستان، یورپ، یو اے آر اور امریکہ کا دورہ کرتے رہے۔ برسوں کے دوران انہوں نے موسیقی کا ایک حجم ریکارڈ کیا ہے، اور بہت سی فلموں میں پلے بیک سنگر کے طور پر بھی نظر آئے ہیں، اور بہت سے ایوارڈز جیت چکے ہیں۔ انہیں پشتو موسیقی کا ایلوس پریسلی کہا جاتا ہے۔

خیال محمد صاحب نے 1988 میں پی سی پشاور میں بالی وڈ کا مشہور اداکار دلیپ کمار کے سامنے بھی ایک پرفارمنس دیا تھا

خیال محمد صاحب کی دو بیویاں تھیں۔ساتھ بیٹے اور بیٹیوں کا کنفرم پتہ نہیں۔خیال محمد صاحب کے تین بیٹے اس وقت پشتو انڈسٹری میں گانا گاتے ہیں۔پہلے نمبر پر انور خیال جو اج کل بیمار ہے۔دوسرے نمبر پر وصال خیال۔تیسرے نمبر پر شہزاد خیال

خیال محمد غزل گیتوں کو روایتی انداز میں پیش کرتے ہیں، ایسے ٹکڑوں کا انتخاب کرتے ہیں جو تصوف، رومانیت اور فلسفے کو ملا دیتے ہیں، عام طور پر اداسی کے لہجے کے ساتھ۔ ان کی آواز متاثر کن رینج رکھتی ہے، لیکن ہمیشہ مکمل طور پر کنٹرول میں ہوتی ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلم پروڈیوسرز نے ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور کم سے کم ریہرسل کے ساتھ بے عیب پرفارمنس پیش کرنے کی صلاحیت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

ظہور خان زیبی، ایک پشتون موسیقار جو بلوچی اور سندھی دھنوں کے ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ "لالا لمحے کے موڈ اور شاعری کو اپنی آواز کے ذریعے استعمال کرنے میں ماہر ہیں۔ ان کی فلموں کے گانے پشتو ترانے سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ایک البم کا نام "صوی" ہے۔

اگر انڈیا کے پاس محمد رفیع صاحب تھا۔تو ہمارے پاس بھی خیال محمد صاحب تھا۔
خیال محمد صاحب سے ایک انٹرویو میں پوچھتے کہ اپ نے ٹوٹل کتنے گانے گائے ہیں تو جواب میں وہ بولتا ہے کہ مجھے تو کنفرم پتہ نہیں ہے مگر ایک کمپوزر لیاقت زادہ بولا ہے کہ میں نے 10 ہزار گھنٹے کا ریکارڈ موجود ہے

1991 میں، خیال محمد کو پلے بیک سنگر کے طور پر نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔
خیال محمد کو صدارتی اعزاز تمغہ حسنِ کارکردگی(Pride of Performance)،

دو نیشنل ایوارڈز اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کی جانب سے ایک گولڈ میڈل مل چکا ہے، جو انہیں ملکہ ترنم میڈم نور جہاں نے پیش کیا تھا۔

اپریل 2009 میں، وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے صوبائی حکومت کی جانب سے پشتو موسیقی اور غزلوں کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں 10 لاکھ روپے کا چیک پیش کیا۔

یکم نومبر 2016 کو، پشاور کے نشتر ہال میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران افغان حکومت کی جانب سے انہیں میر بچہ خان میڈل سے نوازا گیا۔

2022 میں ریڈیو پاکستان پشاور نے خیال محمد کو 'مہدی
حسن ڈائمنڈ جوبلی انڈیپینڈنس ایوارڈ' سے نوازا۔

اللہ پاک خیال محمد صاحب کو لمبی اور صحت مند زندگی عطا فرمائے امین ثم امین اور اللہ پاک اس کے تمام گناہ معاف فرما دے

اگر میری اس پوسٹ میں کوئی غلطی ہو یا کوئی چیز اپ کو اچھی نہیں لگی ہو تو اپ ضرور اپنی رائے دیں میں اپ سب کا بہت شکر گزار ہوں کہ اپ لوگ میرے تبصرے اتنا پسند کرتے ہو اور اگر اپ لوگ خیال محمد صاحب کے بارے
میں کچھ جانتے ہو تو ضرور بتائیے

شہنشاہِ ایران کا بیٹا، ولی عہد رضا پہلوی​​31 اکتوبر 1960 کو تہران میں پیدا ہونے والے رضا پہلوی شہنشاہ ایران کے بڑے بیٹے ...
17/01/2026

شہنشاہِ ایران کا بیٹا، ولی عہد رضا پہلوی

​​31 اکتوبر 1960 کو تہران میں پیدا ہونے والے رضا پہلوی شہنشاہ ایران کے بڑے بیٹے ہیں۔ محض 17 سال کی عمر میں وہ لڑاکا طیارہ اڑانے کی تربیت حاصل کرنے امریکہ چلے گئے، لیکن 1979 کے اسلامی انقلاب نے ان کی تقدیر بدل دی اور وہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ وہ کیلیفورنیا یونیورسٹی سے سیاسیات میں تعلیم یافتہ ہیں۔

جب 1980 میں شہنشاہ کا انتقال ہوا، تو رضا پہلوی نے قاہرہ میں اپنی علامتی تاجپوشی کی۔ وہ ایرانی اپوزیشن کے ایک اہم چہرے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ​وہ ایران میں "آزاد جمہوریت" اور خواتین کے مساوی حقوق کے حامی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایران کے مستقبل کے نظام کا فیصلہ عوام خود ریفرنڈم کے ذریعے کریں۔ انہوں نے ہمیشہ مسلح جدوجہد کی مخالفت کی ہے اور خود کو شدت پسند گروہوں سے دور رکھتے ہوئے پرامن عوامی احتجاج کی حمایت کی ہے۔

​​حالیہ برسوں میں ایران میں مہنگائی اور انسانی حقوق (بالخصوص مہسا امینی کی ہلاکت) کے خلاف ہونے والے مظاہروں نے رضا پہلوی کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ​مظاہروں میں ان کے دادا کے حق میں نعرے بازی نے ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی عکاسی کی۔ واشنگٹن ڈی سی میں مقیم رضا پہلوی آج بھی عام لوگوں سے ملتے ہیں اور ایران کی آزادی کے لیے پرامید ہیں۔

​​​محمد رضا شاہ پہلوی نے تین شادیاں کیں۔ ​شاہِ مصر فواد اول کی بیٹی فوزیہ سے 1939 میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں، لیکن 1948 میں طلاق ہوگئی۔ ان سے ایک بیٹی شہزادی شہناز پہلوی پیدا ہوئیں۔

دوسری شادی ایرانی ​ثریا سے 1951 میں کی، (والدہ جرمن تھیں)۔ ان کی اولاد نہ ہوسکی، اور 1958 میں علیحدگی اختیار کر لی۔

​ملکہ فرح پہلوی (شہبانو) 1959 میں شہنشاہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور شاہ کی وفات تک ان کی شریکِ حیات رہیں۔ ان کے بطن سے چار بچے پیدا ہوئے:

​رضا پہلوی (ولی عہد)

​شہزادی فرحناز پہلوی

​شہزادہ علی رضا پہلوی

​آج شہنشاہ کی تینوں بیویوں میں سے صرف ملکہ فرح پہلوی حیات ہیں، جو پیرس اور واشنگٹن میں مقیم ہیں اور شاہی خاندان کی علامتی سربراہ سمجھی جاتی ہیں۔ شہزادی فوزیہ اور ملکہ ثریا کا انتقال ہو چکا ہے۔

شہزادی لیلیٰ (فوزیہ کی بیٹی) نے 2001 میں اور بھائی شہزادہ علی رضا نے 2011 میں خودکشی کر لی۔

​شہزادی فرحناز پہلوی نیویارک میں مقیم ہیں اور ایک پرسکون، غیر سیاسی زندگی گزار رہی ہیں۔

​شہزادی شہناز پہلوی، شہنشاہ کی پہلی بیٹی جو سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں اور اب کافی ضعیف ہو چکی ہیں۔

رضا پہلوی نے 1986 میں یاسمین اعتماد سے شادی کی، جن سے ان کی تین بیٹیاں (نور، ایمان اور فرح) ہیں۔ نور امریکہ میں ماڈل اور کاروباری مشیر کے طور پر جانی جاتی ہیں ۔ دوسری بیٹی​ ایمان شادی شدہ ہے۔ تیسری بیٹی ​فرح پہلوی ولی عہد کی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔ مرحوم علی رضا کی ایک بیٹی ​ایریانا لیلیٰ ہے۔

شہنشاہ قاہرہ میں دفن ہیں، لیکن اُن کے حامی اس بات کے منتظر ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب اُنھیں ایران منتقل کیا جائے گا۔

کیا جلاوطن ولی عہد کبھی وہ دن دیکھیں گے۔۔۔
ایک آزاد ایران۔۔۔ ؟

پہلوی خاندانپہلوی خاندان ایران کا آخری شاہی خاندان تھا، جس کی حکومت کا آغاز 1925 میں رضا شاہ پہلوی کی تخت نشینی سے ہوا ا...
16/01/2026

پہلوی خاندان

پہلوی خاندان ایران کا آخری شاہی خاندان تھا، جس کی حکومت کا آغاز 1925 میں رضا شاہ پہلوی کی تخت نشینی سے ہوا اور 1979 کے اسلامی انقلاب کے ساتھ اس کا اختتام ہو گیا۔ اس خاندان کے تین اہم افراد ہیں، بانی رضا شاہ پہلوی، ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی، اور پوتے رضا شاہ ثانی (تخت کے وارث، لیکن حکمران نہ بن سکے)۔ یہ تحریر بادشاہت کے بانی، رضا شاہ پہلوی اول کے بارے میں ہے۔

رضا شاہ پہلوی کا اصل نام "رضا خان" تھا۔ وہ 1878 میں ایران کے صوبہ مازندران کے علاقے الساشت میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ وہ "کاسک بریگیڈ" میں بھرتی ہوئے، جو ایران کی شاہی فوج کا ایک جدید اور مضبوط دستہ تھا۔ ان کی فطری قیادت کی صلاحیتوں اور جرات کی بنا پر وہ تیزی سے ترقی پاتے گئے اور بالآخر اس بریگیڈ کے کمانڈر کے عہدے تک پہنچ گئے۔

حکومت پر قبضہ اور آئینی تخت نشینی (1925–1941)

1921 میں، رضا خان نے، جو اس وقت فوج میں ایک کمانڈر تھے، اپنے فوجی دستوں کے ساتھ مل کر قاجار خاندان کی کمزور مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کی۔ وہ تہران میں داخل ہوئے اور کلیدی عہدوں پر قابض ہو گئے۔ وہ پہلے وزیر جنگ اور پھر وزیر اعظم بنے۔ چار سال کے اندر اندر انہوں نے ملک بھر میں پھیلی بغاوتوں اور قبائلی خودمختاری کو کچل کر اپنی طاقت کو مضبوط کر لیا۔

آخرکار، 1925 میں، ایران کی مجلس (پارلیمنٹ) نے قاجار خاندان کے آخری بادشاہ، "احمد شاہ قاجار" ، کو معزول کرتے ہوئے رضا خان کو نئے شاہ کے طور پر منتخب کر لیا۔ انہوں نے رضا شاہ پہلوی کا خطاب اختیار کیا، جس سے پہلوی خاندان کی بنیاد رکھی گئی۔

اپنے دورِ حکومت میں، رضا شاہ نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی پوری کوشش کی۔ اگرچہ ان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی تکنیکی مہارت درکار تھی، لیکن انہوں نے برطانوی اور سوویت اداروں کو ٹھیکے دینے سے ہمیشہ اجتناب کیا۔ رضا شاہ نے تکنیکی مدد حاصل کرنے کے لیے جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپ کے دیگر ممالک کو ترجیح دی۔

رضا شاہ کے 16 سالہ دورِ حکومت کو ایران کی "کایا پلٹ" کا دور سمجھا جاتا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد ایران کو ایک طاقتور، مرکزی، جدید قومی ریاست بنانا تھا۔ ان کی اہم کارنامے اور پالیسیاں یہ تھیں:

1. انہوں نے طاقتور قبائل اور علاقائی سرداروں کی خودمختاری ختم کر کے پورے ملک پر ایک مضبوط مرکزی حکومت کا کنٹرول قائم کیا۔

2. انہوں نے ملک بھر میں سڑکوں کا جال بچھایا اور "غیر ملکی قرضوں کے بغیر" ٹرانس ایرانی ریلوے جیسا عظیم الشان منصوبہ مکمل کروایا، جو خلیج فارس کو بحیرہ قزوین سے ملاتا تھا۔

3. بڑے پیمانے پر کارخانے قائم کیے گئے، جس سے صنعتی مزدور طبقہ وجود میں آیا۔

4. تعلیمی اور قانونی اصلاحات کی گئیں، جس کے تحت تہران یونیورسٹی سمیت جدید تعلیمی نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ سینکڑوں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ بھیجا گیا۔ مذہبی عدالتوں کے دائرہ کار کو محدود کر کے ایک جدید قانونی نظام نافذ کیا گیا۔

5. جدید طرز کے لباس (خاص طور پر مردوں کے لیے ہیٹ بجائے پگڑی/ٹوپی) کے حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1936 میں "کشف حجاب" کے قانون کے ذریعے خواتین کے سر ڈھانپنے پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے مذہبی طبقے میں شدید ناراضی پھیلی۔

6. 1935 میں عالمی برادری سے درخواست کی کہ ملک کو اس کے قدیمی نام "پرشیا" کے بجائے اس کے مقامی نام "ایران" سے پکارا جائے۔

7. انہوں نے برطانیہ اور سوویت یونین کی مداخلت سے بچنے کی کوشش کی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے جرمنی، فرانس اور اٹلی جیسے یورپی ممالک کی تکنیکی مدد حاصل کی۔

1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی۔ ایران کے لیے مسائل اس وقت پیدا ہوئے جب "جرمنی اور برطانیہ" دوسری جنگ عظیم میں ایک دوسرے کے دشمن بن کر آمنے سامنے آئے۔ رضا شاہ نے ایران کے غیر جانبدار ہونے کا اعلان کیا، لیکن برطانیہ اصرار کرتا رہا کہ ایران میں موجود جرمن انجینئرز اور تکنیکی ماہرین جاسوسی کر رہے ہیں، جن کا مقصد جنوب مغربی ایران میں برطانیہ کی تیل کی تنصیبات کو سبوتاژ کرنا ہے۔

برطانیہ نے تمام جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن رضا شاہ نے اس سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے تمام ترقیاتی منصوبوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ برطانیہ ایران کی ریلوے کو سوویت یونین کو فوجی سازوسامان پہنچانے کے محفوظ راستے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا تھا۔

جرمن شہریوں کو ملک بدر کرنے سے انکار پر، 1941 میں برطانیہ اور سوویت یونین نے ایران پر مشترکہ حملہ کر دیا۔ جنگ کے دوران، برطانیہ اور سوویت یونین کے اتحادی امریکہ نے بھی ریلوے لائنز کی دیکھ بھال اور اسے چلانے میں مدد کے لیے فوجی اہلکار بھیجے۔

برطانیہ اور سوویت یونین نے رضا شاہ کی حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے بادشاہت کے آئینی اختیارات محدود کر دیے۔ تاہم، اتحادیوں نے رضا شاہ کو مجبور کیا کہ وہ اپنے بیٹے محمد رضا پہلوی کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ لہذا 16 ستمبر 1941 کو انہوں نے تخت چھوڑ دیا۔

جلاوطنی اور وفات

انگریز دور میں رضا شاہ کو پہلے ماریشس اور پھر جوہانسبرگ، جنوبی افریقہ جلاوطن کر دیا گیا۔ جہاں ان کا انتقال 26 جولائی 1944 کو ہو گیا۔ ان کی باقیات کو مصر لے جایا گیا اور کچھ عرصے بعد ایران واپس لایا گیا، جہاں انہیں تہران کے قریب "رے" کے علاقے میں دفن کیا گیا۔ 1979 کے انقلاب کے بعد انقلابیوں نے یہ مقبرہ مسمار کر دیا۔

2018 میں تہران میں ایک مزار سے ایک حنوط شدہ لاش برآمد ہوئی، جس کے بارے میں سرکاری طور پر تصدیق کی گئی کہ یہ رضا شاہ پہلوی کی لاش ہے۔

رضا شاہ پہلوی کو اکثر "جدید ایران کا معمار" کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے ایران کو ایک بکھری ہوئی، نیم قبائلی ریاست سے ایک متحدہ مرکزی ریاست میں تبدیل کر دیا۔ ان کی تعمیراتی، صنعتی اور تعلیمی اصلاحات نے جدید ایران کی بنیاد رکھی۔

تاہم، انہیں ایک سخت گیر آمر کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے جمہوری اور سیاسی حقوق کو کچلا، میڈیا پر سخت سنسرشپ نافذ کی، اور مذہبی روایات پر زبردستی جدیدیت مسلط کی، جس کے اثرات دور رس تھے اور جنہوں نے بعد میں انقلاب کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

(ان کے بعد رضاشاہ پہلوی دوم کا دور شروع ہوتاہے، جس پر پھر بحث کریں گے) ۔

‏رتن ٹاٹا کا انتقال ہوگیا۔پسماندگان میں کوئی نہیں کیونکے انہوں شادی ہی نہیں کی کھربوں کی پراپرٹی بزنس سب ٹڑسٹ کےحوالے( ح...
16/01/2026

‏رتن ٹاٹا کا انتقال ہوگیا۔پسماندگان میں کوئی نہیں کیونکے انہوں شادی ہی نہیں کی کھربوں کی پراپرٹی بزنس سب ٹڑسٹ کےحوالے
( حقیقی خوشی )کبھی کبھی دوسروں سے بھی کچھ سیکھ لیا جائے توکیاحرج ہے
جب ہندوستانی ارب پتی رتن جی ٹاٹا سے ٹیلی فون پر انٹرویو میں ریڈیو پریزینٹر نے پوچھا:
"جناب آپ کو کیا یاد ہے جب آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ خوشی ملی"؟
رتن جی ٹاٹا نے کہا:
"میں زندگی میں خوشی کے چار مراحل سے گزر چکا ہوں، اور آخر کار میں نے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ لیا ہے۔"
پہلا مرحلہ دولت اور وسائل جمع کرنا تھا۔
لیکن اس مرحلے پر مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو میں چاہتا تھا۔
پھر قیمتی اشیاء اور اشیاء جمع کرنے کا دوسرا مرحلہ آیا۔
لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس چیز کا اثر بھی عارضی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک زیادہ دیر نہیں رہتی۔
پھر ایک بڑا پروجیکٹ حاصل کرنے کا تیسرا مرحلہ آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان اور افریقہ میں ڈیزل کی سپلائی کا 95% میرے پاس تھا۔
میں ہندوستان اور ایشیا کی سب سے بڑی اسٹیل فیکٹری کا مالک بھی تھا۔ لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں نے تصور کیا تھا۔
چوتھا مرحلہ تھا جب میرے ایک دوست نے مجھ سے کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیئر خریدنے کو کہا۔
تقریباً 200 بچے۔
ایک دوست کے کہنے پر میں نے فوراً وہیل چیئر خرید لی۔
لیکن دوست نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں اور وہیل چیئر بچوں کے حوالے کروں۔ میں تیار ہو کر اس کے ساتھ چلا گیا۔
وہاں میں نے ان بچوں کو یہ وہیل چیئر اپنے ہاتھوں سے دی۔ میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی ایک عجیب سی چمک دیکھی۔ میں نے ان سب کو وہیل چیئر پر بیٹھے، چلتے اور مزے کرتے دیکھا۔
ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی پکنک کے مقام پر پہنچ گئے ہوں، جہاں وہ جیتنے والا تحفہ بانٹ رہے ہوں۔
میں نے اپنے اندر حقیقی خوشی محسوس کی۔ جب میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو ایک بچے نے میری ٹانگ پکڑ لی۔
میں نے آہستہ آہستہ اپنی ٹانگیں چھوڑنے کی کوشش کی، لیکن بچے نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور میری ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لی، میں نے جھک کر بچے سے پوچھا: کیا تمہیں کچھ اور چاہیے؟
اس بچے نے جو جواب دیا اس نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ زندگی کے بارے میں میرا نظریہ بھی بدل دیا۔
اس بچے نے کہا:

"میں آپ کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہوں تاکہ جب میں آپ سے جنت میں ملوں تو میں آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کروں۔" منقول

عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟نشریاتی دنیا کی ایک معتبر آواز، عشرت فاطمہ، تقریباً 45 سال تک ریڈیو اور ٹیلی ویژن...
16/01/2026

عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟

نشریاتی دنیا کی ایک معتبر آواز، عشرت فاطمہ، تقریباً 45 سال تک ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستہ رہنے کے بعد خاموشی سے پسِ منظر میں چلی گئیں۔ وہ محض ایک خبر رساں نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے اپنے مخصوص لہجے اور درست تلفظ سے نشریات کو ایک اعلیٰ معیار عطا کیا۔

​عشرت فاطمہ نے ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں اپنی جذباتی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جس ادارے کو وہ اپنا گھر اور پہلی محبت سمجھتی تھیں، وہاں سے علیحدگی کا فیصلہ کتنا مشکل تھا۔ انہوں نے ادارے کے اندرونی ماحول پر بات کرتے ہوئے کہا:

​"جب آپ کسی کا مقابلہ کام سے نہیں کر سکتے، تو آپ نیگیٹیو طریقے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں اس کی زندگی ہی چھین لو، اس کی سانسیں ہی چھین لو، اس کے لیے وہ سپیس ہی ختم کر دو جہاں پر بیٹھ کر وہ کام کر رہا ہے۔"

​وہ طویل عرصے تک اس امید میں رہیں کہ شاید حالات بدلیں اور انہیں ایک 'لیجنڈ' کے طور پر وہ مقام ملے جس کی وہ حقدار تھیں، لیکن ان کے بقول انہیں مسلسل یہ احساس دلایا گیا کہ اب ان کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

​عشرت فاطمہ یہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں کہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں آج بھی مکمل طور پر برقرار ہیں، لیکن پھر بھی وہ گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کی سرد مہری کے بارے میں انہوں نے کہا:

​"ادارہ دراصل در و دیوار، مائیکس، کیمرے اور راہداریوں کا نام ہے، یہ محسوس نہیں کرتا، محبت نہیں کرتا۔ اگر یہ محسوس کر سکتا تو شاید مجھے روک لیتا، گلے لگا لیتا اور میں رک جاتی۔"

​ان کا ماننا ہے کہ بولنا اور الفاظ کے ذریعے سچ پہنچانا ان کے لیے محض نوکری نہیں بلکہ ایک جنون رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا:

​"بولنا، الفاظ سے کھیلنا اور آواز کے ذریعے لوگوں تک سچ پہنچانا میرے لیے محض روزگار نہیں بلکہ عشق رہا ہے۔"

عشرت فاطمہ کا تعلق ایک مہذب اور علمی گھرانے سے ہے۔ ان کے والد، شفقت حسین، قیامِ پاکستان کے وقت ہجرت کر کے آئے تھے۔ یہی تہذیب ان کی شخصیت کی سنجیدگی میں نظر آتی ہے۔

انہوں نے اسلام آباد سے اردو میں ایم اے کیا۔ 1983 میں ریڈیو اور ٹی وی سے کیریئر شروع کیا اور 1984 سے باقاعدہ خبریں پڑھنے کا آغاز کیا۔

ان کی شادی ثاقب باقری سے ہوئی، جن کا تعلق میڈیا سے نہیں ہے۔ ان کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ وہ اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رکھنے کی قائل رہی ہیں۔ لہذا ان کے نجی زندگی کے بارے میں ذیادہ معلومات دستیاب نہیں ہے۔

​اپنے دکھ کے باوجود، عشرت فاطمہ نے واضح کیا کہ وہ اداروں سے ناراض نہیں ہیں بلکہ انہیں اپنی "پہلی محبت اور پہلا عشق" سمجھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے چاہنے والوں سے دعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا:

​"میں اس دکھ سے گزر رہی ہوں اور دعا چاہتی ہوں کہ میری یہ محبت میرے لیے درد نہ بنے۔"

​وہ اب سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے سامعین سے رابطے میں رہنے اور اپنے تجربات شیئر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، تاکہ عوامی محبت کا یہ سلسلہ منقطع نہ ہو۔

15/01/2026

ہمارے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی صورتحال

15/01/2026

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Abdalian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share