13/12/2025
نورزئی قوم کے متفقہ اور بزرگ قبائلی رہنما حاجی آمین اللہ خان نورزئی کی رہائش گاہ پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ انتہائی قابلِ افسوس، قابلِ نفرت اور پوری نورزئی قوم سمیت تمام قبائل کی روایات پر کھلا حملہ ہے۔ یہ بزدلانہ کارروائی قبائلی اقدار، امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کو پامال کرنے کی ایک گھناؤنی سازش ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
صحافی صاحبزادہ عتیق اللہ خان نورزئی نے اپنے سخت الفاظ میں مذمتی بیان جاری کرتے ہو کہا کہ قبائلی سرداروں اور معززین کو نشانہ بنانا دراصل پورے قبیلے کو للکارنے کے مترادف ہے۔ قبائلی معاشرے میں ایسے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور اس سے دشمن قوتیں علاقے میں خوف، انتشار اور بدامنی پھیلانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ نورزئی قوم اور دیگر قبائل امن، رواداری اور قبائلی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں، مگر امن کو سبوتاژ کرنے والوں کے خلاف قبائلی سطح پر بھی متحد ہو کر آواز بلند کی جائے گی۔ ایسے عناصر قبائلی روایات، جرگہ سسٹم اور صدیوں پر محیط اقدار کے دشمن ہیں۔
صاحبزادہ عتیق اللہ خان نورزئی نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پُرزور مطالبہ ہے کہ واقعے کی فوری اور جامع تحقیقات کی جائیں، اصل ملزمان کو بے نقاب کر کے گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔ ساتھ ہی حاجی آمین اللہ خان نورزئی اور ان کے خاندان کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
آخر میں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قبائل امن کے محافظ ہیں اور قبائلی امن کو نقصان پہنچانے والی ہر سازش کو یکجہتی، اتحاد اور شعور کے ساتھ ناکام بنایا جائے گا۔