23/11/2025
ہٹ دھرمی برقرار🫣
پاکستانی میڈیا کی یکدم ایک جیسی ہیڈلائنز۔
“سرحد بندش سے افغانستان کی معیشت تباہ”
“افغان عوام پر شدید اثرات”
یہ بیانیہ خود بتا رہا ہے کہ اصل گھبراہٹ کس طرف ہے۔
اگر افغان مارکیٹ پاکستان کے لیے غیر اہم ہوتی، اگر افغانستان واقعی اتنا کمزور ہوتا کہ “بندش سے صرف وہی مر رہا ہے”، تو پھر آئی ایس پی آر کو پورے میڈیا کے ذریعے ایک ہی لائن کیوں بکھیرنی پڑی؟
افغانستان میں پہلے کون سا دودھ شہد بہہ رہا تھا؟
وہ ملک تو پہلے بھی بحران میں تھا۔
لیکن پاکستان کی پہلی بار ایک ارب ڈالر سالانہ کی برآمدی مارکیٹ بند ہوئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پورا پاکستانی میڈیا ایک دن میں ایک ہی کام کر رہا ہے, تاکہ عوام کو بتا سکے کہ ’’نقصان افغانستان کا ہے‘‘۔
مگر چند حقائق نظرانداز نہیں کیے جا سکتے:
• پاکستان کی ادویات، سیمنٹ، آٹا، مشروبات، موٹر سائیکل, موبائل، سرجیکل سامان کی سب سے بڑی غیر رسمی مارکیٹ افغانستان ہی ہے۔
• صرف ادویات کی افغان مارکیٹ روزانہ ایک ارب پاکستانی روپے کی ہے، جس کا 80 فیصد پشاور نمک منڈی سے جاتا تھا۔
• سرحد بندش سے پاکستانی تاجروں نے خود احتجاج شروع کیا, کیونکہ ٹرک ہزاروں کی تعداد میں کھڑے ہیں۔
• افغانستان نے متبادل مارکیٹیں پہلے ہی بنا لی ہیں — ایران، وسطی ایشیا، چین۔
• مگر پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ افغانستان پر ہی کھڑا ہے اور فوری متبادل موجود نہیں۔
اس لئے اس ایک جیسے میڈیا بیانیے سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اصل پریشانی کہاں ہے۔
اگر نقصان صرف افغانستان کا ہوتا،
تو پاکستان والے اتنی جلدی چیخ چیخ کر “افغان عوام مشکل میں” کا راگ نہ الاپتے