Press Clubs Association Balochistan

Press Clubs Association Balochistan Press Club Association Was Established on 19th September 2011 at Quetta.The Aim Of Association was To Unite The Press Clubs Working in Interrior Balochistan.

01/05/2021
پشین: بلوچستان پریس کلبز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند عرصے سے بعض سوشل میڈیا ایکٹوسٹ...
28/04/2021

پشین: بلوچستان پریس کلبز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند عرصے سے بعض سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اپنے آپ کو ہر جگہ صحافی یا رپورٹر ظاہر کررہے ہیں حالانکہ مذکورہ افراد کا صحافت اور رپورٹنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا پر آئی ڈی یا پیج چلانے والے صحافی بن سکتا ہے، صحافت کیلئے بنیادی معیار پر پورا اترنے کے علاوہ ان کا کسی الیکٹرونک یا پرنٹ میڈیا سمیت نیوز ایجنسی یا اخبار کے ساتھ منسلک ہونا ضروری ہے لہذا تمام سرکاری ادارے ,سیاسی جماعتیں لیبر تنظمیں سمیت سول سوسائٹی کو اطلاع دی جاتی ہے کہ صوبہ بھر میں جو صحافی ہے وہ سب کو معلوم ہے صحافت جیسے مقدس پیشے سے سوشل میڈیا کے افراد کو منسلک نہ کیا جائے
منجانب: پریس کلبز ایسوسی ایشن آف بلوچستان۔

  #تحریر: سید فضل آغا اب ہم میں نہیں رہے، لیکن آپ کی شخصیت، سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمت برسوں لوگوں کے آذہان پر منقش رہے...
21/05/2020


#تحریر:
سید فضل آغا اب ہم میں نہیں رہے، لیکن آپ کی شخصیت، سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمت برسوں لوگوں کے آذہان پر منقش رہے گا، سیاسی نظریہ سے بالاتر ملک کے اقتدار اعلی کے انتہائی اہم عہدوں پر رہ کر بھی آپ انتہائی دوراندیش،اپنے حلقہ احباب میں ہردل عزیز اور ایک عہد ساز شخصیت ہی نہیں، بلکہ علاقے میں اثرروسوخ رکھنے والے ایک سماجی رہنماء بھی تھے۔ علاقے میں وقوع پزیر ہونے والے ناموافق حالات کو درست سمت دینے، اور علاقائی سطح پر پیدا ہونے والے تنازعات کو بڑے احسن طریقے سے نمٹانے میں اِن کا کردار ہمیشہ سے قابل تحسین رہا۔ یہی نہیں بلکہ تنازعات کے فریقین میں مستقل صلح کرانے میں بھی اپ پیش پیش ہوتے رہے ہیں۔ اور علاقے میں قیام امن تک کی بحالی میں اِن کا کردار ہمیشہ اہم رہا۔ چند جملوں میں آپ کی شخصیت کا احاطہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
سید فضل آغا 1946 میں ضلع پشین کے تحصیل حرمزئی کے کلی حاجیزئی سیدان کے ایک معتبر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ان کے والد گرامی سید حاجی عبدالغنی ایک صوفی منش اور علاقے کے معتبر شخصیت تھے۔ ۔جس دور میں آپ نے آنکھ کھولی اُس دور میں تعلیم کا رواج عام نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود آپ نے ابتدائی تعلیم پشین اور کوئٹہ سے تکمیل کے بعد گریجویشن پشاور انجینئرنگ یونیورسٹی سے مکمل کرکے محکمہ موصلات میں ایگزیکٹیو انجنئیر (ایکسئین) تعینات رہے، بعد میں استعفی دیکر خارزار سیاست میں قدم رکھا۔ پیشہ ورانہ طور پر آپ انجینئر تھے لیکن سیاست کے میدان میں بھی آپ نے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنا لوہا منوایا۔ سیاست کے لئے درکار لوازمات آپ میں بہ درجہ اتم موجود تھیں۔یہی وجہ ہے کہ ملکی سیاست میں انکا کردار ہمیشہ اہم رہا، متعدد بار مختلف سطحوں پر امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترتے رہے۔ 1988 میں پہلی مرتبہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہونے کے بعد سینٹ کے ڈپٹی چئیرمین منتخب ہوئے، اور 1991 تک اس عہدے پر قائم رہے، 1993 میں بھی مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر میدان مارکر سینیٹر منتخب ہوئے، 1997 میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے معاون خصوصی رہے، بعدازاں اگست 1999 میں گورنر بلوچستان مقرر کئے گئے اور جنرل مشرف کی ایمرجنسی کے نفاذ تک اس عہدے پر برقرار رہے، اس کے بعد بھی علاقے کے عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا، اور ہر عوامی عہدے پر رہ کر علاقے کے عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنایا، اس دوران آپ نے جمیعت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کرلی، اور اپنی جماعت کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے، جولائی 2018 کے انتخابات میں پی بی 20 پشین تھری سے جمیعت علماء اسلام کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ آپ اپنے ہر دور میں آپ ضلع پشین بھر میں ترقیاتی کام کرانے میں پیش پیش رہے ہیں۔
اسلامی تاریخ، سیاست اور پشتون سماج کی کتابوں کا اپ نے باریک بینی سے مطالعہ کیا تھا ۔جنوبی ایشیاء اور بالخصوص پاکستان کی تاریخ پر اپکے پاس بیش بہا معلومات تھیں ،گھر میں فراغت کے لمحات مطالعے میں گزارتے تھے۔اخبار پڑھنا انکا پسندیدہ مشغلہ رہا ،سیاست پر بحث و مباحثہ ہمیشہ سے ان کا موضوع گفتگو رہا ہے ، کیونکہ اپ ایک دوراندیش سیاست دان ہونے کے علاوہ ایک عوامی شخصیت بھی تھے، صوم و صلوات کی انتہائی پابند شخصیت تھے اکثر اوقات عام دنوں میں بھی روزہ رکھتے تھے، ملک کے طول و عرض میں اپ نے ہمیشہ غریب اور نادار لوگوں پر دست شفقت رکھتے ہوئے مصیبت ذده لوگوں کی دل کھول کر مدد کی۔ ان اوصاف کی بدولت ان کے سیاسی مخالفین نے بھی کبھی ان کے کردار پر انگلی نہیں اٹھائی، آپ کی بے وقت موت نے نہ صرف ضلع پشین بلکہ پورے ملک کے عوام کو بھی غمزدہ کردیا اور وہ ایک اچھے، باکردار، مخلص اور اصول پسند لیڈرسے محروم ہو گئے مرحوم کا خلاء کبھی پر نہیں ہوگا ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ آپ کی صداقت، شرافت، ملنساری ، قناعت، طبیعت میں سادگی آپ کی زندگی کے قیمتی اثاثے تھے آپ کے گھر کے دروازے ہر حاجت مند،مظلوم اور اپنی جماعت کے ورکروں کیلئے کھلا تھا جو بات کرتے اسے پورا کرتھے راقم کا مرحوم کے ساتھ تعلق گزشتہ کئ عرصے سے تھا ان میں جو اوصاف تھے وہ بہت کم لیڈروں میں پائے جاتے ہیں، آپ وعدے کے پکے تھے صحیح بات ہرکسی کے منہ پر کہتے تھے اسی وجہ سے ہر آدمی ان کا گرویدہ بن جاتا۔
10 مئی کو رمضان المبارک میں ان کی طبیعت کچھ ناساز ہوئی اور کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں داخل کئے گئے، لیکن چند دن بعد آپ کی طبیعت سنبھل کر دوباہ بگڑ گئی، 20 مئی کو وہ داعی اجل کو لبیک کہہ کر اِس دارِفانی سے کوچ کر گئے۔۔۔
(انا للہ وانا الیہ راجعون)۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، اور پسماندگان کو صبروجمیل عطا فرمائیں۔ آمین!
Salar Khan Durrani

  #رپورٹ: آج 3 مئی ہے، دنیا بھر میں آزادی صحافت کا دن منایا جارہا ہے، 3 مئی کو عالمی یوم آزادیٔ صحافت کے طور پر منانے ک...
03/05/2020



#رپورٹ:

آج 3 مئی ہے، دنیا بھر میں آزادی صحافت کا دن منایا جارہا ہے، 3 مئی کو عالمی یوم آزادیٔ صحافت کے طور پر منانے کی روایت گزشتہ کئی برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عالمی سطح پر صحافتی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات کا حصول بھی ہے جس میں آزادی صحافت میں پیش آنے والی مشکلات اور رکاوٹوں کا سدباب بھی کیا جا سکے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1991 ء میں نیمبیا سے ہوا جبکہ اقوام متحدہ نے 3 مئی 1993 ء کو باقاعدہ طور پر آزادی صحافت کا عالمی دن منانے کااعلان کیا اس دن تمام دنیا کی صحافتی برادری اس بات کا تجدید عہد کرتی ہے کہ کسی بھی پرتشدد عناصر یا ریاستی دباؤ کے بغیر آزاد سچی اور ذمہ دارانہ اطلاعات عوام تک پہنچنے کیلئے لڑتے رہیں گے ۔ اس دن تمام صحافی اپنے پیشہ وارانہ فرائض کو پوری ایمانداری اور حق گوئی و بے باکی کے ساتھ جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہیں صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس صحافیوں کے قتل میں سب سے زیادہ متاثر شام رہا اسکے بعد میکسیکو پھر افغانستان اور عراق کا نمبر آتا ہے۔ دنیا بھر میں آزادی صحافت کیلئے صحافیوں کی قربانیاں لازوال ہیں۔ پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی صحافی ایک طویل عرصے سے اپنی آزادی کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں انکی قربانیوں کی ایک ناقابل فراموش تاریخ ہے ۔ آمریت کے دور میں صحافیوں کو بے پناہ اذیت و تشدد کا نشانہ بنایا گیا ‘ان پر کوڑے تک برسائے گئے‘ جبکہ سول حکمرانوں کے دور میں بھی اخبار اور چینلز کو مالی مشکلات سے دوچار کیا گیا ‘ ان کے اشتہارات بند کر دئیے گئے اور انکی ادائیگیوں کو روک لیا گیا‘ ان میں تاخیری حربے استعمال کئے گئے۔ اس بات سے قطعی انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ عہد حاضر میں اخبارات اور ٹیلی ویژن نے جس طرح ہر گھر میں اپنی جگہ بنا لی ہے، اس سے اس کی روز بروز بڑھتی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اسی مقبولیت، اہمیت اور افادیت کے پیش نظر آج کے دن کو اقوام متحدہ نے صحافت اورآزادیٔ صحافت کے لئے مخصوص کیا ہے۔
صحافت ، خواہ جس زبان کی ہو ، اس کی اہمیت اور افادیت کو ہر زمانہ میں تسلیم کیا گیا ہے۔ ہماری سماجی، سیاسی، معاشرتی، تہذیبی اوراقتصادی زندگی پر جس شدّت کے ساتھ اس کے اثرات مثبت اورمنفی دونوں طریقے سے اثرانداز ہوتے ہیں ۔اس کا بہر حال اعتراف تو کرنا ہی ہوگا۔صحافت ترسیل وابلاغ کا اتنا مؤثراور طاقتور ذریعہ ہے اورواقعات حاضرہ کی معلومات بہم پہنچانے کااتنا بہتر وسیلہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے سماجی پیشوا، سیاسی رہنما اور مشاہیرادب نے نہ صرف اس کی بھرپور طاقت کے سامنے سر تسلیم خم کیا بلکہ اپنے افکار واظہار کی تشہیر کے لیے صحافت سے منسلک بھی رہے ، تاریخ شاہد ہے کہ صحافت نے کتنے ہی ملکوں کے تختے پلٹ دیئے، بڑے بڑے انقلابات کوجنم دیا، اورظالم حکمرانوں کے دانت کھٹّے کردیے۔ عالمی پیمانہ پر ایسے کئی مقام آئے، جب صحافت کی بے پناہ طاقت، اس کی عوامی مقبولیت اوراس کی تنقید سے خوف زدہ ہوکر اس پرپابندیاں عائد کی گئیں۔ صحافت نے جیسے جیسے ترقی کی ، ویسے ویسے عوام کومتوجہ کرانے میں بھی کامیاب ہوتی گئی ۔ اس طرح صحافت انسانی زندگی کا ایک حصہ بن گئی۔ لیکن جب سے صحافت پر سیاست حاوی ہونے لگی اور دنیا کے بڑے بڑے صنعت کار ، دولت مند اور بعض ممالک کی حکومتیں، صحافت کی بے پناہ طاقت کا اپنے مفاد میں استعمال کرنے لگیں ،تب ایسے حالات سے متاثر ہو کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1991 ء کے اپنے 26ویں اجلاس میں منظور قرارداد کو نافذکرتے ہوئے 1993ء سے ہر سال 3 ؍ مئی کو عالمی سطح پر یوم آزادیٔ صحافت کے انعقاد کا فیصلہ کیا ۔ جس کے تحت صحافتی تحریروں پر پابندی لگانے، انھیں سنسر کرنے، جرمانہ عائد کرنے نیز صحافیوں کو زدوکوب کئے جانے ، ان پر جان لیوا حملہ کئے جانے ، انھیں اغوأ کئے جانے اور انھیں بے دردی سے قتل کئے جانے پر غور و فکر کرنے اور ان کے سدّباب کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایسے حالات سے نپٹنے ، حکمت عملی تیار کئے جانے اورحکومت وقت کو انتباہ کئے جانے پر زور دیا گیا ہے۔
یونیسکو نے ایسے مقامی اور عالمی سطح کے اداروں ، شعبوں ، این جی اوز وغیرہ کوصحافتی حفاظت ، آزادیٔ صحافت اور ترقی ٔ صحافت کے لئے مثبت اقدام اور اس ضمن میں غیرمعمومی خدمات کے لئے 1997 ء سے چودہ آزاد صحافیوں کی جیوری سمیت یونیسکو کے اسٹیٹ ممبران کی سفارش پر کولمبیا کے ایک اخبار El Espectador کے مقتول صحافی Guillermo cano isaza جو کہ 17 ؍دسمبر1986 ء کو کولمبیا کے ایک بہت بڑے اور دولت مندصنعت کار کے خلاف لکھنے کی پاداش میں ہلاک کر دیا گیا تھا ، ان کے نام پر ایک باوقار ایوارڈ کا فیصلہ کیا گیا ، تاکہ نہ صرف جمہوریت کا استحکام اور اس کا افادیت کا دائرہ وسیع ہوبلکہ مفاد عامّہ کے لئے صحافت اور صحافتی خدمات پر معمور صحافیوں کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کیا جائے کہ کس طرح نامساعد حالات میں عوامی مفاد کے لئے رائے عامّہ تیار کرتے ہیں ۔
اس کے لئے 1 مئی سے3 مئی 2011 ء میں امریکہ کے واشنگٹن شہر میں عالمی یوم آزادیٔ صحافت کا جلسہ بڑے پیمانہ پرمنعقدکیا گیا اور اس موقع پر اکیسویں صدی کے میڈیا اور اس کی بنیادی آزادی پر کئی ممالک کے مندوبین نے بحث و مباحثہ میں حصّہ لیا تھا ۔
لیکن افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان تمام کوششوں کے باوجود دنیا کے بیشتر ممالک میں آزادیٔ صحافت پر پہرے بٹھائے جانے ، صحافیوں پر پُر تشدّد حملے اور قتل کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں ۔ امریکی فریڈم ہاؤس کی جانب سے جاری ایک جائزہ کے مطابق گزشتہ سال 70 ممالک میں صحافتی آزادی ، 61 ممالک میں جزوی طور پر اور 64 ممالک میں آزادیٔ صحافت پر مکمل پابندی رہی۔ سوویت یونین ، مشرق وسطیٰ اورشمالی افریقہ میں صحافت کی آزادی سلب رہی ، جبکہ اسرائیل ، اٹلی اور ہانگ کانگ میں ایران ، لیبیا، شمالی کوریا ، میانمار، روانڈا اور ترکماستان وغیرہ میں صحافت ،اپنی آزادی کے لئے کراہتی رہی۔
آزادیٔ صحافت کو جس طرح مختلف مما لک میں سلب کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور آئے دن جس طرح صحافیوں کو یرغمال بنا کر اور پھر انھیں جس بے دردی سے ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے ۔
اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اظہار رائے کی آزادی اور انسانی حقوق کے الفاظ معاصر منظر نامے میں بے معنی اور بے وقعت ہوتے جا رہے ہیں ۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے ، لیکن قلم اور کیمرے کو جس طرح جبر و تشدّد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اورآزادیٔ صحافت اور اس کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جارہی ہیں وہ بہت ہی تشویشناک ہے۔ آج صورت حال یہ ہے کہ میڈیا پر ہی یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ میڈیا ،حکومت پر مثبت تنقید کے بجائے الزام تراشیاں کر رہا ہے، جس کے باعث جمہوریت کمزور پڑ رہی ہے اور حکومت غلط راہوں پر جانے پر مجبور ہو رہی ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت اور اس کے استحکام ، جمہوری اقدار کے فروغ اور سماج کا رخ موڑنے میں صحافت نے جو رول ادا کیا ہے ، انھیں فرا موش نہیں کیا جا سکتا ہے ۔لیکن الزام تراشی کے گرم بازار کا ذکر کرنے والے خود صحافت پر کس قدر اوچھے اور نازیبا الزمات لگا رہے ہیں ، وہ اسے بھول جاتے ہیں کہ بعض عناصر صحافت کے سارے اصولوں کو ختم کرتے ہوئے حکومت کی ہر طرح کی مدح سرائی اور ستائش کرنا ہی ان کی نگاہ میں صحافت ہے۔اس طرح کی میڈیا نے صحافت کی ساری شاندار روایات اور خصوصیات کو ختم کر دیے ہیں۔سنسنی خیز سرخیاں اور بریکنگ نیوز بنانے کے لئے بے بنیاد اور جھوٹی خبر بنانے سے بھی یہ نہیں چوکتے۔اس سلسلے میں اس وقت چند با اصول اور صحافت کی صداقت پر یقین رکھنے والوں کے درمیان یہی موضوع زیر بحث ہے۔ آزادی صحافت کا مطلب یہ قطعا نہیں ہے کہ صحافت کی آڑ میں معاشرے میں بد امنی پھیلائی جائے اور حکومت وقت، کسی خاص پارٹی یا گروہ کے خاص ایجنڈے کو پورا کرنے کا وہ حصہ بنیں ۔
لیکن ان سب کے باوجود یہ آمر خوش آئند ہے کہ جہاں آج بھی دنیا کے بیشتر ممالک جہاں صحافت، صارفیت کے چنگل میں کراہ رہی ہے، وہاں پھر بھی کچھ واقعات کو چھوڑ کرصحافی اپنی پوری ذمّہ داری ، غیر جانب داری ، بے باکی ، بلند حوصلہ اور جرأت مندی کے ساتھ جمہوریت اور اس کے استحکام کے ساتھ ساتھ انسانی اقدارو افکار کے لئے اپنے فرائض کو پوری ذمّہ داریوں کے ساتھ انجام دے رہے ہیں ۔ ایسے جرأت مند اور بے باک صحافیوں کی موجودگی میں یقینی طور پر صحافت کی جو اعلیٰ قدریں ہیں ، وہ پامال نہیں ہونگیں اور ایسے کچھ صحافی جو وقتی منعفت کے لئے بِک جاتے ہیں ، وہ بھی صحافت کو تجارت تصور کرنے کی بجائے عبادت کا درجہ دینگے۔آج کے یوم آزادیٔ صحافت کے موقع پر ایسا محاسبہ ضرور ہونا چاہئے۔
Salar Khan Durrani

پشین: پاکستان مسلم لیگ ن پشین کے ضلعی صدر سعداللہ خان ترین پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر میاں محمد شہباز شریف کی جانب ...
20/04/2020

پشین: پاکستان مسلم لیگ ن پشین کے ضلعی صدر سعداللہ خان ترین پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی صدر میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے پشین پریس کلب کے صحافیوں میں کورونا حفاظتی کٹس کی تقسیم کررہے ہیں۔

05/09/2015
13/08/2015

Pishin Press Club (Regd) Pishin
Opp.Afghan Market Near Machan High School Bund Road Pishin
Ph: 0826-

29/08/2014

Press Club Association Was Established on 19th September 2011 at Quetta.The Aim Of Association was To Unite The Press Clubs Working in Interrior Balochistan.

Address

Main Shra-e-Liaqat Quetta
Quetta
86600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Press Clubs Association Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Press Clubs Association Balochistan:

Share