05/06/2025
ہمارا پیارا سریاب
تحریر: خلیل احمد قلندرانی
930 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ بلوچستان کے عوام کو جواب دو!
کلی محمد شہی، کلی چلتن، کمالو گلی، سریاب مل کالونی، گاہی خان چوک، کسٹم، مینگل آباد، ہزار گنجی، مشرقی بائی پاس— یہ وہ علاقے ہیں جہاں آج بھی بجلی، گیس، پانی، صحت اور صفائی کی بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔
رات 12 بجے بجلی جاتی ہے، اگلے دن 12 بجے آتی ہے۔
گیس رات 10 بجے بند ہوتی ہے اور صبح آتی ہے۔
سریاب مل کالونی کے ٹیوب ویل خراب ہیں، پانی کا کوئی انتظام نہیں۔
سات سال سے سریاب روڈ کا کام ادھورا پڑا ہے۔
گاہی خان چوک پر ہر روز ٹریفک جام رہتا ہے۔
صفائی کا حال
گندگی کے ڈیرے ہر جگہ ہیں، صفائی کا کوئی انتظام نہیں۔
بارش ہوتے ہی گلیاں پانی کی ندیوں میں بدل جاتی ہیں، گندا پانی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔
یہی نہیں، بچوں کی چوری کی وارداتیں بڑھتی جا رہی ہیں، عوام خوفزدہ ہیں۔
سوال یہی ہے:
اتنا بڑا بجٹ — 930 ارب روپے — کہاں گئے؟
کیا یہ پیسے صرف رپورٹس اور کاغذوں پر خرچ ہوئے؟
کیا یہ بجٹ صرف حکومتی اہلکاروں کی جیبیں بھرنے کے لیے تھا؟
حکومت صرف وعدے کرتی ہے، مگر عمل کی کوئی صورت نہیں۔
روزانہ کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور حکومتی ادارے ناکام نظر آ رہے ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں، تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہیں، سڑکیں خراب ہیں، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نے زندگی کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے۔
کیا یہ وہی حکومت ہے جو عوام کی خدمت کا دعویٰ کرتی ہے
ہم واضح اور سخت الفاظ میں مطالبہ کرتے ہیں کہ:
930 ارب روپے کا مکمل حساب عوام کے سامنے لایا جائے۔
ان تمام علاقوں میں فوری بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
عوام کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی انتظامات بہتر بنائے جائیں
آخر میں
یہ ہمارا حق ہے، ہمارا مستقبل، ہمارا سریاب
!