Struggle News

Call Website Contact the business

Struggle News STRUGGLE NEWS aims to keep its followers updated with all the Local, National and the International News, Views and Issues.

01/09/2026

نیشنل پارٹی کے احتجاج میں بھرپور شرکت پر عوام، کارکنوں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور صحافیوں کا شکریہ — اسد غنی بلوچ

نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن اسد غنی بلوچ نے حب میں بجلی کے سنگین بحران کے خلاف نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت پر حب کے غیور عوام، پارٹی کارکنان، مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے احتجاج کی بہترین کوریج پر صحافی برادری اور میڈیا نمائندگان کا بھی خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی یہ بھرپور شرکت اتحاد اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کے عزم کا مظہر ہے۔

30/08/2026


24 اور 48 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے خلاف منگل کو بھرپور احتجاج ہوگا، عوام و تاجر برادری شرکت کریں، صدر نیشنل پارٹی ضلع حب عبدالغنی رند

نیشنل پارٹی ضلع حب کے صدر عبدالغنی رند نے کہا ہے کہ حب، ساکران، گڈانی، پیرکس اور ملحقہ علاقوں میں 24 سے 48 گھنٹوں کی طویل لوڈشیڈنگ نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ انتظامیہ کی یقین دہانی کے باوجود بجلی بحران کے حل کے لیے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی طویل لوڈشیڈنگ اور عوام دشمن رویے کے خلاف نیشنل پارٹی منگل کو صبح 11 بجے لسبیلہ پریس کلب سے احتجاجی ریلی نکالے گی، جو حب شہر سے ہوتی ہوئی سوک سینٹر پہنچے گی، جہاں کے الیکٹرک دفتر کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

عبدالغنی رند نے حب کے عوام، تاجر برادری اور کے الیکٹرک متاثرین سے احتجاجی ریلی میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بجلی، پانی اور گیس جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے نیشنل پارٹی ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔

29/08/2026

کھڈکوچہ مستونگ میں عوام کو گھروں، باغات اور تیار فصلوں سے بے دخل کرنا سنگین انسانی و معاشی بحران کو جنم دے گا، اسد غنی بلوچ

حب/کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے رکن اسد غنی بلوچ نے کھڈکوچہ مستونگ میں شہری آبادی کو گھروں، تیار فصلوں، باغات اور کاروبار سے بے دخل کرنے کے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی علاقے کی پوری آبادی کو بدامنی اور کشیدگی کا ذمہ دار قرار دے کر اجتماعی مشکلات سے دوچار کرنا نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے دور رس سماجی، معاشی اور نفسیاتی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ کھڈکوچہ ایک گنجان آباد اور سرسبز و شاداب وادی ہے جہاں ہزاروں خاندان نسلوں سے آباد ہیں اور اپنی محنت سے زراعت اور باغبانی کے ذریعے نہ صرف اپنے خاندانوں کا روزگار چلاتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ طویل عرصے سے جاری کشیدگی، جھڑپوں اور کرفیو کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ ٹیوب ویلز کی بندش سے قیمتی باغات اور فصلیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ کاروباری سرگرمیاں محدود اور ہزاروں افراد معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

اسد غنی بلوچ نے کہا کہ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال بچوں کی تعلیم کے حوالے سے ہے۔ مسلسل تعلیمی تعطل اور اسکولوں کی بندش سے ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔ اگر لوگوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کیا گیا تو اس کے نتیجے میں صرف ایک عارضی نقل مکانی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورا سماجی ڈھانچہ متاثر ہوگا، جس میں بچوں کی تعلیم، روزگار، زراعت، صحت اور خاندانوں کا مستقبل براہِ راست شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ کسی علاقے کے عام شہریوں کو محض اس بنیاد پر مشکوک سمجھنا کہ وہاں سکیورٹی کی صورتحال خراب ہے، اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔ ریاست کو یہ فرق واضح طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ عام شہری، مسلح عناصر اور کسی بھی قسم کے جرائم میں ملوث افراد ایک ہی درجے میں نہیں آتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھڈکوچہ کے عوام کو بے یقینی، خوف اور معاشی تباہی کے بجائے تحفظ، تعلیم، صحت اور روزگار کی ضرورت ہے۔ حکومت کو فوری طور پر زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے متاثرہ آبادی کے ساتھ انسانی اور جمہوری رویہ اختیار کرنا چاہیے، گھروں سے بے دخلی کے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہیے اور شہریوں کے جان و مال، فصلوں، باغات اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔

اسد غنی بلوچ نے کہا کہ مسائل کا مستقل حل طاقت، خوف اور اجتماعی پابندیوں میں نہیں بلکہ سیاسی تدبر، مکالمے، قانون کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق کے احترام میں مضمر ہے۔ حکومت اگر بروقت اقدامات نہیں کرتی تو کھڈکوچہ کے عوام کو درپیش موجودہ بحران مزید گہرا ہوکر ایک بڑے انسانی، سماجی اور معاشی المیے کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔

21/07/2026

حب ( )بلوچستان کے شاہراہوں اور حب ،کراچی کے سنگم پر قائم وفاقی و صوبائی اداروں کے چیک پوسٹوں پر عوام اور ٹرانسپورٹرز کو بلا جواز تنگ کرنے کا سلسلہ تھم نہ سکا چیکنگ کے نام پر عوام کی تذلیل کا کوئی کثر نہیں چھوڑاجاتا بلوچستان سے آنے والی ٹرانسپورٹ بلخصوص مسافر بردار گاڑیوں کو مختلف چیک پوسٹوں پر چیک کیاجاتا ہے وندر و ناکہ کھاڑی اور حب وکراچی کے سنگم پر قائم کوسٹ گارڈز،کسٹمز ،پولیس سمیت رینجرز کا چیکنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا اگر بلوچستان کے عوام و ٹرانسپورٹرز کا تذلیل کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو معاملے کو ایوان سینٹ میں اٹھائیں گے ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و سینیٹر جان بلیدی اور نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر برائے بلوچستان وڈیرہ رجب علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے کیا انھوں نے کہا کہ سندھ وبلوچستان شاہراہ پر قائم وفاقی اور صوبائی اداروں کی مختلف چیک پوسٹوں پر عوام اور ٹرانسپورٹرز کو بلاجواز تنگ کیا جا رہا ہے،جبکہ چیکنگ کے نام پر عوام کی تذلیل معمول بن چکی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں سینیٹر جان بلیدی اور وڈیرہ رجب علی رند نے مزید کہا کہ بلوچستان سے سندھ آنے والی مسافر بردار اور مال بردار گاڑیوں کی پہلے ہی بلوچستان کے مختلف مقامات پر چیکنگ کی جاتی ہے اس کے باوجود وندر، ناکہ کھاڑی اور سندھ بلوچستان کی سرحد پر قائم کوسٹ گارڈز، کسٹمز، پولیس اور رینجرز کی جانب سے بار بار چیکنگ کا کوئی جواز نہیں بنتاانھوں نے کہا کہ متعدد چیک پوسٹوں پر ایک ہی گاڑی کو بارہا روک کر مسافروں کو گھنٹوں انتظار کرایا جاتا ہے جس سے نہ صرف عوام کو شدید ذہنی اذیت پہنچتی ہے بلکہ ٹرانسپورٹرز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے انھوں نے کہا کہ اگر بلوچستان کے عوام اور ٹرانسپورٹرز کی کسٹمز ،پولیس ،رینجرز چیک پوسٹوں پر تذلیل اور ہراسانی کا سلسلہ بند نہیں کیا گیا تو نیشنل پارٹی اس معاملے کو سینیٹ کے ایوان میں اٹھائے گی انھوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی اپنے عوام کے حقوق کیلئے ہر فورم پر موثر آواز اٹھائے گی ۔

Address

Rind Muhallah, Allahabad Town, Hub, Lasbela, Balochistan
Quetta
90250

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Struggle News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Struggle News:

Shortcuts

Share