15/04/2026
میر محمد اشرف مینگل/میر جمیل آحمد مینگل
، جو کبھی نیکی، بھلائی اور خیر خواہی کا بہترین نمونہ اور استعارہ ہوا کرتے تھے ان کے گھرانے کے فیض سے علاقہ داران مستفید ہوتے رہے اس گھرانے کا مہمان خانہ کبھی امن و آشتی کا سرچشمہ اور پیغامبر ہوا کرتا تھا۔
اس خاندان کے اکابرین علاقے میں جاری تنازعات کے خاتمے، امن و بھائی چارے کے فروغ اور احیا کے لیے اپنی بے لوث خدمات پیش کرتے رہے۔ یہ تاریخ کا ایک سنہرا باب تھا یہ وہی گھرانہ تھا جو کبھی امن کا سفیر سمجھا جاتا تھا، جس کی چوکھٹ سے ہمیشہ اخوت، مساوات، ایثار اور ہمدردی کا درس ملتا تھا اس گھرانے کی عظمت پر علاقہ داران رشک کیا کرتے تھے۔
مگر شاید اس عظیم اور مثالی گھرانے کو کسی کی نظر لگ گئی ہے۔ حالات کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج یہی گھرانہ گھریلو ناچاقیوں، اندرونی سازشوں، انارکی اور نااتفاقی کا شکار ہو چکا ہے، وہ بھائی جو کبھی ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے تھے، آج ایک دوسرے کے جانی دشمن بن چکے ہیں۔ان کی اس خانہ جنگی کے نتیجے میں جو جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے، وہ نہایت قابلِ عبرت ہے۔
سردار اختر جان مینگل سے گزارش ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور ان بھائیوں کے درمیان صلح کروا کر اس گھرانے کو دوبارہ امن، اتفاق اور بھائی چارے کی راہ پر گامزن کریں۔