Daily Gerowk Balochistan

Daily Gerowk Balochistan Daily Gerowk is Baloch National Spokesman News Paper Impartial in its News,Analysis And Balochi Language Poetry Fiction Is Published

ڈی ایس پی سوراب کی جانب سے پر امن شہریوں کو بلا جواز نوٹس دینے کی مذمت کرتے ہیں عوامی حلقے سوراب ، سوراب کے عوامی حلقوں ...
04/03/2026

ڈی ایس پی سوراب کی جانب سے پر امن شہریوں کو بلا جواز نوٹس دینے کی مذمت کرتے ہیں عوامی حلقے

سوراب ، سوراب کے عوامی حلقوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرپٹ ڈی ایس پی
سوراب نے اپنے کرپشن چھپانے کے لیے معززین کو بلیک میل کرکے اپنا کرپشن چھپانا چاہتا ہے انہوں نے الزام عائد کی ہے کہ کرپٹ ڈی ایس پی بھتہ خوری و دیگر اہم جرائم میں ملوث ہے موصوف کے تمام تر ثبوت جلد سوشل میڈیا پر وائرل کردی جائیں گےموصوف نے روڈ پر اپنے کارندے بٹاکر لوگوں سے زبردستی بھتہ وصول کر رہا ہے موصوف کو متنبہ کرتے ہیں کہ سوراب ایک قبائلی علاقہ ہے یہاں کے لوگ ایسے عزائم کو انتقام سمجھتے ہیں ، اور ایک کرپٹ ڈی ایس پی کی بلیک میلنگ میں کسی صورت نہیں آئیں گے موصوف کے کرپشن پکڑنے پر انہیں آئینہ دکھایا گیا تو موصوف نے معززین کو نوٹس جاری کی ہے جس کی جتنی بھی مزمت کی جائیں کم ہے

لیویز کو ناکارہ کہنے والی حکومت کا U-turn ڈیرہ بگٹی میں بھرتیاں غیر منطقی فیصلہ ہے: میر نعمان جان لہڑیکوئٹہ (اسٹاف رپورٹ...
17/11/2025

لیویز کو ناکارہ کہنے والی حکومت کا U-turn ڈیرہ بگٹی میں بھرتیاں غیر منطقی فیصلہ ہے: میر نعمان جان لہڑی

کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)سیاسی و قبائلی رہنما حاجی میر نعمان جان لہڑی نے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے اُس بیان کو تناقض اور انتظامی ناکامی قرار دیا ہے جس میں ڈیرہ بگٹی میں لیویز فورس میں نئی بھرتیوں کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ صوبے کے دیگر تمام اضلاع میں لیویز فورس کو ناکارہ قرار دے کر پولیس میں ضم کردیا گیا تھاحاجی میر نعمان جان لہڑی نے وزیرِ اعلیٰ پہلے پوری فورس کو ناکارہ اور نااہل قرار دے کر ختم کرتے ہیں پھر اچانک ڈیرہ بگٹی میں اسی فورس میں بھرتیوں کا اعلان کرتے ہیں اگر لیویز فورس واقعی ناقابلِ اعتماد تھی تو ڈیرہ بگٹی اس سے مستثنیٰ کیوں ہے؟ کیا ڈیرہ بگٹی کوئی الگ صوبہ ہے؟لیویز فورس صدیوں سے قبائلی علاقوں میں امن و امان کی ضامن رہی ہے جبکہ وزیرِ اعلیٰ کے بیانات نے نہ صرف فورس کا مورال گرایا بلکہ پورے صوبے میں انتظامی انتشار پیدا کردیاایک طرف حکومت لیویز کو دشمن کے سامنے غیر مؤثر کہتی ہےاور دوسری طرف اُسی غیر مؤثرفورس میں بھرتیاں کرکے اپنی ہی پالیسی کی نفی کرتی ہے۔ یہ فیصلہ نہیں بلکہ مذاق ہےایسی متضاد حکومتی پالیسیاں ثابت کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت کے فیصلوں میں سنجیدگی اور منصوبہ بندی کا فقدان ہےاگر لیویز فورس واقعی نااہل تھی تو ڈیرہ بگٹی سمیت پورے بلوچستان میں ایک ہی قانون نافذ کیا جائےاگر وہ قابل تھی تو پھر اسے پورے صوبے میں بحال کیا جائےحکومت وضاحت دے کہ دو الگ الگ نظام چلانے کی اصل وجہ کیا ہے؟

16/07/2025
بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کے خلاف حکومتی اقدامات  نئی بدامنی کا پیش خیمہ؟تحریر سید انور شاہ صوبے میں سب سے پہلے اخبار فروش...
26/05/2025

بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کے خلاف حکومتی اقدامات نئی بدامنی کا پیش خیمہ؟
تحریر سید انور شاہ
صوبے میں سب سے پہلے اخبار فروشوں کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے فنڈ ز کا اجراء بند کردیا گیا ، جس پر وہ ردعمل سامنے نہیں آیا جو آنا چاہیے تھا ۔اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں پرنٹ میڈیا جو ہدف بنایا گیا جو عدم ادائیگوں کی وجہ سے شدید بحران کا شکار تھا ،اس دوران ایک اور مبینہ حملہ جاری ہے، جس کی وجہ حکومت کا وہ فیصلہ ہے جس میں بغیر کسی آئینی و قانونی یا منظوری کے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ حکومتی اشتہارات اب پرنٹ میڈیا میں شائع کرنے کے بجائے صرف بیپرا (BEPRA) کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیے جائیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پالیسی کی کوئی قانونی بنیاد یا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی تاحال سامنے نہیں آیا، جس سے اس فیصلے کی سنجیدگی اور شفافیت پر مزید سوالات اٹھتے ہیں۔اس غیر اعلانیہ فیصلے کے خلاف بلوچستان بھر میں پرنٹ میڈیا اور اخباری صنعت سراپا احتجاج ہے۔ نہ صرف اخباری مالکان بلکہ صحافتی اداروں کی نمائندہ تنظیمیں بھی میدان میں آ چکی ہیں، یہ احتجاج اب اسلام آباد تک پھیل چکا ہے۔ حکومتی پالیسی کے نتیجے میں مالی دبا وکا شکار ادارے "ڈاون سائزنگ" کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں، اور ایک بڑے قومی میڈیا گروپ نے تو ایک ہی جھٹکے میں اپنے 80 سے زائد ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کر دیا ہے۔ صوبے میں بے روزگاری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ،جس پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (BUJ) نے اس عمل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے میڈیا ورکرز کا "معاشی قتل" قرار دیا ہے۔ بی یو جے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف انسانی حقوق، بلکہ آئین و قانون، اور صحافتی آزادی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ITNE کی واضح ہدایات کے باوجود جن میں ملازمین کو ویج ایوارڈ کے تحت مستقل ملازمتیں دینے کا حکم دیا گیا تھا، اس گروپ نے انہیں برطرف کر کے نہ صرف قانون کو للکارا ہے بلکہ صحافیوں کے بنیادی حقوق کو بھی پامال کیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی سطح پر اس معاملے پر خاموشی، اور بیپرا جیسے پلیٹ فارم کے ذریعے اشتہارات کی تقسیم کی پالیسی، ایک نئے بحران کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں جہاں پہلے ہی بیروزگاری، محرومی اور بداعتمادی کے احساسات پائے جاتے ہیں، ایسے فیصلے بدامنی اور ادارہ جاتی کمزوری کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔یہ صرف اشتہارات کا مسئلہ نہیں بلکہ صحافت کی بقا، میڈیا کی آزادی اور کارکنوں کے معاشی تحفظ کا سوال ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی نہ کی، اور میڈیا اداروں کی مالی بحالی کے لیے واضح پالیسی نہ اپنائی، تو خطرہ ہے کہ بلوچستان میں نہ صرف اخبارات بند ہوں گے بلکہ بے روزگاری اور احتجاج کی ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے، جو سیاسی و سماجی طور پر خطرناک ہوگی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام پرنٹ میڈیا ادارے، صحافتی تنظیمیں، اور میڈیا ورکرز ایک صفحے پر آ کر حکومت کے خلاف اجتماعی جدوجہد کا آغاز کریں۔ بی یو جے نے جس ہمت اور جرات سے اس مسئلے کو اٹھایا ہے، وہ قابل تقلید ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ دیگر تمام ادارے بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں، تاکہ نہ صرف صحافت کو بچایا جا سکے بلکہ بلوچستان میں جمہوری اظہار اور آئینی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔حکومت کو خبردار کیا جاتا ہے کہ بیپرا کی آڑ میں اخبارات کا گلا گھونٹنے کی یہ پالیسی نہ صرف مسترد کی جاتی ہے بلکہ اگر اس پر فوری طور پر نظرثانی نہ کی گئی تو اس کا نتیجہ ایسی بدامنی کی صورت میں نکل سکتا ہے، جس کی ذمہ داری مکمل طور پر ریاستی پالیسی سازوں پر عائد ہوگی۔

#نیوزپیپر #بلوچستان

پرنٹ میڈیا — شعور، مزاحمت اور ریاستی استحکام کا ستونسیدانورشاہتاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے آزادی، انصاف اور شعور ک...
16/05/2025

پرنٹ میڈیا — شعور، مزاحمت اور ریاستی استحکام کا ستون
سیدانورشاہ
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے آزادی، انصاف اور شعور کی طرف قدم بڑھایا، اس کے پیچھے کسی نہ کسی شکل میں پرنٹ میڈیا کی جرات مندانہ صحافت موجود رہی۔ پراودا اخبار نے 1910 سے 1914 تک زار شاہی کے جبر کے خلاف روسی عوام کو بیدار کرنے میں جو کردار ادا کیا، وہی دراصل روسی انقلاب کی فکری زمین ہموار کرنے کی بنیاد بنا۔ اسی طرح برصغیر میں زمیندار اخبار نے انگریز سامراج کے خلاف بغاوت کا شعور پیدا کر کے تحریکِ آزادی کے قافلے کو فکری ایندھن فراہم کیا۔ مغرب میں واشنگٹن پوسٹ جیسا ادارہ ہر دور میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کی داخلی و خارجی پالیسیوں پر جرات مندانہ سوالات اٹھاتا رہا، چاہے وہ واٹرگیٹ اسکینڈل ہو یا عراق جنگ کی گمراہ کن بنیادیں۔ان تمام مثالوں سے ایک بات واضح ہوتی ہے: پرنٹ میڈیا صرف خبروں کا ذریعہ نہیں، بلکہ اقوام کی اجتماعی شعور کی تشکیل کا محرک ہوتا ہے۔تاہم، آج ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کچھ مخصوص سازشی عناصر — خصوصاً بلوچستان جیسے حساس صوبے میں — پرنٹ میڈیا کو بند کر کے سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ، بے لگام اور غیر ذمے دار دنیا کو عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ان گروپوں کی پشت پر وہ قوتیں کارفرما ہیں جن کا مقصد قومی بیانیے کو منتشر، عوام کو گمراہ، اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا ہےبلوچستان میں BPPRA جیسے ادارے کو بنیاد بنا کر پرنٹ میڈیا کو محدود کرنے کی کوشش، بظاہر اصلاحات کا لبادہ اوڑھے ہوئے ایک خطرناک کھیل ہے، جس کا مقصد دراصل ریاست کی فکری قوت پر ضرب لگانا ہے۔ پرنٹ میڈیا کی بندش نہ صرف ہزاروں افراد کو بے روزگار کر دے گی بلکہ ریاست کی ریونیو وصولیوں، جنگلاتی معیشت، کیمیکل و پلیٹ انڈسٹری اور بالآخر بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی منفی اثر ڈالے گی۔یہ بات بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک میں پسماندگی کی ایک بڑی وجہ وہاں آزاد اور ذمہ دار پرنٹ میڈیا کا نہ ہونا ہے۔ اس کے برعکس مغرب کی ترقی، وہاں کے مضبوط، تحقیقاتی اور اصولی پرنٹ میڈیا سے جڑی ہوئی ہے۔بلوچستان جیسے صوبے میں، جہاں قوم پرستی، احساسِ محرومی اور بیرونی مداخلت جیسے عوامل پہلے سے موجود ہیں، وہاں پرنٹ میڈیا کو ختم کر کے غیر مصدقہ سوشل میڈیا گروپوں کو فروغ دینا دراصل ریاستی سالمیت پر حملہ ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ قوم پرست قیادت، ادبی حلقے، دانشور، اور اکائیوں کے نمائندے آگے بڑھیں اور اس سازش کے خلاف یک زبان ہو کر آواز بلند کریں۔ جو قومیں خود کو "محکوم" سمجھتی ہیں، ان کے لیے پرنٹ میڈیا ایک طاقتور آواز ہے، اور اسے دبانے کی ہر کوشش نظریاتی خودکشی کے مترادف ہے۔پرنٹ میڈیا سے وابستہ وزیراعظم پاکستان، صدر مملکت، اور چیف آف آرمی اسٹاف سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور بلوچستان میں پرنٹ میڈیا کے خلاف ہونے والی سازش کو فی الفور روکیں ۔ کیونکہ ریاست کے وسیع تر مفاد، قومی وحدت، اور فکری استحکام کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جس دن ہم نے اپنی آوازوں کو بے سمت سوشل میڈیا کے شور میں گم ہونے والوں کی سازش کو موقع دیا وہی دن ہماری فکری، معاشی اور نظریاتی پستی کی ابتداء وہ آغاز ہوگا جس کا انجام قرب تر ہوگا ۔

مقامی اخبارات کیلئے اشتہارات کی بندش کا واضح مقصد سازش کے ذریعے بندش کا ناقابل قبول منصوبہ ہے ،پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹ...
15/05/2025

مقامی اخبارات کیلئے اشتہارات کی بندش کا واضح مقصد سازش کے ذریعے بندش کا ناقابل قبول منصوبہ ہے ،پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی پریس ریلیز میں ایکشن کمیٹی برائے اخباری صنعت کے جاری احتجاجی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے اس کے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی اخبارات کیلئے اشتہارات کی بندش کا واضح مقصد اخباری صنعت سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار کا خاتمہ اور مقامی اخبارات کی ایک سازش کے ذریعے بندش کا ناقابل قبول منصوبہ ہے جبکہ مقامی اخبارات کی ترقی و ترویج اور ان کی بڑے پیمانے پر شائع ہونے کیلئے مزید اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے

کئی ایک بڑے اخبارات نے اپنے صفحات انتہائی کم کرکے صرف اشتہارات شائع کرنے تک محدود ہوگئے ہیں اور اس صورتحال میں مقامی اخبارات اور جرائد جس میں اردو سمیت پشتو، بلوچی، براہوی زبانوں کے اخبارات و جرائد بھی شامل ہے کی مزید حوصلہ افزائی اور مدد کی ضرورت ہے تاکہ مقامی اخبارات
اور جرائد کی صنعت ترقی کی راہ پر گامزن ہو کر حکومت سمیت ہر شعبہ زندگی کے عوام کی رائے شائع کرنے اور مسائل حل کرنے کیلئے حکومتی اداروں کی حقیقی رہنمائی کی جاسکے

سوشل میڈیا جیسے اہم شعبے کو مثبت استعمال کی بجائےمخصوص اور محدود منفی عناصر نے طوفان بدتمیزی میں تبدیل کر دیا ہے اور مقامی اخبارات و جرائد سمیت تمام پرنٹ میڈیا اب بھی مصدقہ خبریں شائع کرکے حکومتوں اور عوام کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی اخبارات و جرائد کے اشتہارات کی بندش کا واضح مقصد کرپشن کے سوا کچھ نہیں جبکہ اس دوقومی صوبے کے سالانہ ایک کھرب روپے کے ترقیاتی پی ایس ڈی پی میں ٹیکسوں کے بغیر 40 فیصد تک ترقیاتی بجٹ کی رقم مخصوص آفسر شاہی اور نام نہاد فارم 47 کے نمائندوں کی کرپشن کیلئے مخصوص ہے جو سالانہ تقریباً 40 سے 50 ارب روپے بنتے ہیں اور اگر خدانخواستہ حکومت اور ان کے نمائندوں کو اس بات کا یقین نہیں تو اس کرپشن کو ہر فورم پر ثابت کیا جاسکتا ہے جو انتہائی قابل افسوس، قابل شرم اور ناقابل برداشت ہے

جبکہ دوسری طرف مقامی اخبارات و جرائد کے صنعت سے وابستہ ہزاروں گھرانوں کے غریب افراد کا روزگار چھیننا کسی صورت قابل قبول نہیں اور حکومت وقت اور ا±ن کے نام نہاد نمائندوں کو برسرزمین حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کے تمام مطالبات فوری طور پر تسلیم کریں اور مقامی اخبارات و جرائد کی مزید ترقی و ترویج کیلئے خصوصی اقدامات کریں۔

بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے،میر لیاقت لہڑیایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے نمائندہ وفد کی ...
13/05/2025

بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے،میر لیاقت لہڑی

ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے نمائندہ وفد کی پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی سے ملاقات

حکومت نے حلف اٹھانے کے بعد کبھی عوامی مفاد کو نظر انداز نہیں کیا آئندہ بھی ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا جس سے کوئی صنعت متاثر ہو

کوئٹہ (پ ر ) ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے نمائندہ وفد کی پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی سے ملاقات ۔ایکشن کمیٹی کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ ترین نے ملاقات کے دوران بلوچستان کی اخباری صنعت کے مسائل اور حکومت کی جانب سے اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کی کوششوں بارے آگاہ کیا گیا۔

پارلےمانی سیکرٹری برائے ٹرانسپورٹ میر لیاقت لہڑی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے،حکومت بلوچستان نے ہمیشہ صوبے کی بہتری کیلئے کام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے حلف اٹھانے کے بعد کبھی عوامی مفاد کو نظر انداز نہیں کیا آئندہ بھی ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا جائے گا جس سے کوئی صنعت متاثر ہو ۔

اس موقع پر انہوں نے اپنے پورے تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پرنٹ میڈیا کے BPPRA پر پرنٹ میڈیا کے تحفظات بارے وزیراعلیٰ بلوچستان کو آگا ہ کروں گا

#بلوچستان

ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے زیراہتمام آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے م...
03/05/2025

ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے زیراہتمام آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے میں بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد میں نمائندگی موجود تھی ۔

مظاہرے سے ایکشن کمیٹی کے چیئرمین حاجی عبدالغفار لانگو، جنرل سیکرٹری مرتضیٰ خان ترین ، آغا عبید، میجر (ر) نذر زمرد ،بہرام بلوچ اور انجمن اخبار فروشاں کی جانب سے میر احمد راسکوہ وال نے خطاب کیا ۔

مقررین کا کہنا تھا کہ افسوس کا مقام ہے کہ آج آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر بلوچستان کا پرنٹ میڈیا یوم سوگ منا رہا ہے ۔ خطاب کے دوران شرکاءنے مشترکہ موقف اختیار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کا پرنٹ میڈیا ہزاروں افراد کوروزگار فراہم کررہا ہے اسی وجہ سے بلوچستان میں اسے صنعت کا درجہ حاصل ہے لیکن حکومت کو چند عناصر کی جانب سے غلط بریف کیا گیا ۔پرنٹ میڈیا کی اہمیت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حکومت پرنٹ میڈیا کو جاری ہونے والے اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے جسے کسی صورت صحافت دوست اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا۔

23/04/2025
پرنٹ میڈیا کیخلاف کوئی سازش قابل قبول نہیں،ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستانحکومت روایتی اور مستند صحافت کا گلہ گھونٹ کر ...
22/04/2025

پرنٹ میڈیا کیخلاف کوئی سازش قابل قبول نہیں،ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان

حکومت روایتی اور مستند صحافت کا گلہ گھونٹ کر بزور طاقت صحافتی اداروں کو بند کرنا چاہتی ہے، معاملات سنگین ہوچکے، حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرے

حکومت صوبے کے اخبار فروشوں کیساتھ بھی ہمیشہ ہاتھ کرجاتی ہے،فنڈزفوری طور پر جاری کئے جائیں،ایکشن لیا جائے،اجلاس کا مطالبہ

کوئٹہ (پ ر) ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کا اجلاس زیر صدارت حاجی غفار لانگو منعقد ہوا۔اجلاس کو سیکرٹری جنرل مرتضیٰ ترین نے صنعت کو درپیش مسائل کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اجلاس میں آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے مرکزی صدر،انجمن اخبار فروشاں کے جوائنٹ سیکرٹری میر احمد راسکوہ وال نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کے پرنٹ میڈیا کو درپیش مسائل پر تفصیلی بات چیت کی گئی،

شرکاء نے اخبارات کے اشتہارات کو BPPRA کی سائٹ پر آویزاں کرنے کے اقدامات کو صوبائی پریس دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت روایتی اور مستند صحافت کا گلہ گھونٹ کر بزور طاقت صحافتی اداروں کو بند کرنا چاہتی ہے،اجلاس کے شرکاء نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ تجاویز طلب کرنے کی غرض سے محکمہ تعلقات عامہ میں ہونیوالے اجلاس میں اکثریتی سٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کیا گیا۔

چند عناصر اپنے ذاتی مقاصد کیلئے صوبائی حکومت سے غلط اقدامات کرانے، حکومت اور صوبائی پریس کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔اجلاس کے شرکاء نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کا بہ جنبش قلم صوبے کے ہزاروں لوگوں کو بیروزگار اور پوری صنعت کو تباہ کرنا کوئی عقل مندی کا فیصلہ ثابت نہیں ہوگا ایسے فیصلے کے بھیانک نتائج برآمد ہونگے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے مرکزی صدر،انجمن اخبار فروشاں کے جوائنٹ سیکرٹری میر احمد راسکوہ وال کا کہنا تھا کہ صوبے کے اخبارات خود کو تنہا نہ سمجھیں ہم نے ہمیشہ صوبائی پریس کی اولیت کی بات کی ہے۔ ہر کڑے وقت میں انجمن اخبار فروشاں صوبائی پریس کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور آئندہ بھی اپنی روایات کو قائم رکھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت صوبے کے اخبار فروشوں کیساتھ بھی ہمیشہ ہاتھ کرجاتی ہے ہمارے فنڈز طویل مدت سے جاری نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے مسائل کے انبار لگ چکے ہیں۔ اس موقع پر ایکشن کمیٹی کے اراکین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ انجمن اخبار فروشاں کے مسائل پر مدیران بھی انکے ہم آواز ہونگے۔

اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت انتہائی عجلت میں اہم فیصلے حقیقی سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیئے بغیر کرنا چاہتی ہے اور صوبائی اشتہارات اور اخباری صنعت سے متعلق کسی فیصلے سازی کا اولین حق مقامی اخباری صنعت کا ہے،ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے اراکین نے واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا کی مکمل حمایت حاصل ہے اور ہم ہر اس فیصلے کی مخالفت کاحق محفوظ رکھتے ہیں جس میں ہمیں اکثریت حاصل ہونے کے باوجود نظر انداز کیا جائے۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ نہ صرف صوبائی پرنٹ میڈیا کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے بلکہ وفاقی حکومت کے طرز پر حکومتی تشہیر کیلئے الگ سے فنڈز قائم کئے جائیں۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ معاملات سنگین ہوچکے ہیں حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ شرکاء نے عزم کا اعادہ کیا کہ کسی صورت پرنٹ میڈیا کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا آخری حد تک مزاحمت کی جائے گی۔ اجلاس کے شرکاء کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔اجلاس میں رابطوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دیدی گئیں جو حکومتی ذمہ دارن،اخباری مدیران،پارلیمانی اراکین،سیاسی و سماجی رہنماؤں سے رابطے کریں گی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا صوبائی،قومی اور بین الاقوامی صحافتی تنظیموں کیساتھ رابطے کرکے اس مسئلے کو مزید اجاگرکیا جائے گا اور کسی بھی ایسے فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے گا جس سے آزادی صحافت پر حرف آئے،شرکاء کا مطالبہ تھا کہ حکومت فوری طور پر اخباری صنعت کو درپیش تحفظات دور کرے اور اخبار مارکیٹ کو درپیش مالی مشکلات فوری حل کرے۔

اجلاس کے شرکاء میں میر احمد راسکوہ وال، رضوان علی ہاشمی، مدثر ندیم، حاجی غفار لانگو، مرتضیٰ ترین، حکیم اکمل، سہیل جلال، منیر احمد بلوچ، عبدالحبیب کاکڑ، دانیال ترین، نعمت اللہ کاکڑ، آغا عبید، عمران خان جمالی، نعیم اختر، سلمان مرزا،ریاض احمد شاہوانی، آغا محمد بلوچ،محمد وسیم سرپرہ، بہادر خان لہڑی،فاروق لہڑی،ملک صادق بنگلزئی،سمیع اللہ رند، محمد کریم بلوچ،ظفر ذیشان، عابد شاہ،لیاقت لانگو،ظہیر میر رند،سعید احمد،نسیم ارسلان،عارف رانا، ریاض احمد، فرید خان،نعیم خان کاکڑ و دیگر نے اجلاس میں شرکت کی۔

Address

Quetta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily Gerowk Balochistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Daily Gerowk Balochistan:

Share