16/05/2025
عنوان:
غیرت کا سودا…!
تحریر:
کہا جاتا ہے کہ عرب وہ گھوڑا کبھی فروخت نہیں کرتے جس پر ان کے گھر کی عورت نے سواری کی ہو۔
اور جب عرب اپنی دلہن کو اونٹ پر سوار کر کے گھر لاتے، تو وہ اونٹ بعد میں ذبح کر دیتے —
کہ غیرت گوارا نہیں کرتی کہ کوئی دوسرا اس پر سوار ہو۔
مگر آج…
وہی عرب، جن کی غیرت کی کہاوتیں زبانِ زدِ عام تھیں،
اپنی شاہی عورتوں کو ٹرمپ جیسے اجنبیوں کے ساتھ قہقہے لگاتے دیکھ کر
کس نظریں چرا لیتے ہیں؟
کیا اب غیرت کو بھی ویزا، معاہدوں اور ڈالرز کے عوض گروی رکھ دیا گیا ہے؟
اگر عزت صرف سونے کے محلوں اور تیل کے کنوؤں کی رکھوالی کرے،
تو غیرت کی قبر پر خاموشی واجب ہو جاتی ہے۔
غیرت کا ماتم کرنے والوں کو سلام،
اور غیرت بیچنے والوں کو آئینہ۔
#غیرت #ٹرمپ