Shah E Mardan

Call Website Contact the business

Shah E Mardan National,International news,Education,Science,Religion,Sports,Fun,worker as NGO and bring people's

سابق ایم پی اے سوراب نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری سیاسی میدان میں نمایاں کردار، سوراب کی ترقی و خوشحالی کے لیے تاریخی...
09/09/2026

سابق ایم پی اے سوراب نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری سیاسی میدان میں نمایاں کردار، سوراب کی ترقی و خوشحالی کے لیے تاریخی خدمات

سوراب(محبوب زہری)سابق رکنِ صوبائی اسمبلی سوراب، نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری نے سیاسی میدان میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں، عوامی خدمت اور عملی اقدامات کے ذریعے ضلع سوراب کی تعمیر و ترقی میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کی سیاسی جدوجہد اور عوامی مفادات کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سوراب کی سیاسی و انتظامی تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیا جاتا ہے۔سوراب کو ضلع کا درجہ دلوانا نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری کی سیاسی کاوشوں میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری کے دور میں سوراب کو ضلع کا درجہ ملنا علاقے کے عوام کے لیے ایک تاریخی پیش رفت تھی۔ اس اقدام نے سوراب کو ایک نئی انتظامی شناخت دی اور علاقے میں ترقی کے نئے راستے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔ضلع کا قیام ہی نہیں بلکہ اس کے بعد مختلف علاقوں کو انتظامی طور پر منظم کرنے اور سب ڈویژن و تحصیل سطح پر انتظامی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی سیاسی سطح پر کاوشیں کی گئیں۔ آج ضلع سوراب میں انتظامی ڈھانچے کی موجودگی، مختلف سرکاری اداروں کا قیام اور عوام کو ان کے قریب بنیادی سہولیات کی فراہمی اسی ترقیاتی سفر کی کڑیاں ہیں۔نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری کی سیاسی خدمات کا ایک اہم پہلو تعلیم کے شعبے پر توجہ بھی ہے۔ علاقے میں تعلیمی سہولیات کے فروغ، تعلیمی اداروں کے قیام اور نوجوان نسل کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ان کی سیاسی جدوجہد کو عوامی حلقوں میں اہمیت حاصل رہی ہے۔ان کا مؤقف رہا کہ کسی بھی علاقے کی حقیقی ترقی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے، اسی لیے نوجوانوں کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا اور انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔سوراب کے نوجوانوں کے لیے کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی بھی ان کے ترقیاتی وژن کا حصہ رہی ہے۔ کھیل کے میدان صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے، صحت مند معاشرے کے قیام اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔اسی سوچ کے تحت اسپورٹس کی سہولیات، کھیلوں کے میدانوں اور نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں کے فروغ پر بھی توجہ دی گئی۔عوامی سہولت کے لیے نادرا دفاتر کے قیام، پانی کے منصوبوں، ڈیمز اور دیگر بنیادی نوعیت کے ترقیاتی اقدامات بھی ضلع سوراب کی مجموعی ترقی کے سفر کا حصہ ہیں۔ ایسے منصوبوں کا بنیادی مقصد یہی رہا کہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بنیادی سرکاری سہولیات ان کے اپنے علاقوں کے قریب میسر آسکیں اور انہیں معمولی نوعیت کے کاموں کے لیے طویل سفر کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری کا سیاسی سفر محض انتخابات تک محدود نہیں بلکہ اسے عوامی رابطے، علاقائی مسائل کے حل اور ضلع سوراب کی سیاسی و انتظامی شناخت کو مضبوط بنانے کی جدوجہد سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ان کے سیاسی دور میں اٹھائے گئے مختلف اقدامات کے ثمرات آج بھی مختلف شعبوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، تاہم کسی بھی سیاسی شخصیت کی خدمات کا جائزہ اس کے دور میں کیے گئے عملی اقدامات اور علاقے میں آنے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔ سوراب کو ضلع کا درجہ ملنا، انتظامی ڈھانچے کی تشکیل، مختلف تحصیلوں اور سب ڈویژنوں میں سرکاری سہولیات کی فراہمی، تعلیم، کھیل، پانی اور دیگر بنیادی شعبوں میں اقدامات ایسے معاملات ہیں جنہیں ضلع سوراب کی ترقی کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہےاسی ترقیاتی تسلسل میں پی پی ایچ آئی (PPHI) کو ضلع سوراب میں فعال بنانے اور مختلف علاقوں میں پی پی ایچ آئی سینٹرز کے قیام کو بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔ ان مراکز کے قیام سے خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے عوام کو بنیادی طبی سہولیات اپنے علاقوں کے قریب میسر آنے کے مواقع پیدا ہوئے، جس سے صحت کے شعبے میں عوامی سہولت کے دائرہ کار کو وسعت ملی عوامی حلقوں کے مطابق نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری کی سیاسی جدوجہد کا ایک اہم پہلو بلا رنگ و نسل عوامی خدمت اور علاقے کی اجتماعی ترقی ہے۔ ان کے ساتھ مختلف ادوار میں ایسے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی اپنا کردار ادا کیا جنہوں نے علاقے کے مسائل کو سیاسی سطح پر اجاگر کرنے اور عوامی مفادات کے لیے آواز بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ان شخصیات میں حاجی بشیر احمد ہارونی اور ڈسٹرکٹ کونسل چیئرمین حاجی عبد الواحد ہارونی کا نام بھی نمایاں طور پر لیا جاتا ہے، جنہوں نے سیاسی و عوامی سطح پر نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے علاقے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کیا آج ضلع سوراب کی سیاسی و انتظامی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری کا نام ان شخصیات میں نمایاں دکھائی دیتا ہے جنہوں نے سوراب کی ترقی، انتظامی شناخت اور عوامی سہولیات کے لیے سیاسی سطح پر جدوجہد کی۔سوراب کا ضلع بننا ایک تاریخی فیصلہ تھا، مگر اس فیصلے کو عملی ترقی، انتظامی استحکام اور عوامی سہولیات میں تبدیل کرنا ایک مسلسل سیاسی و عوامی جدوجہد کا تقاضا کرتا تھا۔ اسی جدوجہد میں نوابزادہ میر نعمت اللہ خان زہری اور ان کے رفقائے کار کا کردار تاریخِ سوراب کا ایک اہم حصہ ہے، جسے آنے والی نسلیں بھی اپنے علاقے کی سیاسی و انتظامی تاریخ کے حوالے سے یاد رکھیں گی۔

04/09/2026

امن و امان کے حوالے سے بدنام زمانہ کوئٹہ کے سریاب روڈ پر دن دیہاڑے ڈکیتی کی واردات ، مہنگائی کے اس دور میں ایک نوجوان کو موبائل اور نقدی سے محروم کردیا گیا !!!!

3 ہٹے کٹے ڈاکوؤں کو اسلحے کے زور پر ایک نہتے شہری کو لوٹتے ہوئے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے

*"مستونگ کھڈکوچہ کے باغات ختم کرنے کے بیان پر سرفراز بگٹی شدید تنقید کی زد میں۔۔۔"**مستونگ* *وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز ب...
30/08/2026

*"مستونگ کھڈکوچہ کے باغات ختم کرنے کے بیان پر سرفراز بگٹی شدید تنقید کی زد میں۔۔۔"*

*مستونگ*

*وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے منسوب مستونگ کے تمام باغات ختم کرنے کے بیان پر انسانی حقوق کے کارکنوں، ماحولیاتی ماہرین اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کام کرنے والے حلقوں نے شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مستونگ کے باغات صرف زرعی زمینیں نہیں بلکہ مقامی آبادی کے روزگار، خوراک، ماحول اور قدرتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے خاتمے کی بات ایسے وقت میں سامنے آنا جب بلوچستان پہلے ہی پانی کی قلت، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہا ہے، انتہائی تشویشناک ہے۔۔۔*

کیا غریب کسان دہشت گردوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو سکتا ہے وزیر اعلی سرفراز بگٹی کے بیان پر ایک تلخ سوال جب ریاست اور...
30/08/2026

کیا غریب کسان دہشت گردوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو سکتا ہے وزیر اعلی سرفراز بگٹی کے بیان پر ایک تلخ سوال جب ریاست اور طاقت دہشت گردی نہیں روک پا رہی تو نہتے شہری کیسے روک سکتے ہیں

ذرا جرأت کے ساتھ
تحریر: میر اسلم رند

بلوچستان ایک بار پھر ایک ایسے سوال کے سامنے کھڑا ہے جس کا جواب صرف حکومت نہیں بلکہ ہر صاحبِ اختیار کو دینا ہوگا سوال بہت سادہ ہے مگر اس کے اندر ایک پورا المیہ چھپا ہوا ہے جب بلوچستان میں فوج پولیس سی ٹی ڈی خفیہ ادارے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلح دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں تو ایک غریب کسان باغ کا مالک یا وہاں کام کرنے والا مزدور ان دہشت گردوں کو کیسے روکے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ جس باغ یا زمین سے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ ہوگی اس کے مالکان اور وہاں کام کرنے والے افراد کو دہشت گردوں کا سہولت کار تصور کیا جائے گا یہ بیان یقیناً دہشت گردی کے خلاف ریاست کے سخت عزم کی عکاسی کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کیا محض کسی باغ یا زمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین کا مالک بھی ان کا سہولت کار ہے بلوچستان کے دیہی علاقوں کی حقیقت اسلام آباد یا کوئٹہ کے ایوانوں میں بیٹھ کر شاید اتنی واضح نظر نہ آئے دور دراز علاقوں میں ایک باغ کا مالک اپنی زمین فصل اور مزدوروں کی حفاظت تو مشکل سے کر پاتا ہے اگر اچانک چند مسلح افراد کسی باغ میں داخل ہوجائیں تو وہاں موجود کسان یا مزدور کے پاس دو ہی راستے رہ جاتے ہیں یا اپنی جان بچائے یا مسلح افراد سے لڑ کر اپنی جان گنوائے وہ بھی خالی ھاتھ اگر وہ مزاحمت کرے اور مارا جائے تو اس کے بچوں کا کیا ہوگا اور اگر وہ اس وقت اپنی جان بچانے کے لیے خاموش رہے تو کیا اسے دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دینا انصاف ہوگا یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کو اپنی پالیسی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے
ریاست شہریوں کو تحفظ دیتی ہے شہری ریاست کی جنگ نہیں لڑتے ہاں البتہ اخلاقی سپورٹ کر سکتے ہیں دنیا کے کسی بھی مہذب ریاستی نظام میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ مسلح دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر کھڑے ہو جائیں شہری ریاست کو ٹیکس دیتے ہیں قانون کی پابندی کرتے ہیں اور ریاست سے تحفظ کی توقع رکھتے ہیں
دہشت گردی کے خلاف جنگ ریاست کی ذمہ داری ہے فوج اور ایف سی کا کام سرحدوں کا دفاع اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے پولیس کا کام امن و امان قائم رکھنا ہے خفیہ اداروں کا کام دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگانا ہے اور حکومت کا کام ان تمام اداروں کو وسائل پالیسی اور مؤثر نظام فراہم کرنا ہے ایک باغ کے مالک کا کام اپنے باغ کی دیکھ بھال کرنا ہے کلاشنکوف اٹھا کر مسلح گروہوں سے لڑنا نہیں
اور ایک غریب مزدور جو دو وقت کی روٹی کے لیے کسی باغ میں کام کرتا ہے اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر دہشت گردوں کا مقابلہ کرے حقیقت سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے اجتماعی سزا مسئلے کا حل نہیں اگر کسی مخصوص زمین یا باغ سے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ ہوئی ہے تو اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں جس شخص کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہوں اسے قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے اور عدالت میں مقدمہ چلایا جائے لیکن محض زمین کی ملکیت یا وہاں موجود مزدوروں کی بنیاد پر سب کو سہولت کار قرار دینا ایک خطرناک راستہ ہوسکتا ہے کیونکہ اس کا سب سے بڑا نقصان دہشت گردوں کو نہیں بلکہ عام اور بے بس شہریوں کو ہوگا جو پہلے ہی ریاست کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پریشان ہے نہ کاروبار نہ کوئی سفر کر سکتا ہے ایک طرف دہشت گردوں کی بدمعاشی دوسری طرف ریاست کی دھمکیاں یہ کہاں کا انصاف ہے
آپ کے اس اقدام سے ایک غریب کسان اپنی زمین سے محروم ہوسکتا ہے ایک مزدور اپنا روزگار کھو سکتا ہے اور ایک پورا خاندان خوف اور بے یقینی کا شکار ہوسکتا ہے یہ بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کو کوئی نرمی نہیں کرنی چاہیے جو شخص دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے ان کے لیے اسلحہ خوراک معلومات یا سہولت فراہم کرتا ہے اس کے خلاف ریاست کو پوری قوت سے کارروائی کرنی چاہیے لیکن کارروائی اور اجتماعی سزا میں فرق ہے اصل ضرورت یہ ہے کہ انٹیلی جنس نظام کو مضبوط کیا جائے مقامی سطح پر قابلِ اعتماد معلومات کا نظام بنایا جائے دہشت گردوں کے نیٹ ورک سہولت کاروں مالی معاونت اور اسلحے کے ذرائع تک پہنچا جائے اگر کسی باغ سے فائرنگ ہوئی ہے تو یہ سوال بھی پوچھا جائے کہ دہشت گرد وہاں پہنچے کیسے انہیں اسلحہ کہاں سے ملا وہ وہاں کتنی دیر سے موجود تھے؟ انہیں معلومات کون فراہم کر رہا تھا؟ اور ریاستی اداروں کو اس علاقے میں ان کی موجودگی کا پہلے سے علم کیوں نہیں ہوا یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب دہشت گردی کے اصل نیٹ ورک تک لے جا سکتے ہیں غریب عوام کو ریاست اور دہشت گردوں کے درمیان نہ پِسنے دیں بلوچستان کا عام شہری پہلے ہی بدامنی، مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر وہ دہشت گردوں سے خوفزدہ ہو اور دوسری طرف ریاستی کارروائی سے بھی خوف محسوس کرنے لگے تو پھر وہ کس طرف جائے؟
ریاست کو اپنے شہریوں میں خوف نہیں بلکہ اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔
اگر کسی علاقے میں دہشت گرد زبردستی داخل ہوتے ہیں تو وہاں کے شہریوں کو چاہیے کہ وہ محفوظ طریقے سے ریاستی اداروں کو اطلاع دیں۔ لیکن حکومت کو بھی ایسا مؤثر اور محفوظ نظام دینا ہوگا جہاں اطلاع دینے والے شہری کو یہ خوف نہ ہو کہ دہشت گردوں سے بچنے کے بعد کہیں وہ خود ہی ریاستی کارروائی کی زد میں نہ آجائے عوام ریاست کے دشمن نہیں ریاست کی طاقت ہیں ان کو اعتماد میں لے کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا جائے

وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی صاحب آپ دہشت گردی کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں یہ قابلِ فہم اور قابلِ قدر بات ہے لیکن سختی کا مطلب یہ نہیں کہ بے گناہ اور مجبور شہری بھی اس سختی کی زد میں آ جائیں اس بیان پر ایک مرتبہ پھر غور کرنے کی ضرورت ہے دہشت گردوں کے خلاف ریاست جتنی سخت کارروائی کرنا چاہتی ہے کرے مگر کسی بے گناہ کسان باغ کے مالک یا مزدور کو صرف شک کی بنیاد پر دہشت گردوں کا سہولت کار قرار نہ دیا جائے جس کے خلاف ثبوت ہو اس کے خلاف قانون حرکت میں آئے جس کا جرم ثابت نہ ہو اسے تحفظ ملنا چاہئے کیونکہ ریاست کی طاقت صرف بندوق میں نہیں ہوتی ریاست کی اصل طاقت انصاف میں ہوتی ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بلوچستان کے عوام کو یہ پیغام دیا جائے کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ کھڑی ہے ان کے خلاف نہیں
آخر میں صرف ایک سوال اگر ایک غریب کسان دہشت گردوں کو روکنے کی طاقت رکھتا ہوتا تو پھر فوج پولیس خفیہ اداروں اور اربوں روپے کے سکیورٹی نظام کی ضرورت ہی کیا تھی دہشت گردی کا مقابلہ ریاست کرے عوام ریاست کا ساتھ دیں عوام کو ڈھال نہ بنائیں انہیں ریاست کا مضبوط حصار بنائیں یہی انصاف ہے یہی دانشمندی ہے اور یہی بلوچستان کے پُرامن مستقبل کا راستہ ہے

مقامی اخبارات بدترین بحران کا شکار ہیں۔ بلوچستان میڈیا فورم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نامہ نگاران اور سوشل...
30/08/2026

مقامی اخبارات بدترین
بحران کا شکار ہیں۔
بلوچستان میڈیا فورم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نامہ نگاران اور سوشل میڈیا
ورکرز کو درپیش معاشی
مسائل کے حل کیلئے
عملی اقدامات کئے جائیں۔
قیوم بلوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت بلوچستان پرنٹ
میڈیا کی بحالی اور
صحافیوں کے حقوق کے
تحفظ کیلئے جامع پالیسی
تشکیل دے۔ اللہ داد رند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئٹہ: بلوچستان میڈیا فورم کے صدر قیوم بلوچ، سیکرٹری جنرل اللہ داد رند، سینئر نائب صدر اللہ یار ڈومکی، نائب صدور ندیم بابر مغل، رمضان بھٹو، شیخ فرید اور سلطان کرد، ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد علی ہزارہ، سیکرٹری اطلاعات اصغر بلوچ، گووندا راہیجہ، عامر بنگلزئی، صداقت بلوچ اور دیگر عہدیداروں نے بلوچستان کی پرنٹ میڈیا، مقامی اخبارات، نامہ نگاران اور ورکنگ جرنلسٹس کو درپیش سنگین معاشی اور پیشہ ورانہ مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں صحافت کے فروغ اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں مقامی اخبارات اور صحافیوں کا کردار انتہائی اہم اور ناقابل فراموش ہے، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا سے وابستہ اداروں اور کارکن صحافیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میڈیا فورم کے عہدیداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں آج بھی مقامی اخبارات، نامہ نگاران اور ورکنگ جرنلسٹس عوام اور حکومتی اداروں کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہیں۔ صوبے کے چھوٹے شہروں، تحصیلوں اور دیہی علاقوں میں خدمات انجام دینے والے نامہ نگاران انتہائی محدود وسائل کے باوجود عوامی مسائل، ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مقامی اخبارات شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔ کاغذ، پرنٹنگ، بجلی، تنخواہوں اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافے کے باوجود مقامی اخبارات کو حکومتی اشتہارات اور دیگر سہولیات میں مناسب حصہ نہیں دیا جا رہا، جس کے باعث کئی اخبارات کی بقا خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بلوچستان کی مقامی صحافت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ورکنگ جرنلسٹس اور ضلعی و تحصیلی نامہ نگاران سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی صحافی برسوں سے انتہائی کم معاوضے یا بغیر کسی مستقل مالی تحفظ کے صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو سفری اخراجات، جان و مال کے تحفظ اور بنیادی سہولیات کے مسائل کا سامنا ہے، لیکن ان کے مسائل کے حل کیلئے کوئی مؤثر اور جامع حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔بلوچستان میڈیا فورم کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ وہ پرنٹ میڈیا اور مقامی اخبارات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک جامع اور شفاف میڈیا پالیسی مرتب کرے، جس میں بلوچستان کے مقامی اخبارات کو ترجیحی بنیادوں پر سرکاری اشتہارات دیئے جائیں۔اشتہارات کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اخبارات کو بھی ان کا جائز حق دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان بھر کے نامہ نگاران اور ورکنگ جرنلسٹس کیلئے باقاعدہ رجسٹریشن، شناخت، مالی معاونت، ہیلتھ انشورنس اور تحفظ کا مؤثر نظام تشکیل دیا جائے۔ صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت کیلئے خصوصی پروگرام شروع کئے جائیں تاکہ بلوچستان کی نئی نسل کو جدید صحافتی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔عہدیداروں نے کہا کہ حکومت کو ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے ساتھ ساتھ روایتی اور پرنٹ میڈیا کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ مقامی اخبارات آج بھی بلوچستان کے عوام کی آواز ہیں۔ پرنٹ میڈیا نے مشکل ترین حالات میں بھی ریاستی، قومی اور عوامی مفادات کے تحفظ کیلئے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور صوبے کے دور افتادہ علاقوں کے مسائل کو ملکی سطح تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔بلوچستان میڈیا فورم کے رہنماؤں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، محکمہ اطلاعات اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کی پرنٹ میڈیا انڈسٹری کو درپیش مسائل کا فوری نوٹس لیا جائے اور مقامی اخبارات، نامہ نگاران اور ورکنگ جرنلسٹس کی نمائندہ تنظیموں سے مشاورت کے بعد ایک قابل عمل پالیسی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میڈیا فورم صوبے بھر کے صحافیوں، مقامی اخبارات اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا اور کسی بھی سطح پر پرنٹ میڈیا یا ورکنگ جرنلسٹس کے جائز حقوق پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ صحافت کو محض کاروبار نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کا اہم ستون سمجھتے ہوئے بلوچستان کے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے فوری اور عملی اقدامات کئے جائیں۔

29/08/2026

کوئٹہ ویسٹ: شہریوں کے تحفظات پر غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی، 25 سے زائد سیل

کوئٹہ ویسٹ (28 اگست): ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف عمر نے شہریوں کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے بروری کے مختلف علاقوں میں کارروائی کی۔

کارروائی کے دوران شہری آبادی اور رش والے علاقوں میں قائم 25 سے زائد غیر قانونی منی پٹرول پمپس کو سیل کر دیا گیا، جو شہریوں اور راہگیروں کے لیے خطرے کا باعث بن رہے تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر کاشف عمر نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے، غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی مزید سخت کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

28/08/2026

کوئٹہ ویسٹ: نحصار روڈ اغبرگ پر ون ویلنگ کے خلاف کارروائی، 10 افراد گرفتار، 25 چالان

کوئٹہ ویسٹ (28 اگست): ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر پنجپائی عبدالقیوم اور اسسٹنٹ کمشنر بروری کاشف عمر نے علاقائی شکایت پر نحصار روڈ، اغبرگ پر ون ویلنگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی۔

کارروائی کے دوران ون ویلنگ میں ملوث 10 افراد کو موٹر سائیکلوں سمیت گرفتار کرلیا گیا، جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 25 چالان کیے گئے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ون ویلنگ نہ صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرناک ہے۔ شہریوں کی شکایات کے ازالے اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ایسی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا سے متعلق اسٹیٹ بینک حکام نے بریفنگ دی۔ ڈپٹی گورنر ...
27/08/2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نئے کرنسی نوٹوں کے اجرا سے متعلق اسٹیٹ بینک حکام نے بریفنگ دی۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عنایت حسین نے بتایا کہ 10 روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کی دو مرتبہ پہلے بھی کوشش کی جاچکی ہے، تاہم اس کی لاگت بڑھنے کے باعث نئے کرنسی نوٹ جاری ہونے پر 10 روپے کا نوٹ ختم کردیا جائے گا۔
حکام کے مطابق موجودہ کرنسی نوٹوں کی چھپائی 2005 میں شروع ہوئی تھی، جبکہ اب نئے سیکیورٹی فیچرز کے ساتھ کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی تیاری کی جارہی ہے۔ کابینہ میں بھی یہ معاملہ دو مرتبہ زیرِ بحث آچکا ہے، جبکہ متعلقہ کمیٹی نے نوٹوں کے ڈیزائن میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔
اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے نئے نوٹوں کے ڈیزائن کے لیے کنسلٹنٹ کی کمپنی کے ساتھ معاہدے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ بڈنگ کا عمل نہیں ہوا اور اسی کنسلٹنٹ کی کمپنی کو ڈیزائن کا کام دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک خودمختار ادارہ ہے، تاہم قواعد کی پیروی ضروری ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ جس کمپنی کا کنسلٹنٹ ہے، وہی کمپنی ڈیزائن سمیت متعلقہ کام کرے گی۔ اجلاس میں جعلی کرنسی کی گردش سے متعلق بھی بات ہوئی، اسٹیٹ بینک حکام نے ملک میں جعلی کرنسی کی گردش کم ہونے کا دعویٰ کیا، جس پر کمیٹی چیئرمین نے اس حوالے سے اعداد و شمار فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

ڈھاڈر۔ ڈپٹی کمشنر کی کھلی کچہری عوامی مسائل کے انبار لگ گئے تعلیم صحت اور بنیادی حقوق ترقی اور امن و امان  تمام اداروں ک...
27/08/2026

ڈھاڈر۔ ڈپٹی کمشنر کی کھلی کچہری عوامی مسائل کے انبار لگ گئے تعلیم صحت اور بنیادی حقوق ترقی اور امن و امان تمام اداروں کے باہمی تعاون سے فوری حل کی طرف لے جائیں گے۔ ممتاز کھیتران

رپورٹ ۔دین محمد رند

ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز کھیتران نے کہا ہے کہ ہمارے لیے ضلع کچھی کے تمام علاقوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے کھلی کچہری میں اٹھائے گئے مسائل کو فوری حل کی طرف لے جانے کے لیے تمام محکموں اور اداروں کے باہمی تعاون کو یقینی بنائیں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی سی آفس کے سبزہ زار پر کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بلدیاتی نمائندوں سیاسی سماجی کاروباری اور ہندو پنچایت اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی کھلی کچہری میں سرکاری اداروں اور محکموں کے افسران کرنل ندیم ڈی ایس پی ڈھاڈر شیر احمد محمد شئی اے ڈی لوکل گورنمنٹ قاضی سکندر حیات ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن محمد انور لاشاری ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت عطا اللہ ملوک ڈپٹی ڈائریکٹر جنگلات سرور پرکانی ڈی ایچ او کچھی ڈاکٹر ایاز قریشی
ڈاکٹر زاہد سرکی انچارج نادرا عابد خلجی تحصیلدار محمد بقا پہوڑ ایس ڈی او واپڈا ایکسیئن پی ایچ ای ایکسیئن ایریگیشن سکندر زہری سمیت دیگر افسران اور ان کے نمائندے شریک ہوئے اس دوران شرکاء کی جانب سے شہری اور دیہی مسائل کھل کر بیان کیے گئے جس میں امن و امان صحت تعلیم گیس بجلی پانی نکاسی آب بنیادی حقوق اور ترقیاتی منصوبے بھی زیر بحث لائے گئے جس پر متعلقہ حکام نے تفصیلی جوابات دیے ڈپٹی کمشنر کچھی ممتاز کھیتران کا کہنا تھا کہ گزشتہ کھلی کچہری میں جن مسائل کی نشاندھی کی گئی تھی ان میں سے بیشتر مسائل حل اور کچھ پر کارروائی جاری ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر تمام محکموں اور اداروں کے باہمی تعاون اور اشتراک سے مسائل کا مکمل جائزہ لے کر ان کو حل کی طرف لے کر جائیں گے اس حوالے سے کوئی سستی اور غفلت برداشت نہیں کی جائے گی

کچھی: بارش اور پہاڑی تودوں نے این-65 کو مفلوج کر دیا، مسافر گھنٹوں پھنسے رہےڈھاڈر (نامہ نگار/دین محمد رند)بولان کے پہاڑی...
24/08/2026

کچھی: بارش اور پہاڑی تودوں نے این-65 کو مفلوج کر دیا، مسافر گھنٹوں پھنسے رہے

ڈھاڈر (نامہ نگار/دین محمد رند)

بولان کے پہاڑی سلسلے میں موسلادھار بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ نے بلوچستان کی مصروف ترین شاہراہ این-65 پر نظامِ آمدورفت درہم برہم کر دیا۔ دربی سے سراج آباد کے درمیان مختلف مقامات پر بڑے پتھر اور ملبہ سڑک پر آ جانے سے قلم دین ہوٹل کے قریب ٹریفک مکمل طور پر رک گئی اور شاہراہ تقریباً سات گھنٹے تک بند رہی۔
شاہراہ کی اچانک بندش کے باعث کوئٹہ اور دیگر علاقوں کی جانب جانے والی مسافر کوچز، مال بردار ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ شدید گرمی اور حبس کے دوران گاڑیوں میں موجود خواتین، بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑا، جبکہ مسافروں نے بنیادی سہولیات اور بروقت امدادی کارروائی نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
متاثرہ افراد اور ٹرانسپورٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ مون سون بارشوں کے پیش نظر پی ڈی ایم اے کی جانب سے ہائی الرٹ جاری کیا جا چکا تھا، تاہم اس کے باوجود ضلعی سطح پر ایسے مؤثر انتظامات دکھائی نہیں دیے گئے جو کسی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر حرکت میں آ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ کنٹرول روم اور ہنگامی امدادی ٹیموں کا مؤثر انتظام موجود ہوتا تو شاہراہ کی بحالی میں اتنا وقت نہ لگتا۔
مسافروں اور ٹرانسپورٹرز نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور کمشنر سبی ڈویژن سے مطالبہ کیا کہ مون سون کے دوران این-65 پر خصوصی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، بھاری مشینری اور امدادی ٹیمیں حساس مقامات پر موجود رکھی جائیں اور غفلت کے ذمہ دار افسران کا تعین کرکے کارروائی کی جائے۔
عوامی احتجاج اور متعلقہ حکام کی مداخلت کے بعد شاہراہ سے ملبہ اور بڑے پتھر ہٹانے کا کام شروع کیا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً سات گھنٹے بعد این-65 کو دونوں جانب سے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ شاہراہ کھلنے کے بعد گاڑیوں کی روانی بحال ہوئی، تاہم طویل بندش نے ایک بار پھر بارشوں کے دوران بولان قومی شاہراہ پر ہنگامی انتظامات کی ضرورت کو نمایاں کر دیا۔

Address

Office No #08 First Floor Universal Complex M A Jinnah Road Quetta
Quetta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shah E Mardan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Shah E Mardan:

Shortcuts

Share