29/05/2026
بلوچستان میں خاتون نے جعلی وزیر بن کر سرکاری فنڈز سے 18 کروڑ روپے ہڑپ کر لیے
حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک حیران کن اور سرکاری نظام کی جڑوں کو ہلا دینے والا بڑا دھوکہ بلوچستان میں سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک خاتون نے جعلی وزیر کا روپ دھار کر صوبائی حکومت کے اعلیٰ افسران اور محکموں کو مکمل طور پر بیوقوف بنایا۔ اس نے وزیر کی جعلی شناخت کارڈ، آفیشل لیٹر ہیڈ، سرکاری مہر اور حتیٰ کہ سیکورٹی پروٹوکول استعمال کرتے ہوئے مختلف محکموں میں داخلہ حاصل کیا۔
ملزمہ نے ترقیاتی فنڈز، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں سے منسلک پروجیکٹس کے نام پر 18 کروڑ روپے سے زائد رقم ہڑپ کر لی۔ اس نے 11 اعلیٰ سرکاری افسران کو دھوکہ دیا، جن میں چند ڈپٹی کمشنرز اور سیکشن افسران بھی شامل ہیں۔ افسران اس کے جعلی دستاویزات اور اعتماد پیدا کرنے والے انداز پر یقین کرتے رہے اور فنڈز جاری کرتے رہے۔
تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ خاتون کئی ماہ تک مختلف اضلاع کا دورہ کرتی رہی، میٹنگز منعقد کیں اور "حکومتی ہدایات" کے نام پر فائلز منظور کرواتی رہی۔ جب ایک محکمے میں تصدیق کی کوشش کی گئی تو اس کا جال بے نقاب ہوا۔
گرفتاری کے بعد ملزمہ نے تفتیش میں اعتراف کیا کہ "سرکاری نظام میں بہت بڑی خلاہیں ہیں، میں نے صرف ان کا فائدہ اٹھایا"۔ اس کے پاس سے جعلی دستاویزات، بھاری رقم اور متعدد بینک اکاؤنٹس برآمد ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف بلوچستان کی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ سرکاری اداروں میں موجود بے انتظامی، رشوت ستانی اور تصدیق کے فقدان کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ایک خاتون کا اتنے بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کرنا معاشرتی اور انتظامی سطح پر شدید تشویش کا باعث ہے۔
بلوچستان حکومت اور انسداد دہشتگردی کی مشترکہ ٹیم نے ملزمہ کے خلاف دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات کے استعمال، سرکاری فنڈز کی خرد برد اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے اور دیگر ملوث افسران کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
اس حیران کن انکشاف نے صوبے بھر میں سیاسی اور انتظامی حلقوں میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔