10/12/2025
کوئٹہ میں جدید چینی بسوں کا ایک نیا بیڑاپہنچ گیا،ان میں چار گلابی رنگ کی بسیں بھی شامل ہیں جو صرف خواتین کے لیے مختص ہیں۔ یہ اقدام جمعہ کو بلوچستان کابینہ کی جانب سے منظور کی گئی اہم اصلاحات کے سلسلے کا حصہ ہے۔
اس ہفتے صوبائی دارالحکومت میں کم اخراج کرنے والی 17 بسیں پہنچ گئی ہیں، جو شہر میں پہلے سے چلنے والی آٹھ ماحول دوست بسوں میں اضافہ ہیں۔ نئے شامل کیے گئے بیڑے سے کوئٹہ میں فوری طور پر نئی روٹس شروع کی جائیں گی، جن کے ذریعے یونیورسٹی روڈ سے سریاب مل تک کے علاقوں کو جوڑا جائے گا، جبکہ مستقبل میں اس نیٹ ورک کو کوئٹہ سے ملحقہ علاقے کوچلاک تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
خواتین کے لیے خصوصی پنک بس سروس کا آغاز خواتین مسافروں کو زیادہ محفوظ اور قابلِ رسائی شہری ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، کیونکہ شہر میں خواتین اکثر ہراسانی اور محدود نقل و حرکت کے مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔
اس فیصلے کی باضابطہ منظوری وزیرِاعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ کے 20ویں اجلاس میں دی گئی۔ اجلاس میں ماحولیاتی تحفظ، بینکنگ طریقہ کار، انتظامی امور اور عوامی خدمات جیسے شعبوں میں وسیع اصلاحات کی منظوری بھی شامل تھی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ نے خواتین کے لیے مخصوص بسوں کو بلوچستان میں خواتین مسافروں کا “اعتماد اور وقار بحال کرنے” کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی ٹرانسپورٹ اور شہری سفری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
آٹھ کم اخراج والی بسوں کی پہلی کھیپ جولائی 2023 میں چین سے درآمد کی گئی تھی، جو ابتدائی طور پر صرف ایک ہی روٹ پر چلتی تھیں—سریاب روڈ سے ایئرپورٹ چوک تک—جس میں 18 مقررہ اسٹاپ شامل تھے۔ محدود بیڑے کے باعث بسوں میں ہجوم بڑھ گیا تھا، جس کے بعد صوبائی حکومت نے مزید بسیں منگوانے کا فیصلہ کیا۔ نئی موصول ہونے والی بسیں اب اہم راستوں پر وسیع کوریج فراہم کریں گی اور آہستہ آہستہ کوچلاک تک توسیع میں مدد دیں گی۔
صوبائی ٹرانسپورٹ پلان کے تحت اگلے مرحلے میں گوادر اور تربت کو چار چار بسیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ پشین، خضدار اور سوئی کو دو دو بسیں دی جائیں گی، جس سے بلوچستان کے مزید اضلاع میں باقاعدہ عوامی ٹرانسپورٹ سروسز متعارف کرائی جائیں گی۔