13/04/2026
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں گوادر، خضدار اور دیگر علاقوں میں شراب خانوں کے لائسنس کے اجرا کے معاملے پر تفصیلی اور گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جس میں مختلف ارکان نے اپنے تحفظات اور نکات پیش کیے۔
رکن اسمبلی یونس عزیز زہری نے کہا کہ “جلاوان وائن” کے نام سے ایک لائسنس جاری کیا گیا ہے جو خضدار سے منتقل کیا جا رہا ہے، اور اس عمل میں شفافیت پر سوالات اٹھائے۔
مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ گوادر میں چار شراب خانے موجود ہیں جو نوجوان نسل پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں، اس لیے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت تمام معاملات کو قانونی طریقہ کار کے مطابق دیکھ رہی ہے اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت لائسنسنگ کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انڈر ایج افراد کو کسی صورت شراب یا ممنوعہ اشیاء کی فروخت قانون کے خلاف ہے اور اس پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت گوادر سمیت تمام علاقوں میں شکایات کا جائزہ لے گی اور جہاں بھی خلاف ورزی ثابت ہوئی وہاں کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت تمام تحفظات کو دور کرنے کے لیے متعلقہ اراکین اور دیگر فریقین سے مشاورت کرے گی تاکہ پالیسی کو مزید واضح اور مؤثر بنایا جا سکے۔