22/08/2026
50سال بعد بھی وہی وعدے، وہی تقریریں!
29 جون 1976 کی ڈان کی یہ خبر دیکھیں۔
تب کہا گیا تھا کہ بلوچستان کو پسماندگی سے نکالا جائے گا، ترقی کی راہ پر ڈالا جائے گا اور عوام کی محرومیاں ختم کی جائیں گی۔
آج 2026 ہے۔ نصف صدی سے زیادہ گزر چکی ہے۔
لیکن وفاقی ایوان ہوں یا بلوچستان کی صوبائی اسمبلی آج بھی تقریروں میں تقریباً وہی باتیں سنائی دیتی ہیں۔
بلوچستان ترقی کرے گا، محرومیاں ختم ہوں گی، وسائل ملیں گےاور عوام خوشحال ہوں گے۔
مگر زمینی حقیقت؟
آج بھی بلوچستان کے لاکھوں لوگ پانی، بجلی، گیس، تعلیم، صحت، روزگار، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔
کئی علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر تک مکمل رسائی نہیں۔
تو سوال بہت سادہ ہے
اگر1976 میں بھی یہی وعدے تھے تو50 سال بعد بھی ہم وہیں کیوں کھڑے ہیں؟
مسئلہ یہ نہیں کہ وعدے کم ہوئے۔
مسئلہ یہ ہے کہ عمل اور نتیجے کی رفتار وعدوں سے کہیں پیچھے رہی۔
بلوچستان کو مزید تقریریں نہیں چاہئیں۔
بلوچستان کو اپنے حق کا حصہ،عملی ترقی، جواب دہی اور زمین پر نظر آنے والی تبدیلی چاہیے۔