YSR-News

YSR-News YSR-News work for your daily update information news intertainment weather report political etc .

اُدھار اُتارنے کے 15 انتہائی بے رحم اور عملی طریقےمجھ سے سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال کہ  قرض کیسے اتاریں ،پاکستان م...
07/02/2026

اُدھار اُتارنے کے 15 انتہائی بے رحم اور عملی طریقے

مجھ سے سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال کہ قرض کیسے اتاریں ،پاکستان میں واقعی سب سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ یہاں قرض کریڈٹ کارڈز کا نہیں، بلکہ رشتہ داروں، دکانداروں، کمیٹیوں اور شادی بیاہ کے بوجھ کا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسی دلدل ہے جہاں "سفید پوشی" کا بھرم انسان کو ڈبو دیتا ہے۔ اس فہرست کو ایک بار نہیں، تین بار پڑھیں اور اپنی کمر کس لیں۔

1. اعلانِ کنگالی کر دیں (Break the Illusion)۔
سب سے پہلے اپنی "سفید پوشی" کا بھرم توڑ دیں۔ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو صاف بتا دیں، “میں قرض میں ڈوب گیا ہوں، میرے پاس ایک روپیہ نہیں ہے، مجھ سے کسی تحفے، دعوت یا مدد کی امید نہ رکھیں۔" جب آپ یہ سچ بول دیتے ہیں، تو آدھا سماجی بوجھ اسی وقت اتر جاتا ہے۔
2. سماجی "موت" (Ghost Mode)۔
اگلے ایک سال کے لیے سماجی طور پر مر جائیں۔ شادیوں، سالگرہ کی پارٹیوں اور دوستوں کی بیٹھکوں میں جانا بند کر دیں۔ جب آپ محفل میں جاتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی جیب ڈھیلی کرنی پڑتی ہے۔ "لوگ کیا کہیں گے" کی پرواہ کیے بغیر غائب ہو جائیں۔ تنہائی سستی ہے۔
3. سونے اور پلاٹ کی قربانی (Liquidation)۔
اگر گھر میں بیگم کا سونا پڑا ہے یا کوئی ایسی فائل/پلاٹ ہے جس پر تعمیر نہیں ہو رہی، تو اسے آج بیچ دیں۔ یہ نہ سوچیں کہ "یہ برے وقت کا ساتھی ہے" برا وقت آ چکا ہے۔ سود یا قرض کا پریشر آپ کے اثاثے کی ویلیو سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ چیزیں دوبارہ آ جائیں گی، سکون اور عزت واپس نہیں آئے گی۔
4. کمیٹی (BC) کا اسٹریٹجک استعمال۔
کمیٹی صرف اس شرط پر ڈالیں کہ آپ پہلی کمیٹی اٹھائیں گے اور اس سے سیدھا جا کر پرانا ادھار اتاریں گے۔ اگر آپ آخری نمبروں پر کمیٹی لے رہے ہیں تو آپ بیوقوفی کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو "سیونگز" نہیں، "قرض اتارنے کا ہتھیار" بنائیں۔
5. مہمان نوازی پر عارضی پابندی۔
ہمارے کلچر میں مہمان کو "مرغا" کھلانا فرض سمجھا جاتا ہے۔ بے رحم بنیں، جو بھی آئے، اس کے سامنے صرف چائے اور بسکٹ رکھیں (یا صرف پانی)۔ اگر کوئی برا مانتا ہے تو ماننے دیں۔ آپ اس وقت مہنگے کھانے کھلانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ اپنے گھر کے دروازے محدود کر دیں۔
6. ڈبل ڈیوٹی (16 گھنٹے کام)۔
اگر آپ 9 سے 5 کی نوکری کر رہے ہیں، تو یہ کافی نہیں ہے۔ شام 6 بجے سے رات 12 بجے تک دوسری نوکری کریں (رائیڈنگ، ٹیوشن، دکان پر کام، یا آن لائن)۔ جب تک سر پر قرض ہے، آپ کے لیے "آرام" اور "نیند" حرام ہے۔ جسم تھکے گا، لیکن قرض اترے گا۔
7. شادیوں کا "سلامی" بائیکاٹ۔
پاکستان میں ہزاروں روپے صرف "سلامی" اور "نیوندرا" دینے میں چلے جاتے ہیں۔ شادیوں کے کارڈز کو پھاڑ کر پھینک دیں۔ نہ شادی پر جائیں، نہ نئے کپڑے سلوانے پڑیں گے اور نہ سلامی دینی پڑے گی۔ یہ ایک "فضول خرچ" سرکل ہے، اس سے نکل جائیں۔
8. گھر کا راشن، دال اور سبزی۔
گھر والوں کو بٹھا کر بتا دیں کہ اگلے 6 ماہ تک گوشت، باہر کا کھانا، اور کولڈ ڈرنکس گھر میں نہیں آئیں گی۔ دال، چاول اور موسمی سبزی پر گزارہ کریں۔ خوراک کو صرف "پیٹ بھرنے کا ذریعہ" سمجھیں، زبان کا چسکا نہیں۔
9. ہر فالتو چیز بیچ دیں (The 100 Item Rule)۔
اپنے گھر پر ایک بے رحم نظر ڈالیں۔ پرانا فرنیچر، فالتو پنکھے، بچوں کی پرانی سائیکل، یا وہ دوسرا موبائل جو دراز میں پڑا ہے۔ سب کی تصویریں لیں اور OLX پر بیچ دیں۔ آپ کا گھر گودام نہیں ہے۔ یہ کباڑ بیچ کر جو 10، 20 ہزار آئیں، انہیں فوراً قرض خواہ کے منہ پر ماریں۔
10. مکان چھوٹا کر لیں (Downsizing)۔
اگر آپ کرائے کے گھر میں ہیں، تو اپنی انا کو ماریں اور کسی سستے علاقے میں یا چھوٹے پورشن میں شفٹ ہو جائیں۔ اگر ممکن ہو تو کچھ عرصے کے لیے والدین کے ساتھ ایڈجسٹ ہو جائیں۔ کرائے کی مد میں بچنے والا 10 ہزار روپیہ بھی قرض کی جنگ میں بہت بڑی مدد ہے۔
11. دکاندار کا "کھاتہ" بند۔
محلے کی دکان سے ادھار پر سودا لینا بند کر دیں۔ جب آپ "لکھوا" لیتے ہیں، تو آپ غیر ضروری چیزیں اٹھا لیتے ہیں۔ صرف جیب میں موجود کیش سے خریداری کریں۔ جب نوٹ جیب سے نکلتے ہیں تو انسان کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ کم خرچ کرتا ہے۔
12. ہفتہ اتوار،کمائی کے دن۔
عام لوگوں کے لیے ہفتہ اتوار چھٹی ہوتی ہے، مقروض کے لیے یہ "کمائی کا سیزن" ہے۔ ان دو دنوں میں کوئی ایکسٹرا کام پکڑیں۔ اگر کوئی ہنر نہیں آتا تو مزدوری کر لیں۔ قرض اتارنے کے لیے ہاتھ کالے کرنا غیرت کی بات ہے، قرض مانگنا بے غیرتی ہے۔
13. لفافہ سسٹم (The Envelope Method)۔
مہینے کے شروع میں بل، راشن اور پٹرول کے پیسے الگ الگ لفافوں میں ڈال دیں۔ جب لفافہ خالی، تو خرچہ بند۔ ڈیجیٹل ایپس (EasyPaisa/JazzCash) میں پیسے رکھنے کی بجائے کیش رکھیں، کیش خرچ کرنا نفسیاتی طور پر مشکل ہوتا ہے۔
14. قسطوں کے جال سے بچیں۔
"آسان اقساط" پر موٹر سائیکل یا فون لینا خودکشی ہے۔ یہ اور کچھ نہیں بس قرض پر مزید سود ہے۔ اگر آپ کے پاس کیش نہیں ہے، تو آپ کو وہ چیز خریدنے کا کوئی حق نہیں۔ ٹوٹی ہوئی اسکرین والے فون کے ساتھ گزارہ کر لیں لیکن نیا قسطوں پر مت اٹھائیں۔
15. ہجرت (The Nuclear Option)۔
اگر مقامی قرض لاکھوں میں ہے اور یہاں تنخواہ ہزاروں میں، تو جذباتی نہ ہوں۔ پاسپورٹ بنوائیں اور محنت مزدوری کے لیے باہر (دبئی/سعودی عرب ) نکل جائیں۔ وہاں کی کرنسی مضبوط ہے۔ دو سال کی سخت محنت وہاں کریں اور یہاں کا سارا قرض اتار دیں۔ یہ آخری اور سب سے موثر حل ہے۔

27/12/2025

تھوک: Saliva or Spit
آج تھوک کی افادیت پر بات کرتے ہیں😄.
تھوک وہ گمنام ہیرو ہے جس کا کوئی بھی تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ نام سنتے ہی تھو تھو کرنا شروع کردیتے ہیں 😂 لیکن سب سے پہلے سب کے کام تھوک ہی آتا ہے!
تھوک کیا ہوتا ہے؟
تھوک دراصل پانی ہی ہے۔ یہ 98-99% فیصد تک پانی ہوتا ہے جبکہ باقی 1سے 2 فیصد مقدار کھانا ہضم کرنے والے انزائیمز, یورک ایسڈ، الیکٹرولائیٹس، اور پروٹین کی ہوتی ہے۔
تھوک کہاں سے آتا ہے؟
ہمارے منہ میں جبڑے کی پچھلی جانب، جبڑے کے نیچے اور زبان کے نیچے تھوک کے تین گلینڈز موجود ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ منہ میں تھوک کے تین جگہ پائیپ فٹ ہیں۔ جبڑے کے پیچھے پائیپ ( گلینڈ ) کو parotid gland, جبڑے کے نیچے submandibular gland , اور زبان کے نیچے گلینڈ کو sublingual gland کہتے ہیں۔ 2020 میں ہماری گالوں کے اندر گلینڈز کا ایک جوڑا بھی دریافت ہوا ہے جس پر پہلے کسی کی نظر نہیں پڑی انہیں Tubarial گلینڈز کہتے ہیں اور ان کے بارے میں بھی ڈاکٹروں میں بحث جاری ہے کہ آیا یہ بھی تھوک بنانے والے گلینڈز ہیں کہ نہیں۔یہ تمام گلینڈز خاص قسم کے کروڑوں سیلز سے مل کر بنے ہیں جنہیں acini کہتے ہیں اور یہی سب سیلز مل کر تھوک بنانے کا کاروبار کرتے ہیں۔
تھوک کی کتنی اقسام ہیں؟
تھوک کی پانچ اقسام ہیں جو دراصل پانچ ادوار ہیں جن میں تھوک کے اندر پائے جانے والے اجزا جسم کی ضرورت کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔
1 پہلی قسم Cephalic:
یہ مشہور قسم ہے جو اپنا پسندیدہ کھانا دیکھنے یا سوچنے پر پیدا ہوتی ہے۔ جسے منہ میں پانی بھر آنا بھی کہتے ہیں۔
2 دوسری قسم Buccal:
تھوک کی یہ شکل کھانا کھاتے وقت پیدا ہوتی رہتی ہے۔
3 تھوک کی تیسری قسم Esophageal:
جیسے ہی کھانا منہ سے آگے نکل کر حلق سے ہوتا ہوا خوراک کی نالی Esophagus میں پہنچتا ہے تو منہ میں یہ تھوک پیدا ہوتا ہے۔
4 تھوک کی چوتھی قسم Gastric:
جب معدے میں گڑ بڑ ہو اور الٹی ہونے کا خدشہ ہو تو تھوک کی یہ قسم پیدا ہوتی ہے۔
5 تھوک کی پانچویں قسم intestinal:
جب خوراک ٹھیک طرح ہضم نہ ہو اور آنتوں میں پہنچ جائے تو تھوک کی ایسی قسم منہ میں بنتی ہے۔
تھوک کے متعلق کچھ دلچسپ باتیں:
* ہمارے منہ میں ہر روز تقریباً ایک سے دو لیٹر تھوک پیدا ہوتا ہے۔
* تھوک دن کے بعد اور شام تک سب سے زیادہ پیدا ہوتا ہے جبکہ رات کے وقت اسکی پیداوار کم ہوتی ہے۔
* عورتوں کی نسبت مردوں کے منہ میں تھوک زیادہ پیدا ہوتا ہے۔
*ننھے بچوں کے منہ سے رسنے والا پانی (پنجابی میں لیلیں) دراصل انکے دانت نکلنے کے مراحل کے دوران پیدا ہوتا رہتا ہے تاکہ مسوڑے سوجن، درد اور انفیکشن سے محفوظ رہیں۔ اس پانی کو Drool کہتے ہیں۔ البتہ کسی بڑے میں یہ بکثرت نکلنے لگے تو کسی انفیکشن کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔
تھوک کے فائدے:
* تھوک کے بیشمار فائدے ہیں 😁. نقلی دانتوں کی بتیسی کا ایک جوڑا کسی دانتوں کی دوکان سے اٹھائیں (پیسے دے کر) اور ان کو آپس میں رگڑتے جائیں۔ کیا ہوگا؟ جی ہاں خراشیں پڑ جائیں گی، ہلکے ہلکے ٹوٹ بھی جائیں گے ۔ لیکن ہمارے منہ میں ہم ہر روز کھاتے پیتے اور کسی رشتے دار کو دیکھتے دانت پیستے ہیں تو یہ سچ میں کیوں نہیں پسے جاتے؟
دراصل تھوک یہاں بطور موبل آئل یعنی Lubricant کام کرتا ہے۔ دانتوں کو تر رکھ کر رگڑ سے بچاتا ہے۔ دوسرا کام یہ کرتا ہے کہ اس میں موجود مختلف نمکیات دانتوں کے بیرونی سخت خ*ل جسے enamel کہتے ہیں اس کو ضروری معدنیات مہیا کرکے مضبوط کرتا ہے۔
*تیز تیزاب والے کھانے مثلاً لیمن ، اورنج, سوڈا وغیرہ دانتوں کے بیرونی خ*ل میں سوراخ کرسکتے ہیں۔ انہیں گلا سکتے ہیں۔ لیکن عین اسی لمحے تھوک اس تیزاب میں شامل ہوکر اس کو "نیوٹرل" کر دیتا ہے۔ اس طرح دانت محفوظ رہتے ہیں۔
*میٹھا بھی دانتوں کا سخت دشمن ہے میٹھا جو دانتوں میں آگے پیچھے تھوڑا بہت پھنس جاتا ہے وہاں بیکٹیریا حملہ کرکے تیزاب پیدا کرتے ہیں اور دانتوں میں کیویٹی یعنی کھوڑ پڑجاتے ہیں لیکن تھوک باقاعدہ اس میٹھے کو اتارتا رہتا ہے، تیزاب کو نیوٹرل کرتا رہتا ہے اور بیکٹیریاز کو بھی مارتا رہتا ہے۔ مطلب کہ یہ قدرتی دوائی ہے جو آپ کے دانتوں کے لئیے منہ میں رکھ دی گئی ہے۔ ( ہاں لیکن اگر آپ میٹھے پر ہتھ ہولا نہ رکھیں تو پھر تھوک کا کوئی قصور نہیں تین ہی پائپ فٹ ہیں ہزار نہیں 😄)
*دانت تو محفوظ کرلئیے اب آجائیں مسوڑوں کی جانب۔ تھوک مسوڑوں کی بھی جان ہے بلکہ مسوڑوں کی بقا تھوک میں ہے۔ تھوک میں لائیزو زائم، پیپٹائیڈز، اور کچھ پروٹین ہوتے ہیں جو مسوڑوں پر حملہ ہونے والے بیکٹیریاز کی کھال ادھیڑ دیتے ہیں ( سچ میں کھال)۔
*نظام انہضام میں پہلا کام تھوک کا ہے۔ اور یہی بات اوپر لکھی گئی کہ سب سے پہلے سب کے کام تھوک ہی آتا ہے 😁.
جب ہم کسی شے کا نوالہ لیتے ہیں تو تھوک منہ میں پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح خوراک کے زرات لے کر زبان پر پھیلادیتا ہے تاکہ زبان پر موجود ذائقے کے سیلز اس ذائقے کو پہچان کر دماغ تک پہنچائیں۔ بنا تھوک کے زبان کا کام بھی سخت مشکل ہوجائے گا۔ اب تھوک کا اگلا کام کھانے کو انتہائی نرم کچے آٹے جیسا گوندھنا ہے تاکہ حلق سے باآسانی پیٹ کی جانب سفر شروع کرے۔ اسی لئیے سیانے کہتے کہ کھانے کو خوب چبا چبا کر کھائو۔ تھوک میں موجود قدرتی کیمیکلز بہت سارے پیچیدہ غذائی زرات مثلاً سٹارچ اور Fats کو منہ سے ہی ہضم کرنا شروع کردیتےہیں۔ روٹی چاول نو ڈلز میں کافی سٹارچ ہوتا ہے بنا تھوک کے ان کا انہضام بڑا مشکل ہوتا۔
* تھوک کسی زخم پر لگانے کے قصے سنے دیکھے ہیں۔ دراصل یہ بات درست ہے! تھوک میں زخموں کو مرہم کرنے والے وائیٹ سیلز نیوٹرو فلز موجود ہیں جو زخم بھرنے کی رفتار کو تیز کرتے ہیں۔ اسی لئیے آپ نے اکثر جانوروں کو اپنے زخم چاٹتے دیکھا ہے (حیرت ہے انہیں یہ فوائد کیسے پتہ)۔ اس کے علاوہ تھوک میں موجود لائیزوزائم زخموں میں موجود بیکٹیریاز مار کر زخم صاف کردیتا ہے۔
تھوک کے نقصانات -/+18 دونوں😄:
*جنسی تعلقات میں تھوک کا استعمال انتہائی نقصان دہ ہے۔ تھوک کسی بھی لحاظ سے بطور Lubricant استعمال کرنا مخالف پارٹنر میں مختلف انفیکشن پیدا کرسکتا ہے (e.g vaginal yeast infection). اس کے علاوہ بہت ساری گلے اور منہ کی جنسی بیماریاں مثلاًHerpes تھوک کے ذریعے مخالف کے خاص حصوں میں منتقل ہوسکتی ہیں۔
*بوسہ لینے میں بھی تھوک کے زریعے جراثیم پھیلتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 10 منٹ کے بوسے میں تقریباً 60 ملین جراثیم ایک دوسرے میں ٹرانسفر ہوتے ہیں۔ لیکن میاں بیوی اس کے خطرات سے محفوظ ہیں کیونکہ دونوں کے جراثیم ایک جیسے ہوجاتے۔مسئلہ غیر ازدواجی جنسی تعلقات اور دھوکہ دہی میں ہوتا ہے۔
*بہت سارے پالتو جانور خصوصاً کتے انسانی زخم چاٹتے ہیں۔ انہیں اس سے دور رکھیں۔ امریکہ میں کئی ایسے کیسز ہوئے جہاں لوگوں کو اپنے بازو ٹانگ وغیرہ کتے کے چاٹنے کی وجہ سے کٹوانے پڑگئے کیونکہ خطرناک بیکٹیریا تھوک کے ذریعے انکے زخموں پر منتقل ہوئے۔ انسانی تھوک بھی زخم پر نہیں استعمال کرنا چاہئیے کیونکہ اس سے بیکٹیریا پھیلنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
*تھوک بکتا بھی ہے، جی ہاں سائوتھ افریقہ میں بڑھتی بیروزگاری کے سبب ٹی بی والے تھوک کی غیر قانونی منڈی لگتی ہے جہاں اچھے بھلے بیروزگار لوگ خرید کر لے کر جاتے ہیں اور اپنے آپکو یہ بیماری لگاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ٹی بی والوں کو ماہانہ حکومت خرچہ دیتی ہے۔ شاید اسی لئیے سائوتھ افریقہ ٹی بی کی بیماری میں ٹاپ پر ہے۔
* بہت سارے وائرس اور جراثیم مثلاً ہیپاٹائیٹس, ہرپیس، ایبولا زکا، تھوک کے ذریعے ایک دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بندے کے منہ میں یہ وائرس ہیں 😆 بلکہ جو شخص کسی گندی جگہ سے ان کا متاثر ہوا ہو۔ اس لئیے ایسے مریضوں سے ملتے وقت ماسک لازمی پہنیں۔
منہ میں تھوک کی کمی کے اثرات:
منہ میں تھوک کی کمی کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔ تھوک میں کمی سے بہت سارے جراثیموں کو حملہ کرنے کا موقع ملے گا، منہ میں متعدد زخم ہوتے رہیں گے، مسوڑوں پر بیکٹیریا آکر حملہ کرتے رہیں گے جس سے مسوڑوں میں زخم بھی ہونگے منہ میں بدبو بھی پیدا ہوگی، گلے کے، معدے کے مسائل جنم لیں گے اور سب سے بڑی بات آپ کے دانتوں کی تباہی شروع ہوجائے گی۔
تھوک میں کمی کی بڑی وجہ سٹریس ہے۔ سٹریس میں ہمارے تھوک کے گلینڈز ٹھیک طرح کام نہیں کرتے۔ خوف میں بھی ہمارا منہ خشک ہوجاتا ہے۔ دراصل انسان 60 فیصد پانی پر مشتمل ہے اور دماغ اس پانی کو مختلف عضو کے ذریعے آگے پیچھے کرتا رہتا ہے اب چونکہ خوف میں جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو نتیجتاً جسم پسینہ خارج کرتا ہے تاکہ جسم کے درجہ حرارت میں بیلنس ہو. پانی پسینے میں چلا جائے گا تو گلینڈز کو کم ملے گاجس سے تھوک میں واضح کمی ہوگی اسی لئیے خوف پریشانی میں گلا خشک ہوجاتا ہے۔ (پکڑے جائیں تو پھر بھی تھوک نہیں بنتا 😅)
تھوک میں کمی کو کیسے پورا کیا جائے۔
تھوک میں کمی کو Dry Mouthکہتے ہیں اور ڈاکٹرز ادوایات سے بھی اس کا علاج کرتے ہیں جبکہ سب سے بہتر حل پانی کا باقاعدہ استعمال ہے تاکہ جسم میں وافر مقدار میں پانی موجود ہو۔ اس لئیے خوف یا سٹریس میں خوب پانی پئیں۔
شوگر فری ببل گم اور ٹافیاں بھی ملتی ہیں جن میں Xylitol شوگر موجود ہوتی ہے۔ یہ کیمیکل تھوک کے گلینڈز کوایکٹو کرتا ہے۔ اس لئیے تھوک کی کمی کے شکار لوگ، ( جن کی زبان بھی سفید ہوجاتی ہے) اس ببل گم کا استعمال کریں۔ یہ گم بچوں کے دانتوں کے لئیے بھی مفید ہے۔
میڈیکل سٹور سے Dry Mouth والے مائوتھ واش کا استعمال بھی بہتر ہے۔ سگریٹ نوشی شراب نوشی، چائے سو ڈا کا زیادہ استعمال بھی تھوک کی کمی کا باعث بنتا ہے۔
تھوک کی کمی سے بہت سارے غزائی اجزا ٹھیک طرح ہضم نہیں ہوپائیں گے نتیجتاً معدے کی سختی آجائے گے۔ کھانا دیر سے ہضم ہوگا۔ گیس اور قبض کی شکایت ہوگی۔
بہت ساری ادوایات بھی تھوک کو خشک کرتی ہیں۔ منہ کی بدبو تھوک کا جمنا ہونٹوں کے اطراف میں کٹ سب تھوک کے مسئلے ہیں۔ زیادہ پانی پئیں، شوگر فری چیونگم چبائیں اور منہ بند کرکے سویا کریں😄.
منہ میں تھوک کی زیادتی:
حمل کے دوران اکثر خواتین کو ہوجاتی ہے، کسی زہریلے مادے مثلاً مرکری کے سامنے آنے سے بھی یہ مسئلہ ہوتا ہے، گلے کے انفیکشن ٹانسلز اور الرجی وغیرہ بھی تھوک میں زیادتی کرتے ہیں جو کافی الجھن پیدا کرتا ہے۔ لیکن کچھ خاص گھبرانے کی بات نہیں وقت سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اگر نہ ہو پھر ڈاکٹرز خشک کرنا جانتے ہیں۔ 😆.
دنیا میں سب سے دور تھوک پھینکنے کا ریکارڈ امریکہ کے ایلکس پنا نے بنایا جنہوں نے اپنا تھوک 22 فٹ دور پھینکا۔
دل تو چاہ رہا تھوک پر مذید لکھوں لیکن اپنا گلا خشک ہوگیا 😛.
خوش رہنا بہت ساری بیماریوں کی شفا ہے۔ خوش رہنا سیکھیں!

A dark chapter of history we must never forget.16 December — Black Day 🖤
16/12/2025

A dark chapter of history we must never forget.
16 December — Black Day 🖤

١) جب آپ کی مچھر دانی کا تھوڑا سا حصہ کھلا رہ جائے، لے مچھر:٢) میرا دوست پورا ہفتہ بے غیرتیاں کرنے کے بعد جمعہ کو مسجد ج...
15/12/2025

١) جب آپ کی مچھر دانی کا تھوڑا سا حصہ کھلا رہ جائے، لے مچھر:

٢) میرا دوست پورا ہفتہ بے غیرتیاں کرنے کے بعد جمعہ کو مسجد جاتے ہوئے:

٣) جب پرائمری جماعت میں آپ خوش ہو رہے ہوں کہ آج استانی جی نہیں آئیں، لے اسکول کا پرنسپل:

٤) جب میں سارا دن سوچ کر بھی کچھ نہ لکھ پانے کے بعد سونے لگوں، لے پھر اچھے اچھے خیالات:

٥) جب مجھے مٹھائی کی پلیٹ سے آخر میں اٹھانے کا موقع ملے، لے پتیسا:

ایسی بہت ساری میمیں بن سکتی ہیں اِس تصویر پر، اور آپ ہیں کہ ہر جگہ ایک ہی چھاپے جا رہے ہیں۔ چلیں ذرا کمنٹ سیکشن سوچ کر اچھے اچھے میم جملے لکھیں اِس تصویر پر۔ میم بنانے سے آپ کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے، دماغ تیز ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات، کہ آپ بغیر کسی بیرونی مدد کے، ہنسنے لگتے ہیں۔

حقیقت سے پردہ اٹھ گیا. کینسر بیماری نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے. شاید یہ سن کر اپ کو یقین نہ آئے کہ لفظ کینسر ایک جھوٹ ہے ا...
13/12/2025

حقیقت سے پردہ اٹھ گیا. کینسر بیماری نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے.

شاید یہ سن کر اپ کو یقین نہ آئے کہ لفظ کینسر ایک جھوٹ ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک کاروبار ہے . کینسر صرف وٹامن بی 17 کی کمی کے سوا اور کچھ بھی نہیں. کینسر دنیا بھر میں پھیلا ہوا ایک موذی مرض ہے اور اس بوڑھے، جوان، بچے حتی کہ ہر عمر اور طبقہ کے لوگ متاثر ہیں. اس حیران کن پوسٹ کو شئر کرنے سے دنیا بھر کے دھوکے بازوں کے چہروں سے نقاب اتر جائیں گے اور وہ دنیا کے سامنے ظاہر ہوجائیں گے. کیا اپ کو پتہ ہے کہ ایک کتاب جس کا نام "کینسر کے بغیر دنیا" کو اب تک بہت سی زبانوں میں ترجمہ کرنے سے روک دیا گیا ہے.

یہ جانیے کہ دنیا میں کینسر نامی کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ صرف وٹامن بی 17 کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے.

کیمیو تھراپی، سرجری اور شدید منفی اثرات رکھنے والی دوائیوں سے بچیے.

اپ کو یاد پڑے گا کہ ماضی میں انسانوں حاص کر ملاحوں کی ایک بڑی تعداد کو ایک مشہور بیماری سکروی کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے. اور کافی لوگوں نے اس سے ڈھیر سارا پیسہ کمایا. آخر میں یہ دریافت ہوا کہ سکروی صرف وٹامن سی کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے اور یہ کوئی بیماری نہیں ہے.

کینسر بھی بالکل اس طرح ہے. نوآبادیاتی دنیا او ر انسانیت کے دشمنوں نے کینسر پیدا کیا اور اس کو ایک کاروبار بنایا جس سے وہ اربوں روپے کماتے ہیں.

کینسر کی انڈسٹری نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ترقی کی.کینسر کا مقابلہ کرنے کے لیے اتنی تاخیر، تفصیلات اور خرچوں کی ضرورت نہیں. یہ صرف نوابادکاروں کی جیبیں بھرنے کے لیے ہورہا ہے حالانکہ اس کا علاج بہت پہلے دریافت ہوچکا ہے.

مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کر کے کینسر سے بچاؤ اور اس کا علاج کیا جاسکتا ہے.

وہ افراد جن کو کینسر لاحق ہے کو گھبرائے بغیر یہ جاننا چاہیے کہ دراصل کینسر ہے کیا اور پھر اس کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی چاہیے.

کیا آج کل کوئی بھی سکروی کی بیماری سے خلاق ہوتا ہے؟ نہیں کیونکہ اس کا علاج ہوجاتا ہے.

چونکہ کینسر وٹامن بی 17 کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے لہذا روزانہ پندرہ سے بیس ٹکڑے خوبانی کے بیج کھانا اس مسئلے کے حل کے لیے کافی ہے.

گندم کی کلی کھائیے کیونکہ یہ کینسر کے خلاف ایک معجزاتی دوا ہے. یہ مادہ آکسیجن اور کینسر کے خلاف سب سے طاقتور مادہ laetrile کا بہت بڑا ذریعہ ہے. یہ سیب کے بیج میں بھی پایا جاتا ہے اور وٹامن بی 17 کی extracted خالت ہے.

امریکی دواساز کمپنیوں نے ایک قانون نافذ کرنے شروع کیا ہے جس میں laetrile کی پیداوار پر پابندی ہے. یہ دوائ میکسیکو میں تیار ہوتی ہے اور امریکہ میں سمگل ہوتی ہے.

ڈاکٹر ہیرا لڈ ڈبل یو مینر نے اپنی کتاب "کینسر کی موت" میں کہا ہے کہ laetrile سے کینسر کے علاج کے امکانات نوے فیصد سے بھی زیادہ ہے.

وٹامن بی 17 کے حصول کے ذرائع

وہ غذائیں جن میں وٹامن بی 17 پایا جاتا ہے مندرجہ ذیل ہیں.

1.گٹلی دار پھل یا میوہ جات کے بیج. ان میں وٹامن بی 17 سب سے زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں. ان میں سیب، خوبانی, ناشپاتی اور الوبخارہ کے گٹلی دار پھل شامل ہیں.

2.عام پھلیاں، مکئی(اناج) جن میں لوبیا، دال بڈ، لیماں کے پھلیاں (لوبیا کی ایک قسم) اور مٹر شامل ہیں.

3.اناج کے دانے جن میں کڑوا بادام اور ہندوستانی بادام شامل ہیں.

4.شہتوت. تقریباً تمام شہتوت جن میں کالا شہتوت، نیلا شہتوت, رس بھری اور اسٹرابیری شامل ہیں.

5.بیج یا تخم. تل کے بیج اور السی کے بیج.

6.جئ، جو، باسمتی چاول کا گچ . بلاک گندم، السی، جوار اور رائ کا گچ.

7. خوبانی کے بیج، کشیدہ کیے گئے خمیر، کھیتوں سے لیا گیا چاول اور میٹھا گوشت کدو.

کینسر کے خلاف موثر غذاؤں کی فہرست.
خوبانی (بیج).
دوسروے پھلوں کے بیج جیسا کہ سیب، ناشپاتی، الو بخارا, چیری اور آڑو.
لیما کی پھلیاں
فیوا کے پھلیاں
گندم کا فصل
بادام
رس بھری
ایلڈر بیری
بلو بیری
جامن
اناج
سرغو
جو
باجرہ
کاجو
میکیڈیمیا (آسٹریلیا کا ایک میوہ)
پھلیاں

یہ سب وافر مقدار میں جسم میں ہونے والی وٹامن بی 17 کے ذرائع ہیں.

برتن دھونے اور ہاتھ دھونے والے مائع کا جسم کے اندر داخل ہونا کینسر کی ایک اہم وجہ ہے لہٰذا اس کو جسم کے اندر لے جانے سے پرہیز کرنا چاہیے. اپ یقینی طور پر اب یہ کہیں گے کہ ہم ان مادوں کو جسم کے اندر نہیں داخل ہونے دیتے لیکن جب اپ ان مادوں سے ہاتھ دھوتے ہیں یا برتن دھوتے ہیں تو ان کا کچھ حصہ ہاتھوں یا برتن میں جذب ہوجاتا ہے. اور پھر جب اپ برتن میں گرم کھانا ڈالتے ہیں تو یہ کھانے میں جذب ہوکر اپ کے جسم میں داخل ہوجاتی ہے. اگر اپ برتن کو سو مرتبہ بھی دھوکر صاف کریں پھر بھی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا.

لیکن اس کا بہت آسان حل ہے اور وہ یہ ہے کہ ہاتھ یا برتن دھوتے وقت آدھا ہاتھ دھونے والا اور برتن دھونے والا مادہ ڈال کر اس کے اوپر سرکہ چھڑکیں. اس طرح اپ کینسر کا باعث بننے والے زہریلے مواد کھانے سے بچ جائیں گے. اور اس طرح سبزیوں اور میوہ جات کو برتن دھونے والے مادوں سے ہرگز نہ دھوئیں. کیونکہ یہ فورا ان کے اندر تک چلے جاتے ہیں اور پھر کسی بھی طریقے سے باہر نہیں نکلتے. اس کا آسان حل یہ ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کو نمک سے گیلا کرکے پانی سے صاف کریں اور پھر تازہ رکھنے کے لئے اوپر سرکہ چھڑکیں.

اپ کی ایک چوٹی سی کاوش یقیناً کئ زندگیوں کو کینسر کی موذی مرض سے بچاسکتی ہے.

Boby bahi to zalmi may chlay gaye hein pr har koi demand kr rha 🔥
12/11/2022

Boby bahi to zalmi may chlay gaye hein pr har koi demand kr rha 🔥

17/04/2022

‏عدلیہ لوٹوں کا فیصلہ کر لیتی تو یہ حالات کبھی نہ ہوتے۔

17/04/2022

‏پاکستانی قوم کو سلام 🌹سازشیوں نے سمجھا عمران خان کو تنہا کر کے ماریں گے۰۰قوم اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی🌹
اسلام کے لشکرمیں ہے قاسم سا فرزند
اس ملک و ملت میں بچے بھی قٖاری و قامند
ہم زندہ قوم ہیں
پائندہ قوم ہیں
پم سب کی یہ پہچان
ہم سب کا پاکستان

17/11/2020

🌷السلام علیکم🌷

رحم کرنے والے پر اللہ رب العزت رحم کرتا ھے۔۔اس لیے تم زمین والوں پر رحم کرو تو آسمان والا تم پر رحم فرماۓ گا۔۔
اللہ رب العڑت ھم سب پر رحم فرماۓ۔۔۔ آمین

💕💕صبح بخير💕💕

https://ysrnews7.blogspot.com/2020/10/blog-post_76.html
20/10/2020

https://ysrnews7.blogspot.com/2020/10/blog-post_76.html

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے پیر کو زمبابوے کے خلاف سیریز کے لیے 22 رکنی ممکنہ پاکستانی سکواڈ کا اعلان کر دیا ہ...

Address

Rahimyar Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when YSR-News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share