19/02/2026
السلام علیکم ! جبری انتقال قومیت کے شکار سرائیک النسل قبائل کا نوحہ ۔
سرائیک النسل قبائل کو جبری انتقال قومیت کا شدید ترین خطرہ لاحق ھے ۔ سرائیک وادی سندھ کے قدیم باشندے ہیں ، بلوچ ، ایرانی ھو یا کرد ، یا عرب النسل بلوش یہاں کے مقامی باشندے نہیں ہیں ، یہ خانہ بدوش تھے اور ہیں ، بلوچوں نے زبردستی ان سرائیک النسل قبائل کو بلوچ شمار کر رکھا ھے جو کسی حوالے سے عرب ، ایران ، کرد اور ترک نژاد نہیں ہیں تاریخی کتب میں بلوچوں کو چور ، دھڑیل ، خانہ بدوش لکھا گیا ھے ، ہمارے کچھ دانشور نفسیاتی غلبے کے زیر اثر ھو کر چوروں ، لٹیروں ، خانہ بدوشوں کو بہادر ، اور انکی عزت و تکریم کرتے نظر آتے ہیں ، اس مخصوص لابی نے مقامی آبادی کا استحصال کیا انکے وطنیت کو کمزور کیا ھے ، غیر مقامی آبادی کو اہمیت دی ھوئی ھے ، دنیا میں بڑھتی ھوئی وطن پرستی کے تنظار میں شعراء کرام و دانشور اشریفہ کو اپنا قبلہ درست سمت میں تبدیل کر دینا چاہیے اور کھل کر سرائیک النسل قبائل کی جبری انتقال قومیت پر شاعری کرنی چاہیے ۔