22/08/2026
*طلبہ کا پیغام 🙃*
السلام علیکم، میں میڈیکل کالج کی طالب علم ہوں۔ آپ سے ایک ریکویسٹ تھی کہ براہِ کرم اس مسئلے کے لیے ہماری آواز اٹھائیں۔
گزشتہ تین ماہ سے راولاکوٹ میں حالات کی وجہ سے ہمارے ہاسٹلز بند ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہماری عوامی حقوق کی تحریک پر کریک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار بھی بند ہیں، لوگ سراپا احتجاج ہیں اور طلبہ کو بھی کافی مشکلات کا سامنا ہے۔میری آپ سے گزارش ہے کہ ہمارے ہاسٹل کے مالکان ہم سے ہر ماہ کا مکمل کرایہ مانگ رہے ہیں، حالانکہ ہم ان ہاسٹلز میں رہ ہی نہیں رہے۔ ایسے حالات میں کیا طلبہ کو کچھ ریلیف یا رعایت نہیں ملنی چاہیے؟راولاکوٹ ہاسٹل ایسوسی ایشن کے صدر امتیاز صاحب تک آپ یہ بات پہنچا سکتے ہیں کہ موجودہ حالات میں طلبہ کے ساتھ ہاسٹل رینٹ کے معاملے میں کچھ رعایت کی جائے۔ ہر طالب علم کے لیے تین ماہ کا مکمل کرایہ ادا کرنا کافی مشکل ہے، خاص طور پر جب ہر طرف کاروبار اور آمدنی کے ذرائع بھی متاثر ہیں۔اوپر سے ہماری آن لائن کلاسز جاری ہیں، جن کی وجہ سے ہمیں پاکستان کے دوسرے شہروں میں منتقل ہو کر رہنا پڑ رہا ہے، جہاں رہائش اور دیگر اخراجات بھی الگ سے برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ہماری ایک اور اہم گزارش ہے کہ آن لائن کلاسز کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ سروس فوری طور پر بحال کی جائے۔ انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے طلبہ اپنی آن لائن کلاسز، لیکچرز اور تعلیمی سرگرمیوں میں باقاعدگی سے حصہ نہیں لے پا رہے۔ خاص طور پر میڈیکل کے طلبہ کے لیے تعلیمی سلسلہ متاثر ہونا مستقبل کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ہم کسی غیر ضروری سہولت کا مطالبہ نہیں کر رہے، صرف یہ چاہتے ہیں کہ موجودہ غیر معمولی حالات میں طلبہ کو ہاسٹل کرایوں میں مناسب ریلیف دیا جائے اور تعلیم جاری رکھنے کے لیے کشمیر میں انٹرنیٹ بحال کیا جائے۔
امید ہے متعلقہ حکام، ہاسٹل ایسوسی ایشن اور ہاسٹل مالکان طلبہ کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے اس معاملے میں ہمدردانہ اور فوری اقدامات کریں گے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے طلبہ