Kashmir Facts

Kashmir Facts کشمیریت

29/12/2025

مولوی کی کیاں نیا آخنے

28/12/2025

🟢 آج کی اہم خبریں — آزاد کشمیر 🟢
📍 مظفرآباد
وزیراعظم پاکستان نے مظفرآباد میں جدید کینسر ہسپتال اور میڈیکل کالج کا افتتاح کر دیا، جس سے آزاد کشمیر کے عوام کو علاج کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔
⚖️ عدالتی خبر
آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں خالد یوسف چوہدری کو مستقل جج مقرر کر دیا گیا، جس سے عدالتی نظام مزید مضبوط ہوگا۔
🏛️ سیاسی سرگرمیاں
مسلم کانفرنس کے اہم رہنما سابق آرگنائزر ثاقب مجید نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی، جس سے سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
📢 عوامی مسائل
محکمہ اوقاف اور دیگر سرکاری اداروں میں تقرریوں میں تاخیر پر عوام اور ملازمین نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
🗣️ آپ کی رائے کیا ہے؟
کمنٹ میں ضرور بتائیں 👇


#مظفرآباد

ہٹیاں بالا :نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا،جہلم ویلی کے علاقہ بٹ کھیتر میں قاری/امام مسجد کی قرآن پڑھنے کے لیے مسجد جانے والی...
28/12/2025

ہٹیاں بالا :نہ زمین پھٹی نہ آسمان گرا،جہلم ویلی کے علاقہ بٹ کھیتر میں قاری/امام مسجد کی قرآن پڑھنے کے لیے مسجد جانے والی دس سالہ نابالغ بچی کے ساتھ زبردستی جنسی زیا د تی،سٹی تھانہ پولیس ہٹیاں بالا نے درندہ صفت قاری کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا،تفتیش شروع، مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع،علاقہ میں شدید غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی،ملزم کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کے علاقہ بٹ کھیتر میں قرآن پڑھنے کے لیے مسجد جانے والی دس سالہ بچی مسماۃ(ف)کو چھٹی کے وقت قاری بلال ولد نزاکت حسین ستی ساکن کوٹلی ستیاں (حدود پاکستان) نے صفائی کے بہانے اپنے کمرے میں بلایا،کپڑے پھاڑ کر اسے زبردستی جنسی درندگی کا نشانہ بناڈالا،جب معصوم بچی پھٹے ہوئے کپڑوں اور نیم مردہ حالت میں گھر پہنچی تو اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ قاری نے اس کے ساتھ بد فعلی کی اور ساتھ دھمکی دی کہ اگر کسی کو بھی اس بارہ میں بتایا تو جان سے مار دوں گا، جس پر بچی کی والدہ اور دیگر خواتین نے مسجد پہنچ کر قاری کو کمرے میں بند کر کے پولیس کو اطلاع دی، جب ایس ایچ او سٹی ہٹیاں بالا منظر حسین چغتائی معہ نفری موقعہ پر پہنچے تو قاری کمرے کا روشن دان توڑ کر فرار ہو گیا تھا،ایس ایچ او منظر حسین چغتائی نے معہ نفری کارروائی کرتے ہوئے اتوار کی صبح تین بجے قاری بلال کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا،ملزم کے خلاف زیر دفعہ A/377 اے پی سی کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع کی جارہی ہے، عوامی حلقوں نے درندہ صفت قاری کو گرفتار کرنے پر ایس ایچ او منظر حسین چغتائی سمیت پولیس نفری کو مبارکباد دی،اس واقعہ کے بعد ضلع جہلم ویلی بھر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا،عوامی حلقوں نے گھناونے فعل میں ملوث قاری کو عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔

28/12/2025

آج پلندری دیوان گوراہ میں ایکشن کمیٹی کے لوگوں نے MLA محمد حسین کی گاڑی روک لی

محمد حسین صاحب نے کہا مطالبات جا کر مولوی سے مانگو

سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر انتقال کر گئیں
27/12/2025

سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر انتقال کر گئیں

27/12/2025

27 دسمبر — یومِ شہ ادت محترمہ بے نظیر بھٹو
آج وہ دن ہے جب پاکستان کی تاریخ ایک بار پھر لہو میں نہا گئی تھی…
جب ایک نڈر، بے باک اور عوامی لیڈر ہم سے جدا کر دی گئی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید
صرف ایک سیاستدان نہیں تھیں،
وہ جمہوریت کی علامت،
عورت کے حوصلے کی پہچان،
اور آمریت کے خلاف جدوجہد کی روشن مثال تھیں۔
انہوں نے جان دے دی
مگر اپنے نظریے، اپنے عوام
اور پاکستان کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
آج بھی اُن کی آواز گونجتی ہے: "جمہوریت بہترین انتقام ہے"
اللہ تعالیٰ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے
اور ہمیں ان کے نظریات پر چلنے کی توفیق دے۔
شہید زندہ ہوتے ہیں۔
🖤🌹


#27دسمبر

یوم شہادت بینظیر بھٹو شہید27 دسمبر 2007
27/12/2025

یوم شہادت
بینظیر بھٹو شہید
27 دسمبر 2007

26/12/2025

دجال کے متعلق احادیث اور دور حاضرہ کے مطابق معلومات
: باب اول: فتنہ کیا ہے؟ — قرآن و سنت کی روشنی میں

فتنہ کا لغوی مفہوم
عربی زبان میں فتنہ کا مطلب ہے:
سونے کو آگ میں ڈال کر اس کی خالصی جانچنا۔
اسی طرح انسان کو آزمائش میں ڈالنا بھی "فتنہ" کہلاتا ہے۔
قرآن میں فتنہ کا تصور
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ"
"کیا لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی؟"
📖 سورۃ العنکبوت: 2
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ فتنہ ایمان کی کسوٹی ہے۔
فتنوں کی اقسام
نبی کریم ﷺ نے مختلف فتنوں کا ذکر فرمایا:
مال کا فتنہ
اولاد کا فتنہ
اقتدار کا فتنہ
علم کا فتنہ
اور سب سے بڑا فتنہ: دجّال
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آدمؑ سے لے کر قیامت تک دجّال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں آیا۔”
📖 (صحیح مسلم: 2946)
یہ حدیث خود ثابت کرتی ہے کہ دجّال محض ایک فرد نہیں بلکہ تاریخِ انسانی کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔
دجّال — نام کا مفہوم
لفظ دجّال عربی کے لفظ دَجَل سے ہے، جس کا مطلب ہے:
جھوٹ کو سچ کے لباس میں پیش کرنا۔
یعنی دجّال:
حق کو باطل بنائے گا
باطل کو حق بنا کر پیش کرے گا
جھوٹ کو سچ کی شکل دے گا
یہی وجہ ہے کہ اس کا فتنہ صرف جسمانی نہیں بلکہ عقیدے پر حملہ ہے۔
دجّال انسان ہوگا — کوئی علامتی چیز نہیں
بعض لوگ کہتے ہیں دجّال کوئی نظام ہے یا میڈیا ہے،
لیکن احادیث اس کی مکمل تردید کرتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“دجّال ایک آدمی ہوگا، اس کی ایک آنکھ ہوگی، وہ کھائے گا، پئے گا، اور لوگ اسے دیکھیں گے۔”
📖 (مسند احمد)
لہٰذا دجّال: ✔ انسان ہوگا
✔ جسمانی وجود رکھتا ہوگا
✔ بولے گا، چلے گا، دعویٰ کرے گا
دجّال کا مقصد کیا ہوگا؟
دجّال کا واحد مقصد ہوگا:
لوگوں کو اللہ سے ہٹا کر اپنی عبادت پر لگانا
اسی لیے وہ کہے گا:
"میں تمہارا رب ہوں"
اور یہی وہ لمحہ ہوگا جہاں ایمان اور کفر الگ ہوں گے۔
نبی ﷺ کی سب سے بڑی فکر
نبی کریم ﷺ نے ہر نبی کے بارے میں فرمایا:
"ہر نبی نے اپنی امت کو دجّال سے ڈرایا، اور میں تمہیں اس سے سب سے زیادہ ڈرا رہا ہوں۔"
📖 (بخاری)
یہ جملہ خود اس بات کا اعلان ہے کہ: دجّال کا فتنہ معمولی نہیں، بلکہ ایمان چھین لینے والا ہے۔

: 📘 باب دوم
دجّال کی جسمانی علامات — احادیث کی روشنی میں مکمل تحقیق
تمہید
نبی کریم ﷺ نے دجّال کے بارے میں سب سے زیادہ جسمانی نشانیاں اس لیے بیان فرمائیں تاکہ امت دھوکے میں نہ آئے۔
یہ نشانیاں محض علامتی نہیں بلکہ حقیقی، ظاہری اور واضح ہوں گی۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہیں دجّال کے بارے میں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی۔"
📖 (صحیح بخاری)
1️⃣ دجّال ایک آنکھ سے کانا ہوگا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"دجّال کانا ہوگا، اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔"
📖 (صحیح بخاری: 7407، صحیح مسلم)
🔹 اس کی ایک آنکھ بالکل خراب ہوگی
🔹 بعض روایات میں ہے کہ وہ ابھری ہوئی انگور کی مانند ہوگی
🔹 دوسری آنکھ بالکل صحیح ہوگی
یہ نشانی اس لیے بتائی گئی تاکہ کوئی مومن دھوکہ نہ کھائے، کیونکہ:
اللہ تعالیٰ کامل ہے، اور دجّال نقص والا۔
2️⃣ پیشانی پر "ک ف ر" لکھا ہوگا
نبی ﷺ نے فرمایا:
"دجّال کی پیشانی پر (ک ف ر) لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ لے گا، خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔"
📖 (صحیح مسلم: 2933)
اس کا مطلب کیا ہے؟
یہ عام تحریر نہیں ہوگی
بلکہ اللہ کی طرف سے ایک خاص پہچان ہوگی
مومن کے دل کو فوراً متنبہ کر دے گی
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ:
اصل پہچان آنکھ سے نہیں، ایمان سے ہوتی ہے۔
3️⃣ دجّال کا قد و قامت
احادیث کے مطابق:
درمیانہ قد
چوڑا جسم
سر کے بال گھنگریالے
سرخ رنگت مائل
نبی ﷺ نے فرمایا:
“میں نے خواب میں دجّال کو دیکھا، وہ گھنگریالے بالوں والا شخص تھا۔”
📖 (صحیح بخاری)
یہ تفصیل اس لیے دی گئی تاکہ کوئی شخص کسی اور کو دجّال نہ سمجھ بیٹھے۔
4️⃣ دجّال انسان ہوگا — کوئی دیو، جن یا نظام نہیں
بعض لوگ کہتے ہیں کہ دجّال کوئی سسٹم، میڈیا یا حکومت کا نام ہے۔
یہ بات احادیث کے سراسر خلاف ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"وہ کھائے گا، پئے گا، چلے گا، اور لوگوں سے بات کرے گا۔"
یہ تمام افعال صرف انسان کرتا ہے۔
لہٰذا: ❌ دجّال کوئی ٹیکنالوجی نہیں
❌ کوئی مصنوعی ذہانت نہیں
❌ کوئی حکومت یا نظام نہیں
بلکہ ایک زندہ انسان ہوگا۔
5️⃣ دجّال کی آنکھ کا راز
نبی ﷺ نے خاص طور پر آنکھ کا ذکر کیوں کیا؟
علماء کہتے ہیں:
کیونکہ آنکھ بصیرت کی علامت ہے
دجّال کے پاس ظاہری چمک ہوگی
مگر باطنی بصیرت ختم ہو چکی ہوگی
یعنی:
وہ دنیا دکھائے گا، مگر آخرت بھلا دے گا۔
6️⃣ کیا دجّال ابھی زندہ ہے؟
یہ سوال اگلے باب کا مرکزی موضوع ہوگا، جس میں ہم:
تمیم داریؓ کی مشہور حدیث
جزیرے میں قید دجّال
اس کے نکلنے کا وقت
سب کچھ مستند حوالوں سے بیان کریں گے۔
📌 خلاصۂ باب دوم
دجّال حقیقی انسان ہوگا
اس کی جسمانی نشانیاں واضح ہوں گی
ایک آنکھ کانا ہونا سب سے بڑی علامت ہے
پیشانی پر "ک ف ر" مومن کے لیے نشانی ہوگی
اس کا فتنہ آنکھوں سے نہیں، ایمان سے پہچانا جائے گا
۔

: 📘 باب سوم
دجّال کہاں ہے؟ کیا وہ اس وقت زندہ ہے؟
تمہید
یہ سوال کہ "کیا دجّال ابھی زندہ ہے یا پیدا ہی نہیں ہوا؟"
یہ محض تجسس نہیں بلکہ ایک عقیدے سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اس بارے میں ایسی واضح حدیث بیان فرمائی ہے جس کے بعد کسی قیاس یا اندازے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
1️⃣ تمیم داریؓ کی مشہور حدیث — اصل بنیاد
حضرت فاطمہ بنت قیسؓ فرماتی ہیں:
نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز کے بعد روکا اور فرمایا:
“تمیم داریؓ نے ایک عجیب واقعہ بیان کیا ہے، جو میرے بتائے ہوئے دجّال کے بارے میں بالکل مطابق ہے۔”
📖 (صحیح مسلم، حدیث 2942)
اب اصل واقعہ سنیے:
تمیم داریؓ کا واقعہ (خلاصہ مگر مکمل)
حضرت تمیم داریؓ ایک عیسائی تاجر تھے (بعد میں مسلمان ہوئے)۔
وہ ایک سفر پر نکلے، ان کی کشتی سمندر میں بھٹک گئی۔
کئی دن بعد وہ ایک نامعلوم جزیرے پر پہنچے۔
وہاں انہوں نے دیکھا:
ایک عجیب الخلقت جانور
پورا جسم بالوں سے ڈھکا ہوا
جسے "جسّاسہ" کہا جاتا تھا
اس نے کہا:
"تم اس شخص کے پاس جاؤ جو اس عمارت میں ہے، وہ تمہاری باتوں کا منتظر ہے۔"
وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو دیکھا:
ایک بہت بڑا آدمی
جس کے ہاتھ گردن تک اور پاؤں گھٹنوں تک زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے
2️⃣ وہ کون تھا؟
اس شخص نے سوالات کیے:
کیا کھجور کے درخت پھل دے رہے ہیں؟
کیا بحیرہ طبریہ میں پانی باقی ہے؟
کیا نبی امّی ظاہر ہو چکے ہیں؟
جب سب کے جواب مل گئے تو اس نے کہا:
"میں مسیح دجّال ہوں۔
مجھے جلد اجازت دی جائے گی کہ میں نکلوں۔"
📖 (صحیح مسلم)
3️⃣ نبی ﷺ کی تصدیق
جب تمیم داریؓ نے یہ واقعہ سنایا تو نبی ﷺ نے فرمایا:
“یہ وہی دجّال ہے جس کے بارے میں میں تمہیں بتاتا تھا۔”
پھر آپ ﷺ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا:
“وہ مشرق کی جانب ہے، وہ مشرق کی جانب ہے، وہ مشرق کی جانب ہے۔”
(صحیح مسلم)
4️⃣ کیا دجّال اب بھی زندہ ہے؟
اہلِ سنت والجماعت کے جمہور علماء کا موقف:
✔ ہاں، دجّال زندہ ہے
✔ اللہ کے حکم سے قید ہے
✔ قیامت سے پہلے اسے نکلنے کی اجازت دی جائے گی
امام نوویؒ لکھتے ہیں:
"یہ حدیث اس بات پر قطعی دلیل ہے کہ دجّال زندہ ہے اور قیامت سے پہلے ظاہر ہوگا۔"
5️⃣ دجّال کہاں قید ہے؟
حدیث میں جزیرے کا نام نہیں بتایا گیا، مگر:
مشرقی سمندر
خشکی سے دور
انسانی آبادی سے الگ
یہی وجہ ہے کہ علماء نے قیاس سے کام لینے سے منع کیا ہے۔
6️⃣ لوگ کیوں انکار کرتے ہیں؟
کچھ لوگ کہتے ہیں:
یہ سب تمثیل ہے
یا یہ محض علامت ہے
لیکن: 📌 نبی ﷺ نے قسم کھا کر بیان فرمایا
📌 صحابہؓ نے اسے حقیقت سمجھا
📌 تابعین نے اسی عقیدے کو اپنایا
لہٰذا انکار دراصل حدیث کے انکار کے مترادف ہے۔
📌 خلاصۂ باب سوم
دجّال ابھی زندہ ہے
وہ ایک جزیرے میں قید ہے
یہ بات صحیح مسلم کی صریح حدیث سے ثابت ہے
نبی ﷺ نے خود اس کی تصدیق فرمائی

: 📘 باب چہارم
دجّال کا خروج — کب، کہاں اور کیسے؟
تمہید
دجّال کا خروج کوئی اچانک حادثہ نہیں ہوگا بلکہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ ایک عظیم آزمائش ہوگی۔
نبی کریم ﷺ نے اس کے وقت، مقام اور حالات کو نہایت وضاحت سے بیان فرمایا ہے تاکہ امت دھوکے میں نہ پڑے۔
1️⃣ دجّال کب نکلے گا؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو…"
اور ان میں دجّال کا ذکر بھی فرمایا۔
📖 (صحیح مسلم)
یعنی:
دجّال کا خروج قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ہے
اس کا ظہور عام حالات میں نہیں بلکہ شدید فتنوں کے بعد ہوگا
خروج سے پہلے کے حالات:
دنیا میں ظلم عام ہوگا
دین کمزور پڑ جائے گا
علم اٹھا لیا جائے گا
لوگ دنیا پر فریفتہ ہو جائیں گے
نبی ﷺ نے فرمایا:
"لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ دین پر قائم رہنا انگارے کو ہاتھ میں پکڑنے جیسا ہوگا۔"
2️⃣ دجّال کہاں سے نکلے گا؟
رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا:
"دجّال مشرق سے نکلے گا، خراسان کی جانب سے۔"
📖 (ترمذی)
ایک اور روایت میں ہے:
"دجّال اصفہان کے یہودیوں کے درمیان سے نکلے گا۔"
📖 (مسلم)
علماء فرماتے ہیں:
مشرق سے مراد ایران، خراسان، وسطی ایشیا کا علاقہ
اصفہان میں اس کے پیروکار بڑی تعداد میں ہوں گے
3️⃣ دجّال کا پہلا فتنہ کیا ہوگا؟
دجّال سب سے پہلے خود کو نبی کہے گا
پھر کچھ وقت بعد:
"میں تمہارا رب ہوں" کہنے لگے گا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
"وہ پہلے نبوت کا دعویٰ کرے گا، پھر ربوبیت کا۔"
یہی اس کا سب سے خطرناک مرحلہ ہوگا۔
4️⃣ دجّال کے ساتھ کیا ہوگا؟
احادیث میں آتا ہے:
اس کے ساتھ جنت اور جہنم جیسی چیزیں ہوں گی
حقیقت میں اس کی جنت آگ ہوگی
اور اس کی آگ ٹھنڈی ہوگی (اللہ کے حکم سے)
نبی ﷺ نے فرمایا:
"جس نے اس کی آگ میں گرنا دیکھا، وہ دراصل جنت میں ہوگا۔"
5️⃣ دجّال کے ساتھ کون ہوں گے؟
اس کے بڑے پیروکار:
یہودیوں کی ایک بڑی جماعت
عورتوں کی کثیر تعداد
جاہل اور کمزور ایمان والے لوگ
حتیٰ کہ فرمایا:
"آدمی اپنے گھر سے نکلے گا مومن ہو کر، اور شام تک کافر ہو جائے گا۔"
6️⃣ دجّال کتنے دن رہے گا؟
نبی ﷺ نے فرمایا:
"وہ چالیس دن رہے گا
پہلا دن ایک سال کے برابر
دوسرا ایک مہینے کے برابر
تیسرا ایک ہفتے کے برابر
اور باقی دن عام دنوں جیسے ہوں گے۔"
📖 (مسلم)
صحابہؓ نے پوچھا: "یا رسول اللہ! اس دن نمازیں کیسے پڑھیں گے؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم اندازہ کر کے نماز ادا کرو گے۔"
7️⃣ دجّال سے کون محفوظ رہے گا؟
✔ مکہ مکرمہ
✔ مدینہ منورہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"دجّال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔"
ان دونوں شہروں کی حفاظت فرشتے کریں گے۔
📌 خلاصۂ باب چہارم
دجّال قیامت کی بڑی نشانی ہے
وہ مشرق سے نکلے گا
ابتدا میں نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا
پھر خدائی کا دعویٰ
دنیا کو آزمائش میں ڈال دے گا
مکہ و مدینہ میں داخل نہ ہو سکے گا

: 📘 باب پنجم
دجّال کے فتنوں کی حقیقت اور ان سے بچنے کے عملی طریقے
تمہید
دجّال کا فتنہ صرف آنکھوں کا فتنہ نہیں ہوگا بلکہ
یہ عقیدے، عقل، ایمان اور دل پر حملہ ہوگا۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ نے بار بار فرمایا:
"میں تمہیں دجّال کے فتنے سے ڈراتا ہوں۔"
یہ وہ فتنہ ہے جو انسان کو سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بھلا دے گا۔
1️⃣ دجّال کے فتنوں کی اقسام
(1) عقیدے کا فتنہ
دجّال سب سے پہلے انسان کے ایمان کو نشانہ بنائے گا۔
وہ کہے گا: میں تمہارا رب ہوں
وہ معجزات دکھائے گا
انسان شک میں پڑ جائے گا
یہ سب سے خطرناک مرحلہ ہوگا۔
(2) دنیاوی نعمتوں کا فتنہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"دجّال کے پاس جنت بھی ہوگی اور جہنم بھی۔"
حقیقت یہ ہے:
اس کی "جنت" دراصل آگ ہوگی
اور اس کی "آگ" دراصل نجات
وہ لوگوں کو رزق، مال، بارش اور خوشحالی کا لالچ دے گا۔
(3) خوف اور دہشت کا فتنہ
وہ ایسے کرتب دکھائے گا کہ لوگ خوف سے کانپ جائیں گے:
مردہ کو زندہ کرنے کا دھوکہ
زمین سے خزانے نکلنا
حکم پر بارش کا برسنا
یہ سب اللہ کی آزمائش ہوگی۔
2️⃣ دجّال سے بچنے کے مضبوط طریقے
✅ (1) سورۃ الکہف کی تلاوت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرے گا، وہ دجّال سے محفوظ رہے گا۔"
📖 (مسلم)
بعض روایات میں آخری دس آیات کا بھی ذکر ہے۔
✅ (2) پانچ وقت کی نماز اور دعائیں
خصوصاً یہ دعا:
اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
یہ دعا ہر نماز کے تشہد میں پڑھنا سنت ہے۔
✅ (3) علمِ دین حاصل کرنا
جہالت دجّال کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
جتنا علم مضبوط ہوگا، اتنا فتنہ کم اثر کرے گا۔
✅ (4) جماعت اور اہلِ حق کے ساتھ رہنا
تنہائی، گمراہی کو جنم دیتی ہے۔
اہلِ سنت والجماعت کے ساتھ جڑے رہنا نجات کا ذریعہ ہے۔
✅ (5) مکہ و مدینہ میں پناہ
نبی ﷺ نے فرمایا:
"دجّال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔"
3️⃣ عورتوں کے لیے خصوصی تنبیہ
حدیث میں آیا ہے:
"دجّال کے پیروکاروں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔"
کیونکہ:
جذبات جلد متاثر ہوتے ہیں
دنیاوی آسائش کا فتنہ شدید ہوتا ہے
اس لیے نبی ﷺ نے عورتوں کو خاص طور پر متنبہ فرمایا۔
4️⃣ دجّال سے بچنے کی سب سے بڑی ڈھال
📌 ایمان کی مضبوطی
📌 سچائی سے وابستگی
📌 قرآن سے تعلق
جو شخص قرآن کے ساتھ جڑا رہے گا، وہ دجّال کے فتنوں سے محفوظ رہے گا۔
📌 خلاصۂ باب پنجم
دجّال کا فتنہ ایمان پر حملہ ہے
سب سے خطرناک فتنہ دنیا کی تاریخ کا
نجات کا راستہ: قرآن، دعا، علم، جماعت

: 📘 باب ششم
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور دجّال کا خاتمہ
تمہید
جب زمین دجّال کے فتنوں سے بھر چکی ہوگی،
جب ایمان کمزور اور باطل طاقتور نظر آئے گا،
تب اللہ تعالیٰ اپنی عظیم نصرت نازل فرمائے گا۔
اور وہ نصرت ہوگی:
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول۔
1️⃣ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہاں نازل ہوں گے؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"عیسیٰ بن مریم دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس نازل ہوں گے، دو زرد کپڑے پہنے ہوئے، فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے ہوئے۔"
📖 (صحیح مسلم)
یہ نزول کوئی خواب یا روحانی کیفیت نہیں ہوگا بلکہ حقیقی جسمانی نزول ہوگا۔
2️⃣ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا مقصد
ان کا نزول چار بنیادی مقاصد کے لیے ہوگا:
دجّال کو قتل کرنا
صلیب کو توڑنا
خنزیر کو قتل کرنا
جزیہ ختم کرنا
یعنی:
باطل عقائد کا خاتمہ اور خالص توحید کا قیام
3️⃣ دجّال کا انجام
جب دجّال حضرت عیسیٰؑ کو دیکھے گا تو:
"وہ ایسے پگھل جائے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔"
حضرت عیسیٰؑ اسے بابِ لُد (فلسطین) کے مقام پر قتل کریں گے۔
📖 (صحیح مسلم)
یہ لمحہ تاریخِ انسانیت کا سب سے بڑا موڑ ہوگا۔
4️⃣ دجّال کے پیروکاروں کا انجام
دجّال کے ساتھی بھاگنے کی کوشش کریں گے مگر:
درخت
پتھر
پکار کر کہیں گے:
"اے مسلمان! میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہے، آؤ اسے قتل کرو۔"
(سوائے غرقد کے درخت کے)
5️⃣ حضرت عیسیٰؑ کے دورِ حکومت کی خصوصیات
جب دجّال ختم ہو جائے گا تو:
✔ زمین امن سے بھر جائے گی
✔ ظلم کا خاتمہ ہوگا
✔ دولت کی فراوانی ہوگی
✔ حسد اور بغض ختم ہو جائے گا
✔ درندے اور جانور امن سے رہیں گے
نبی ﷺ نے فرمایا:
"اس وقت ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔"
6️⃣ حضرت عیسیٰؑ کی وفات
حضرت عیسیٰ علیہ السلام:
زمین پر عدل کے ساتھ حکومت کریں گے
پھر ایک طبعی موت وفات پائیں گے
مسلمانوں ہی کی طرح دفن ہوں گے
یہ سب اللہ کے مقرر کردہ وقت پر ہوگا۔
📌 خلاصۂ باب ششم
حضرت عیسیٰؑ کا نزول حق ہے
دجّال کا خاتمہ انہی کے ہاتھوں ہوگا
عدل، امن اور توحید کا دور آئے گا
دنیا ایک بار پھر عدل کی مثال بنے گی

: 📘 باب ہفتم
دجّال کے بعد کی دنیا — یاجوج و ماجوج اور قیامت کی نشانیاں
تمہید
دجّال کے قتل کے بعد لوگ سمجھیں گے کہ اب سکون آ گیا،
مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سکون عارضی ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ایک اور عظیم آزمائش بھیجیں گے جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور احادیث میں بھی —
وہ ہے یأجوج و مأجوج (Gog & Magog)۔
1️⃣ یاجوج و ماجوج کون ہیں؟
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"یہاں تک کہ جب یاجوج و ماجوج کھول دیے جائیں گے، اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے چلے آئیں گے۔"
📖 سورۃ الانبیاء: 96
یہ ایک بہت بڑی، وحشی اور بے قابو قوم ہوگی
جو زمین میں فساد پھیلائے گی۔
2️⃣ یاجوج و ماجوج کا خروج
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں:
یاجوج و ماجوج اچانک نکل آئیں گے
اتنی تعداد میں ہوں گے کہ پانی کے ذخائر ختم کر دیں گے
کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکے گا
نبی ﷺ نے فرمایا:
"وہ طبریہ (جھیل) کا پانی پی جائیں گے، حتیٰ کہ آخری شخص کہے گا: یہاں کبھی پانی ہوا کرتا تھا۔"
3️⃣ حضرت عیسیٰؑ کی دعا اور اللہ کی مدد
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اہلِ ایمان پہاڑ پر پناہ لیں گے
اور اللہ سے دعا کریں گے۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا:
"میں اپنے بندوں کے لیے ایسی مخلوق بھیجوں گا جس سے تمہیں نجات ملے گی۔"
پھر اللہ تعالیٰ:
یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا ڈالے گا
وہ سب ایک ہی رات میں ہلاک ہو جائیں گے
4️⃣ زمین کی صفائی اور امن کا دور
پھر اللہ تعالیٰ:
پرندے بھیجے گا جو ان کی لاشیں اٹھا لے جائیں گے
بارش نازل ہوگی جو زمین کو پاک کر دے گی
پھر زمین:
اپنی برکتیں نکال دے گی
لوگ امن و سکون سے زندگی گزاریں گے
یہ وہ دور ہوگا جس میں:
دشمنی ختم ہو جائے گی
درندے نقصان نہیں پہنچائیں گے
بچے سانپوں سے کھیلیں گے
5️⃣ حضرت عیسیٰؑ کی وفات کے بعد
حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر کچھ عرصہ گزار کر وفات پائیں گے
اور مسلمانوں کی طرح دفن کیے جائیں گے۔
اس کے بعد:
رفتہ رفتہ نیکی کم ہوتی جائے گی
دوبارہ برائیاں پھیلنے لگیں گی
قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوں گی
6️⃣ قیامت کے قریب ترین حالات
نبی ﷺ نے فرمایا:
"قیامت اس وقت قائم ہوگی جب زمین پر اللہ اللہ کہنے والا کوئی باقی نہ رہے گا۔"
اس وقت:
نماز ختم ہو جائے گی
ایمان اٹھا لیا جائے گا
دنیا فسق و فجور سے بھر جائے گی
پھر:
صور پھونکا جائے گا — اور سب کچھ ختم ہو جائے گا۔
🌙 اختتامی پیغام
یہ پوری داستان ہمیں ایک ہی پیغام دیتی ہے:
نجات صرف ایمان، عمل صالح اور رسول ﷺ کی سنت پر چلنے میں ہے۔
دجّال، یاجوج و ماجوج، اور قیامت —
یہ سب ہمیں جگانے کے لیے ہیں، ڈرانے کے لیے نہیں۔

علماء جو پگڑی پہنتے ہیں انکو استثنیٰ حاصل ہے کہ نہیں۔۔۔؟اور کیا یہ پگڑی ہیڈ انجری سے بچا لیتی ہے ؟
26/12/2025

علماء جو پگڑی پہنتے ہیں انکو استثنیٰ حاصل ہے کہ نہیں۔۔۔؟
اور کیا یہ پگڑی ہیڈ انجری سے بچا لیتی ہے ؟

18/12/2025

جی جناب وزیراعظم صاحب آپ درست فرما رہے ہیں

18/12/2025

Save your Brain 🧠
To feel the pain......

Address

Rehara Grandi
Rawala Kot
12350POSTELCODE

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Kashmir Facts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Kashmir Facts:

Share