Big Ocean Of Knowledge

Big Ocean Of Knowledge this page is about motivational / Islamic informatic
videos

09/02/2026

قذافی اسٹیڈیم لاہور کی شام گویا جنوبی ایشیا کی اسپورٹس تاریخ کے ایک نئے عہد کا اعلان تھی۔ جب بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے صدر Aminul Islam نے چیئرمین Mohsin Naqvi سے مصافحہ کیا تو یہ صرف دو منتظمین کی رسمی ملاقات نہ تھی یہ دونوں ملکوں کے کروڑوں شائقین کے دلوں کی دھڑکنیں یکجا ہونے کی علامت تھی۔

بنگلادیش نے ٹی 20 ورلڈکپ کے دوران بھارت میں میچ نہ کھیلنے کا جرأت مند فیصلہ اُس لمحے کیا جب کھیل کو سیاست کی چکی میں پیسا جا رہا تھا۔ پاکستان نے بلا تامل اس جمہوری حق اور حفاظتی خدشات کی تائید کر کے دکھایا کہ برادر ملک صرف لفظی نعرہ نہیں، عملی ساتھ کا نام ہے۔ یہی وہ جذبۂ یکجہتی ہے جو برِصغیر کے عوام کو بتاتا ہے کہ ہم کرکٹ کو محض رنز اور وکٹوں کا کھیل نہیں، بلکہ عزتِ نفس اور قومی وقار کی جنگ سمجھتے ہیں۔

مذاکرات کی میز پر Imran Khawaja کی موجودگی اس امر کا ثبوت ہے کہ عالمی برادری کو بھی اس تاریخی فیصلے کے اثرات کا بخوبی ادراک ہے۔ اگر پاک-بنگلا اتحاد اپنی اصولی پوزیشن پر قائم رہتا ہے تو International Cricket Council کو مالیاتی جھٹکوں کا سامنا ضرور ہوگا، مگر کرکٹ کا حقیقی فائدہ یہی ہے کہ کھیل کو ایک بار پھر کھیل ہی رہنے دیا جائے، طاقت کی سفارتی بساط سے دور۔

بھارت کو سوچنا ہوگا کہ وہ کب تک غیرجانبدار مقامات پر بھی کھیل کو سیاست کی نذر کرتا رہے گا۔ اگر آج پاکستان اور بنگلادیش نے یک زبان ہوکر “کھیل برائے امن” کا علم اٹھا لیا ہے تو یہ پیغام برِصغیر کے عوام کے سینوں میں برسوں گونجے گا: عزت دو، عزت لو۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب عالمی اسٹیج پر کرکٹ کے سنجیدہ اسٹیک ہولڈرز بھارتی ہٹ دھرمی سے تنگ آ کر متبادل راستے چن لیں گے۔

شاید بہت سے لوگ بھول چکے ہیں کہ 1971 کے زخموں کے باوجود کرکٹ نے ہی سب سے پہلے دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لایا تھا۔ آج جو فیصلہ ڈھاکا اور لاہور کے درمیان محبت کی ڈور مزید مضبوط کر رہا ہے، وہ تاریخ کے زخموں پر مرہم بھی رکھتا ہے اور یہ وعدہ بھی کہ ہماری آئندہ نسلیں کھیل کے میدان میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑی ہوں گی، نہ کہ کسی تعصب کی خندق میں۔

پاکستان اور بنگلادیش نے آج جس جرأت، جرأتِ اظہار اور برادرانہ ہمدردی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ آنے والے کل میں کرکٹ ہی نہیں، پوری اُمتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کی مثال بنے گا۔ یہی ہے دوستی کا اصل رنگ، یہی ہے حب الوطنی کا اصل ذائقہ۔

اللّٰہ ہم سب کو حاسدین سے بچائے
06/02/2026

اللّٰہ ہم سب کو حاسدین سے بچائے

کوئی شک نہیں
06/02/2026

کوئی شک نہیں

06/02/2026

Indians opinion about Pakistan

کیا اتفاقات ہیں👇بھارت کا وزیرداخلہ"امیت شاہ"ہےاس کا بیٹا"جے شاہ"بھارتی کرکٹ بورڈ(BCCI) اور ساتھ ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(...
05/02/2026

کیا اتفاقات ہیں👇

بھارت کا وزیرداخلہ
"امیت شاہ"ہے

اس کا بیٹا"جے شاہ"بھارتی کرکٹ بورڈ(BCCI) اور ساتھ ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(ICC)
کا چئیرمین بھی ہے۔۔

"ساڈے شاہ جی"محسن نقوی
پاکستانی وزیرداخلہ بھی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایشین کرکٹ کونسل کے چئیرمین بھی ہے۔
مودی کے بعد دوسرا طاقتور
شخص"امیت شاہ"ہے۔
اور
پاکستانی وزیراعظم کے بعد دوسرا طاقتور شخص
"شاہ جی محسن نقوی"کو کہا جاتا ہے۔
امیت شاہ بھی ہارڈلائنر
"بھارتی"ہے
اور محسن نقوی بھی ہارڈ لائنر
"پاکستانی"ہے

۔۔۔لڑائی وڈے پہلوانوں میں ہے اس وقت۔

Lolx
04/02/2026

Lolx

اپنے آخر اپنے ہوتے ہے اپنے ملک پر غیرت کھاہی جاتے ہے زمبابوۓ کرکٹ ٹیم کے کپتان پاکستانی نژاد سکندر رضاکے بیان نے پاکستان...
04/02/2026

اپنے آخر اپنے ہوتے ہے اپنے ملک پر غیرت کھاہی جاتے ہے زمبابوۓ کرکٹ ٹیم کے کپتان پاکستانی نژاد سکندر رضاکے بیان نے پاکستانیوں کو خوش جبکہ بھارتی میڈیا نے اپنے توپوں کا رخ سکندر رضا کی طرف کرلیا
سکندر رضاکا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے بھارت کیساتھ میچ کے بائیکاٹ کا جو فیصلہ کیا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے بھارت اور پاکستان کے درمیان اگر باہمی سیریز نہیں ہوتی ہے تو آئی سی سی ٹورنامنٹ میں پھر کیوں کھیلتے ہے جو کچھ ایشیاکپ میں ہوا اسکے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کا بھارت کیساتھ میچ نہیں کھیلنے کا فیصلہ بالکل درست ہے کوئی اور ٹیم بھی ہوتا تو وہ بھی یہی فیصلہ کرتا میرے خیال میں کرکٹ سے بڑا کوئی نہیں ہوتا ہے کرکٹ ایک کھیل ہے اور اس کے زریعے سے محبت کو فروغ دیا جاتاہے لیکن بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے اس کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے کرکٹ میں ٹیموں کااپس میں ہاتھ نہیں ملانا کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے اور اس کا آغاز بھارت سے ہواہے جو کہ بہت ہی افسوس ناک ہے اور یہ کسی بھی طرح کرکٹ کیلئے اچھا نہیں ہے
بھارتی میڈیا میں سکندر رضا کی جانب سے دیے جانے والے بیان پر کہنا ہے کہ اگر زمبابوے کی ٹیم بھارت آئے تو سکندر رضاکو آنے کی اجازت نہیں دیا جائے
یاد رہے زمبابوے کرکٹ ٹیم کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول ہے

ہمیں اپنا کھویا ہوا بھائی پھر مل گیا مشتاق احمد اسٹوری بیان کرتے آبدیدہ ہوگئےپاکستان کے سابق لیجنڈ لیگ اسپنر اوربنگلہ دی...
03/02/2026

ہمیں اپنا کھویا ہوا بھائی پھر مل گیا مشتاق احمد اسٹوری بیان کرتے آبدیدہ ہوگئے
پاکستان کے سابق لیجنڈ لیگ اسپنر اوربنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے باولنگ کوچ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے ٹی 20 ورلڈکپ کیلئے جب ٹیم کا اعلان کیا تو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین السلام کی جانب سے مجھ سے رابطہ کیا گیا اور کہا کہ بھارت اگر آپ کو اس وجہ سے ویزہ جاری نہ کرئے کہ یہ پاکستانی ہے تو ہماری ٹیم اس وقت تک جہاز میں نہیں بیٹھی گی جب تک آپ کو ویزہ نہیں دیا جاتاہے جس پر میں نے کہا کہ آپ ان سے میرے ویزے کی اصرار نہ کریں میں باولرز کو انلائن ٹپس دیتا رہوں گا لیکن بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا آپ ہمارے کوچ بھی ہے اور بھائی بھی اپنے کوچ اور بھائی کو چھوڑ کرخود بھارت جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس پر میں خاموش ہوگیا اگر بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان حالات خراب نہیں بھی ہوتے اور بھارت مجھے ویزہ جاری نہیں کرتا تو تب بھی بنگلہ دیش ٹیم نے بھارت نہیں جاناتھا اور یہ مجھے پوری یقین دہانی کرائی گئی تھی میں نے بنگلہ دیش ٹیم کیساتھ جتنا عرصہ گزارا ہے یقین کرئے میں نے پوری دنیا میں کوچنگ کی ہے لیکن جو عزت مجھے بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کی جانب سے ملتی تھی ایسا کہیں پر بھی نہیں مشتاق احمد اسٹوری بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے

14/06/2025

تاریخ عالم کا وہ واحد ہندو جس کی چتا پر کئی من گھی ڈالا گیا ، مگر اُس کے جسم کو آگ نہ لگی، اُس کا قرآن سے کیا تعلق تھا
تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے 2 اشاعتی ادارے بڑے مشہور تھے ۔ پہلا درسی کتب کا کام کرتا تھا اس کے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے۔ دوسرا اداره اگرچہ غیر مسلموں کا تھا لیکن اس کے مالک پنڈت نول کشور قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کیا کرتے تھے نول کشور نے احترام قرآن کا جو معیار مقرر کیا تھا وہ کسی اور ادارے کو نصیب نہ ہوسکا۔ نول کشور جی نے پہلے تو پنجاب بھر سے اعلی ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے اور ان کو زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا احترام قرآن کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو خود نول کشور جی سمیت جوتوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی
دو ایسے ملازم رکھے گئے تھے جن کا صرف اور صرف ایک ہی کام تھا کہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کا چکر لگاتے رہتے تھے کہیں کوئی کاغذ کا ایسا ٹکڑا جس پر قرآنی آیت لکھی ہوتی اس کو انتہائی عزت و احترام سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کرتے رہتے پھر ان بوریوں کو احترام کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جاتا۔ وقت گزرتا رہا اور طباعت و اشاعت کا کام جاری رہا۔ پھر بر صغیر کی تقسیم ہوئی۔ مسلمان ہندو اور سکھ نقل مکانی کرنے لگے۔ نول کشور جی بھی لاہور سے ترک سکونت کرکے نئی دلی انڈیا چلے گئے۔ ان کے ادارے نے دلی میں بھی حسب سابق قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کا کام شروع کر دیا۔ یہاں بھی قرآن پاک کے احترام کا وہی عالم تھا۔ ادارہ ترقی کا سفر طے کرنے لگا اور کامیابی کی بلندی پر پہنچ گیا۔ نول کشور جی بوڑھے ہو گئے اور اب گھر پر آرام کرنے لگے جبکہ ان کے بچوں نے ادارے کا انتظام سنبھال لیا اور ادارے کی روایت کے مطابق قرآن حکیم کے ادب و احترام کا سلسہ اسی طرح قائم رکھا۔ آخر کار نول کشور جی کا وقت آخر آگیا اور وہ انتقال کرکے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات پر ملک کے طول و عرض سے ان کے احباب ان کے ہاں پہنچے۔ ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ ان کے کریا کرم میں شریک ہونے کے لئے شمشان گھاٹ پہنچے . * ان کی ارتھی کو چتا پر رکھا گیا ۔ چتا پر گھی ڈال کر آگ لگائی جانے لگی تو ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہوا نول کشور جی کی چتا آگ نہیں پکڑ رہی تھی۔ چتا پر اور گھی ڈالا گیا پھر آگ لگانے کی کوشش کی گئی لیکن بسیار کوشش کے باوجود بے سود۔ یہ ایک ناممکن اور ناقابل یقین واقعہ تھا۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ لمحوں میں خبر پورے شہر میں پھیل گئی کہ نول کشور جی کی ارتھی کو آگ نہیں لگ رہی۔ مخلوق خدا یہ سن کر شمشان گھاٹ کی طرف امڈ پڑی۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور حیران و پریشان تھے۔ یہ خبر جب جامع مسجد دلی کے امام بخاری تک پہنچی تو وہ بھی شمشان گھاٹ پہنچے۔ نول کشور جی ان کے بہت قریبی دوست تھے۔ اور وہ ان کے احترام قرآن کی عادت سے اچھی طرح واقف تھے۔ امام صاحب نے پنڈت جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کی چتا جلانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ اس شخص نے اللہ کی سچی کتاب کی عمر بھر جس طرح خدمت کی ہے اور جیسے احترام کیا ہے اس کی وجہ سے اس کی چتا کو آگ لگ ہی نہیں سکے گی چاہے آپ پورے ہندوستان کا تیل اور گھی چتا پر ڈال دیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ان کو عزت و احترام کے ساتھ دفنا
دیجئے۔
چنانچہ امام صاحب کی بات پر عمل کرتے ہوئے نول کشور جی کو شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی ہندو کی چتا کو آگ نہ لگنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا

05/06/2025
فور پلس پلس جنریشن جے ٹین سی ڈریگن ایسا طیارہ ہے جو عام چھوٹے موٹے طیاروں کو گرانے کے لیے نہیں بنایا گیا، اسکی جنریشن 4+...
12/05/2025

فور پلس پلس جنریشن جے ٹین سی ڈریگن ایسا طیارہ ہے جو عام چھوٹے موٹے طیاروں کو گرانے کے لیے نہیں بنایا گیا، اسکی جنریشن 4++ ہے اس لیے اسکے شایانِ شان یہی ہے کہ اسکا مدمقابل بھی 4++ جنریشن کا ہو۔۔۔۔۔
اس وجہ سے آج تک جے ٹین سی ڈریگن نے کوئ طیارہ نہیں گرایا کیونکہ اسکا مدمقابل اسے آج تک ملا ہی نہیں۔۔۔۔
اور پھر یہ حماقت بھارتی فضائیہ نے کر دی اور یورپ کا سب سے طاقتور رافیل طیارہ جے 10 سی ڈریگن کے مقابلے پر لے آۓ۔۔۔
جے ٹین سی ڈریگن نے رافیل کے کم ریڈار کراس سیکشن کے باوجود اسے کامیابی سے ٹریک کر کے لاک کیا اور پی ایل 15 فایر کر دیا۔
آواز کی رفتار سے چار پانچ گنا تیز میزائل نے بھارتی رافیل کو چند لمحوں میں جا دبوچا۔
اب تک ویسے تو دو رافیل طیارے مار گرانے کی تصدیق ہوئ ہے مگر فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے تین رافیل تباہ کیے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ پہلا لمحہ تھا کہ جے ٹین سی ڈریگن کو ایف سولہ لڑاکا طیارے کی جگہ فرنٹ لائن پر بطور انٹرسیپٹر تعینات کیا گیا تھا۔۔۔۔۔( پوری لڑائ میں ایف سولہ صرف کپڑے سکھانے کے کام آیا ہے)
جے ٹین سی ڈریگن کا ایک کلک❤️

Address

Lane 7
Rawalpindi West Ridge

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Big Ocean Of Knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category