Big Ocean Of Knowledge

Big Ocean Of Knowledge this page is about motivational / Islamic informatic
videos

14/06/2025

تاریخ عالم کا وہ واحد ہندو جس کی چتا پر کئی من گھی ڈالا گیا ، مگر اُس کے جسم کو آگ نہ لگی، اُس کا قرآن سے کیا تعلق تھا
تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے 2 اشاعتی ادارے بڑے مشہور تھے ۔ پہلا درسی کتب کا کام کرتا تھا اس کے مالک میسرز عطر چند اینڈ کپور تھے۔ دوسرا اداره اگرچہ غیر مسلموں کا تھا لیکن اس کے مالک پنڈت نول کشور قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کیا کرتے تھے نول کشور نے احترام قرآن کا جو معیار مقرر کیا تھا وہ کسی اور ادارے کو نصیب نہ ہوسکا۔ نول کشور جی نے پہلے تو پنجاب بھر سے اعلی ساکھ والے حفاظ اکٹھے کئے اور ان کو زیادہ تنخواہوں پر ملازم رکھا احترام قرآن کا یہ عالم تھا کہ جہاں قرآن پاک کی جلد بندی ہوتی تھی وہاں کسی شخص کو خود نول کشور جی سمیت جوتوں کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی
دو ایسے ملازم رکھے گئے تھے جن کا صرف اور صرف ایک ہی کام تھا کہ تمام دن ادارے کے مختلف کمروں کا چکر لگاتے رہتے تھے کہیں کوئی کاغذ کا ایسا ٹکڑا جس پر قرآنی آیت لکھی ہوتی اس کو انتہائی عزت و احترام سے اٹھا کر بوریوں میں جمع کرتے رہتے پھر ان بوریوں کو احترام کے ساتھ زمین میں دفن کر دیا جاتا۔ وقت گزرتا رہا اور طباعت و اشاعت کا کام جاری رہا۔ پھر بر صغیر کی تقسیم ہوئی۔ مسلمان ہندو اور سکھ نقل مکانی کرنے لگے۔ نول کشور جی بھی لاہور سے ترک سکونت کرکے نئی دلی انڈیا چلے گئے۔ ان کے ادارے نے دلی میں بھی حسب سابق قرآن پاک کی طباعت و اشاعت کا کام شروع کر دیا۔ یہاں بھی قرآن پاک کے احترام کا وہی عالم تھا۔ ادارہ ترقی کا سفر طے کرنے لگا اور کامیابی کی بلندی پر پہنچ گیا۔ نول کشور جی بوڑھے ہو گئے اور اب گھر پر آرام کرنے لگے جبکہ ان کے بچوں نے ادارے کا انتظام سنبھال لیا اور ادارے کی روایت کے مطابق قرآن حکیم کے ادب و احترام کا سلسہ اسی طرح قائم رکھا۔ آخر کار نول کشور جی کا وقت آخر آگیا اور وہ انتقال کرکے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات پر ملک کے طول و عرض سے ان کے احباب ان کے ہاں پہنچے۔ ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ ان کے کریا کرم میں شریک ہونے کے لئے شمشان گھاٹ پہنچے . * ان کی ارتھی کو چتا پر رکھا گیا ۔ چتا پر گھی ڈال کر آگ لگائی جانے لگی تو ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ ہوا نول کشور جی کی چتا آگ نہیں پکڑ رہی تھی۔ چتا پر اور گھی ڈالا گیا پھر آگ لگانے کی کوشش کی گئی لیکن بسیار کوشش کے باوجود بے سود۔ یہ ایک ناممکن اور ناقابل یقین واقعہ تھا۔ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ لمحوں میں خبر پورے شہر میں پھیل گئی کہ نول کشور جی کی ارتھی کو آگ نہیں لگ رہی۔ مخلوق خدا یہ سن کر شمشان گھاٹ کی طرف امڈ پڑی۔ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے اور حیران و پریشان تھے۔ یہ خبر جب جامع مسجد دلی کے امام بخاری تک پہنچی تو وہ بھی شمشان گھاٹ پہنچے۔ نول کشور جی ان کے بہت قریبی دوست تھے۔ اور وہ ان کے احترام قرآن کی عادت سے اچھی طرح واقف تھے۔ امام صاحب نے پنڈت جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کی چتا جلانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ اس شخص نے اللہ کی سچی کتاب کی عمر بھر جس طرح خدمت کی ہے اور جیسے احترام کیا ہے اس کی وجہ سے اس کی چتا کو آگ لگ ہی نہیں سکے گی چاہے آپ پورے ہندوستان کا تیل اور گھی چتا پر ڈال دیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ ان کو عزت و احترام کے ساتھ دفنا
دیجئے۔
چنانچہ امام صاحب کی بات پر عمل کرتے ہوئے نول کشور جی کو شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا کہ کسی ہندو کی چتا کو آگ نہ لگنے کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ہی دفنا دیا گیا

05/06/2025
فور پلس پلس جنریشن جے ٹین سی ڈریگن ایسا طیارہ ہے جو عام چھوٹے موٹے طیاروں کو گرانے کے لیے نہیں بنایا گیا، اسکی جنریشن 4+...
12/05/2025

فور پلس پلس جنریشن جے ٹین سی ڈریگن ایسا طیارہ ہے جو عام چھوٹے موٹے طیاروں کو گرانے کے لیے نہیں بنایا گیا، اسکی جنریشن 4++ ہے اس لیے اسکے شایانِ شان یہی ہے کہ اسکا مدمقابل بھی 4++ جنریشن کا ہو۔۔۔۔۔
اس وجہ سے آج تک جے ٹین سی ڈریگن نے کوئ طیارہ نہیں گرایا کیونکہ اسکا مدمقابل اسے آج تک ملا ہی نہیں۔۔۔۔
اور پھر یہ حماقت بھارتی فضائیہ نے کر دی اور یورپ کا سب سے طاقتور رافیل طیارہ جے 10 سی ڈریگن کے مقابلے پر لے آۓ۔۔۔
جے ٹین سی ڈریگن نے رافیل کے کم ریڈار کراس سیکشن کے باوجود اسے کامیابی سے ٹریک کر کے لاک کیا اور پی ایل 15 فایر کر دیا۔
آواز کی رفتار سے چار پانچ گنا تیز میزائل نے بھارتی رافیل کو چند لمحوں میں جا دبوچا۔
اب تک ویسے تو دو رافیل طیارے مار گرانے کی تصدیق ہوئ ہے مگر فضائیہ کا کہنا ہے کہ اس نے تین رافیل تباہ کیے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ پہلا لمحہ تھا کہ جے ٹین سی ڈریگن کو ایف سولہ لڑاکا طیارے کی جگہ فرنٹ لائن پر بطور انٹرسیپٹر تعینات کیا گیا تھا۔۔۔۔۔( پوری لڑائ میں ایف سولہ صرف کپڑے سکھانے کے کام آیا ہے)
جے ٹین سی ڈریگن کا ایک کلک❤️

12/05/2025

بھارت کو نا بھولنے والی، نو۔ دس مئ کی درمیانی رات۔
بھارتی وزیر اعظم کو رات ساڑھے تین بجے اٹھا کر یہ خبر دی گئ کہ نا صرف بھارت فوری ایٹمی حملہ کرنے کے قابل نہیں رہا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کی سیکنڈ اسٹرائیک کی طاقت بھی قریب ختم ہو چکی ہے۔
نو اور دس مئ کی درمیانی رات کو قریب ایک بجے پہلے گھنٹے کے اندر کئی انڈین میزائل سائٹس ناکارہ ہونا شروع ہو گئیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی
دوسرے گھنٹے میں انڈین جوہری سسٹم کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم نے فیل ہونا شروع کر دیا۔ کئ سائٹس کا رابطہ منقطع ہو گیا اور بھارتی ہتھیار یعنی ایٹمی میزائل اور خود ایٹمی ہتھیار ڈیڈ ہونا شروع ہو گئے۔ بھارتی انجینئر رپورٹ کر رہے تھے کہ بھارتی نیوکلئر ہتھیاروں کو سائبر حملے کے ذریعے بری طرح ناکارہ کر دیا گیا ہے۔ دو گھنٹوں میں 70 فیصد سے زائد بھارتی میزائل اور ایٹمی ہتھیار ڈیڈ ہو چکے تھے اور باقیوں کا سوفٹ وئیر اس حد تک کرپٹ ہو چکا تھا کہ ان میں نا تو ٹارگٹ فکس کیا جا سکتا ہے اور نا ہی انہیں لانچ کیا جا سکتا ہے۔
یہ کائنیٹک حملہ تھا اور اس کو کسی غیر متوقع لیکن طاقتور سسٹم کی مدد حاصل تھی جس کو اب تک بھارتی سمجھنے سے قاصر ہیں۔
بھارتی وزیر اعظم کو رات ساڑھے تین بجے اٹھا کر یہ خبر دی گئ کہ نا صرف بھارت فوری ایٹمی حملہ کرنے کے قابل نہیں رہا ہے بلکہ ساتھ ساتھ اس کی سیکنڈ اسٹرائیک کی طاقت بھی قریب ختم ہو چکی ہے۔
اسے بتایا گیا کہ یہ حملہ اس قدر شدید ہے کہ بھارت کو ان سب میزائلوں اور ہتھیاروں کو قابل استعمال بنانے کے لئے مہینے یا شائد سال لگ جائیں۔
بھارتی وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلام آباد کی فضائ حدود میں ایک ناقابل شناخت ائیریل ویسل پچھلے کئ گھنٹوں سے موجود رہی ہے۔ اور جب تک بھارت نے اس کو ٹریس کرنے یا لوکیٹ کرنے کی کوشش شروع کی وہ غائب ہو چکی ہے۔
لیکن ان دو تین گھنٹوں میں بھارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ کچھ سسٹم ایسے ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں پچھلے کئ ماہ سے ہیک کر کے رکھا گیا تھا تاکہ وقت آنے پہ انہیں یا تو لانچنگ سائٹ پہ ہی یا پھر بھارتی فضا میں ہی ان کے اپنے اہداف کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے۔
یہ سنتے ہی بھارتی وزیر اعظم کی سٹی گم ہو گئ
اور اس نے متعلقہ اداروں سے نظام کی تباہی کی رپورٹ 24 گھنٹوں میں مانگ لی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ رپورٹ اب تک جمع نہیں ہو سکی
کیونکہ نا تو اب تک نامعلوم طیارے اور اس کے کسی منفی کردار کا پتہ چل سکا ہے اور نا ہی سسٹم ہیک اور تباہ کرنے والوں کا۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ نو مئ سے آج تک بھارت اپنے تمام ناکارہ ہوئے جوہری اثاثے ہر پرانی سائٹ سے نئ لوکیشنز پہ منتقل کرنے پہ لگا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ پہلگام کے بعد بھارت کو بار بار بتایا گیا تھا۔ کہ ہم تمہیں وہاں وہاں سے سرپرائز دینگے۔ جہاں سے تمہاری توقع بھی نا ہو گی۔
الحمدللہ رب العالمین
پاکستانی افواج زندہ باد۔
نامعلوم طیارے کے مسافر زندہ باد۔
پاکستان پائیندہ باد۔

حشاشین (Assassins) جس کو باطنیان بھی کہتے ہیں۔ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد حسن بن صباح نے رکھی۔ اور انکا...
02/05/2025

حشاشین (Assassins) جس کو باطنیان بھی کہتے ہیں۔ایک دہشت پسند اور خفیہ جماعت تھی جس کی بنیاد حسن بن صباح نے رکھی۔ اور انکا مرکز" الموت" میں قلعہ الموت تھا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔
قلعہ الموت (Alamut Castle) بحیرہ قزوین کے نزدیک صوبہ جیلان، ایران میں ایک پہاڑی قلعہ تھا۔ یہ موجودہ تہران، ایران سے تقریبا 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر ہے۔ حسن بن صباح کی قیادت میں یہ دہشت پسند اور خفیہ جماعت حشاشین (Assassins) کا مرکز رہا۔ اس قلعہ اور جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔
حشاشین کی ابتدا کے شواہد 1080ء میں ملتے ہیں۔ حشاشین کے ماخذ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ایک دشوار کا م ہے کیونکہ زیادہ تر معلومات ان کے مخالفین کے حوالے سے ہیں۔ اور 1256 ءمیں ہلاکو خان کے ہاتھوں قلعہ الموت کی فتح کے وقت اس تنظیم کے بارے میں اکثر معلومات بھی ضائع ہو گئیں۔ البتہ حسن بن صباح کے اس تنظیم کے بانی ہونے کے بارے میں شواہد موجود ہیں۔
حسن بن صباح کی تنظیم میں درجہ بندیاں تھیں۔ اور اس کے ادبی کارکنان جن کو مہلک قاتلوں کی حیثیت سے تربیت دی جاتی تھی انہیں فدائی کہا جاتا تھا جو کہ حشاشین کے نام سے مشہور تھے۔ یہی لفظ حشاشین انگریزی لفظ (Assassins) کی بنیاد ہے۔
تنظیم کے حشاشین نام کی وجہ یہ تھی کہ حسن بن صباح اپنے فدائیوں کو حشیش پلا کر انھیں فردوس کی سیر کراتا تھا۔ جو اس نے قلعہ الموت میں بنائی تھی۔ اور اس کے بعد ان فدائیوں سے مخالفیں کو قتل کرایا جاتا تھا۔
حشاشین کا بانی حسن بن صباح قم ’’مشرقی ایران‘‘ میں پیدا ہوا۔ باپ کوفے کا باشندہ تھا۔ 1071ء میں مصر گیا اور وہاں سے فاطمی خلیفہ المستنصر کا الدعاۃ بن کر فارس آیا۔ اور یزد ، کرمان ، طبرستان میں فاطمیوں کے حق میں پروپیگنڈے میں مصروف ہوگیا۔ کہتے ہیں کہ نظام الملک اور عمر خیام کا ہم سبق تھا۔ مگر بعد میں نظام الملک سے اختلاف ہوگیا تھا۔ چنانچہ ملک شاہ اول نے اس کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے 1090ء میں کوہ البرز میں الموت کے قلعے پر قبضہ کر لیا جو قزوین اور رشت کے راستے میں ہے۔ کئی دوسرے قلعے بھی اس کے قبضے میں آگئے۔
اس نے اپنے آپ کو "شیخ الجبال" نامزد کیا اور قلعہ الموت کے پاس کے علاقے میں چھوٹی سی آزاد ریاست قائم کر لی ۔اور حشاشین تحریک کا آغاز کردیا۔ پھر اپنے پیروؤں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ اس میں داعی اور فدائی بہت مشہور ہیں۔ فدائیوں کا کام تحریک کے دشمنوں کو خفیہ طور پر خنجر سے ہلاک کرنا تھا۔
بہت سے مسلمان اور عیسائی فدائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ دہشت انگیزی کی یہ تحریک اتنی منظم تھی کہ مشرق قریب کے سبھی بادشاہ اس سے کانپتے رہتے تھے۔
کہتے ہیں کہ حسن بن صباح اپنے فدائیوں کو حشیش ’’گانجا‘‘ پلا کر بیہوش کر دیتا تھا اور پھر انھیں فردوس کی سیر کراتا تھا۔ جہاں پر خوبصورت عورتوں کو حوریں بنا کر ان فدائیوں کے سامنے پیش کرتا ۔ وہ حوریں ان کو حسن بن صباح کے حکم پر فدا ہونے کا کہتیں اوروعدہ کرتی کہ تم جلد ہمارے بیچ ہمیشہ کے لئے پہنچ جاؤ گے بھر نہ تمہیں کو ئی غم ہوگا نہ کو ئی ملال۔
اس نے یہ جنت وادی الموت میں بنائی تھی۔
حسن بن صباح نے طویل عمر پائی اور اس کے بعد بزرگ امیر اُس کا ایک نائب اس کا جانشین ہوا۔ اس جماعت کا خاتمہ ہلاکو خان کے ہاتھوں ہوا۔ جس نے قلعہ الموت کو فتح کرکے حسن بن صباح کے آخری جانشین رکن الدین کو گرفتار کرلیا اور ہزاروں فدائیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا۔
کتاب فردوسِ ابلیس.. عنایت اللہ التمش..

سنہ 1922 میں یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے سائنسدان ہسپتال کے وارڈ میں داخل ہوئے۔ اس وارڈ میں موجود تمام بچوں کو ذیابطیس تھی ا...
24/04/2025

سنہ 1922 میں یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے سائنسدان ہسپتال کے وارڈ میں داخل ہوئے۔ اس وارڈ میں موجود تمام بچوں کو ذیابطیس تھی اور اس وجہ سے سب بچے کومہ کی حالت میں تھے ۔ پاس ہی بیٹھے ان بچوں کے والدین انکے مرنے کا انتظار کر رہے تھے
ایسے میں وہ سائنسدان ایک بیڈ سے دوسرے بیڈ کی طرف جاتے ہیں۔ ہر بچے کو ایک انجیکشن لگا کر آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ جونہی وہ آخری بیڈ کے نزدیک پہنچتے ہیں تو پہلے بیڈ والا بچہ کومہ کی حالت سے نکل کر ہوش میں آ جاتا ہے۔ اور کچھ ہی وقت کے بعد پورا وارڈ جو کہ موت کے انتظار میں تھا موت کے منہ سے نکل کر زندگانی کی آغوش میں جا بیٹھتا ہے۔ لیکں آخر؛
ان ڈاکٹروں کے پاس کونسا جادو تھا؟ یہ ڈاکٹر تھے یا فرشتے؟ جو یوں زندگی بخشتے پھر رہے تھے
تو جناب ان ڈاکٹروں کے پاس تازہ تازہ انسانی طور پہ بنائی گئی انسولین تھی۔ یہی وہ انسولین ہے جس کے انجیکشن نے آج کروڑوں لوگوں کو زندگی بخشی ہے
ورنہ فطرت کا قانون بہت سادہ سا تھا
فطرت کا قانون یہ تھا کہ ذیابطیس یا پھر شوگر کے مریض جینے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ فطرت نے ارتقاء کے تحت یہ قانون بنا رکھا تھا کہ جسے ذیابطیس ہے اس نے تیس سال کی عمر سے پہلے ہر صورت مرنا ہی مرنا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ آج ہمارے گرد ذیابطیس کے مریض حد سے زیادہ بڑھ رہے ہیں کیونکہ جن کو کل مرنا تھا آج وہ اپنی اگلی نسل پیدا کر رہے ہیں ۔ ہے نا انسان دوستی؟
پہلی بار انسولین کیسے بنی؟
ہمیں اٹھارھویں صدی تک اس بیماری کا بس اتنا پتا تھا کہ میٹھا کھانے سے کچھ لوگ مر جاتے ہیں. لیکن کس وجہ سے؟ معلوم نہیں ۔ مگر پھر 1889 میں دو جرمن سائنسدانوں آسکر اور جوسف نے دیکھا کہ اگر کتوں کا لبلبہ/پینکریاز نکال باہر کیا جائے تو ان میں بالکل وہی علامات ظاہر ہوتی ہیں جو کہ ذیابطیس کے مریضوں میں ہوتی ہیں۔ اس دریافت کو انہوں نے پینکریاز سے منسلکہ بیماری کہا
پھر 1910 میں سر ایڈورڈ نامی سائنسدان نے دیکھا کہ ذیابطیس کے مریضوں کا لبلبہ صرف ایک کیمیکل ریلیز نہیں کر پا رہا اس نے اس کیمیکل کو انسولین کا نام دیا جس کا لاطینی لفظ انسولا تھا اس کا مطلب جزیرہ ہے۔
پھر ایک سرجن سر بیٹنگ اور اسکے اسسٹنٹ چارلز بیسٹ نے 1921 میں کتے کا لبلبہ نکالا اور اس پیلے رنگ کے عضو کو انسولین کا ذریعہ مان کر ایک دوسرے کتے کو جسے ذیابطیس تھی لگا کر ستر دنوں تک زندہ رکھا ۔ اس حیران کن تجربے کے بعد کولپ اور میکلوئڈ نامی ریسرچرز نے گائے کے لبلبے سے انسولین نکالنے کا کامیاب تجربہ کیا۔ اور پھر وہ وقت آیا جب ٹورونٹو یونیورسٹی کے ہسپتال میں یہ کامیاب تجربہ کرکے بچوں کو زندہ بچا لیا گیا جس کا ذکر اوپر بیان کیا گیا ہے
اس انسان دوست دریافت پہ ان چار سائنسدانوں کو مشترکہ طور پہ نوبل انعام دیا گیا
اسکے بعد ہم نے گائے اور سؤر کے لبلبوں سے انسولین کشید کرنا شروع کی مگر اس انسولین کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو الرجی ہو جایا کرتی تھی۔ گو اس انسولین نے کڑوڑوں جانیں بچائیں مگر یہ بہت کم تھی اس کو کشید کرنا مشکل تھا اور یہ کافی مہنگی تھی۔ دوٹن سؤر فقط آٹھ اونس انسولین دے پاتے تھے
مگر پھر،
ایلی للی نامی سائنسدان نے 1978 میں ای کولائی نامی بیکٹریا کو اس طرح سے ایڈٹ کیا کہ وہ انسولین بنا سکے یہ انسولین جلدی، سستی اور آسانی سے بنتی تھی اور چار سال بعد اس نے اس انسولین کو ہومولین کے نام سے رجسٹرڈ کرکے کمرشل بیچنا شروع کیا۔
یوں انسولین کی دریافت نے جانوروں سے ہوتے ہوئے بیکٹریا تک کا سفر مکمل کیا اور آج اسکا ایک انجیکشن ہمیں کافی سستا اور ہمارے لئے زندگی آور ثابت ہو رہا ہے۔ انسولین کی دریافت اس صدی کی ایک سب سے بڑی دریافت تھی جس نے کڑوڑوں لوگوں کو مرنے سے بچا لیا۔
گو ابھی یہ ذیابطیس کا مکمل علاج نہیں مگر کروڑوں جانوں کی زندگی کی ضمانت ضرور ہے۔

یک سنگین مجرم کی پراسرار داستان  😳😲چارلس سوبھراج:👉1. "سائگون سے شروع ہونے والی ایک شیطانی سفر"**  چارلس سوبھراج 6 اپریل ...
18/04/2025

یک سنگین مجرم کی پراسرار داستان 😳😲
چارلس سوبھراج:👉
1. "سائگون سے شروع ہونے والی ایک شیطانی سفر"**
چارلس سوبھراج 6 اپریل 1944 کو ویت نام کے شہر سائگون (موجودہ ہو چی منہ سٹی) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد ہندوستانی تاجر تھے جبکہ والدہ ویت نامی خاتون تھیں۔ والدین کی علیحدگی کے بعد اس کی پرورش فرانس میں ہوئی، جہاں اس نے چوری اور دھوکہ دہی جیسے جرائم کا آغاز کیا۔
2. "دی سرپنٹ: شناخت بدلنے کا ماہر"**
1970 کی دہائی میں اس نے "دی سرپنٹ" (سانپ) کا لقب پایا، کیونکہ وہ ہر ملک میں نئے پاسپورٹ، نام اور کردار اپنا لیتا تھا۔ یہ ہنر اس نے ایشیائی ممالک میں سیاحوں کو لوٹنے اور قتل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
---
3. "بکینی کلر:
سوبھراج کو **"بکینی کلر"** بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کا زیادہ تر شکار ساحل پر بیکینی پہننے والی خواتین تھیں۔ اندازاً اس نے 12 سے 24 افراد کو ہلاک کیا، جن میں امریکی، فرانسیسی، اور ڈچ شہری شامل تھے۔
---
4. "زہر آلود چائے: ایک مکروہ حربہ"**
وہ اپنے شکاروں کو چائے یا کھانے میں زہر ملا کر بے ہوش کرتا، پھر ان کے سامان اور پاسپورٹ چراتا۔ 1975 میں نیپال میں اس نے ایک ہالینڈی سیاح کی چائے میں زہر ملا کر قتل کیا، جو اس کی گرفتاری کا سبب بنا۔
---
5. "تیہاڑ جیل سے فرار: ایک سنسنی خیز واقعہ"**
1986 میں، بھارت کی مشہور **تیہاڑ جیل** سے فرار ہونے کے لیے اس نے محافظوں کو خواب آور دوا دی۔ مگر 1997 میں رہا ہونے کے بعد اسے فرانس ڈیپورٹ کر دیا گیا۔
---
6. "نیپال میں آخری گرفتاری:
2003 میں نیپال پولیس نے اسے ایک پرانے قتل کے الزام میں گرفتار کیا۔ عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی، جس کے بعد وہ کھٹمنڈو کی جیل میں 19 سال تک رہا۔ 2022 میں صحت کی خرابی کی بنا پر رہا کیا گیا اور فرانس بھیج دیا گیا۔
---
7. "نیٹ فلکس اور میڈیا:
2021 میں نیٹ فلکس نے **"دی سرپنٹ"** نامی سیریز سوبھراج کے جرائم کو دکھانے کے لیے ریلیز کی۔ یہ سیریز دنیا بھر میں مقبول ہوئی، مگر متاثرین کے رشتہ داروں نے اسے "رومانوی" بنانے پر تنقید کی۔
---
8. "سوال جو اب تک تشنہ ہیں..."**
سوبھراج کے جرائم کے مکمل اعدادوشمار آج بھی ایک راز ہیں۔ کئی مقدمے وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو گئے
---
**اختتامیہ:** چارلس سوبھراج کی کہانی انسانی فطرت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کرتی ہے۔ 😳

ہم بات کرنے جا رہے ہیں ایک ایسے شہر کی ہے جو بظاہر خوشحال، ترقی یافتہ اور رنگین تھا، مگر اندر سے کھوکھلا، بےحیائی اور غر...
17/04/2025

ہم بات کرنے جا رہے ہیں ایک ایسے شہر کی ہے جو بظاہر خوشحال، ترقی یافتہ اور رنگین تھا، مگر اندر سے کھوکھلا، بےحیائی اور غرور سے بھرا ہوا۔ پومپی (Pompeii) جو آج کے اٹلی کے علاقے میں واقع تھا۔ دو ہزار سال قبل، یہ شہر رومن سلطنت کا حصہ تھا۔ یہاں کی گلیاں پررونق، بازار بھریں، اور محلات چمک دمک سے آراستہ تھے۔ مگر یہاں کے لوگ بے راہ روی، اخلاقی زوال، اور بدکاری میں ایسے مبتلا ہو چکے تھے کہ گناہ کو ہی زندگی کا اصل مقصد سمجھنے لگے تھے۔
پھر ایک دن، 24 اگست 79 عیسوی کو، آسمان نے وہ منظر دیکھا جو صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ پومپی کے قریب موجود آتش فشاں پہاڑ "ماؤنٹ ویزوویئس" اچانک پھٹ پڑا۔ ایک ہی لمحے میں دھویں، آگ، گرم راکھ، اور پتھروں کی بارش نے پورے شہر کو ڈھانپ لیا۔ لوگ چیختے رہے، بھاگتے رہے، کچھ اپنے پیاروں کو بچانے کی کوشش میں تھے، کچھ بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے ،اور پھر سب کچھ خاموش ہو گیا۔ بس راکھ رہ گئی، اور وہ لوگ جن کے جسم جیسے کے ویسے وقت کے ایک لمحے میں منجمد ہو گئے۔
صدیوں بعد جب ماہرین آثار قدیمہ نے زمین کھودی تو حیرت کے مارے ساکت رہ گئے۔ وہ انسان، جنہوں نے موت کو بھلا دیا تھا، خود اپنی موت کی عبرتناک تصویر بن چکے تھے۔ ان کے جسم، ان کے چہرے، ان کے آخری تاثرات، یہاں تک کہ بعض کے آنسو بھی جمی ہوئی راکھ میں محفوظ تھے۔ کوئی اپنی ماں کے گلے لگا تھا، کوئی دعا مانگ رہا تھا، اور کوئی شاید توبہ کا وقت گنوا چکا تھا۔
پومپی کی تباہی کو آج بھی کئی محققین ایک “الٰہی وارننگ” مانتے ہیں۔

’چادر میں لپٹی لاش‘، چابیوں اور تکیے نے لاہور پولیس کو قاتل تک کیسے پہنچایا؟چاروں طرف کھیت تھے اور ان کے درمیان میں ایک ...
17/04/2025

’چادر میں لپٹی لاش‘، چابیوں اور تکیے نے لاہور پولیس کو قاتل تک کیسے پہنچایا؟
چاروں طرف کھیت تھے اور ان کے درمیان میں ایک ویران کنویں کے پاس گندے نالے کے قریب سے چادر میں لپٹی ایک نامعلوم خاتون کی لاش ملی۔
مقامی لوگوں کی اطلاع پر پولیس نے پہنچ کر چھان بین شروع کر دی۔
لاش کچھ پرانی اور کسی حد تک گل سڑ چکی تھی۔ نہ کوئی شناخت، نہ کوئی سراغ اور ہی نہ سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب ہو سکی جس سے اس اندھے قتل کا معمہ حل کرنا ممکن ہو پاتا۔
ون فائیو پر کال، پولیس اور شہریوں کے لیے ایس او پیز کیا ہیں؟
اس نامعلوم لاش نے ڈیڑھ ماہ تک ماڈل ٹاؤن پولیس کو مسلسل تفتیش پر مجبور کیا لیکن پھر دو چابیوں، سپورٹس شوز، چادر اور تکیے کے پرنٹس کی مدد سے پولیس نے نہ صرف لاش کی شناخت کی بلکہ قاتلوں کا پتا بھی لگا لیا۔
لاہور کے تھانہ کاہنہ کی حدود میں 14 فروری 2025 کو پولیس کو ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی۔
یہ چونکہ ایک حساس معاملہ تھا تو اس لیے ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن ڈاکٹر ایاز حسین خود اپنی ٹیم کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔
انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پولیس کو ایک بیڈ شیٹ میں لپٹی خاتون کی لاش ملی۔ خاتون نے سنیکرز پہن رکھے تھے۔ ہمیں لاش کے ہاتھوں پر پلاسٹک کے کڑے اور اس کے زیر جامہ میں دو چابیاں بھی ملیں۔ لاش گل سڑ چکی تھی اور ہم نے جب فنگر پرنٹس کے ذریعے اس کی شناخت کرنے کی کوشش کی تو کوئی پرنٹس حاصل نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے شناخت کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔‘
پولیس کی جانب سے تھانہ کاہنہ میں ایف آئی آر درج کی گئی جس میں بتایا گیا کہ ایک نامعلوم خاتون کو کسی نامعلوم شخص نے نامعلوم وقت پر قتل کیا ہے۔
یہ کیس پولیس کے لیے خاصا مشکل تھا کیوںکہ یہ واقعہ ایک ویران علاقے میں پیش آیا تھا جہاں کوئی سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں تھے جبکہ لاش گلنے کی وجہ سے موت کا وقت معلوم کرنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔
پولیس کسی ممکنہ سراغ کی تلاش میں تھی تاکہ کیس کو آگے بڑھایا جا سکے جس کے لیے سب سے پہلے سرحدی علاقوں کے تھانوں میں خواتین کے اغوا کے مقدمات کے بارے میں معلوم کیا گیا۔
ایس پی ڈاکٹر آیاز حسین بتاتے ہیں کہ ’ہم نے ضلع قصور سے کل 116 ایف آئی آرز کا تجزیہ کیا اور شکایت کنندگان سے بات کی لیکن کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ اس کے علاوہ لاہور کی قریباً 300 ایف آئی آرز پر کام کیا لیکن پھر بھی ہمیں ان میں کوئی مماثلت یا سراغ نہیں ملا۔‘
ڈاکٹر ایاز حسین بتاتے ہیں کہ ’ہم نے چادر، دو چابیوں، سنیکرز اور عورت کے کپڑوں کی تصویریں بنائیں اور ایک پمفلٹ تیار کر کے پولیس ٹیموں کو قریبی علاقوں میں روانہ کیا۔‘
پولیس کی جانب سے 12 ٹیمیں تشکیل دے کر 12 علاقوں کی نشاندہی کی گئی اور ہر ٹیم کو ایک گاؤں تفویض کیا گیا۔
ہر ٹیم میں ایک سب انسپکٹر یا اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور تین کانسٹیبلز شامل تھے۔
پولیس ٹیمیں تفتیش میں مصروف ہی تھیں کہ ایک ٹیم کو مقامی چرواہے نے بتایا کہ ایک عورت جو بائیک چلاتی تھی اور اسی طرح کے جوتے پہنتی تھی، کئی دنوں سے غائب ہے۔
پولیس نے چرواہے سے اس خاتون کے گھر کا پوچھا اور تفتیش کا دائرہ کار اس علاقے تک محدود کر دیا گیا۔
ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر ایاز حسین کے بقول ’مخبر سب انسپکٹر کو ایک فلیٹ پر لے گیا جس کا دروازہ بند تھا۔ سب انسپکٹر نے جب جائے وقوعہ سے ملی دو چابیاں استعمال کیں تو تالا کھل گیا۔ یہ ہمارے لیے ایک اہم پیش رفت تھی۔‘
سب انسپکٹر نے فوراً اعلیٰ حکام کو اطلاع دی۔ مقامی لوگوں سے پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ اس خاتون کا نام ثریا بی بی تھا، جس کی عمر لگ بھگ 35 سال تھی اور وہ غیرشادی شدہ تھی۔
ڈاکٹر ایاز حسین کیس میں پیش رفت سے متعلق بتاتے ہیں کہ ’یہ خاتون فلیٹ پر اکیلی رہتی تھی۔ ہمیں یہ بھی پتا چلا کہ ان کا ایک بھائی چند کلومیٹر دور رہتا تھا اور ان کے درمیان زمین کا تنازع چل رہا تھا۔ ہم نے جب مزید تفتیش کی تو ہم بھائی کے گھر پہنچے اور معلوم ہوا کہ اس کے دو بیٹے تھے جو واقعے کے بعد گھر سے بھاگ گئے تھے۔‘
پولیس نے مقتولہ کے بھائی کے گھر میں چھان بین کی تو جس چادر میں لاش لپیٹی گئی تھی اسی پرنٹ کے تکیے گھر سے برآمد ہوئے جس کے بعد پولیس کا شک یقین میں بدل گیا۔
پولیس نے ابتدائی طور پر خاتون کے دونوں بھتیجوں کو حراست میں لیا اور ان سے پوچھ گچھ شروع ہوئی۔
پولیس کے مطابق دونوں نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تاہم مزید تفتیش پر حقیقت سامنے آ گئی۔
اس حوالے سے ایس پی ڈاکٹر ایاز حسین بتاتے ہیں کہ ’خاتون کے ایک بھتیجے نے ابتدائی طور پر جرم کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو گمراہ کیا۔ ہم نے جب اس سے قتل کے محرک کے بارے میں پوچھا تو اس نے دعویٰ کیا کہ اس کی پھوپھی کے کسی مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے اور اس نے طیش میں آ کر اسے قتل کیا۔ تاہم جب ہم نے مقامی لوگوں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ ثریا پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد تھے۔ در حقیقت ثریا نے اپنے بھائی سے خاندانی جائیداد میں اپنا حصہ مانگا تھا جس میں ایک پلاٹ بھی شامل تھا جبکہ اس کے بھتیجوں کو اس پر اعتراض تھا۔‘
پولیس کے مطابق ’ثریا ان کے والد کی واحد بہن تھی اور اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کے دونوں بھتیجے ان کو وراثت میں حصہ نہیں دینا چاہتے تھے۔‘
پولیس نے مزید بتایا کہ 25 جنوری کو قریباً 10 بجے صبح کے وقت ثریا کے ایک بھتیجے نے اپنی پھوپھی کو گھر بلایا اور اسے ایک کمرے میں لے جا کر اس کے سر میں گولی مار دی۔
پولیس کے بقول ’پھر اس نے کمرے میں پڑی ایک بیڈ شیٹ میں لاش کو لپیٹا اور اپنے بھائی کو بلا کر لاش کو لوڈر رکشے پر لاد کر قریبی گاؤں کے ایک کنویں کے قریب پھینک دیا۔‘
ماڈل ٹاؤن انویسٹی گیشن ونگ نے آلہ قتل اور لوڈر رکشہ تحویل میں لے لیا جبکہ دونوں بھائیوں کو گرفتار کر کے تمام ثبوت محفوظ کر لیے گئے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں دفعہ 311 لاگو کی جائے گی جس کا مطلب یہ ہے کہ متاثرہ (مقتولہ) کے ورثا ملزموں کو معاف کرنا چاہیں تو ریاست کیس کو اپنے ہاتھ میں لے گی اور کسی قسم کی مصالحت یا رضامندی کی اجازت نہیں ہو گی۔
ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر ایاز حسین اس کیس کے مختلف پہلوؤں سے متعلق بتاتے ہیں کہ ’یہ ہماری تفتیش کا ایک انتہائی اہم پہلو ہے کیوںکہ ہم نے یہ یقینی بنانا ہے کہ جس نے قتل سے فائدہ اٹھایا ہے یا اٹھانے کی کوشش کی ہے (خاص طور پر وراثت کے معاملے میں) وہ جائیداد کا دعویٰ نہ کر سکے۔‘
ان کے مطابق انویسٹی گیشن ونگ ماڈل ٹاؤن کے لیے یہ ایک پیچیدہ کیس تھا جس میں فنگر پرنٹس، جیو فینسنگ یا کسی بھی دوسرے طریقے سے شناخت ممکن نہ تھی تاہم ان تمام رکاوٹوں کے باوجود پولیس نے تکنیکی بنیادوں پر یہ کیس حل کیا۔
ڈاکٹر ایاز حسین بتاتے ہیں کہ ’اس کیس کو حل کرنے میں ہمیں قریباً ڈیڑھ ماہ کا وقت لگا۔ لاش کے زیرِجامہ میں چابیاں، سنیکرز اور پھر چادر اور تکیے کے پرنٹس میں مماثلت، یہ ایسے پہلو تھے جن کی مدد سے اس اندھے قتل کا معمہ حل ہوا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی جب عسقلان کے سفر پر تھے، تو ایک دن اطلاع ملی کہ شہر کے بادشاہ کی بیٹی شدید بیمار ہے۔ محل سوگوار ت...
15/04/2025

سلطان صلاح الدین ایوبی جب عسقلان کے سفر پر تھے، تو ایک دن اطلاع ملی کہ شہر کے بادشاہ کی بیٹی شدید بیمار ہے۔ محل سوگوار تھا۔ شہزادی کی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی تھی، طبیب، حکیم، نجومی سب عاجز آ چکے تھے۔ کوئی دوا کام نہ آ رہی تھی، کوئی دعا اثر نہ کر رہی تھی۔
ہر کوئی اپنی عقل کے مطابق مشورے دے رہا تھا، لیکن شہزادی کی کمزوری اور چہرے کی زردی بڑھتی جا رہی تھی۔ بادشاہ بے بسی کے عالم میں اپنی بیٹی کے سرہانے بیٹھا آنکھوں میں نمی لیے دعائیں مانگ رہا تھا۔
جب یہ حال سلطان صلاح الدین ایوبی کو معلوم ہوا تو وہ خود محل پہنچے۔ درباریوں نے ادب سے استقبال کیا، اور سلطان کو شہزادی کے کمرے میں لے جایا گیا۔ وہ خاموشی سے شہزادی کے قریب گئے، نبض پر ہاتھ رکھا، اور چند لمحے کے بعد دھیرے سے مسکرائے۔
بادشاہ نے بے قراری سے پوچھا، "کیا کچھ پتا چلا سلطان؟"
سلطان نے نرم مگر پر یقین لہجے میں کہا،
"یہ بیماری جسم کی نہیں، دل کی ہے۔ دوا نہیں، فیصلہ اس کا علاج ہے۔"
بادشاہ حیرت میں پڑ گیا، "کیا مطلب ہے آپ کا؟"
سلطان نے شہزادی کی کلائی کی طرف اشارہ کیا، جہاں ایک سادہ سا لکڑی کا کنگن بندھا ہوا تھا۔
"یہ کنگن سب کچھ بتا رہا ہے۔ یہ کسی فقیر یا لکڑہارے کی نشانی ہے۔ تمہاری بیٹی دل دے چکی ہے، اور اب وہ اسی کے بغیر جینے کی تمنا کھو چکی ہے۔ اگر تم اسے بچانا چاہتے ہو تو اسے اُس سے ملا دو جسے اس نے دل سے چنا ہے۔"
یہ سن کر محل میں جیسے سنّاٹا چھا گیا۔
بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، "ایک لکڑہارے کا بیٹا؟ میری بیٹی ایک شہزادی ہے! یہ کیسے ممکن ہے؟"
سلطان نے نرمی مگر جرات سے جواب دیا،
"یہ محبت کا فیصلہ ہے، عزت کی جنگ نہیں۔ اگر تم نے دربار کی عزت بچانے کے چکر میں بیٹی کی جان کھو دی، تو تخت رہ جائے گا، مگر وارث نہیں۔"
کمرے میں خاموشی طاری ہو گئی۔ شہزادی کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں، مگر اب ان میں ایک امید جاگ چکی تھی۔ بادشاہ کی نظریں اپنی بیٹی کے چہرے پر ٹکی تھیں۔ وہ لمحے بھر کے لیے خاموش رہا، پھر تھکے ہوئے لہجے میں بولا:
"اگر یہی اس کی خوشی ہے، تو میں یہ رشتہ قبول کرتا ہوں۔"
محل میں سرگوشیاں ہوئیں، کچھ نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا، کچھ نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔ لیکن شہزادی کے چہرے پر زندگی کی پہلی روشنی لوٹ آئی تھی۔
چند دنوں بعد، محل میں ایک سادہ مگر خوشیوں سے بھرپور نکاح ہوا۔ شہزادی اور لکڑہارے کے بیٹے کا ملاپ ہو گیا، اور اس کے ساتھ ہی شہزادی کی صحت بھی بحال ہونے لگی۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کی وہ حکمت، جو صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ دلوں کی دنیا میں بھی راج کرتی تھی، ایک بار پھر سچ ثابت ہوئی۔
یہ ایک ایسی کہانی تھی جو درباروں کی دیواروں سے نکل کر، لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئی

چین ہر سال امریکہ کو تقریباً پانچ سو ارب ڈالر کی چیزیں بیچتا ہے، جبکہ وہ امریکہ سے صرف ڈیڑھ سو ارب ڈالر کی چیزیں خریدتا ...
10/04/2025

چین ہر سال امریکہ کو تقریباً پانچ سو ارب ڈالر کی چیزیں بیچتا ہے، جبکہ وہ امریکہ سے صرف ڈیڑھ سو ارب ڈالر کی چیزیں خریدتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین کو تجارت میں تین سو پچاس ارب ڈالر کا فائدہ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ مسئلہ صرف اتنا سا نہیں ہے۔ یہ ساری چیزیں چین کی اپنی کمپنیوں کی بنی ہوئی نہیں ہوتیں۔ بہت سی امریکی اور یورپی کمپنیاں چین میں اپنی فیکٹریاں لگاتی ہیں۔ وہ چیزیں چین میں بنائی جاتی ہیں، لیکن اصل میں وہ امریکی کمپنیوں کی ہوتی ہیں۔ مثلاً ایپل فون چین میں بنتا ہے، لیکن یہ امریکہ کی کمپنی ہے اور وہ فون آخرکار امریکہ یا دوسرے ملکوں میں جا کر فروخت ہوتا ہے۔ اسی طرح کئی گاڑیاں جو چین میں بنتی ہیں، وہ بھی امریکی یا یورپی کمپنیوں کی ہوتی ہیں۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ چین کی جو ایکسپورٹ ہے، اس میں کئی ایسی چیزیں شامل ہیں جو اصل میں امریکہ کی اپنی کمپنیوں کی ہیں۔ تو یہ سوچنا ٹھیک نہیں کہ ٹیرف لگانے سے صرف چین کو نقصان ہو گا۔ اصل میں چین کے اندر امریکہ کی بہت زیادہ سرمایہ کاری ہے۔ امریکہ کی کمپنیاں سستی لیبر کی وجہ سے چین میں چیزیں بناتی ہیں اور پھر وہی چیزیں امریکہ میں لا کر بیچتی ہیں۔ اس لیے اگر ہم صرف اعداد و شمار دیکھیں تو ٹیرف وار میں چین کو اتنا نقصان نہیں ہو رہا جتنا نظر آ رہا ہے۔ حقیقت میں تصویر کچھ اور ہے۔
امریکہ نے جو ٹریڈ وار شروع کی ہے وہ اپنی بگڑتی ہوئی معاشی حالت کو سنبھالنے کی ایک کوشش ہے لیکن سچ یہ ہے کہ امریکہ اقتصادی جنگ پہلے ہی ہار چکا ہے۔ دو ہزار آٹھ میں جب مالی بحران آیا تھا، تب سے امریکہ بس ڈالر چھاپ رہا ہے۔ وہ اصل میں کوئی ایسی چیز نہیں بنا رہا جو دنیا میں بڑی تعداد میں بک سکے۔ ٹیسلا جیسے ادارے بھی سرکاری امداد پر چل رہے ہیں۔ اسپیس ایکس کو بھی امریکہ کی حکومت پیسے دیتی ہے، کیونکہ اس کا بڑا خریدار خود امریکہ ہے۔
اب اگر بات ہو گوگل، فیس بک یا ٹوئٹر جیسی کمپنیوں کی، تو وہ بھی اس وجہ سے کامیاب ہوئیں کہ امریکہ کا مالی نظام ان کے پیچھے تھا۔ لیکن اب دنیا بدل رہی ہے۔ دوسری طرف دیکھیں تو چین کے پاس اپنی بڑی مارکیٹ ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ چیزیں چین میں ہی کھپتی ہیں۔ ایپل ہو یا جاپانی یا جرمن کاریں، سب سے زیادہ خریداری چین میں ہی ہوتی ہے۔ اور چین اپنی خریداری ین چھاپ چھاپ کر نہیں کرتا۔ وہ سچ مچ کی معیشت پر انحصار کرتا ہے، اس کی خریداری رئیل ہے، امریکہ کے برعکس جو ڈالر چھاپ کر چیزیں خریدتا ہے۔
اگر امریکہ چین سے تجارتی جنگ کرے گا، تو اسے ایک بہت بڑی مارکیٹ کھونا پڑے گی۔ چین اب تقریباً ہر وہ چیز خود بنا سکتا ہے جو امریکہ یا یورپ بناتے ہیں۔ اگر چین اور دوسرے ایشیائی ملک مل کر کام کریں، تو چین کو امریکہ یا یورپ کی بالکل بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ چین خود ایک بہت بڑی دنیا ہے۔ سوا سو سال پہلے پوری دنیا کی آبادی ڈیڑھ ارب تھی، آج اکیلا چین اتنے لوگوں پر مشتمل ہے۔
اس سب کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ اپنی تجارتی جنگ جاری رکھے گا، تو اسے اس کا بہت نقصان ہوگا۔ امریکہ کو اپنی معیشت بچانے کے لیے اور بھی زیادہ ڈالر چھاپنے پڑیں گے۔ جب ڈالر بہت زیادہ ہو جائیں گے، تو ان کی قیمت کم ہو جائے گی۔ اور ایک دن آئے گا جب دنیا ڈالر کو چھوڑنے لگے گی۔ پھر ڈالر کی قیمت اتنی گر جائے گی کہ اس سے کچھ خریدنا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ جو لوگ اقتصادیات کی تھوڑی بھی سمجھ رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ جب نوٹ بہت زیادہ چھاپے جائیں، تو وہ آخرکار بے کار ہو جاتے ہیں۔
اسی لیے اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ امریکہ کیا کرتا ہے۔ اگر وہ گرم جنگ یعنی اصل لڑائی شروع کرتا ہے، تو شاید کچھ وقت کے لیے اپنے نقصان کو روک سکے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا، تو پھر دنیا کی قیادت اب آہستہ آہستہ چین کے ہاتھ میں جا رہی ہے۔
راجہ مبین

Address

Lane 7
Rawalpindi West Ridge

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Big Ocean Of Knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category