26/07/2026
پچھلی دو راتوں سے امریکہ نے ایران پہ کوئی حملہ نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے ٹرمپ کو کسی نے برف میں جما دیا ہو۔ امریکی میڈیا نے جو خبر دی ہے وہ ایران کے دشمنوں کی نیندیں حرام کر دینے والی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنرل ڈین کینی اور نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ میزائلوں کا ذخیرہ کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔ 1200 انٹرسیپٹر میزائل ختم ہوئے ہیں پیچھے اس سے زیادہ پڑے ہیں لیکن یہ ان کو ختم نہیں کرنا چاہتے یہ فیکٹ ہے۔
مگر اب جا کے ان کو ہوش آیا ہے کہ اگر ہم اپنا اسلحہ اسی طرح ایران کے پہاڑوں پہ ضائع کر دیتے ہیں سارا تو کل چین کو ہم پتھر مار کے ہرائیں گے کیا؟ اور جو ان دونوں باتوں سے بڑا فیکٹر ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ ایران سے باعزت نکلنا چاہتا ہے۔ وہ باعزت واپسی چاہتا ہے اس لیے اب انٹرنیشنلی ایک پرسیپشن بنا رہے ہیں کہ ہمارا اصل ختم ہو رہا ہے لہذا ہم یہ جنگ ختم کر رہے ہیں۔
یہ خبر بھی آ رہی ہے کہ ایران میں پہلا بم گرانے سے بھی پہلے جنرل ڈین کینی نے ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایک لمبے عرصے کی جنگ لڑنے کے لیے اسلحہ ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ امریکہ ٹارگٹڈ سٹرائکس کر رہا تھا اس سارے عرصے میں کہ ایران کا حوصلہ توڑ سکے اور ایران کو کسی طرح امریکہ کی مرضی کی شرائط پر مذاکرات پہ آمادہ کر لے۔
اصل مسئلہ امریکہ کی انٹیلیجنس رپورٹ ہے جن میں بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ جس رفتار سے اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے اس طرح چین کے مقابلے میں ہم خالی ہاتھ ہو جائیں گے۔
ایک بڑا مسئلہ قیمت کا بھی ہے۔ چار ملین ڈالر کا ایک پیٹری آٹ انٹرسیپٹر میزائل ہے۔ اب تک 1200 انٹرسیپٹر میزائل امریکہ فائر کر چکا ہے ان بیسز کو بچانے کےلیے۔ فرض کریں پانچ ہزار میزائل آنے والے ایک ماہ میں ایران مزید فائر کر دیتا ہے۔ ان پانچ ہزار میزائلوں کو روکنے کےلیے جتنے میزائل امریکہ کو فائر کرنے پڑیں گے ان کا خرچہ ملٹری بیس کی تعمیری لاگت سے زیادہ ہو جائے گا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ایک کروڑ روپے کا گھر بچانے کےلئے دیڑھ کروڑ روپے کا اسلحہ خرچ کر لے۔ اور جو اس سے بھی اہم بات ہے کہ پانچ ہزار میزائل روکنے کے بعد بھی امریکہ کے پاس اس بات کی گارنٹی نہیں ہے کہ اڈے بچ جائیں گے۔ کیوں کہ پانچ ہزار میزائل اگر امریکہ روک لے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے۔ تو اگلے چند ماہ میں ایران مزید پانچ ہزار میزائل فائر کر سکتا ہے۔ ایرانی حکومت کہتی ہے کہ ہم یہ جنگ اپنے میزائلوں کے بل بوتے پہ اگلے دو سال تک لڑ سکتے ہیں۔ جب کہ امریکہ لگاتار دو مہینے بھی چوبیس سو مزید انٹرسیپٹرز فائر نہیں کر سکتا۔
اب اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ جو امریکہ دنیا میں سپر پاور ہونے کے باوجود نا اپنے اڈے بچا سکا ہے اور نا اپنے میزائلوں کی سپلائی چین برقرار رکھ سکا ہے۔ کیا وہ امریکہ اس خطے میں اپنے اتحادیوں کو تحفظ دے سکتا ہے؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور کہلائی جانے والی امریکی فوج جب ان میزائلوں کی قیمت کا بوجھ برداشت نہیں کر سکی۔ تو جن مسلمان ملکوں نے یہ میزائل ڈیفینسز لگا رکھے ہیں۔ کیا جنگ کی صورت میں وہ ان کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا لیں گے؟ اگر نہیں تو پھر یہ میزائل ڈیفینسز سفید ہاتھی ثابت ہوں گے۔
ایک اہم حقیقت جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ شام افغانستان اور عراق کا ہِلا ہوا تھا۔ ان تینوں مسلمان قوموں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ شامی عراقی اور افغانی تینوں قومیں ٹیکنالوجی اور سائنس کے معاملے میں جاہل اور کوری تھیں۔ ایرانیوں کا معاملہ ان تینوں کے الٹ ہے۔ ایران ٹیکنالوجی کے معاملے میں پانچ ہزار سالہ قدیم تاریخ رکھتا ہے اور سائنس کے میدان میں مسلم دنیا میں سب سے ٹاپ پر ہے۔ امریکہ کو عادت تھی ان مسلمان جنگجوؤں سے لڑنے کی جو زیادہ سے زیادہ کندھے پہ راکٹ لانچرز رکھ کے فائر کر کے بھاگ جانے والے لوگ تھے۔ یا گھات لگا کے گوریلا کاروائیاں کرنے کے ماہر۔ جو زیادہ سے زیادہ امریکی چھاؤنیوں پر کبھی مہینے میں ایک آدھ بار راکٹ مار دیتے تھے۔ ایران نے تو جنگ کے میدان میں امریکہ کےلیے ساری ڈاییمنینشنز ہی تبدیل کر دی ہیں۔
امریکہ کا واسطہ ایران کے ساتھ جنگ میں اپنے سے بھی زیادہ ایڈوانس ٹیکنالوجی کے ساتھ پڑا۔ پھر اس میں چینی اور روسی ٹیکنالوجیز بھی ایڈ ہوتی گئیں۔ تو ایک ہی وقت میں تین الگ ملکوں کی ملٹری ٹیکنالوجی کا سامنا کرنا، پھر مقابلہ کرنا اور اس کے بعد ٹیکنالوجی کا توڑ کرنا امریکہ کے بس میں نا رہا۔ لہذا اب امریکہ پیچھے ہٹنا چاہتا ہے مگر اس بار ایران آسانی سے پیچھے نہیں ہٹنے دے گا اسے۔
ایک اور بات جس کا ایڈوانٹیج امریکہ کو شام عراق اور افغانستان میں ملا مگر ایران میں نہیں مل سکا۔ وہ یہ ہے کہ امریکہ نے ہر جگہ اندر سے بندے توڑ کر اپنے ساتھ ملا لیے۔ فوجی افسران، سرکاری اہلکار، حکومتی عہدیدار اور سیاست دان امریکہ اپنے ساتھ ملا لیتا تھا اس کے بعد جنگ کرتا تھا۔ اندرونی جوڑ توڑ اور بیرونی فوجی دباؤ سے امریکہ جنگوں میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرتا رہا۔ ایران میں اسے منہ کی کھانی پڑی کیونکہ نا فوج کے جرنیل خرید سکا، نا ایرانی انقلاب سے جڑے سیاستدانوں کو خرید سکا اور نا ہی سرکاری عہدیداروں کو ساتھ ملا سکا۔ محمود احمد نژاد سے متعلق پراپگینڈا بھی جھوٹا ثابت ہو گیا۔ تو امریکہ کو اس محاذ پر بھی شکست ہوئی۔