InfoLeaks 111

InfoLeaks 111 this page is about motivational / Islamic informatic
videos

پچھلی دو راتوں سے امریکہ نے ایران پہ کوئی حملہ نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے ٹرمپ کو کسی نے برف میں جما دیا ہو۔ امریکی میڈیا نے...
26/07/2026

پچھلی دو راتوں سے امریکہ نے ایران پہ کوئی حملہ نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے ٹرمپ کو کسی نے برف میں جما دیا ہو۔ امریکی میڈیا نے جو خبر دی ہے وہ ایران کے دشمنوں کی نیندیں حرام کر دینے والی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جنرل ڈین کینی اور نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ میزائلوں کا ذخیرہ کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔ 1200 انٹرسیپٹر میزائل ختم ہوئے ہیں پیچھے اس سے زیادہ پڑے ہیں لیکن یہ ان کو ختم نہیں کرنا چاہتے یہ فیکٹ ہے۔
مگر اب جا کے ان کو ہوش آیا ہے کہ اگر ہم اپنا اسلحہ اسی طرح ایران کے پہاڑوں پہ ضائع کر دیتے ہیں سارا تو کل چین کو ہم پتھر مار کے ہرائیں گے کیا؟ اور جو ان دونوں باتوں سے بڑا فیکٹر ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ ایران سے باعزت نکلنا چاہتا ہے۔ وہ باعزت واپسی چاہتا ہے اس لیے اب انٹرنیشنلی ایک پرسیپشن بنا رہے ہیں کہ ہمارا اصل ختم ہو رہا ہے لہذا ہم یہ جنگ ختم کر رہے ہیں۔
یہ خبر بھی آ رہی ہے کہ ایران میں پہلا بم گرانے سے بھی پہلے جنرل ڈین کینی نے ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ ایک لمبے عرصے کی جنگ لڑنے کے لیے اسلحہ ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔ امریکہ ٹارگٹڈ سٹرائکس کر رہا تھا اس سارے عرصے میں کہ ایران کا حوصلہ توڑ سکے اور ایران کو کسی طرح امریکہ کی مرضی کی شرائط پر مذاکرات پہ آمادہ کر لے۔
اصل مسئلہ امریکہ کی انٹیلیجنس رپورٹ ہے جن میں بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ جس رفتار سے اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے اس طرح چین کے مقابلے میں ہم خالی ہاتھ ہو جائیں گے۔
ایک بڑا مسئلہ قیمت کا بھی ہے۔ چار ملین ڈالر کا ایک پیٹری آٹ انٹرسیپٹر میزائل ہے۔ اب تک 1200 انٹرسیپٹر میزائل امریکہ فائر کر چکا ہے ان بیسز کو بچانے کےلیے۔ فرض کریں پانچ ہزار میزائل آنے والے ایک ماہ میں ایران مزید فائر کر دیتا ہے۔ ان پانچ ہزار میزائلوں کو روکنے کےلیے جتنے میزائل امریکہ کو فائر کرنے پڑیں گے ان کا خرچہ ملٹری بیس کی تعمیری لاگت سے زیادہ ہو جائے گا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی ایک کروڑ روپے کا گھر بچانے کےلئے دیڑھ کروڑ روپے کا اسلحہ خرچ کر لے۔ اور جو اس سے بھی اہم بات ہے کہ پانچ ہزار میزائل روکنے کے بعد بھی امریکہ کے پاس اس بات کی گارنٹی نہیں ہے کہ اڈے بچ جائیں گے۔ کیوں کہ پانچ ہزار میزائل اگر امریکہ روک لے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے۔ تو اگلے چند ماہ میں ایران مزید پانچ ہزار میزائل فائر کر سکتا ہے۔ ایرانی حکومت کہتی ہے کہ ہم یہ جنگ اپنے میزائلوں کے بل بوتے پہ اگلے دو سال تک لڑ سکتے ہیں۔ جب کہ امریکہ لگاتار دو مہینے بھی چوبیس سو مزید انٹرسیپٹرز فائر نہیں کر سکتا۔
اب اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ جو امریکہ دنیا میں سپر پاور ہونے کے باوجود نا اپنے اڈے بچا سکا ہے اور نا اپنے میزائلوں کی سپلائی چین برقرار رکھ سکا ہے۔ کیا وہ امریکہ اس خطے میں اپنے اتحادیوں کو تحفظ دے سکتا ہے؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور کہلائی جانے والی امریکی فوج جب ان میزائلوں کی قیمت کا بوجھ برداشت نہیں کر سکی۔ تو جن مسلمان ملکوں نے یہ میزائل ڈیفینسز لگا رکھے ہیں۔ کیا جنگ کی صورت میں وہ ان کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا لیں گے؟ اگر نہیں تو پھر یہ میزائل ڈیفینسز سفید ہاتھی ثابت ہوں گے۔
ایک اہم حقیقت جو سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ شام افغانستان اور عراق کا ہِلا ہوا تھا۔ ان تینوں مسلمان قوموں میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ کہ شامی عراقی اور افغانی تینوں قومیں ٹیکنالوجی اور سائنس کے معاملے میں جاہل اور کوری تھیں۔ ایرانیوں کا معاملہ ان تینوں کے الٹ ہے۔ ایران ٹیکنالوجی کے معاملے میں پانچ ہزار سالہ قدیم تاریخ رکھتا ہے اور سائنس کے میدان میں مسلم دنیا میں سب سے ٹاپ پر ہے۔ امریکہ کو عادت تھی ان مسلمان جنگجوؤں سے لڑنے کی جو زیادہ سے زیادہ کندھے پہ راکٹ لانچرز رکھ کے فائر کر کے بھاگ جانے والے لوگ تھے۔ یا گھات لگا کے گوریلا کاروائیاں کرنے کے ماہر۔ جو زیادہ سے زیادہ امریکی چھاؤنیوں پر کبھی مہینے میں ایک آدھ بار راکٹ مار دیتے تھے۔ ایران نے تو جنگ کے میدان میں امریکہ کےلیے ساری ڈاییمنینشنز ہی تبدیل کر دی ہیں۔
امریکہ کا واسطہ ایران کے ساتھ جنگ میں اپنے سے بھی زیادہ ایڈوانس ٹیکنالوجی کے ساتھ پڑا۔ پھر اس میں چینی اور روسی ٹیکنالوجیز بھی ایڈ ہوتی گئیں۔ تو ایک ہی وقت میں تین الگ ملکوں کی ملٹری ٹیکنالوجی کا سامنا کرنا، پھر مقابلہ کرنا اور اس کے بعد ٹیکنالوجی کا توڑ کرنا امریکہ کے بس میں نا رہا۔ لہذا اب امریکہ پیچھے ہٹنا چاہتا ہے مگر اس بار ایران آسانی سے پیچھے نہیں ہٹنے دے گا اسے۔
ایک اور بات جس کا ایڈوانٹیج امریکہ کو شام عراق اور افغانستان میں ملا مگر ایران میں نہیں مل سکا۔ وہ یہ ہے کہ امریکہ نے ہر جگہ اندر سے بندے توڑ کر اپنے ساتھ ملا لیے۔ فوجی افسران، سرکاری اہلکار، حکومتی عہدیدار اور سیاست دان امریکہ اپنے ساتھ ملا لیتا تھا اس کے بعد جنگ کرتا تھا۔ اندرونی جوڑ توڑ اور بیرونی فوجی دباؤ سے امریکہ جنگوں میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرتا رہا۔ ایران میں اسے منہ کی کھانی پڑی کیونکہ نا فوج کے جرنیل خرید سکا، نا ایرانی انقلاب سے جڑے سیاستدانوں کو خرید سکا اور نا ہی سرکاری عہدیداروں کو ساتھ ملا سکا۔ محمود احمد نژاد سے متعلق پراپگینڈا بھی جھوٹا ثابت ہو گیا۔ تو امریکہ کو اس محاذ پر بھی شکست ہوئی۔

‏بیشک ہر عروج کو زوال بھی ہے جیلا فوڈ پوائنٹ پر تالا لگ گیاجیلے کہ مطابق یہ تالا اس کے دل پر لگا ہےجیلا فوڈ پوائنٹ پر ای...
05/07/2026

‏بیشک ہر عروج کو زوال بھی ہے

جیلا فوڈ پوائنٹ پر تالا لگ گیا

جیلے کہ مطابق یہ تالا اس کے دل پر لگا ہے
جیلا فوڈ پوائنٹ پر ایک دور تھا جب لمبی لمبی قطاریں لگا کرتی تھیں لوگ ایک پلیٹ کے لیے آدھا آدھا گھنٹہ قطار میں لگتے تھے ذائقہ تھا برکت تھی کیونکہ جیلے کی توجہ محنت اور ذائقہ پر تھی دوسرا کھانا نسبتاً سستا تھا

پھر ٹک ٹاک وارد ہوئی

جیلا بھی سوشل میڈیا کی چکاچوند سے متاثر ہوا
بہت نام کمایا عارضی رش بھی بہت بڑھا اور بس پھر ویوز اور مشہور ہونے کی گیم شروع ہوئی کھانے سے ذائقہ اور کام سے برکت اٹھی ۔

پھر جیلا برانڈ ہے جیلا ایک ہی ہے جیلے کا کوئی جوڑ نہیں کہنے والا جیلا ہاتھ جوڑتا نظر آیا کہ ایک بار واپس آئیں گلے شکوے دور کروں گا ۔

مگر قدرت جہاں سے برکت اٹھا لے وہاں اتنی آسانی سے لوٹایا نہیں کرتی بلاآخر پندرہ سے اٹھارہ سال کا یہ سفر تمام ہوا اور جیلے کو اپنا خواب جیلا فوڈ پوائنٹ بند کرنا پڑا ۔

کام پر فوکس کریں ورنہ جیلے سے سبق سیکھیں وہی ٹک ٹاکر جو ویوز کے لیے جیلا نہیں پھڑیا جا ریا جیسی وڈیوز ڈالتے تھے ویوز آنے بند ہوئے تو جیلے پر ہی بے ذائقہ ہونے اور ہارٹ اٹیک کا سامان ہونے جیسی وڈیوز ڈالنے لگے تھے جس سے عوام مزید متنفر ہوئی ۔۔۔

محنت کریں مگر یاد رکھیں محنت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں بڑے بول کوئی بھی راستہ نہیں ۔۔۔

جیلا کھانے کی دنیا کا ایک منفرد نام تھا جو تمام ہوا ۔۔۔

سب کی نظر مڈل ایسٹ کے امن و امان پر ہے اور ادھر ہمارے آئیر چیف ایک نیا منصوبہ بنا کر ائیرفورس کا نقشہ ہی بدلنے جا رہے ہی...
03/07/2026

سب کی نظر مڈل ایسٹ کے امن و امان پر ہے اور ادھر ہمارے آئیر چیف ایک نیا منصوبہ بنا کر ائیرفورس کا نقشہ ہی بدلنے جا رہے ہیں یہی ائیر مارشک ظہیر سدھو تھے جنہوں نے بھارت کے رافیل خریدنے کے فیصلے کو سنجیدہ لیا اور چاہینہ سے فوری طور پر جے 10 سی جہاز خریدے ، پی ایل 15 میزائل خریدے اور جے ایف 17 تھنڈر کو اپ گریڈ کیا جس کا نتیجہ جنگ کی میں پاکستان کی فتح کی صورت میں سامنے آیا

اب ائیر چیف بیلا روس پہنچے ہیں یہان ان کے ایجنڈے میں کیا شامل ہے پہلے ماہرین کی رہنمائی میں ایک نظر ڈالتے ہیں

پاکستانی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اس وقت بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں اعلیٰ سطحی فوجی مذاکرات کے لیے موجود ہیں۔مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، عسکری تجربات کے تبادلے، فوجی اہلکاروں کی تربیت اور دفاعی اداروں کے درمیان قریبی روابط بڑھانے پر بات چیت کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ کار، ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل فیصل شاہ کے مطابق یہ دورہ ایک اہم اسٹریٹجک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے یہ دورہ جون 2025 میں بیلاروسی فضائیہ کے وفد کے اسلام آباد کے دورے کا تسلسل ہے، جہاں پاکستان نے بیلاروس کو بنیادی سے لے کر جدید حربی سطح تک پائلٹ ٹریننگ فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ بیلاروس کی دفاعی صنعت پاکستان کو ڈرونز (UAVs)، مائیکرو الیکٹرانکس، آپٹرونکس (جدید آپٹیکل و الیکٹرانک نظام) اور بھاری فوجی گاڑیاں فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔2025–2027 کے روڈ میپ میں صرف اسلحہ فروخت نہیں بلکہ مشترکہ پیداوار (Joint Production) اور ٹیکنالوجی کی منتقلی (Technology Transfer) کو ترجیح دی گئی ہے، جو پاکستان کی طویل المدتی دفاعی خودمختاری کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل فیصل شاہ نے کہا اگر بیلاروس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے تیار ہے تو پاکستان اس میں گہری دلچسپی رکھے گا۔”

انہوں نے مزید کہا پاکستان کے روس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، جو پاکستان، بیلاروس اور روس پر مشتمل ایک مضبوط دفاعی مثلث تشکیل دے سکتے ہیں۔”

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، بیلاروس اور روس پر مشتمل ایک ابھرتا ہوا دفاعی اتحاد مستقبل میں یوریشیا کے سیکیورٹی منظرنامے کو تبدیل کر سکتا ہے اور مغربی دفاعی کمپنیوں پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک اب شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے مکمل رکن ہیں، جس کے باعث یہ شراکت داری سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ کر دفاعی صنعتی تعاون کی نئی شکل اختیار کرتی

مریض آدمی ہوں میری شوگر ہائی ہو گئی تھی ذرا دیر کے لیے انکے کمرے میں لیٹا تو لڑکیوں نے خود احتراما میرے پیر دبانا شروع ک...
03/07/2026

مریض آدمی ہوں میری شوگر ہائی ہو گئی تھی ذرا دیر کے لیے انکے کمرے میں لیٹا تو لڑکیوں نے خود احتراما میرے پیر دبانا شروع کردیے ۔۔۔ جسم فروشی کے اڈے پر خواتین سے پاؤں دبوانے والے انکل پولیس کا بیان سامنے آگیا ۔۔۔ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا ،مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔۔۔میری شوگر ہائی ہو گئی تھی عورتوں نے میرے پاؤں دبانے شروع کر دیے انہوں نے خفیہ کیمرے لگائے ہوئے تھے کچھ لوگ جان بوجھ کر ویوز اور وائرل ہونے کے لیے مجھے بد۔نام کر رہے ہیں میں 15 پر آئی کال پر رسپونڈ کرنے گیا تھا ۔چار پانچ عورتیں اور مرد بیٹھے تھے ایک عورت کا موقف تھا ، میرے خاوند کو گرفتار کر کے لے جاو میں نے کہا آپکا فیملی مسئلہ ہے ایس ایچ او حل کر سکتا ہے ۔۔انہوں نے کہا جناب تسیں اندر ا جاؤ اساڈی بہ کے گل سن لو میری شوگر ہائی ہو گئی اور مجھے چکر آنے لگے اور عورتیں میرے پاؤں دبانے لگیں اور ساتھ مرد تماشا دیکھ رہے تھے ۔۔ میرا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا ۔ 37 سال میں محکمے کی خدمت کی ہے۔ اور اس دوران میرے خلاف کوئی بدعنوانی کر۔پشن لین دین کی درخواست نہیں ہےمیری درخواست ہے کہ میری عزت محفوظ رہنے دی جائے سوشل میڈیا پر اس قصے کو ختم کیا جائے میں بہت پریشان ہوں ۔۔۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو گناہ گار وہ ہونگے جو اس بات کو غلط رنگ دے رہے ہیں ۔۔۔۔

جو کام حکمرانوں کو کرنا چاہئے تھا وہ لیجنڈ سعید انور نے کرکے پوری قوم کے دل جیت لیے تین دن قبل ملتان کے ساٹھ سالہ بزرگ خ...
03/07/2026

جو کام حکمرانوں کو کرنا چاہئے تھا وہ لیجنڈ سعید انور نے کرکے پوری قوم کے دل جیت لیے تین دن قبل ملتان کے ساٹھ سالہ بزرگ خالد کی جو ویڈو وائرل ہوئی تھی جس کا جوان بیٹا فوت ہوا اور اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ اپنے بیٹے کیلئے کفن خرید سکے اور بیٹا کو بغیر کفن کے دفنانے کیلئے قبرستان لے گیا یہ خبر جب وائرل ہوئی رپورٹ کے مطابق جب یہ خبر سعید انور تک پہنچ گئی تو سعید انور بہت روئے اور کافی دیر تک سر نیچے کرکے رو رہے تھے گزشتہ روزہ سعید انور اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ اس بزرگ شخص کے گھر ملتان پہنچ گئے جس کا گھر کچی اینٹوں سے بنا تھا اور اس سخت گرمی میں بھی بزرگ شخص کی اہلیہ ایک بیٹا دو بیٹیاں موجود تھی سعید انور نے فوری طور پہلا جو کام کیا ان کیلئے سولر سسٹم کا بندوبست کیا اور گھر میں اسٹنڈ والے پھنکے لگائے اور پھر ان کو کہا کہ اس گھر کو بنانا میرے زمے ہے ملتان میں اپنے قریبی دوست کو گھر بنانے کی زمہ داری دے دی اور بزرگ شخص خالد کو پانچ لاکھ نقد کیش دے دیا اور اس کو کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرئے گا آپ کے تین کمرے کاگھر ہم بنائیں گے جو کام اس میں باقی ہے لنٹر سمیت وہ میں پورا کروں گا
اس موقع پر اپنے پیغام میں سعید انور نے کہا کہ مجھے اس محلے والوں بھی تعجب ہے کہ آپ کے پڑوس میں اتنا کچھ ہوا اور تم بےخبر رہے یاد رکھو صرف نماز روزہ حج تمہیں نہیں بچا سکتا جب تک تم انسانوں کے کام نہیں آتے ہو 22لاکھ مربع میل کے حکمران عمر فاروق رَضِيَ ٱللَّٰهُ نے کہا اگر دریا فرات کے کنارے کتے کا بچہ بھی بھوگا مرجائے تو قیامت کے دن حساب مجھ سے مانگا جائے گا

میں ایک بار دفتر سے گھر واپس ایا تو میرے پاس کھانے کی کوئی چیز تھی میں وہ سیدھی اپنے کمرے میں لے ایا مگر پھر نہ جانے میر...
02/07/2026

میں ایک بار دفتر سے گھر واپس ایا تو میرے پاس کھانے کی کوئی چیز تھی میں وہ سیدھی اپنے کمرے میں لے ایا مگر پھر نہ جانے میرے دل میں ایسی کون سی دلیل اگئی کہ میں نے اس چیز کو ویسے ہی اٹھایا اور اپنی والدہ کے پاس چلا گیا اپنی والدہ کے پاس بیٹھ کر اسے کھولا کاٹا والدہ کو کھلایا خود بھی کھایا جب میری والدہ کا پیٹ بھر گیا تو میں وہ چیز لے کر واپس اپنے بیوی بچوں کے پاس ا گیا میری حرکت میری بیوی کو بہت ناگوار گزری اسی بات کو لے کے ہم دونوں میاں بیوی میں بحث مباحثہ ہو گیا خیر باتوں باتوں میں میری بیوی نے مجھے گنوانا شروع کر دیا کہ وہ میرے لیے کتنی تکالیف برداشت کرتی ہے اور کتنی قربانیاں دیتی ہے اخر میں اس نے مجھ سے پوچھا کہ اج تک تمہاری ماں نے تمہاری خاطر کوئی قربانی دی ہے اس کا یہ سوال مجھے چبھنے لگا مگر میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا میرے ذہن میں نہیں تھا کہ میری والدہ نے میرے لیے کون سی ایسی قربانی دی ہو جس کا میں یہاں ذکر کر سکوں میں تھوڑی دیر خاموش رہا خاموشی سے اپنے کمرے سے نکل گیا اور اپنی والدہ کے پاس جا پہنچا اب اسے میری غلطی کہیں یا نادانی کے جو سوال میری بیوی نے مجھ سے کیا تھا میں نے وہ سوال جا کر اپنی والدہ سے کر دیا

جب میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ اج تک انہوں نے میری خاطر ایسی کون سی قربانی دی ہے جسے میں ہمیشہ یاد رکھ سکوں تو میرا سوال سن کر میری والدہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گئی یہاں تک کہ میں نے ان کے چہرے کے ساتھ ساتھ ان کی انکھوں کا رنگ بدلتا ہوا بھی دیکھا یقینا وہ سارے دکھ اور قرب ان کے چہرے اور انکھوں پر سما گئے تھے جو درد انہوں نے میری خاطر اٹھائے تھے وہ تھوڑی دیر خاموش رہی اور پھر میرے سوال کو ٹالنا چاہا لیکن جب میں بضد رہا تو انہوں نے مجھے میرے بچپن کا ایک قصہ یاد دلایا
ایک سائیکل جو میں نے بچپن میں خریدی تھی ہوا کچھ یوں تھا کہ میری والدہ کی صحت خراب تھی اور میں چھوٹا تھا میں اس عمر کو نہیں پہنچا تھا کہ گھر میں اکیلا رہ سکتا اور میری والدہ کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جا سکتیں لہذا جہاں تک ممکن تھا وہ اپنی تکلیف کو برداشت کرتی رہی اور گھر میں میرے ساتھ رہیں مگر جب ان کی تکلیف حد سے زیادہ بڑھ گئی اور برداشت کرنا ممکن نہ رہا تو انہوں نے مجھے پڑوس کے گھر میں چھوڑا اور خود دوائی لینے کے لیے باہر نکل گئی مگر میں بچوں کی مانند وہاں رونے لگا تو میری والدہ لوٹ ائی دروازہ کھولا مجھے ساتھ لیا اور دوا خریدنے چلی گئیں مجھے یاد ہے کہ میری والدہ مجھے اٹھا کر مین روڈ تک ائی تھی اگر میں اج بھی صحت مند ہوتے ہوئے اپنی والدہ اٹھا کر روڈ تک لے جانا چاہوں تو شاید نہیں لے جا پاؤں گا لیکن تب میری والدہ سے خود اپنا بوجھ اٹھایا نہیں جا رہا تھا چلا تک نہیں جا رہا تھا مگر وہ مجھے اٹھا کر سڑک تک لائی تھی پھر مجھے اپنے ساتھ بازار لے گئیں وہاں ایک سرکاری ہسپتال تھا ہم لوگ وہاں گئے میری والدہ نے وہاں سے اپنا چیک اپ کروایا انہوں نے میری والدہ کو کچھ ادویات لکھ کر دیں جو ہمیں باہر سے خریدنا تھیں اب اس بات کو میری خوش قسمتی کہیں یا میری والدہ کی بدقسمتی جہاں سے ہم نے ادویات خریدنا تھی اس کے قریب ایک بچوں کے کھلونے والی دکان تھی وہاں پر بچوں کی چھوٹی چھوٹی سائیکلیں رکھی ہوئی تھیں میں نے اپنی والدہ سے ضد کرنا شروع کر دی کہ مجھے سائیکل خریدنی ہے میری والدہ نے مجھے ٹالنا چاہا مجھے بہلایا مگر میں اپنی ضد پر اڑا رہا تب میں بچہ تھا مجھے پتہ نہیں تھا کہ میری والدہ کے پاس اتنی رقم ہی ہے جس سے وہ اپنی دوا خرید سکتی ہیں مگر جب میں کسی بھی صورت میں چپ نہ ہوا تو میری والدہ نے مجھے ساتھ لیا اور سائیکل والی دکان پر چلی گئی انہوں نے وہاں سے مجھے ایک مناسب قیمت پر سائیکل خرید کر دے دی میری والدہ کے پاس موجود رقم سائیکل کی قیمت ادا کرنے میں بھی کم تھی انہوں نے جیسے تیسے کر کے دکاندار کی منت سماجت کر کے کچھ پیسوں کوا ادھار کر لیا اب ان کے پاس دوا خریدنے کی رقم باقی نہیں تھی مجھے یاد ہے اس روز میری والدہ مجھے اور میری سائیکل دونوں کو اٹھا کر پیدل گھر تک ائی تھیں
پھری میری والدہ نے مجھے مزید یاد دلایا کہ صرف تمہیں سائیکل خرید کے دینے کی وجہ سے مجھے تمہارے والد سے مار پڑی تھی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ میں نے پیسوں کو ضائع کیا ہے یہ تمہاری خاطر نہ تو میری کوئی پہلی قربانی تھی اور نہ ہی کوئی اخری اگر مجھے اج بھی تم سے اپنا اپ وار کے قربان کرنا پڑے تو میں کر دوں گی لیکن کبھی اپنی بیوی سے بھی پوچھنا کہ وہ تمہارے لیے کیا کچھ قربان کر سکتی ہے

وہ تمہاری بیوی ہے وہ تمہارے لیے اگر قربانی دے گی بھی تو اپنی اولاد کی خاطر دے گی جس طرح میں نے تمہارے باپ سے مار کھائی تھی اس میں میری غلطی نہیں تھی مگر تمہاری خاطر میں نے کھا لی تھی عورت اپنی اولاد کے لیے کوئی بھی قربانی دے سکتی ہے
میں تمہیں یہ نہیں کہتی کہ تمہاری بیوی تمہارے لیے کچھ نہیں کرتی وہ تمہارے تمام حقوق ادا کرتی ہے لیکن میں تمہیں یہ ضرور کہتی ہوں کہ کبھی بھی اپنی بیوی کو اپنا امام مقرر نہ کرنا جہاں بیوی غلط ہو اسے غلط کہنا اور جہان باقی رشتے غلط ہوں وہاں باقی رشتوں کو غلط کہنا تم نے فقط ایک قربانی کے لیے پوچھا تھا تو میں نے تمہیں بتا دیا ہے اور میں اس جیسی کئی قربانیاں تمہارے لیے دے چکی ہوں البتہ مجھے اس بات کا افسوس ہے تم نے یہ سوال اپنی ماں سے کیا ہے تمہاری جگہ کوئی بھی اولاد اگر اپنی ماں سے یہ سوال کرے گی تو اس کی ماں کو دکھ ضرور ہوگا کوشش کرنا ائندہ ایسا کوئی سوال مجھ سے نہ کرو میری والدہ نے اپنی بات مکمل کی تو ان کی انکھیں نم ہو چکی تھیں میں نے ان کو اپنے سینے سے لگایا ان کی انکھوں کو بوسہ دیا مگر جب میں واپس ایا تو میری نظروں سے میری بیوی کا معیار بہت گر چکا تھا اور ساتھ میرا اپنا بھی مجھے اس بات پر بہت ملال تھا کہ مجھے میری ماں سے یہ سوال کبھی نہیں کرنا چاہیے تھا
میں یہ کہانی پڑھنے والوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے والدین نے ہمارے لیے جتنی قربانیاں دی ہوتی ہیں ہماری اولاد اور بیوی اس کا عشر عشیر بھی قربان نہیں کر سکتے اس لیے کبھی بھی اپنی والدین سے ان کی قربانیوں کا حساب نہ مانگنا شکریہ
اختتام

بنگلہ دیش اسٹوڈنٹ نے ایک مرتبہ پھر بڑا اعلان کردیا اگر حسینہ واجد واپس بھارت سے بنگلہ دیش آئی اور  عدالتی فیصلے کے مطابق...
01/07/2026

بنگلہ دیش اسٹوڈنٹ نے ایک مرتبہ پھر بڑا اعلان کردیا اگر حسینہ واجد واپس بھارت سے بنگلہ دیش آئی اور عدالتی فیصلے کے مطابق اس کو پھانسی نہیں دی گئی تو جسطرح ہم نے عوام کیساتھ ملکر حسینہ کی حکومت کا خاتمہ کیا موجودہ حکومت کا بھی وہی حشر ہوگا آج حسینہ نے بیان جاری کیا کہ وہ بہت جلد بنگلہ دیش آرہی ہے کہا جارہا ہے موجودہ حکومت اس کو بچانا چاہتی ہے جس پر اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے اپنا بیان جاری کردیا

اس کو کہتے ہے غیرت مند انسان اگر اب آپ مجھے پچاس کروڑ  روپے بھی مہینے کا دینگے تو تب بھی کام نہیں کروں گا سابق فاسٹ بولر...
01/07/2026

اس کو کہتے ہے غیرت مند انسان اگر اب آپ مجھے پچاس کروڑ روپے بھی مہینے کا دینگے تو تب بھی کام نہیں کروں گا سابق فاسٹ بولر جنید خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو کرارا جواب دیدیا زرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے دوبارہ جنید خان سے رابطہ کیا تھا اور اس کی دورہ سری لنکا کیلئے ویمنز ٹیم کیساتھ بطور باولنگ خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا جس پر جنید خان کیساتھ رابطہ کیا گیا کہ ہم چاہتے آپ کو دورہ سری لنکا کیلئے ویمنز ٹیم کیساتھ آپ کو بھیجا جائے جس پر جنید خان نے جواب دیا کہ مجھے تو آپ نے فارغ کیا تھا بغیر مجھے بتائے اب اگر آپ مجھے پچاس کروڑ روپے بھی مہینے کا دینگے تو تب بھی میں کام نہیں کروں گا ہم پیسے کے بھوکے نہیں عزت کے بھوکے ہےاور نا ہی مجھے ضرورت ہے کہ اب آپ کیلئے میں انگلینڈ میں کلب کرکٹ کی کوچنگ چھوڑ دوں
وہاب ریاض اور عاقب جاوید کو جنید خان سے سیکھنا چاہئے کہ زندگی میں پیسے ہی سب کچھ نہیں ہوتا غیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے

01/07/2026

I got over 1,000 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

پاکستان نے بھارت کے خلاف آبی جارحیت پر باقاعدہ جنگ شروع کر دی ہے جس کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور سارے عالمی رہنماؤں ...
01/07/2026

پاکستان نے بھارت کے خلاف آبی جارحیت پر باقاعدہ جنگ شروع کر دی ہے جس کا پہلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور سارے عالمی رہنماؤں کو اسلام آباد طلب کر لیا اور ان تمام نے بھارت کے خلاف اور پاکستان کے حق میں واضح ووٹ دیا مگر اس سب میں ڈاکٹر وکٹر گاؤ جو چائینہ کی حکومت کے ترجمان بھی کہلائے جاتے ہیں انہوں نے آج بھارت کو اسی پانی سے دھو ڈالا ہے اور ایک لحاظ سے بھارت کو بنجر کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے

انہوں نے اسلام آباد میں منعقد سندھ طاس معاہدے کی تقریب میں خطاب کیا اور کہا میرے لیے سندھ طاس معاہدہ سے متعلق سیمینار میں شرکت باعث اعزاز ہے ایک سال قبل بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کو روکنے کی دھمکیاں دینا شروع کی بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے کہا کہ وہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہیں جانے دیں گے۔ پانی کی فراہمی روکنے کی دھمکی دینا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔جنگ کے دوران بھی کروڑوں لوگوں کے لیے پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم ہوتا ہے۔۔۔ڈاکٹر وکٹر گاو میں نے اس وقت بھی بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ ایسا ہرگز نہ کرے بھارت سے کہوں گا کہ دوسروں کے ساتھ وہ نہ کرو جو تم نہیں چاہتے کہ دوسرے تمہارے ساتھ کریں دریائے سندھ کے نظام کے حوالے سے بھارت واحد بالائی ملک نہیں ہے اگر چین اور پاکستان باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ کام کریں تو وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں سندھ طاس معاہدے کا مکمل احترام اور تحفظ یقینی بنایا جائے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جانا چاہیےبھارت کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیےمیں ذاتی طور پر پاکستانی مقررین کے پیش کردہ مؤقف کی بھرپور حمایت کرتا ہوں چین اور پاکستان کو اس معاملے پر مکمل تعاون کرنا چاہیے:سندھ طاس معاہدے کے تحفظ اور اس پر مکمل عمل درآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے

Address

Lane 7
Rawalpindi West Ridge

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when InfoLeaks 111 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category