19/08/2026
لاہور سے اسلام آباد بلائی گئی نوجوان لڑکی کو ق ت ل کر دیا گیا ہے۔ بیٹی کی مرضی کے خلاف شادی ہوئی تو وہ گھر چھوڑ کر لاہور آ گئی۔ پھر والد بیٹی کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ کر کے اسلام آباد لے گئے اور بیان حلفی میں بتایا کہ وہ بیٹی کی حفاظت کریں گے لیکن۔۔۔
یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہے۔۔ کہ بعض خاندانوں میں بیٹی کی زندگی کے فیصلے آج بھی اس کی مرضی کے بغیر کیے جاتے ہیں اور جب وہ ان فیصلوں کو قبول کرنے سے انکار کرے تو معاملہ انتہائی خطرناک رخ اختیار کر لیتا ہے۔۔۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد کے تھانہ نیلور کی حدود میں پیش آیا ہے جہاں حنا نامی لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے والد لاہور سے اسلام آباد لے کر آئے۔ حنا کی شادی نومبر 2025 میں اس کی مرضی کے خلاف کی گئی تھی۔ شادی سے ناخوش حنا گھر چھوڑ کر لاہور چلی گئی اور بعد میں فیملی کورٹ لاہور سے اپنے شوہر کے خلاف خلع کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔
اطلاعات کے مطابق 13 اگست کو حنا کے والد اسے لاہور سے اسلام آباد لے کر آئے۔ والد اور بیٹی کے درمیان ایک تحریری معاہدہ بھی ہوا جس میں واضح طور پر یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور اس کی مرضی کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
معاہدے میں درج شرائط خاص طور پر قابل غور ہیں۔ والد نے یقین دہانی کرائی کہ حنا کو سسرال جانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، گھر کا کوئی فرد اس پر تشد۔۔د یا مارپیٹ نہیں کرے گا، اس پر کوئی چیز زبر۔دستی مسلط نہیں کی جائے گی اور اس کی مرضی کے بغیر دوبارہ شادی بھی نہیں کروائی جائے گی۔
حنا کو موبائل فون رکھنے کی اجازت دینے، فون ہر وقت آن رکھنے اور اس کی سم کی تفصیلات اس کے وکیل کے ساتھ شیئر کرنے کی شرط بھی معاہدے کا حصہ تھی۔ والد نے یہ بھی لکھا کہ وہ اور پورا خاندان بیٹی کی حفاظت یقینی بنائیں گے اور حنا اپنے وکیل سے رابطے میں رہے گی۔ پہلے درج کروائی گئی ایف آئی آر ختم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
بیان حلفی میں والد نے اپنی بیٹی کی سابقہ شادی سے متعلق تفصیلات بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق نومبر 2025 میں حنا کی شادی خاندان کی مرضی سے ہوئی تھی جس میں بیٹی کی رضامندی شامل نہیں تھی۔ بعد میں حنا نے شوہر کے خلاف خلع کا مقدمہ دائر کیا اور عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کرلی۔
تاہم اب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد حنا کو مبینہ طور پر ق ت ل کر دیا گیا ہے۔ صحافی محمد عمیر کے مطابق پولیس نے واقعے کا مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ واقعے کی مکمل حقیقت اور ذمہ دار افراد کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گا۔
اس واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو شاید وہ تحریری معاہدہ ہے جس میں ایک باپ نے اپنی بیٹی کو تحفظ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اگر کسی بیٹی کو اپنے ہی گھر واپس آنے کے لیے یہ لکھوانا پڑے کہ اسے ما۔را نہیں جائے گا، اس پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جائے گا اور اسے اپنی مرضی سے زندگی گزارنے دی جائے گی تو ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے کہ مسئلہ ہماری اجتماعی سوچ کا بھی ہے۔
ہم یہ سمجھنے میں مشکل میں کیوں پڑ جاتے ہیں کہ بیٹی کی مرضی کوئی رعایت نہیں ہے بلکہ اس کا بنیادی حق ہے۔ شادی زندگی بھر کا فیصلہ ہے، اسے دباؤ، خوف یا خاندان کی عزت کے نام پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بیٹی کسی رشتے سے خوش نہیں ہے تو اسے سننے، سمجھنے اور محفوظ راستہ دینے کی ضرورت ہے۔
#ٹیکسلا