Zindagi ka SabaQ

Zindagi ka SabaQ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Zindagi ka SabaQ, Digital creator, Gulshan. e. Habib Town, Rawalpindi West Ridge.

02/08/2026

لوگ سمجھتے ہیں کہ آزادی کا مطلب ہے... "میں جو چاہوں، وہ کروں۔"

لیکن نفسیات کہتی ہے اگر تم اپنے غصے کو روک نہیں سکتے... اگر تم ہر نوٹیفیکیشن پر موبائل اٹھا لیتے ہو... اگر تم چھوٹی سی تنقید پر ٹوٹ جاتے ہو... اگر تم ہر تعریف پر بہکاوے میں آجاتے ہو...
تو تم آزاد نہیں ہو۔ تم صرف اپنی خواہشات کے غلام ہو۔

قرآن نفس کو بے لگام چھوڑنے کے بجائے اس کی تربیت سکھاتا ہے، کیونکہ بے قابو خواہش انسان کو وہاں بھی لے جا سکتی ہے جہاں وہ خود جانا نہیں چاہتا۔

01/08/2026
01/08/2026

🌼

*پُرانے لوگ ایسے ہوا کرتے تھے۔*

"احمد کل تھوڑا ٹائم نکالنا مجھے اپنے ایک دوست کو ملنے جانا ہے "
دادا جی نے رات سونے سے پہلے ہدایت دی اور آج دوپہر کے بعد آفس سے بریک لے کر میں گھر آیا دادا جی ہاتھ میں ایک بوسیدہ سی ڈائری لئے میرے منتظر تھے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی کہنے لگے پہلے گاؤں چلو وہاں سے پھر آگے چلیں گے۔
دادا جی آج کافی حد تک پریشان سے لگ رہے تھے تو مجھ سے بھی رہا نہیں گیا اور پوچھ بیٹھا
"کیا ہوا یار اتنے سنجیدہ ہیں دادی نے کچھ کہا ہے"

ماتھے پر تیوری چڑھاتے ہوۓ مجھے گھورا "تجھے ایسی کیا بیماری ہے جو میری پریشانی کے پیچھے ہر وقت میری زوجہ کو تلاش کرتا رہتا ہے بس توں اپنی چونچ بند کر یار اور سامنے دیکھ کر گاڑی چلا ویسے ہی تیری دادی کہہ رہی تھی تجھے ڈرائیونگ نہیں آتی "
میں جو دادا جی کو کسی کے نام سے چھیڑنے بیٹھا تھا اسی نام کو لیکر دادا نے جو چوٹ پہنچائی اس کا دکھ دادا سے چھپانے کے لئے سامنے دیکھنے پر اکتفا کرنا پڑا۔

دادا جی کی ہدایات کیمطابق چھوٹے چچا کے گھر کی طرف گاڑی موڑی اور ساتھ ہی دادا جی نے انکا نمبر ملایا،کال ملتے ہی کہا باہر آؤ اور سامان لیتے آنا ہم تمہارے گھر والی گلی کے نکڑ پر پہنچنے والے ہیں۔ سوال تو آیا زہن میں مگر خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی۔ ہمارے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی چچا ایک کپڑے کا تھیلا اٹھاۓ ہمارے انتظار میں تھے سامان کے نام پر وہ تھیلا مجھے ہضم نہیں ہوا مگر خاموشی ہزار نعمت ہے مگر سوال تھے کہ ذہن میں کلبلا رہے تھے۔
دادا نے وہ پرانی ڈائری نکالی اور یک ِ بعد دیگرے ترتیب کے ساتھ صفحے پلٹنے لگے اور آخری صفحہ پلٹنے پر چچا سے مخاطب ہوۓ۔۔۔۔۔۔۔!!!!

"ٹوٹل یہ چار لاکھ چھپن ہزار دو سو دس روپے بنتے ہیں اور اس میں کتنے ہیں"
چچا نے کہا دو سو دس کھلے نہیں تھے باقی پورے ہیں دادا نے ایک سخت نظر سے چچا کو گھورا مگر بولے کچھ نہیں پھر میری طرف دیکھتے ہوۓ کہا یار دو سو دس روپے تو دے گھر جا کر دادی سے لے لینا۔
میں کہنا تو یہی چاہتا تھا کہ ان کے میں پہلے ہی چھ سو دینے ہیں جو پرسوں یہ کہہ کر لئے تھے کہ میں اکاونٹ سے نکلوا کے دیتا ہوں۔ خیر میں نے جیب سے پیسے نکال کر دئیے جو داد نے اسی تھیلے میں موجود باقی پیسوں کے ساتھ رکھ دئیے۔

چچا سے الوداعی کلمات کہنے کے بعد دادا نے مجھے وہاں سے کافی دور ایک مقام کا حوالہ دیا کہ وہاں چلنا ہے میں ان کی بتائی گی جگہ کا جی پی ایس سیٹ کیا اور ڈرائیو کرنے لگا گاڑی میں خاموشی ہی رہی جب تک ہم منزلِ مقصود پر پہنچے۔
یہ ایک دو منزلہ گھر جس کا فنِ تعمیر یہاں رہنے والوں کے شوق کا منہ بولتا ثبوت تھا مگر درِ و دیوار سے اترتا ہوا رنگ و روغن اس کی خوبصورتی پر قدغن لگاۓ ہوۓ تھا اٹالین طرز پر بنے اس چھوٹے سے گھر کے باہر دادا جی کی ہدایت سنتے ہوۓ میرے گاڑی روکنے پر دادا جی جلدی سے اترے اور مجھے گاڑی میں ہی رہنے کا اشارہ کرتے ہوۓ دروازہ کھٹکھٹانے لگے۔دروازے سے تھوڑا ہٹ کر انتظار کرتے ہوۓ دادا جی کے چہرے پر بلا کا اضطراب تھا جو میرے لئے باعث تجسس اور تشویش تھا مگر میرے سارے سوال ابھی جواب کے منتظر تھے بلکل ویسے ہی جیسے دادا جی محوِ انتظار تھے۔

چند لمحوں بعد گیٹ سے ایک نوجوان باہر آیا اور دادا سے مصافحہ کرتے ہوۓ میری طرف بھی نظر دوڑائی وہ جو کوئی بھی تھا مگر دادا اور مجھے دیکھنے کے انداز سے مجھے یقین ہو گیا کہ وہ ہمیں نہیں جانتا۔۔۔۔۔۔۔

"بشیرے ٹریکٹر آلے دا گھر ایہو وا جیہڑا بارلے ملک رہندا سی"
(گاؤں میں رہنے والے لوگ اس چیز سے بخوبی واقف ہونگے کہ وہاں رائج ڈیرے داری نظام میں لوگوں کے تعارف ایسی چیزوں سے منسوب ہوتے ہیں جو منفرد ہونے کے ساتھ ہر گھر میں میسر نہیں ہو بلکل ویسے ہی ہمیں گاؤں میں نمبڑدار کے لاحقے سے متعارف کروایا جاتا ہے بشیر ٹریکٹر والے کا گھر یہی ہے جو باہر کے ملک رہتا تھا)
"ہاں جی انہیں کا گھر ہے میں انکا بیٹا ہوں"

ابھی وہ کچھ مزید کہتا مگر دادا جی نے آگے بڑھ کر اسے یوں گلے لگایا جیسے کوئی سالوں پہلے بچھڑے اپنے کسی عزیز کو اچانک سامنے پا کر بے ساختہ گلے لگنا چاہتا ہے دادا جی کے گلے لگے وہ مجھے اور میں اسے ہونقوں کی طرح دیکھے جا رہے تھے اور دادا جی اپنی ہی رو میں اسکی پیٹھ تھپتھپا رہے رہے تھے کچھ لمحوں بعد دادا جی نے اسے خود سے الگ کیا اپنا تعارف کروانے لگے
"میں تے بشیرا اکٹھے کبڈی کھیڈدے سی میرے نال اوودی پراواں والی یاری سی بار جانڑ توں بعد او تے کدی واپس نئں آیا پر میرے کول اس دا ہر سال اک خط آندا سی تے آخری خط آۓ نو ایک سال تین مہینے ہو گئے نے جس وچ اونے لکھیا سی کہ بیمار اے"

نوجوان کے چہرے پر ایک سایا سا لہرایا اور غمزدہ لہجے میں بتانے لگا کہ ابا کا پچھلے سال انتقال ہو گیا ہے جسے سن کر دادا جی نے زیرِ لب دعائیہ کلمات ادا کئے چند پل اسی خاموشی میں گزرے تو نوجوان نے کہا اندر تو آ جائیں چاۓ پی کر جائیے گا جس پر دادا جی نے مجھے اشارے سے اپنے پاس بلایا میں جلدی سے گاڑی کا گیٹ کھول کر باہر کو لپکا تو کہنے لگے وہ سامان بھی لے آؤ میں نے وہ پوٹلی سی اٹھائی اور اس نوجوان کے پاس پہنچا وہ اب گھر میں داخل ہو چکا تھا دادا جی بھی اس کے پیچھے چل دئیے تو مجبوراً مجھے بھی تقلید کرتے ہوۓ گھر میں داخل ہونا پڑا۔

گھر کے صحن میں ایک چھوٹا سا باغیچہ بنا ہوا تھا جس میں کرسیاں ترتیب سے جُڑی ہوئی تھیں وہ ہمیں ان کرسیوں پر بٹھا کر خود اندر چاۓ کا کہنے چلا گیا اس کے واپس أنے میں ذیادہ وقت نہیں لگا اور دادا جی کی کرسی کے سامنے والی کرسی پر براجمان ہو گیا۔
بہت بھلا آدمی تھا اللۀ اسے غریقِ رحمت کرے۔۔۔!!
تمہارے بارے میں بھی وہ اکثر بتایا کرتا تھا خط میں۔۔!!
ہاں جی وہ تو وہاں جا کر پلٹے ہی نہیں اماں کو بلا لیا تھا مگر میں نہیں گیا کیونکہ یہاں حویلی کے معاملات میرے سپرد تھے نوجوان نے لقمہ دیا۔۔۔۔!!
دادا جی کچھ لمحے توقف کے بعد گویا ہوۓ۔۔۔!!

"بشیرے کے ساتھ میرا کچھ لین دین تھا جب وہ یہاں سے گیا تھا میرے مالی حالات ان دنوں کچھ خراب تھے اس نے وہاں جا کر مجھے تین ہزار روپے بھیجے تھے (نوے کی دہائی میں تین ہزار) جس سے میں نے یہاں کھیتی باڑی کے لئے ضروری سازوسامان خریدا تھا جس کے بعد اللۀ نے برکت ڈالی اور میں کچھ عرصے میں ہی اس قابل ہو گیا کہ اسے خط لکھا کہ تمہارا قرض لوٹانا چاہتا ہوں مجھے بتاؤ کیسے پیسے بھیجوں کیونکہ ان دنوں پیسے ملک سے باہر بھیجنا پیچدہ تھا لیکن بشیرے نے واپسی خط میں لکھا اس کے حالات ٹھیک ہیں تو میں اس کے پیسے اپنے ساتھ کاروبار میں لگا لوں وہ جب واپس پاکستان آۓ گا تو لے لے گا۔

وقت کا پہیہ پر لگا کر گھوما اس سے شراکت داری کو منظور کرتے ہوۓ میں نے وہ پیسے فصل کی کاشت میں لگا دئیے فصل اٹھانے کے بعد جمع خرچ دیکھا تو خرچہ نو ہزار روپے جبکہ آمدن سولہ ہزار تھی اس حساب سے اس کا نفع ملا کر کل رقم پچپن سو ہوگئی اس طرح اگلی فصل میں اس کے پیسوں کے حساب سے بننے والا خالص نفع میں آنے والی فصل میں لگا دیتا تھا جو کہ اب چار لاکھ چھپن ہزار دو سو دس روپے بن چکے ہیں میں یہ امانت تمہیں لوٹانے آیا ہوں امید ہے کہ بشیرا مجھے روزِ محشر خدا کے حضور سوالیہ نظروں سے نہیں دیکھے گا۔۔۔۔!!

دادا جی یہ سب بول کر خاموش ہوۓ تو وہاں موجود ہم دونوں کی آنکھوں میں حیرت تھی کہ آج کے اس دور میں جہاں دھوکہ دہی ، غبن ، دوسروں کے مال پر غاصبانہ حق جمانا عام ہے یہ پرانی روحیں آج بھی انسانیت کی معراج پر فائز ہیں میرے سامنے وہ اپنے دوست گھوم گئے جن کو انکے مشکل وقت میں مالی طور پر سہارا دیا انہوں نے کبھی واپس کرنے کا سوچنا تو کجا کبھی ذکر تک نا کیا میرے اپنے ہی دئیے پیسے واپس مانگ لینے پر قطع تعلق کر لیا کیا وہ دوست تھے ؟؟ اسی اثنا میں ایک چھ سال کا بچہ چاۓ بمعہ لوازمات سے سجی ٹرے اٹھاۓ آیا تو جواب ڈھونے کا سلسلہ منقطع ہو گیا چاۓ کے ساتھ ساتھ دادا جی نے اسے امانت تھمائی اور گننے کا کہا جس پر نوجوان نے حیرت سے بھرے لہجے میں فقط اتنا سا جواب دیا۔۔۔!!
" چاچو جی یہ تھیلے میں بظاہر پیسے ہیں مگر اصل میں تو یہ خلوص اور ایمانداری سے مزین ایک ایسی داستان ہے جس کا شمار کسی طور بھی ممکن نہیں"

مذید کچھ دیر دادا جی بشیرے سے منسلک یادیں تازہ کرتے رہے اور پھر ہم واپسی کے لیےنکل پڑے۔۔!!
کچھ سفر خاموشی سے گزرا کہ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا اور دادا جی کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔!!
"دادا جی وہ میں کہہ رہا تھا کہ چند مہینے پہلے آپ کو میں نے سات ہزار روپے دئیے تھے وہ اب کتنے بن چکے ہیں ؟؟
دادا جی نے مجھے دیکھے بنا ہی کہا
"پتر جو چالیس ہزار تیری دادی نے تجھے دئیے تھے گاڑی لیتے وقت وہ سات ہزار اسی سے نکال کر باقی تینتیس ہزار مجھے دے دینا"
باقی کا راستہ قدرے جلدی طے ہو گیا تھا۔۔۔۔!!!

01/08/2026

*فرشتے صرف وہی باتیں نہیں نوٹ کرتے ہیں جو آپ زبان سے نکالتے ہیں*
*فرشتے وہ باتیں بھی نوٹ کرتے ہیں جو آپ سوشل میڈیا پر لکھتے یا بولتے ہیں*
`یاد رکھیں` *کلمہ طیبہ حسنات کے رجسٹر میں جائے گا*
*اور کلمہ خبیثہ سیئات کے رجسٹر میں جائے گا*
*اور جو کچھ اس رجسٹر میں درج ہو جائے گا، وہ آپ کی موت کے بعد بھی باقی رہے گا۔*
*اگر آپ اپنے پیچھے صدقے جاریہ چھوڑ کر نہیں جا رہے ہیں،* *تو کم از کم اپنے پیچھے کوئی جاری رہنے والی برائی بھی نہ چھوڑ کر جائیں!*

`مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ ۞`
*وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔*

(سورۃ ق #18)

01/08/2026

*امامِ مسجد کی قدر کیجئے، وہ* *دین کا خادم ہے غلام نہیں*

ذرا تصور کیجئے! ایک شخص اپنی زندگی کے قیمتی سال اللہ تعالیٰ کے گھر کی خدمت میں گزار دیتا ہے۔ وہ صبح سے رات تک لوگوں کی نمازوں کی فکر کرتا ہے، بچوں کو قرآنِ کریم سکھاتا ہے، لوگوں کو دین کے مسائل سمجھاتا ہے، خوشی اور غم کے مواقع پر امت کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ کبھی کبھی وہی شخص ہماری بے اعتنائی اور بے قدری کا شکار ہو جاتا ہے۔

امامِ مسجد صرف وہ شخص نہیں جو نماز پڑھاتا ہے، بلکہ وہ ہمارے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔ وہ ہمارے بچوں کے دلوں میں قرآن کی محبت پیدا کرتا ہے، انہیں اللہ تعالیٰ کا کلام سکھاتا ہے، انہیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے روشناس کراتا ہے۔ ایک امام صرف مسجد کا خادم نہیں بلکہ پورے معاشرے کی دینی تربیت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی جوانی کے قیمتی لمحات دنیا کمانے کے بجائے دین سکھانے میں لگا دیے، کیا وہ اس بات کا حق دار نہیں کہ اسے عزت، محبت اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے؟

افسوس کہ بعض اوقات ہم امامِ مسجد کو ایک ملازم کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی ہماری طرح ایک انسان ہے۔ اس کے بھی بچے ہیں، اس کے بھی خواب ہیں، اس کے بھی گھر کے اخراجات ہیں، بیماری اور پریشانیاں ہیں۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے بچوں کو اچھی تعلیم ملے، اس کا گھر سکون سے چلے اور وہ عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

ہم اپنے دنیاوی کاموں کے لیے بڑی بڑی رقمیں خرچ کرتے ہیں، اپنی ضروریات پر بے دریغ خرچ کرتے ہیں، لیکن جب اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کرنے والے امام کی بات آتی ہے تو ہم سوچنے لگتے ہیں کہ اس پر اتنا خرچ کیوں کیا جائے؟

یاد رکھئے! امامِ مسجد کوئی غلام نہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے دین کا خادم ہے۔ وہ ہمارے لیے وقت دیتا ہے، اپنی زندگی کے معمولات بدلتا ہے، پانچ وقت ہماری نمازوں کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، ہمارے بچوں کو قرآن پڑھاتا ہے اور ہماری نسلوں کی دینی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔

محلے کے صاحبِ استطاعت لوگوں کو چاہیے کہ وہ صرف تنخواہ تک محدود نہ رہیں بلکہ امامِ مسجد کے حالات کا بھی خیال رکھیں۔ اگر کوئی صاحبِ حیثیت شخص امام کے بچوں کی تعلیم کا ذمہ لے لے، بیماری کے وقت تعاون کرے یا ضروریات میں مدد کرے تو یہ کوئی احسان نہیں بلکہ دین کی خدمت ہے۔

ذرا سوچئے! ہمارے بچوں کے ہاتھوں میں جو قرآنِ کریم ہے، اسے پڑھانے والا شخص اگر خود پریشانیوں میں گھرا ہوا ہو تو ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ پوری یکسوئی اور سکون کے ساتھ خدمت انجام دے گا؟

قرآنِ کریم وہ عظیم کتاب ہے جو ہمارے نبی کریم ﷺ کے قلبِ مبارک پر نازل ہوئی۔ جو شخص ہماری اولاد کو اس کتاب سے جوڑ رہا ہے، جو انہیں اللہ تعالیٰ کے کلام سے آشنا کر رہا ہے، اس کی قدر کرنا دراصل قرآن کی قدر کرنا ہے۔

ایک امام جب عزت، محبت اور اطمینان کے ماحول میں رہتا ہے تو وہ زیادہ اخلاص اور شوق کے ساتھ دین کی خدمت کرتا ہے۔ لیکن جب اسے بار بار بے قدری، شکایتوں اور مالی پریشانیوں کا سامنا ہو تو یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نقصان ہے۔

مسجد کی انتظامیہ اور عام مسلمانوں کو اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔ امامِ مسجد کو اپنا ماتحت یا ملازم نہیں بلکہ اپنے دین کے ایک خادم اور رہنما کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے۔ عزت دینا، اچھا برتاؤ کرنا اور ان کے حقوق کا خیال رکھنا ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں دین سے جڑی رہیں، مساجد آباد رہیں اور قرآن کی تعلیم جاری رہے تو ہمیں دین کے خادموں کی قدر کرنا ہوگی۔

یاد رکھیں! جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے وقت دیتے ہیں، ان کی قدر کرنا دراصل اپنے ایمان، اپنی نسلوں اور اپنی آخرت کی حفاظت کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے خادموں کی قدر کرنے، ان کے حقوق ادا کرنے اور اپنی مساجد کو محبت، اخلاص اور احترام کا مرکز بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔😭

01/08/2026

*"آخری اسکرین شاٹ"*

"کبھی کبھی ایک اسکرین شاٹ پوری زندگی بدل دیتا ہے... 💔📱"

یہ کہانی آخر تک ضرور پڑھیں، شاید آج آپ بھی ایک فیصلہ بدل دیں۔

📖 آج کی کہانی

بارش کی ہلکی بوندیں شہر کی سڑکوں پر گر رہی تھیں۔ رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے۔

عبداللہ اپنے کمرے میں بیٹھا موبائل پر سوشل میڈیا اسکرول کر رہا تھا۔ ہر چند سیکنڈ بعد ایک نئی ویڈیو، ایک نئی پوسٹ، ایک نیا میسج...

اتنے میں اس کی والدہ نے کمرے کے دروازے سے آہستہ سے کہا:

"بیٹا... ذرا میرے پاس بیٹھ جاؤ، دل گھبرا رہا ہے۔"

عبداللہ نے موبائل سے نظریں نہ ہٹائیں۔

"امی... بس پانچ منٹ۔"

وہ پانچ منٹ ایک گھنٹہ بن گئے۔

جب وہ والدہ کے کمرے میں گیا تو وہ سو چکی تھیں۔

اس نے ان کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور واپس آ گیا۔

اگلی صبح دفتر جاتے ہوئے اس کی والدہ نے صرف اتنا کہا:

"واپسی پر جلدی آ جانا، آج تمہاری پسند کا کھانا بناؤں گی۔"

عبداللہ مسکرا کر چلا گیا۔

دوپہر کے وقت اس کی بہن کا فون آیا۔

"بھائی... جلدی آؤ..."

گھر پہنچا تو ہر طرف خاموشی تھی۔

والدہ اب اس دنیا میں نہیں تھیں۔

عبداللہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔

وہ ماں کے کمرے میں گیا۔

تکیے کے پاس ان کا موبائل رکھا تھا۔

اس نے موبائل کھولا۔

گیلری میں ایک Screenshot محفوظ تھا۔

وہ حیران رہ گیا۔

وہ اس کے WhatsApp کی پروفائل تصویر کا اسکرین شاٹ تھا۔

نیچے ماں نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا:

"میرا بیٹا بہت مصروف ہے، لیکن مجھے اس پر فخر ہے۔ اللہ اسے ہمیشہ خوش رکھے۔"

عبداللہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اسے احساس ہوا...

جس ماں کو وہ وقت نہ دے سکا، وہ آخری لمحے تک اس کے لیے دعائیں کرتی رہی۔

اسی رات اس نے اپنے موبائل سے کئی غیر ضروری ایپس حذف کر دیں۔

ہر روز ایک گھنٹہ صرف اپنے گھر والوں کے نام کر دیا۔

جب بھی کسی دوست کو موبائل میں گم دیکھتا تو صرف ایک بات کہتا:

"سوشل میڈیا انتظار کر سکتا ہے...

لیکن والدین نہیں۔"

کچھ مہینوں بعد اس نے اپنی ماں کا وہ Screenshot فریم کروا کر اپنے کمرے کی دیوار پر لگا دیا۔

جو بھی اس کے گھر آتا، وہ خاموشی سے اسے وہ فریم دکھاتا اور کہتا:

"یہ تصویر نہیں...

یہ میری زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔"

🌹 سبق

موبائل کی ہر نوٹیفکیشن ضروری نہیں ہوتی، مگر والدین کی ہر آواز قیمتی ہوتی ہے۔ وقت گزر جائے تو صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔

27/07/2026

Surah Al-Baqarah Ayah 142 | Beautiful Quran Recitation | Change of Qiblah | Voice of Quran

Address

Gulshan. E. Habib Town
Rawalpindi West Ridge
46000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zindagi ka SabaQ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share