02/08/2026
لوگ سمجھتے ہیں کہ آزادی کا مطلب ہے... "میں جو چاہوں، وہ کروں۔"
لیکن نفسیات کہتی ہے اگر تم اپنے غصے کو روک نہیں سکتے... اگر تم ہر نوٹیفیکیشن پر موبائل اٹھا لیتے ہو... اگر تم چھوٹی سی تنقید پر ٹوٹ جاتے ہو... اگر تم ہر تعریف پر بہکاوے میں آجاتے ہو...
تو تم آزاد نہیں ہو۔ تم صرف اپنی خواہشات کے غلام ہو۔
قرآن نفس کو بے لگام چھوڑنے کے بجائے اس کی تربیت سکھاتا ہے، کیونکہ بے قابو خواہش انسان کو وہاں بھی لے جا سکتی ہے جہاں وہ خود جانا نہیں چاہتا۔